حضرت شیخ القرآن ابو الحقائق علامہ مولانا محمد عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ کی ولادت 9 ذوالحجہ 1329ھ مطابق یکم دسمبر 1911ء، بروز جمعۃ المبارک، صبح کے وقت موضع چمبہ پنڈ، نزد کوٹ نجیب اللہ، ہزارہ میں ہوئی۔ آپ کے والد حضرت مولانا عبدالحمید رحمہ اللہ تھے۔
حضرت شیخ القرآن مولانا محمد عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
بعد کی مفصل سوانح ان کے والد کا نام صراحت سے مولانا عبد الحمید بتاتی ہے اور ساتھ طویل نسبی دعوے بھی پیش کرتی ہے۔ چونکہ والد کا نام براہِ راست درج ہے، اس لیے اسے محفوظ رکھا گیا ہے، لیکن طویل پدری اور مادری سلسلوں کو آزادانہ طور پر جانچے گئے قدیم نسبی شواہد کے بغیر ثابت شدہ حیاتیاتی شجرے میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ والدہ، شریکِ حیات اور بچوں کے ساختی خانے خالی ہیں کیونکہ وہ محفوظ طور پر ثابت نہیں ہوئے۔
PER-000951
نیک شخصیت
مصدقہ
مقامِ تدفین نامعلوم
سنی ماخذی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت شیخ القرآن ابو الحقائق علامہ مولانا محمد عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ بیسویں صدی کے ممتاز سنی حنفی عالم، مفسرِ قرآن، مدرس، خطیب، مصنف اور دینی و ملی رہنما تھے۔ آپ 9 ذوالحجہ 1329ھ مطابق یکم دسمبر 1911ء بروز جمعۃ المبارک موضع چمبہ پنڈ، نزد کوٹ نجیب اللہ، ہزارہ میں حضرت مولانا عبدالحمید رحمہ اللہ کے گھر پیدا ہوئے۔ گولڑہ شریف میں حضرت پیر سید مہر علی شاہ رحمہ اللہ سے علمی و روحانی فیض پایا، دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی میں اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کی، اور بعد ازاں گجرات اور وزیرآباد میں تدریس و خطابت کے ذریعے وسیع علمی خدمت انجام دی۔ وزیرآباد میں جامع مسجد اویسیہ اور جامع نظامیہ اویسیہ آپ کی قرآنی تدریس کا مرکزی حلقہ بنے۔ آپ تحریکِ پاکستان میں مسلم لیگ کے فعال مذہبی رہنماؤں میں شامل رہے، مارچ 1940ء کے تاریخی لاہور اجلاس میں شریک ہوئے، اور بعد از قیامِ پاکستان جمعیت علمائے پاکستان کی مرکزی قیادت تک پہنچے۔ آپ کا وصال 7 شعبان 1390ھ مطابق 9 اکتوبر 1970ء بروز جمعۃ المبارک وزیرآباد میں ہوا۔
حضرت شیخ القرآن رحمہ اللہ کا وصال 7 شعبان 1390ھ مطابق 9 اکتوبر 1970ء، بروز جمعۃ المبارک، وزیرآباد میں ہوا۔ خاندانی شہادت کے مطابق فجر کے بعد تقریباً پونے سات بجے وصال ہوا؛ اگلے روز ہفتہ کو تقریباً دو بجے نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور اسی روز غروبِ آفتاب سے پہلے تدفین ہوئی۔
حضرت شیخ القرآن مولانا محمد عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ مہرآباد شریف، بھٹیکی، وزیرآباد میں اپنے معروف مزار میں مدفون ہیں۔ مزار سالانہ عرس، قرآن خوانی اور زائرین کی حاضری کا مرکز ہے، اور موجودہ مذہبی رپورٹنگ بھی اسی انفرادی مزار کی مسلسل شناخت کرتی ہے۔
سوانح و تاریخی تعارف
حضرت شیخ القرآن ابو الحقائق علامہ مولانا محمد عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ کی ولادت 9 ذوالحجہ 1329ھ مطابق یکم دسمبر 1911ء، بروز جمعۃ المبارک، صبح کے وقت موضع چمبہ پنڈ، نزد کوٹ نجیب اللہ، ہزارہ میں ہوئی۔ آپ کے والد حضرت مولانا عبدالحمید رحمہ اللہ، دادا مولانا محمد عالم اور پردادا فقیر غلام محمد تھے۔ محفوظ سوانحی اور خاندانی شجرے میں پدری سلسلہ حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک اور مادری سلسلہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک بیان کیا گیا ہے۔ خاندانی شہادت کے مطابق آپ کی والدہ حضرت مولانا عبدالرحیم رحمہ اللہ کی ہمشیرہ تھیں۔
آپ نے ابتدائی قرآنِ مجید، عربی و فارسی اور درسِ نظامی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد حضرت مولانا عبدالحمید رحمہ اللہ سے پڑھیں۔ بعد ازاں حضرت مولانا احمد دین، حضرت مولانا محب النبی، مولانا یار محمد بندیالوی، مولانا قطب الدین غورغشتوی، میاں عبدالحق غورغشتوی اور علامہ مشتاق احمد کانپوری سمیت متعدد اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کیے۔ خاندانی شہادت کے مطابق مولانا احمد دین اور مولانا محب النبی کے ساتھ آپ کا تعلیمی تعلق باقاعدہ اور طویل تھا اور آپ نے گولڑہ شریف میں بھی قیام کرکے تعلیم حاصل کی۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ سے حمد اللہ اور ملا حسن پڑھنے کا ذکر بھی سوانح میں محفوظ ہے۔ اعلیٰ حدیثی تعلیم کے لیے آپ دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی گئے اور حضرت مولانا حامد رضا خان رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ آپ کے استاد اور پیرِ طریقت تھے۔ خاندانی ریکارڈ کے مطابق 1926ء میں آپ نے ان کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ گولڑہ شریف سے یہ علمی و روحانی تعلق آپ کی پوری زندگی میں قائم رہا اور آپ کے دینی مزاج، خطابت اور تربیتی طریقے پر اس نسبت کا گہرا اثر رہا۔
فراغتِ تعلیم کے بعد آپ نے گجرات میں حضرت پیر ولی شاہ صاحب کے تعلیمی ادارے جامعہ شاہ ولایت، جو انجمن الخدام الصوفیہ سے وابستہ تھا، میں تقریباً پانچ سال تدریس کی۔ اسی عرصے میں شیشیاں والا گیٹ کی جامع مسجد، چودھری ظہور اللہ کی کوٹھی کے سامنے، میں تقریباً پانچ سال جمعۃ المبارک کی خطابت بھی فرمائی۔ یہ دور آپ کی عملی تدریسی اور خطیبانہ زندگی کی مضبوط بنیاد بنا۔
تقریباً 1935–36ء میں وزیرآباد آپ کی مستقل دینی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب جامع مسجد اویسیہ میں درس، خطابت اور دینی تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا، اور اسی مرکز کے تحت جامع نظامیہ اویسیہ میں درسِ نظامی اور دورۂ تفسیرِ قرآن کی باقاعدہ کلاسیں منعقد ہوتی تھیں۔ مسجد، مدرسہ اور درسِ قرآن کی یہی مربوط فضا کئی دہائیوں تک آپ کی علمی خدمت کا مرکز رہی۔
قرآنِ مجید کی تدریس آپ کی علمی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو تھی۔ آپ کے دورۂ تفسیر میں مختلف علاقوں سے علما اور طلبہ شریک ہوتے، اور طویل عرصے کی اس قرآنی خدمت نے ’’شیخ القرآن‘‘ کے لقب کو آپ کی مستقل علمی شناخت بنا دیا۔ آپ کے تلامذہ نے بعد میں پاکستان اور بیرونِ پاکستان متعدد دینی اداروں، مساجد اور علمی مراکز میں تدریس و خطابت کی خدمات انجام دیں۔
آپ نے 1930ء کی دہائی میں دینی و سیاسی میدان میں بھی نمایاں سرگرمی دکھائی۔ خاندانی اور سوانحی ریکارڈ آپ کو تحریکِ نیلی پوش اور مدرسہ تعلیم الملت کی تنظیمی سرگرمیوں سے جوڑتا ہے، جس کے بعد آپ مسلم لیگ کے ساتھ عملی طور پر وابستہ ہوئے۔ مارچ 1940ء کے منٹو پارک لاہور کے تاریخی مسلم لیگ اجلاس میں آپ کی موجودگی آرکائیوی تصویری شہادت سے ثابت ہے، جہاں آپ کو قراردادِ لاہور کے نمایاں مذہبی حامیوں میں شمار کیا گیا۔ 1941ء میں وزیرآباد میں منعقد ہونے والی پاکستان کانفرنس بھی آپ کی تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں کا اہم واقعہ تھی۔
تحریکِ پاکستان کے دوران آپ نے مختلف علاقوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کیا اور مسلم لیگ کے حق میں دینی و سیاسی رائے عامہ ہموار کی۔ مولانا ظفر علی خان کے ساتھ ایک معروف جلسے میں آپ کی مؤثر تقریر کو معاصر سنی سوانحی روایت نے خاص طور پر محفوظ کیا ہے، اور مولانا ظفر علی خان نے آپ کی خطابت کی تحسین منظوم انداز میں کی۔ سول نافرمانی کی تحریک کے زمانے میں آپ گرفتار بھی ہوئے اور گوجرانوالہ جیل میں قید رہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد آپ جمعیت علمائے پاکستان کی دینی و سیاسی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔ 1968ء میں جمعیت کی تنظیمِ نو اور تطہیر کے لیے ملک گیر دوروں میں آپ دیگر اکابر کے ساتھ شریک ہوئے۔ جامعہ نعیمیہ لاہور میں منعقد ہونے والے اہم کنونشن میں آپ پہلے صوبائی صدر اور بعد میں مرکزی صدر منتخب ہوئے، اور زندگی کے آخری دور میں اہلِ سنت کی قومی سیاسی قیادت کے نمایاں نمائندوں میں شمار ہوتے تھے۔
آپ کے علمی آثار میں مناقب الجلیلہ، سراج منیر، شہیدِ کربلا، تفسیر الکریم اور مختلف علمی رسائل شامل ہیں؛ ان رسائل کا مجموعہ رسائلِ شیخ القرآن کے عنوان سے محفوظ و شائع ہوا۔ آپ کی حیات و خدمات پر پروفیسر ڈاکٹر پیر محمد آصف ہزاروی نے مفصل سوانح ’’فیضانِ شیخ القرآن‘‘ مرتب کی، جس کا دستیاب رقمی نسخہ 1170 صفحات پر مشتمل ہے اور مکتبہ بزم چشتیہ غفوریہ، وزیرآباد سے منسوب ہے۔
حضرت شیخ القرآن رحمہ اللہ کا وصال 7 شعبان 1390ھ مطابق 9 اکتوبر 1970ء، بروز جمعۃ المبارک، فجر کے بعد تقریباً پونے سات بجے وزیرآباد میں ہوا۔ خاندانی شہادت کے مطابق اگلے روز ہفتہ کو تقریباً دو بجے نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور اسی روز غروبِ آفتاب سے پہلے تدفین ہوئی۔ آپ کا مزار مہرآباد شریف، بھٹیکی، وزیرآباد میں معروف زیارتی مرکز ہے اور سالانہ عرس، قرآن خوانی اور دینی اجتماعات کے ذریعے آپ کی علمی و روحانی یاد آج بھی زندہ ہے۔
آپ نے ابتدائی قرآنِ مجید، عربی و فارسی اور درسِ نظامی کی ابتدائی کتابیں اپنے والد حضرت مولانا عبدالحمید رحمہ اللہ سے پڑھیں۔ بعد ازاں حضرت مولانا احمد دین، حضرت مولانا محب النبی، مولانا یار محمد بندیالوی، مولانا قطب الدین غورغشتوی، میاں عبدالحق غورغشتوی اور علامہ مشتاق احمد کانپوری سمیت متعدد اساتذہ سے علوم و فنون حاصل کیے۔ خاندانی شہادت کے مطابق مولانا احمد دین اور مولانا محب النبی کے ساتھ آپ کا تعلیمی تعلق باقاعدہ اور طویل تھا اور آپ نے گولڑہ شریف میں بھی قیام کرکے تعلیم حاصل کی۔ حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ سے حمد اللہ اور ملا حسن پڑھنے کا ذکر بھی سوانح میں محفوظ ہے۔ اعلیٰ حدیثی تعلیم کے لیے آپ دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی گئے اور حضرت مولانا حامد رضا خان رحمہ اللہ سے استفادہ کیا۔
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمہ اللہ آپ کے استاد اور پیرِ طریقت تھے۔ خاندانی ریکارڈ کے مطابق 1926ء میں آپ نے ان کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ گولڑہ شریف سے یہ علمی و روحانی تعلق آپ کی پوری زندگی میں قائم رہا اور آپ کے دینی مزاج، خطابت اور تربیتی طریقے پر اس نسبت کا گہرا اثر رہا۔
فراغتِ تعلیم کے بعد آپ نے گجرات میں حضرت پیر ولی شاہ صاحب کے تعلیمی ادارے جامعہ شاہ ولایت، جو انجمن الخدام الصوفیہ سے وابستہ تھا، میں تقریباً پانچ سال تدریس کی۔ اسی عرصے میں شیشیاں والا گیٹ کی جامع مسجد، چودھری ظہور اللہ کی کوٹھی کے سامنے، میں تقریباً پانچ سال جمعۃ المبارک کی خطابت بھی فرمائی۔ یہ دور آپ کی عملی تدریسی اور خطیبانہ زندگی کی مضبوط بنیاد بنا۔
تقریباً 1935–36ء میں وزیرآباد آپ کی مستقل دینی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ ریلوے اسٹیشن کے قریب جامع مسجد اویسیہ میں درس، خطابت اور دینی تعلیم کا سلسلہ جاری ہوا، اور اسی مرکز کے تحت جامع نظامیہ اویسیہ میں درسِ نظامی اور دورۂ تفسیرِ قرآن کی باقاعدہ کلاسیں منعقد ہوتی تھیں۔ مسجد، مدرسہ اور درسِ قرآن کی یہی مربوط فضا کئی دہائیوں تک آپ کی علمی خدمت کا مرکز رہی۔
قرآنِ مجید کی تدریس آپ کی علمی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو تھی۔ آپ کے دورۂ تفسیر میں مختلف علاقوں سے علما اور طلبہ شریک ہوتے، اور طویل عرصے کی اس قرآنی خدمت نے ’’شیخ القرآن‘‘ کے لقب کو آپ کی مستقل علمی شناخت بنا دیا۔ آپ کے تلامذہ نے بعد میں پاکستان اور بیرونِ پاکستان متعدد دینی اداروں، مساجد اور علمی مراکز میں تدریس و خطابت کی خدمات انجام دیں۔
آپ نے 1930ء کی دہائی میں دینی و سیاسی میدان میں بھی نمایاں سرگرمی دکھائی۔ خاندانی اور سوانحی ریکارڈ آپ کو تحریکِ نیلی پوش اور مدرسہ تعلیم الملت کی تنظیمی سرگرمیوں سے جوڑتا ہے، جس کے بعد آپ مسلم لیگ کے ساتھ عملی طور پر وابستہ ہوئے۔ مارچ 1940ء کے منٹو پارک لاہور کے تاریخی مسلم لیگ اجلاس میں آپ کی موجودگی آرکائیوی تصویری شہادت سے ثابت ہے، جہاں آپ کو قراردادِ لاہور کے نمایاں مذہبی حامیوں میں شمار کیا گیا۔ 1941ء میں وزیرآباد میں منعقد ہونے والی پاکستان کانفرنس بھی آپ کی تحریکِ پاکستان کی سرگرمیوں کا اہم واقعہ تھی۔
تحریکِ پاکستان کے دوران آپ نے مختلف علاقوں میں عوامی جلسوں سے خطاب کیا اور مسلم لیگ کے حق میں دینی و سیاسی رائے عامہ ہموار کی۔ مولانا ظفر علی خان کے ساتھ ایک معروف جلسے میں آپ کی مؤثر تقریر کو معاصر سنی سوانحی روایت نے خاص طور پر محفوظ کیا ہے، اور مولانا ظفر علی خان نے آپ کی خطابت کی تحسین منظوم انداز میں کی۔ سول نافرمانی کی تحریک کے زمانے میں آپ گرفتار بھی ہوئے اور گوجرانوالہ جیل میں قید رہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد آپ جمعیت علمائے پاکستان کی دینی و سیاسی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کرتے رہے۔ 1968ء میں جمعیت کی تنظیمِ نو اور تطہیر کے لیے ملک گیر دوروں میں آپ دیگر اکابر کے ساتھ شریک ہوئے۔ جامعہ نعیمیہ لاہور میں منعقد ہونے والے اہم کنونشن میں آپ پہلے صوبائی صدر اور بعد میں مرکزی صدر منتخب ہوئے، اور زندگی کے آخری دور میں اہلِ سنت کی قومی سیاسی قیادت کے نمایاں نمائندوں میں شمار ہوتے تھے۔
آپ کے علمی آثار میں مناقب الجلیلہ، سراج منیر، شہیدِ کربلا، تفسیر الکریم اور مختلف علمی رسائل شامل ہیں؛ ان رسائل کا مجموعہ رسائلِ شیخ القرآن کے عنوان سے محفوظ و شائع ہوا۔ آپ کی حیات و خدمات پر پروفیسر ڈاکٹر پیر محمد آصف ہزاروی نے مفصل سوانح ’’فیضانِ شیخ القرآن‘‘ مرتب کی، جس کا دستیاب رقمی نسخہ 1170 صفحات پر مشتمل ہے اور مکتبہ بزم چشتیہ غفوریہ، وزیرآباد سے منسوب ہے۔
حضرت شیخ القرآن رحمہ اللہ کا وصال 7 شعبان 1390ھ مطابق 9 اکتوبر 1970ء، بروز جمعۃ المبارک، فجر کے بعد تقریباً پونے سات بجے وزیرآباد میں ہوا۔ خاندانی شہادت کے مطابق اگلے روز ہفتہ کو تقریباً دو بجے نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور اسی روز غروبِ آفتاب سے پہلے تدفین ہوئی۔ آپ کا مزار مہرآباد شریف، بھٹیکی، وزیرآباد میں معروف زیارتی مرکز ہے اور سالانہ عرس، قرآن خوانی اور دینی اجتماعات کے ذریعے آپ کی علمی و روحانی یاد آج بھی زندہ ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حضرت عبدالغفور ہزاروی رحمہ اللہ کی سب سے نمایاں تاریخی خدمت قرآنِ مجید کی تدریس اور تفسیر ہے۔ وزیرآباد میں ان کے دورۂ تفسیر، درسِ نظامی اور مسلسل قرآنی تعلیم نے علما کی ایک وسیع نسل تیار کی، اور ’’شیخ القرآن‘‘ کا لقب اسی طویل علمی خدمت کا اعتراف بن گیا۔
ہزارہ، گولڑہ شریف، بریلی، گجرات اور وزیرآباد پر مشتمل ان کا علمی سفر برصغیر کے سنی حنفی علمی نیٹ ورک کی ایک اہم مثال ہے۔ جامع مسجد اویسیہ اور جامع نظامیہ اویسیہ نے ان کے زمانے میں تدریس، خطابت اور دینی تربیت کے مربوط مرکز کی صورت اختیار کی۔
تحریکِ پاکستان میں ان کی شرکت انہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ سے بھی جوڑتی ہے۔ مارچ 1940ء کے لاہور اجلاس میں ان کی آرکائیوی طور پر ثابت موجودگی، مسلم لیگ کی عوامی مہم میں خطابات، وزیرآباد کی پاکستان کانفرنس اور بعد ازاں جمعیت علمائے پاکستان کی مرکزی قیادت ان کی ملی خدمات کے اہم ابواب ہیں۔
ان کی تصانیف، رسائل، شاگردوں اور مہرآباد شریف وزیرآباد میں موجود مزار نے ان کی علمی و روحانی میراث کو بعد کی نسلوں تک منتقل کیا۔ ’’فیضانِ شیخ القرآن‘‘ جیسی مفصل سوانح نے ان کی زندگی، تدریس، سیاسی خدمات اور خاندانی روایت کو مستقل تحریری ذخیرے کی صورت دی۔
ہزارہ، گولڑہ شریف، بریلی، گجرات اور وزیرآباد پر مشتمل ان کا علمی سفر برصغیر کے سنی حنفی علمی نیٹ ورک کی ایک اہم مثال ہے۔ جامع مسجد اویسیہ اور جامع نظامیہ اویسیہ نے ان کے زمانے میں تدریس، خطابت اور دینی تربیت کے مربوط مرکز کی صورت اختیار کی۔
تحریکِ پاکستان میں ان کی شرکت انہیں پاکستان کی سیاسی تاریخ سے بھی جوڑتی ہے۔ مارچ 1940ء کے لاہور اجلاس میں ان کی آرکائیوی طور پر ثابت موجودگی، مسلم لیگ کی عوامی مہم میں خطابات، وزیرآباد کی پاکستان کانفرنس اور بعد ازاں جمعیت علمائے پاکستان کی مرکزی قیادت ان کی ملی خدمات کے اہم ابواب ہیں۔
ان کی تصانیف، رسائل، شاگردوں اور مہرآباد شریف وزیرآباد میں موجود مزار نے ان کی علمی و روحانی میراث کو بعد کی نسلوں تک منتقل کیا۔ ’’فیضانِ شیخ القرآن‘‘ جیسی مفصل سوانح نے ان کی زندگی، تدریس، سیاسی خدمات اور خاندانی روایت کو مستقل تحریری ذخیرے کی صورت دی۔
خاندانی روابط
ماخذ
براہِ راست خاندانی صوتی شہادت اور مزار کی تختی | خاندانِ شیخ القرآن | 2026-09-01 | ولادت، وصال، جنازہ و تدفین، والدہ کا خاندانی تعلق، 1926ء کی بیعت، گجرات و وزیرآباد کی تدریسی تفصیل اور تصانیف کی فہرستحضرت علامہ مولانا عبدالغفور ہزاروی | اسکالرز پاکستان | نام و نسب، والد مولانا عبدالحمید، پدری و مادری نسب، ولادت، اساتذہ، پیر مہر علی شاہ سے تعلق، تحریکِ پاکستان اور وصال | https://www.scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-abdul-ghafoor-hazarvi
دی ڈان آف پاکستان | ڈان آرکائیوز | مارچ 1940ء لاہور اجلاس کی تاریخی تصویر اور قراردادِ لاہور کے نمایاں حامیوں میں مولانا عبدالغفور ہزاروی کی شناخت | https://www.dawn.com/news/1340676
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد عبدالقیوم ہزاروی | اسکالرز پاکستان | 1968ء جمعیت علمائے پاکستان کی تنظیمِ نو، جامعہ نعیمیہ کنونشن اور عبدالغفور ہزاروی کا صوبائی و مرکزی صدر انتخاب | https://www.scholars.pk/ur/scholar/hazrat-allama-molana-mufti-abdul-qayyum-hazarvi
فیضانِ شیخ القرآن | پروفیسر ڈاکٹر پیر محمد آصف ہزاروی | 1170 صفحات، مکتبہ بزم چشتیہ غفوریہ، وزیرآباد؛ رقمی نسخے کا کتابی ریکارڈ | https://www.scribd.com/doc/104937040/Faizan-e-Shaikh-ul-Quran-by-Profesor-Doctor-Muhammad-Asif-Hzerve
حضرت مولانا محمد عبدالغفور ہزاروی کی دینی و ملّی خدمات | محمد آصف ہزاروی | جامعہ پنجاب، ایم اے تحقیقی مقالہ، آغاز 1986ء | https://thesis.asianindexing.com/thesis.php?ari_id=1676730565243
وزیرآباد میں سالانہ عرس پر قرآن خوانی | دعوتِ اسلامی | 28 فروری 2023ء، شیخ القرآن مولانا عبدالغفور ہزاروی کے انفرادی مزار اور صاحبزادہ پیر محمد عارف ہزاروی کی موجودگی | https://news.dawateislami.net/wazirabad-mazar-shareef-quran-khani
مہرآباد شریف بھٹیکی میں عبدالغفور ہزاروی کا مزار | روزنامہ خبریں | 29 جنوری 2018ء | مزار کی مقامی شناخت | https://dailykhabrain.com.pk/2018/01/29/94092/
شہیدِ کربلا | مولانا عبدالغفور ہزاروی | رسائلِ محرم کے کتابی اندراج میں مصنف کی نسبت | https://urdumehfil.net/%D9%85%D8%A7%DB%81-%D9%88-%D8%B3%D8%A7%D9%84-months-and-years/
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔