ابن الصباغ نے شاذلیؒ کے صاحبزادے شرف الدین سے ایک نام زد روایت محفوظ کی ہے جس میں ان کے آخری سفرِ حج اور حمیثرہ کی آخری رات کی تفصیل آتی ہے۔ شاذلیؒ نے مقامی کھارے کنویں کا پانی منگوایا، اس میں سے پیا اور باقی پانی واپس کنویں میں ڈالنے کو کہا؛ شرف الدین کے مطابق اس کے بعد کنویں کا پانی میٹھا اور زیادہ ہوگیا۔ اسی رات شاذلیؒ ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے اور سحر سے پہلے وصال فرمایا، پھر انہیں حمیثرہ ہی میں دفن کیا گیا۔
ابو الحسن شاذلیؒ کی آخری رات کا سب سے تفصیلی کلاسیکی بیان ابن الصباغ نے درۃ الاسرار میں محفوظ کیا ہے۔ ابن الصباغ لکھتے ہیں کہ سات سو پندرہ ہجری میں دمنہور میں انہوں نے یہ واقعہ خود شاذلیؒ کے صاحبزادے شرف الدین سے سنا۔ یہ قصہ چھ سو چھپن ہجری کے اس آخری سفر سے متعلق ہے جب شاذلیؒ حج کے ارادے سے روانہ ہوئے اور قافلہ صحرائے عیذاب کے مقام حمیثرہ تک پہنچا۔
اس شام شاذلیؒ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا، انہیں نصیحتیں کیں اور اپنے بعد ان کی رہنمائی کے لیے اپنے خاص شاگرد ابو العباس مرسیؒ کی طرف متوجہ کیا۔ یوں روایت کا پس منظر صرف ایک کنویں کا قصہ نہیں، بلکہ ایک بزرگ کی آخری رات ہے جس میں وہ اپنے رفقا کی روحانی ترتیب قائم کر رہے تھے اور آئندہ کے لیے انہیں واضح ہدایت دے رہے تھے۔
عشاء سے پہلے کے وقت شاذلیؒ نے اپنے صاحبزادے سے کہا کہ اسی مقام کے کنویں سے ایک برتن پانی بھر کر لاؤ۔ بیٹے نے عرض کیا کہ اس کنویں کا پانی سخت کھارا ہے اور ہمارے پاس میٹھا پانی موجود ہے۔ شاذلیؒ نے فرمایا کہ مجھے اسی کنویں کا پانی چاہیے۔ پانی آیا تو انہوں نے اس میں سے پیا، منہ میں پانی لے کر کلی کی اور کچھ پانی برتن میں واپس کیا، پھر فرمایا کہ اسے کنویں میں لوٹا دو۔ شرف الدین کی روایت کے مطابق پانی واپس ڈالنے کے بعد کنویں کا پانی میٹھا ہوگیا اور اس کی مقدار بھی بڑھ گئی۔
اس کے بعد رات عبادت اور ذکر میں گزری۔ شرف الدین بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد پوری رات اللہ کی طرف متوجہ رہے اور بار بار «الٰہی، الٰہی» کہتے رہے۔ سحر کے قریب اچانک خاموش ہوگئے۔ ساتھیوں نے پہلے خیال کیا کہ شاید نیند آگئی ہے، لیکن جب انہیں پکارا اور حرکت دی تو معلوم ہوا کہ وہ وصال فرما چکے ہیں۔
اس کے بعد ابو العباس مرسیؒ کو بلایا گیا۔ شاذلیؒ کو غسل دیا گیا، نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور اسی حمیثرہ میں دفن کیا گیا۔ ابن الصباغ یہ بھی لکھتے ہیں کہ بعد میں وہ خود اس مقام پر آئے، وہاں کے پانی سے پیا اور شاذلیؒ کی قبر کی زیارت کی۔
ابن عطا اللہ سکندری کی لطائف المنن میں بھی حمیثرہ کے پانی کا یہی تعلق ایک مشہور روایت کے طور پر محفوظ ہے، البتہ وہاں پانی کے زیادہ اور میٹھا ہونے کو تدفین اور غسل کے بعد بیان کیا گیا ہے۔ دونوں کلاسیکی روایتوں کی زمانی ترتیب مختلف ہے، مگر دونوں حمیثرہ، شاذلیؒ کے آخری سفر، ان کی تدفین اور اس کنویں کی برکت کی یاد کو ایک ہی ابتدائی شاذلی روایت میں محفوظ کرتی ہیں۔
اس شام شاذلیؒ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا، انہیں نصیحتیں کیں اور اپنے بعد ان کی رہنمائی کے لیے اپنے خاص شاگرد ابو العباس مرسیؒ کی طرف متوجہ کیا۔ یوں روایت کا پس منظر صرف ایک کنویں کا قصہ نہیں، بلکہ ایک بزرگ کی آخری رات ہے جس میں وہ اپنے رفقا کی روحانی ترتیب قائم کر رہے تھے اور آئندہ کے لیے انہیں واضح ہدایت دے رہے تھے۔
عشاء سے پہلے کے وقت شاذلیؒ نے اپنے صاحبزادے سے کہا کہ اسی مقام کے کنویں سے ایک برتن پانی بھر کر لاؤ۔ بیٹے نے عرض کیا کہ اس کنویں کا پانی سخت کھارا ہے اور ہمارے پاس میٹھا پانی موجود ہے۔ شاذلیؒ نے فرمایا کہ مجھے اسی کنویں کا پانی چاہیے۔ پانی آیا تو انہوں نے اس میں سے پیا، منہ میں پانی لے کر کلی کی اور کچھ پانی برتن میں واپس کیا، پھر فرمایا کہ اسے کنویں میں لوٹا دو۔ شرف الدین کی روایت کے مطابق پانی واپس ڈالنے کے بعد کنویں کا پانی میٹھا ہوگیا اور اس کی مقدار بھی بڑھ گئی۔
اس کے بعد رات عبادت اور ذکر میں گزری۔ شرف الدین بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد پوری رات اللہ کی طرف متوجہ رہے اور بار بار «الٰہی، الٰہی» کہتے رہے۔ سحر کے قریب اچانک خاموش ہوگئے۔ ساتھیوں نے پہلے خیال کیا کہ شاید نیند آگئی ہے، لیکن جب انہیں پکارا اور حرکت دی تو معلوم ہوا کہ وہ وصال فرما چکے ہیں۔
اس کے بعد ابو العباس مرسیؒ کو بلایا گیا۔ شاذلیؒ کو غسل دیا گیا، نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور اسی حمیثرہ میں دفن کیا گیا۔ ابن الصباغ یہ بھی لکھتے ہیں کہ بعد میں وہ خود اس مقام پر آئے، وہاں کے پانی سے پیا اور شاذلیؒ کی قبر کی زیارت کی۔
ابن عطا اللہ سکندری کی لطائف المنن میں بھی حمیثرہ کے پانی کا یہی تعلق ایک مشہور روایت کے طور پر محفوظ ہے، البتہ وہاں پانی کے زیادہ اور میٹھا ہونے کو تدفین اور غسل کے بعد بیان کیا گیا ہے۔ دونوں کلاسیکی روایتوں کی زمانی ترتیب مختلف ہے، مگر دونوں حمیثرہ، شاذلیؒ کے آخری سفر، ان کی تدفین اور اس کنویں کی برکت کی یاد کو ایک ہی ابتدائی شاذلی روایت میں محفوظ کرتی ہیں۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی شاذلی مآخذ میں حمیثرہ شاذلیؒ کی آخری رات، ان کی آخری نصیحتوں، کنویں سے منسوب برکت اور اسی مقام پر ان کی تدفین کی یاد کے طور پر محفوظ ہے۔
مآخذ
Latā’if al-Minan p.50: introduced as “من الأمر المشهور”; after al-Shadhili was buried at Humaythira and washed with its water, the water is reported to have increased and become sweet enough for caravans, unlike before.
Ibn al-Sabbagh, Durrat al-Asrar wa Tuhfat al-Abrar: he says he heard Sharaf al-Din, son of al-Shadhili, at Damanhur in 715 AH. Sharaf al-Din places the well-water change on al-Shadhili’s final night before death; Ibn al-Sabbagh adds that he later drank from the well and visited the grave.
Ibn Battuta, Rihla: Humaythira is described as having a brackish spring ('ayn ma' zu'aq), and Ibn Battuta records visiting al-Shadhili’s grave. Used as later counter-evidence against claiming permanent sweetening.