حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ انصاری خزرجی ساعدی رضی اللہ عنہ

Abu Dujana is most commonly identified as Simak ibn Kharasha ibn Lawdhan ibn Abd Wudd ibn Zayd, of Banu Sa‘ida from al-Khazraj, al-Ansari al-Khazraji al-Sa‘idi. Some early sources transmit the variant Simak ibn Aws ibn Kharasha, so a separate structural father relation has not been asserted with false certainty. His kunyah Abu Dujana is the dominant form of identification, while Dhu al-Mashhara is a reported title connected with his red battle headband. He attended Badr, distinguished himself at Uhud and, under the dominant early biographical view, was martyred at Yamama/Aqraba. Ibn Sa‘d is quoted as reporting descendants in Madinah and Baghdad, but the reviewed evidence did not securely enumerate a spouse, parents or named children for registry relationships.

PER-001688 صحابی / صحابیہ مصدقہ صرف عمومی علاقہ معلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ انصاری خزرجی ساعدی رضی اللہ عنہ بنو ساعدہ کے معروف صحابی اور غزوۂ بدر کے شریک تھے۔ صحیح مسلم میں غزوۂ اُحد کا وہ مشہور واقعہ صحیح سند سے محفوظ ہے جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اس کے حق کے ساتھ لینے کی ذمہ داری قبول کی اور میدان میں بھرپور قتال کیا۔ سرخ پٹی، مخصوص جنگی چال اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں پشت کو ڈھال بنانے کی تفصیلات قدیم سیرت و تراجم میں معروف ہیں، مگر ان کے اسنادی درجے کو صحیح مسلم کی روایت کے برابر نہیں رکھا گیا۔ غالب قدیم سوانحی قول کے مطابق حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ یمامہ/عقرباء میں مسیلمہ کے خلاف معرکے میں شریک ہوئے اور وہیں شہید ہوئے؛ بعض مآخذ بعد تک زندہ رہنے کا کمزور یا غیر غالب قول بھی نقل کرتے ہیں۔ عقرباء کا میدان اور شہدائے یمامہ کا اجتماعی قبرستان آج ادارتی طور پر معروف ہیں، لیکن ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی مخصوص انفرادی قبر صریح قدیم دلیل سے متعین نہیں۔
ولادت

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی تاریخِ پیدائش اور قطعی مقامِ پیدائش مضبوط قدیم مآخذ میں محفوظ نہیں۔ ان کی انصاری، خزرجی اور ساعدی نسبت انہیں مدینہ کے بنو ساعدہ سے مضبوطی سے جوڑتی ہے، لیکن اس قبائلی نسبت کو بلا دلیل عین مقامِ پیدائش نہیں بنایا گیا۔ ان کا نام اور نسب قدیم تراجم میں مختلف صورتوں سے آیا ہے، بالخصوص سماک بن خرشہ اور سماک بن اوس بن خرشہ؛ اس لیے ابتدائی خاندانی تفصیل میں وہی باتیں رکھی گئی ہیں جو محفوظ مآخذ سے ثابت ہیں۔

وفات

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بارے میں غالب قدیم قول یہ ہے کہ وہ مسیلمہ کے خلاف معرکۂ یمامہ/عقرباء میں شہید ہوئے۔ طبرانی کی شہدائے یمامہ کی فہرست، ابن عبد البر، ابن حبان، ذہبی اور ابن کثیر کی تراجم اس قول کی تائید کرتی ہیں۔ باغ کے اندر داخل ہونے، ٹانگ ٹوٹنے کے باوجود لڑتے رہنے اور مسیلمہ کے قتل میں شریک ہونے کی تفصیلات تاریخی و سوانحی روایت میں محفوظ ہیں۔ معرکۂ یمامہ کی تاریخ میں ۱۱ اور ۱۲ ہجری دونوں اقوال ملتے ہیں؛ ابن کثیر نے یہ امکان ذکر کیا کہ آغاز ۱۱ ہجری کے آخر اور اختتام ۱۲ ہجری کے اوائل میں ہوا ہو۔ ایک کمزور یا غیر غالب خبر ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو صفین تک زندہ بتاتی ہے، مگر غالب شہادتِ یمامہ والی روایت زیادہ مضبوط ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی آخری جنگ اور غالب قول کے مطابق شہادت عقرباء/یمامہ میں ہوئی۔ موجودہ سعودی ادارتی توثیق عقرباء کے میدانِ جنگ، شہدائے یمامہ کے اجتماعی قبرستان اور مقبرۂ شعیب الدم/مقبرۂ الجبیلہ القدیمہ کو اس تاریخی مقام کے اجزاء کے طور پر بیان کرتی ہے۔ تاہم دستیاب قدیم و ادارتی مواد میں ایسی شخصی صراحت یا قابلِ اعتماد کتبہ نہیں ملا جو ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو اسی مخصوص قبرستان کی کسی متعین قبر سے جوڑ دے۔ اس لیے عمومی آخری مقام عقرباء/الجبیلہ کے سیاق میں محفوظ ہے، مگر انفرادی قبر غیر متعین ہے اور کوئی خام نقشہ جاتی مختصات شامل نہیں کی گئیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ انصاری خزرجی ساعدی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے قبیلۂ خزرج کی شاخ بنو ساعدہ سے تعلق رکھنے والے صحابی تھے۔ وہ اپنی کنیت ابو دجانہ ہی سے سب سے زیادہ معروف ہیں۔ قدیم کتبِ تراجم میں عموماً ان کا نام سماک بن خرشہ بن لوذان بن عبد ود بن زید لکھا گیا ہے، جبکہ بعض روایات میں سماک بن اوس بن خرشہ کی صورت بھی ملتی ہے۔ یہ اختلاف نسب کی نقل میں ہے اور اس کی بنیاد پر بدر، اُحد اور یمامہ کے معروف مجاہد کو دو الگ اشخاص سمجھنا درست نہیں۔ بعد کے مآخذ میں انہیں ذوالمشہرہ بھی کہا گیا، جو اس سرخ پٹی سے متعلق لقب تھا جس کے ذریعے وہ میدانِ جنگ میں پہچانے جاتے تھے۔

دستیاب مواد میں حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی گھریلو زندگی کے مقابلے میں ان کی اجتماعی خدمت کی تفصیل زیادہ محفوظ ہے۔ وہ انصار میں سے تھے اور بنو ساعدہ کے ان افراد میں شمار کیے گئے ہیں جنہوں نے ۲ ہجری میں غزوۂ بدر میں شرکت کی۔ بدر میں موجودگی انہیں مدینہ کی ابتدائی مسلم جماعت کے اولین محافظوں میں شامل کرتی ہے۔ کتبِ تراجم میں یہ بھی منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور عتبہ بن غزوان کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ یہ خبر ابتدائی جماعت میں ان کے مقام کو سمجھنے میں مفید ہے، اگرچہ اس کا مأخذ مضبوط ترین حدیثی مجموعوں کے بجائے سوانحی روایت ہے۔

ان کا سب سے مضبوط سند سے ثابت انفرادی واقعہ ۳ ہجری کے غزوۂ اُحد میں پیش آیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تلوار پیش کرکے پوچھا کہ اسے کون لے گا۔ کئی صحابہ اسے لینا چاہتے تھے، لیکن جب آپ نے پوچھا کہ کون اسے اس کے پورے حق اور ذمہ داری کے ساتھ لے گا تو لوگ رک گئے۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ اسے اس کے حق کے ساتھ لیں گے، پھر انہوں نے اس سے دشمن کے جنگجوؤں کے خلاف بھرپور قتال کیا۔ یہ صحیح روایت ان کی شناخت بھی سماک بن خرشہ کے طور پر ثابت کرتی ہے اور واقعے کا بنیادی مفہوم بھی واضح کرتی ہے کہ انہوں نے محض ایک متبرک چیز نہیں بلکہ ایک بھاری امانت قبول کی تھی۔

قدیم سیرت اور کتبِ تراجم اس کے ساتھ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی سرخ پٹی کا یادگار منظر بھی نقل کرتی ہیں جسے وہ لڑائی سے پہلے سر پر باندھتے تھے۔ یہ پٹی اس بات کی پہچان بن جاتی تھی کہ وہ پوری قوت کے ساتھ مقابلے کے لیے تیار ہیں، اور روایات میں صفوں کے درمیان ان کی پُراعتماد چال کا بھی ذکر ہے۔ انہی تفصیلات کی وجہ سے سرخ پٹی ان کی تاریخی یاد سے جدا نہیں رہی۔ تاہم انہیں سیرت اور سوانحی مواد کے درجے میں بیان کرنا چاہیے، جبکہ تلوار کا اصل واقعہ صحیح مسلم کی مستقل اور صحیح روایت سے ثابت ہے۔

اُحد میں مسلمانوں کی صفیں منتشر ہوئیں تو ابن اسحاق کی سیرتی روایت حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھکتے اور اپنی پشت کو ڈھال بناتے ہوئے دکھاتی ہے، یہاں تک کہ تیر ان کی پشت پر لگے۔ طبرانی سے منقول ایک متعلقہ روایت کے بارے میں ہیثمی نے کہا کہ اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جنہیں وہ نہیں پہچانتے تھے۔ ذہبی اور دوسرے سوانح نگار ان کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثابت رہنے اور موت پر بیعت کرنے کی روایت بھی محفوظ کرتے ہیں، مگر اس کی تفصیلی اسناد صحیح مسلم کی تلوار والی روایت کے برابر نہیں۔ اس لیے حفاظتی ثابت قدمی کو مشہور سیرتی و سوانحی روایت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، نہ کہ بلا اختلاف صحیح حدیث کے طور پر۔

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ بنیادی طور پر کثرت سے حدیث روایت کرنے والے راوی یا فقیہ کی حیثیت سے معروف نہیں۔ ان کی تاریخی شخصیت ابتدائی مسلم جماعت کے بڑے معرکوں میں عملی شرکت، نظم اور شجاعت سے سامنے آتی ہے۔ مآخذ ہر مہم، منصب یا خاندانی تعلق کی اتنی تفصیل محفوظ نہیں کرتے کہ خالی جگہیں قیاس سے پُر کی جائیں۔ ابن سعد سے منقول ہے کہ ان کی نسل مدینہ اور بغداد میں باقی رہی، لیکن اس ریکارڈ کے لیے دیکھے گئے مواد میں کسی زوجہ، اولاد یا والدین کے نام اتنے مضبوط طریقے سے ثابت نہیں کہ ان کی بنیاد پر رجسٹری کے خاندانی روابط بنائے جائیں۔

زید بن اسلم کے واسطے سے منقول ایک مختصر اخلاقی خبر میں آتا ہے کہ بیماری کے وقت حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ دو اعمال کو اپنے لیے خاص طور پر قابلِ اعتماد سمجھتے تھے: ایسی بات سے بچنا جو ان سے متعلق نہ ہو اور مسلمانوں کے لیے دل کو کینے سے پاک رکھنا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں بلکہ سوانح و آداب میں منقول ان کا اپنا قول ہے۔ اسی درجے پر یہ خبر میدانِ جنگ کی بہادری کے ساتھ زبان کی حفاظت اور باطنی خیر خواہی کی تصویر بھی پیش کرتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ مسیلمہ اور بنو حنیفہ کے خلاف لشکر میں شریک ہوئے۔ معرکۂ یمامہ یا عقرباء کی تاریخ میں اختلاف ہے: بعض مؤرخین اسے ۱۱ ہجری میں رکھتے ہیں، جبکہ زیادہ مشہور قول کے مطابق یہ ۱۲ ہجری کے اوائل میں ہوا۔ اکثر معتبر سوانحی مآخذ حضرت ابو دجانہ کی شہادت اسی معرکے میں بیان کرتے ہیں۔ ایک کمزور یا غیر غالب روایت انہیں بعد تک زندہ اور جنگِ صفین میں شریک بتاتی ہے؛ اسے غالب یمامہ والی روایت کے برابر نہیں رکھا جا سکتا۔

کتبِ تراجم و تاریخ بیان کرتی ہیں کہ آخری مرحلے میں حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ فصیل بند باغ کے اندر داخل ہوئے یا انہیں اندر پہنچایا گیا۔ داخلے کے دوران ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی، لیکن وہ لڑتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ یہ خبر سوانحی اور تاریخی لٹریچر میں نقل ہوئی ہے اور ان کے حالات میں کثرت سے دہرائی جاتی ہے۔ یہ حملے کی انتہائی سخت کیفیت واضح کرتی ہے، مگر اسے تلوار والی صحیح روایت جیسی قطعی حدیثی قوت کے ساتھ نہیں بلکہ تاریخی نقل کے طور پر پیش کرنا چاہیے۔

اسی تاریخی روایت میں حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو مسیلمہ کے قتل میں شریک افراد میں شمار کیا گیا ہے۔ آخری لمحات کی روایات میں ایک سے زیادہ جنگجوؤں کا ذکر ہے، اس لیے محتاط بات یہ ہے کہ وہ اس حملے میں شریک تھے جس میں مسیلمہ مارا گیا، نہ یہ کہ ہر مأخذ آخری ضرب صرف انہی کی طرف منسوب کرتا ہے۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ خود بھی اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ یوں ان کی زندگی تین فیصلہ کن میدانوں—بدر، اُحد میں دفاع اور عقرباء کی جدوجہد—کے ذریعے یاد رکھی گئی۔

موجودہ آثارِ عقرباء الجبیلہ کے قریب واقع ہیں۔ سعودی پیڈیا، سعودی ہیریٹیج کمیشن کے حوالے سے، میدانِ جنگ، شہداء کے اجتماعی قبرستان اور مقبرۂ شعیب الدم یا مقبرۂ الجبیلہ قدیمہ کو اس مقام کی نمایاں خصوصیات میں شمار کرتی ہے، اور قبرستان میں سینکڑوں جنگی شہداء کی تدفین بیان کرتی ہے۔ یہی سرکاری و ادارتی مواد حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو مسیلمہ کے خلاف حملے کے شرکاء میں بھی شمار کرتا ہے۔ تاہم یہ کسی قدیم ماخذ یا شخصی کتبے کے ذریعے یہ صراحت نہیں کرتا کہ حضرت ابو دجانہ اسی نامزد قبرستان میں دفن ہوئے۔

اس بنا پر حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی یمامہ/عقرباء میں شہادت غالب اور مضبوط سوانحی نتیجہ ہے، لیکن کسی مخصوص عقرباء قبرستان میں ان کی تدفین ابھی شخصی اور صریح تاریخی دلیل سے ثابت نہیں۔ موجودہ میدانِ جنگ اور اجتماعی قبرستان ان کے آخری معرکے کا جغرافیائی پس منظر واضح کرتے ہیں، مگر انہیں کسی نامزد قبرستان یا قابلِ شناخت انفرادی قبر کا قطعی ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔ اس لیے تدفین کی جگہ زیرِ نظر، مختصات خالی اور انفرادی قبر نامعلوم رہتی ہے۔ ان کی پائیدار اہمیت ذمہ دارانہ شجاعت، اُحد میں وفادار دفاع اور غالب قول کے مطابق یمامہ میں قربانی سے وابستہ ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی سب سے واضح تاریخی اہمیت صحیح مسلم میں محفوظ ذمہ دارانہ شجاعت کے نمونے میں ہے۔ تلوار سب کے سامنے پیش ہوئی، مگر فیصلہ کن سوال اس کے حق اور ذمہ داری کا تھا۔ ان کے جواب نے بہادری کو جواب دہی کے ساتھ جوڑ دیا، اس لیے یہ واقعہ محض جسمانی قوت کی کہانی نہیں رہتا۔

اُحد میں ان کی یاد حملے اور حفاظت دونوں کو یکجا کرتی ہے۔ صحیح تلوار والی روایت ان کے پُرعزم قتال کو ثابت کرتی ہے، جبکہ ابتدائی سیرت اور کتبِ تراجم سرخ پٹی، ثابت قدمی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پشت سے بچانے کا ذکر کرتی ہیں۔ ہر مأخذ کو اس کے صحیح ثبوتی درجے میں رکھنا واقعے کی تاثیر اور دیانت دونوں محفوظ کرتا ہے۔

یمامہ میں حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نبوی وفات کے بعد کے بحران میں اولین صحابہ کے تسلسل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تاریخی روایات انہیں فصیل بند باغ کے حملے اور مسیلمہ کی شکست میں شریک بتاتی ہیں، اور وہیں ان کی شہادت ہوئی۔ ان کی وفات اس جنگ کی وسیع قیمت کا حصہ ہے، کسی فرقہ وارانہ دعوے یا آراستہ مزار کی داستان کا نہیں۔

مقام سے متعلق ان کی سوانح تاریخی احتیاط کا بھی نمونہ ہے۔ عقرباء ایک ثابت شدہ میدانِ جنگ ہے اور وہاں اجتماعی قبرستان موجود ہیں، مگر حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی کسی مخصوص قبرستان میں تدفین یا عین قبر کی شناخت کے لیے صریح شخصی دلیل دستیاب نہیں۔ درست نتیجہ یہ ہے کہ شہادت کی غالب روایت محفوظ رکھی جائے، جبکہ مقامِ تدفین کو زیرِ نظر اور انفرادی قبر کو نامعلوم کہا جائے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2470 (Book 44, Hadith 183) | https://sunnah.com/muslim:2470 | Sound report naming Simak ibn Kharasha Abu Dujana and the sword episode at Uhud.
Al-Mu'jam al-Kabir | al-Tabarani | vol. 7, p. 104, nos. 6502, 6505, 6506 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/84/6450/ | Badr identification, Banu Sa'ida lineage form and naming among the martyrs of Yamama.
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | vol. 1, p. 244 and following | https://islamweb.net/ar/library/content/60/50/ | Lineage variants, red headband, reported brotherhood, Yamama, descendants report and ethical saying.
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | vol. 2, Abu Dujana/Simak entry, displayed p. 652 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/1081/ | Badr, valor, Yamama martyrdom and minority Siffin report.
Al-Thiqat | Ibn Hibban | vol. 3, Abu Dujana entry; pagination varies by edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1079/807/ | Banu Sa'ida identity, Yamama martyrdom, participation against Musaylima and descendants in Madinah/Iraq.
Al-Bidaya wa al-Nihaya | Ibn Kathir | vol. 9, Abu Dujana notice around p. 498; Yamama chronology around p. 511 in the web edition | https://islamweb.net/ar/library/content/59/718/ ; https://www.islamweb.com/ar/library/content/59/719/ | Uhud and Yamama biography; 11/12 AH chronology reconciliation.
Hadith Encyclopedia / Majma al-Zawa'id grading | al-Durar al-Saniyya / al-Haythami | 6/112 and 6/227 | https://dorar.net/h/Nb2x0gaa ; https://dorar.net/hadith-category/cat/1f91b7260117448f6de4564b61f4fa07 | Red-headband report has unknown narrators; Yamama-martyr naming route has trustworthy narrators.
Aqraba Site | Saudipedia citing the Heritage Commission | article dated 2022; no page numbering | https://saudipedia.com/موقع-عقرباء | Modern institutional identification of the Aqraba battlefield, collective martyrs cemetery, Shuaib al-Dam/Old Jubaylah Cemetery and participation in the attack on Musaylima.

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔