قشیری نے ابراہیم خواص رحمہ اللہ سے ایک سفر کا واقعہ نقل کیا ہے جس میں حجاز کے راستے میں پیاس اتنی شدید ہوئی کہ وہ گر پڑے۔ ان کے چہرے پر پانی ڈالا گیا اور آنکھ کھلی تو ایک خوش رو سوار نظر آیا جس نے انہیں پانی پلایا اور اپنی سواری پر پیچھے بٹھا لیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ابراہیم خواص رحمہ اللہ نے بتایا کہ مدینہ دکھائی دے رہا ہے۔ پھر سوار نے انہیں اترنے کو کہا اور رسول اللہ ﷺ تک سلام پہنچانے کی درخواست کرتے ہوئے اسی پیغام میں اپنا تعارف خضر کے طور پر کرایا۔
ابراہیم خواص رحمہ اللہ کلاسیکی سوانح میں ایسے صوفی مسافر کے طور پر یاد کیے گئے ہیں جن کی زندگی توکل اور مکہ کی طرف بار بار کے سفر سے گہری وابستگی رکھتی تھی۔ خطیب بغدادی نے بھی ان کے صحرائی سفروں کا ذکر کیا ہے۔ اسی پس منظر میں قشیری حجاز کے ایک سفر کا ایک غیر معمولی واقعہ محفوظ کرتے ہیں۔
ابراہیم خواص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سفر کے دوران پیاس اس قدر شدید ہوگئی کہ وہ گر پڑے۔ روایت میں اگلا منظر یہ ہے کہ ان کے چہرے پر پانی پڑا۔ آنکھ کھولی تو ایک خوش رو شخص کو ہلکے رنگ کی سواری پر دیکھا۔ اس سوار نے انہیں پانی پلایا اور شدید کمزوری کی حالت میں انہیں فوری راحت ملی۔
پانی پینے کے بعد سوار نے کہا کہ میرے پیچھے بیٹھ جاؤ۔ ابراہیم خواص رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت حجاز میں تھے۔ بہت تھوڑی دیر گزری تو سوار نے پوچھا: کیا دیکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ مدینہ دکھائی دے رہا ہے۔ روایت فاصلے کی پیمائش یا اس تیز سفر کا طریقہ نہیں بتاتی؛ وہ صرف مختصر سواری اور پھر مدینہ کے سامنے آجانے کی ترتیب بیان کرتی ہے۔
اس کے بعد سوار نے ابراہیم خواص رحمہ اللہ کو اترنے کے لیے کہا۔ جدا ہوتے وقت اس نے درخواست کی کہ رسول اللہ ﷺ کو اس کا سلام پہنچائیں اور کہیں کہ “آپ کے بھائی خضر آپ کو سلام کہتے ہیں۔” قشیری کی منقول عبارت میں یہی وہ مقام ہے جہاں سوار اپنے پیغام کے اندر خود کو خضر کے نام سے متعارف کراتا ہے۔
قشیری کی کتاب میں ابراہیم خواص رحمہ اللہ اور خضر سے متعلق ایک دوسرا الگ واقعہ بھی منقول ہے، لیکن وہ دوسری ملاقات ہے اور اسے اس سفر کے ساتھ نہیں ملایا گیا۔ یہاں اصل قصہ وہی ایک سفر ہے جسے ابراہیم خواص رحمہ اللہ اپنی طرف سے بیان کرتے ہیں: شدید پیاس، اچانک پانی، مختصر سواری، مدینہ کا دکھائی دینا اور رخصت کے وقت سوار کا اپنا تعارف۔
یوں اس منقول کرامت کا مرکزی منظر سفر میں مدد اور غیر معمولی طور پر جلد مدینہ کے قریب پہنچنا ہے۔ ابراہیم خواص رحمہ اللہ کمزوری کی انتہا تک پہنچتے ہیں، ایک نامعلوم سوار انہیں پانی دیتا ہے، انہیں اپنے ساتھ بٹھاتا ہے اور تھوڑی ہی دیر بعد مدینہ سامنے آجاتا ہے۔ حکایت سوار کے اس پیغام پر ختم ہوتی ہے جس میں وہ خود کو خضر کہہ کر رسول اللہ ﷺ کو سلام پہنچانے کی درخواست کرتا ہے۔
ابراہیم خواص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سفر کے دوران پیاس اس قدر شدید ہوگئی کہ وہ گر پڑے۔ روایت میں اگلا منظر یہ ہے کہ ان کے چہرے پر پانی پڑا۔ آنکھ کھولی تو ایک خوش رو شخص کو ہلکے رنگ کی سواری پر دیکھا۔ اس سوار نے انہیں پانی پلایا اور شدید کمزوری کی حالت میں انہیں فوری راحت ملی۔
پانی پینے کے بعد سوار نے کہا کہ میرے پیچھے بیٹھ جاؤ۔ ابراہیم خواص رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اس وقت حجاز میں تھے۔ بہت تھوڑی دیر گزری تو سوار نے پوچھا: کیا دیکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ مدینہ دکھائی دے رہا ہے۔ روایت فاصلے کی پیمائش یا اس تیز سفر کا طریقہ نہیں بتاتی؛ وہ صرف مختصر سواری اور پھر مدینہ کے سامنے آجانے کی ترتیب بیان کرتی ہے۔
اس کے بعد سوار نے ابراہیم خواص رحمہ اللہ کو اترنے کے لیے کہا۔ جدا ہوتے وقت اس نے درخواست کی کہ رسول اللہ ﷺ کو اس کا سلام پہنچائیں اور کہیں کہ “آپ کے بھائی خضر آپ کو سلام کہتے ہیں۔” قشیری کی منقول عبارت میں یہی وہ مقام ہے جہاں سوار اپنے پیغام کے اندر خود کو خضر کے نام سے متعارف کراتا ہے۔
قشیری کی کتاب میں ابراہیم خواص رحمہ اللہ اور خضر سے متعلق ایک دوسرا الگ واقعہ بھی منقول ہے، لیکن وہ دوسری ملاقات ہے اور اسے اس سفر کے ساتھ نہیں ملایا گیا۔ یہاں اصل قصہ وہی ایک سفر ہے جسے ابراہیم خواص رحمہ اللہ اپنی طرف سے بیان کرتے ہیں: شدید پیاس، اچانک پانی، مختصر سواری، مدینہ کا دکھائی دینا اور رخصت کے وقت سوار کا اپنا تعارف۔
یوں اس منقول کرامت کا مرکزی منظر سفر میں مدد اور غیر معمولی طور پر جلد مدینہ کے قریب پہنچنا ہے۔ ابراہیم خواص رحمہ اللہ کمزوری کی انتہا تک پہنچتے ہیں، ایک نامعلوم سوار انہیں پانی دیتا ہے، انہیں اپنے ساتھ بٹھاتا ہے اور تھوڑی ہی دیر بعد مدینہ سامنے آجاتا ہے۔ حکایت سوار کے اس پیغام پر ختم ہوتی ہے جس میں وہ خود کو خضر کہہ کر رسول اللہ ﷺ کو سلام پہنچانے کی درخواست کرتا ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
روایت میں ابراہیم خواص رحمہ اللہ کو شدید پیاس میں پانی ملتا ہے، ایک سوار انہیں ساتھ لے جاتا ہے، تھوڑی دیر میں مدینہ دکھائی دیتا ہے اور رخصت ہوتے وقت وہ سوار اپنے پیغام میں خود کو خضر کہتا ہے۔
مآخذ
al-Risala al-Qushayriyya, vol. 2 p. 551: Qushayri <- Muhammad b. Abd Allah al-Shirazi <- Muhammad b. Faris al-Farisi <- Abu al-Hasan Khayr al-Nassaj <- Ibrahim al-Khawwas. Al-Khawwas reports severe thirst and collapse, water sprinkled on his face, a handsome rider on a shahba' mount who gave him water and carried him, Madinah becoming visible after a short time, and the rider's self-identification in the message as al-Khidr.
al-Risala al-Qushayriyya, chapter on tawakkul, vol. 1 around p. 302: Ibrahim al-Khawwas is reported saying that al-Khidr met him and asked for companionship; he separated from him fearing that reliance on al-Khidr would impair his tawakkul.
Tarikh Baghdad, vol. 6 p. 98: Ibrahim al-Khawwas is described as one of the Sufi shaykhs known for tawakkul and frequent journeys to Mecca and elsewhere; al-Khaldi transmits from him that he traversed the desert to Mecca by seventeen routes.