ابتدائی اور کلاسیکی سنی مصادر میں ایک ایسے شخص کی روایت محفوظ ہے جو حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کوفہ سے واپس آیا اور آپ کے بارے میں تمسخر یا بدزبانی کے انداز میں بات کی۔ روایت کے مطابق دو ستاروں جیسے یا روشن اجسام اس کی آنکھوں پر لگے اور اس کی بینائی جاتی رہی۔ ابن سعد نے قرہ بن خالد عن ابی رجاء العطاردی کی ایک قدیم سند محفوظ کی، جبکہ احمد، طبرانی اور اللالکائی کے ہاں اس کے قریب المعنی طرق موجود ہیں۔ ایک روایت میں ابو رجاء صراحت سے کہتے ہیں کہ انہوں نے اس نابینا شخص کو خود دیکھا، اور کلاسیکی ناقدین نے اس سند کے راویوں کے بارے میں مثبت کلام کیا ہے۔
روایت کہتی ہے کہ دو چیزیں، جنہیں ستاروں جیسا یا روشن بتایا گیا ہے، اس شخص کی آنکھوں پر لگیں اور اس کی بینائی ختم ہو گئی۔ اس تشبیہ کو ماخذ کی نقل کردہ زبان ہی کے طور پر محفوظ رکھنا چاہیے۔ مصادر دو ستاروں جیسے اجسام کا ذکر کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ان کی کوئی فلکیاتی، بصری یا طبی حقیقت کیا تھی یا جسمانی طور پر یہ عمل کیسے ہوا۔
ابن سعد نے اس واقعے کی ایک قدیم صورت محمد بن عبد اللہ الانصاری اور ابو عامر العقدی سے، قرہ بن خالد کے واسطے سے ابو رجاء العطاردی تک محفوظ کی ہے۔ یہی بنیادی واقعہ احمد کی فضائل الصحابہ اور طبرانی کی المعجم الکبیر میں ایسے متوازی طرق سے بھی آتا ہے جو قرہ بن خالد اور ابو رجاء پر جمع ہوتے ہیں۔ اللالکائی نے بھی اسے حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں ذکر کیا ہے۔
ایک خاص روایت اس خبر کے تاریخی پس منظر کو مزید مضبوط بناتی ہے۔ اس میں ابو رجاء العطاردی سے صراحتاً منقول ہے کہ انہوں نے اس شخص کو نابینا ہونے کے بعد خود دیکھا تھا۔ کلاسیکی رجال و تخریج کے مواد میں بھی سند کے بارے میں مثبت اشارے ملتے ہیں: ایک حکم میں رجال کو ثقہ کہا گیا، جبکہ دوسرے میں طبرانی کے ایک طریق کے رجال کو صحیح کی کتابوں کے راویوں میں شمار کیا گیا ہے۔
تاہم ان مختلف کتابوں میں موجود نقلوں کو بالکل الگ الگ معجزاتی واقعات نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ یہ بڑی حد تک قرہ بن خالد سے ابو رجاء کے مشترک مرکزی طریق پر قائم ہیں۔ ان کی اصل اہمیت قدیم زمانے میں روایت کے محفوظ ہونے، متعدد کلاسیکی کتابوں میں موجودگی، ابو رجاء سے منسوب براہ راست مشاہدے کے الفاظ، اور راویوں کے مثبت نقد میں ہے۔
لہٰذا مضبوط ترین ماخذی نتیجہ یہ ہے کہ ابتدائی اور کلاسیکی سنی روایات میں ایک شخص کا ذکر ہے جس نے حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ کی توہین یا تمسخر کیا، پھر دو ستاروں جیسے اجسام اس کی آنکھوں پر لگے اور اس کی بینائی چلی گئی۔ بعد کے مصادر نے اس واقعے کو حسین رضی اللہ عنہ سے وابستہ کرامت کے طور پر لیا۔ موجود ترسیلی شواہد اس روایتی خاندان کے اندر اسے مضبوط تائید دیتے ہیں، لیکن غیر معمولی لمحے کے لیے کوئی خود ساختہ جسمانی یا سائنسی تشریح شامل نہیں کی جانی چاہیے۔
خلاصۂ نتیجہ
ابتدائی اور کلاسیکی سنی مصادر میں مضبوط طور پر یہ روایت محفوظ ہے کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد آپ کا تمسخر یا بدزبانی کرنے والے ایک شخص کی آنکھوں پر دو ستاروں جیسے اجسام لگے اور وہ نابینا ہو گیا۔ قدیم سند، متوازی کلاسیکی نقلیں، ابو رجاء کے براہ راست مشاہدے کے الفاظ اور راویوں کے مثبت نقد اس روایت کی مضبوط شمولیت کی تائید کرتے ہیں، جبکہ غیر معمولی عمل کی عین جسمانی کیفیت غیر متعین رہتی ہے۔