لالکائی نے کربلا سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے جس میں ایک مخالف شخص امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قریب آیا اور آپ سے کہا کہ آپ آگ کی توقع رکھیں۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس کی بات رد کی اور جواب دیا کہ وہ ایک مہربان یا بخشنے والے رب اور قبول شدہ شفاعت کرنے والے کی طرف جا رہے ہیں۔ پھر آپ نے اس شخص کے بارے میں دعا کی، اور لالکائی کی روایت میں یہ دعا اس شرط کے ساتھ منقول ہے کہ اگر وہ شخص جھوٹا ہو۔ اس کے بعد روایت کہتی ہے کہ گھوڑے نے اسے گرا دیا، اس کی ایک ٹانگ رکاب میں پھنس گئی اور وہ گھسیٹتا ہوا مر گیا۔ اسی نوع کی صورتیں دوسری کلاسیکی کتابوں میں بھی ملتی ہیں، مگر یہاں مرکزی کہانی لالکائی کی روایت کے مطابق رکھی گئی ہے۔
امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس شخص کی بات قبول نہیں کی۔ روایت میں آپ کا جواب منقول ہے کہ آپ ایک مہربان یا بخشنے والے رب اور قبول شدہ شفاعت کرنے والے کی طرف جا رہے ہیں۔ بات صرف جواب تک محدود نہ رہی، بلکہ اس کے بعد امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں دعا کی۔
لالکائی کی روایت میں دعا کی صورت اس شخص کے دعوے کی سچائی سے مشروط بیان ہوئی ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اگر وہ شخص جھوٹا ہے تو اللہ اسے آگ کی طرف گھسیٹے۔ روایت پھر کسی طویل درمیانی منظر کے بغیر فوراً اس واقعے کی طرف بڑھتی ہے جس نے اس حکایت کو نمایاں بنا دیا۔
اس شخص کے گھوڑے نے اسے گرا دیا۔ اس کی ایک ٹانگ رکاب میں پھنسی رہ گئی اور گھوڑا اسے زمین پر گھسیٹتا ہوا لے گیا۔ روایت آگے بیان کرتی ہے کہ اسی حالت میں وہ مر گیا۔ یوں مخالفانہ بات، امام حسین رضی اللہ عنہ کا جواب، دعا اور پھر اچانک پیش آنے والا انجام ایک مسلسل ترتیب میں بیان ہوتے ہیں۔
لالکائی نے اس واقعے کو امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی کرامات سے متعلق اپنے باب میں نقل کیا ہے۔ طبری اور طبرانی کی کتابوں میں بھی کربلا کے اس واقعے سے ملتی جلتی صورتیں محفوظ ہیں۔ ان روایات میں اس شخص کے نام اور دعا کے بعض الفاظ میں فرق ملتا ہے، اس لیے انہیں یہاں ملا کر ایک نئی مشترک کہانی نہیں بنائی گئی۔
اس عوامی بیان میں اسی لیے لالکائی کی محفوظ کردہ بنیادی ترتیب کو سامنے رکھا گیا ہے: کربلا میں ایک مخالف شخص امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے سخت بات کرتا ہے، آپ اس کی بات رد کرتے ہیں اور اس کے بارے میں دعا فرماتے ہیں، پھر روایت کے مطابق اس کا گھوڑا اسے گرا کر گھسیٹتا ہے یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے۔ حکایت کا مرکزی غیر معمولی لمحہ یہی اچانک انجام ہے جو دعا کے بعد بیان ہوا ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
روایت کربلا کا ایک نمایاں سلسلہ محفوظ کرتی ہے: امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ ایک مخالف شخص کی بات کا جواب دیتے ہیں، اس کے بارے میں دعا کرتے ہیں، اور پھر اس کا گھوڑا اسے گرا کر گھسیٹتا ہے یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے۔