ابراہیم بن ادہمؒ اور بلوط کے درخت سے تازہ کھجوریں لینے کی قدیم منقول کرامت

⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

متعدد کلاسیکی سوانحی کتابوں میں ابراہیم بن ادہمؒ کے بارے میں ایک حیرت انگیز مختصر روایت محفوظ ہے کہ وہ بلوط کے درختوں سے رطب، یعنی پکی ہوئی تازہ کھجوریں، توڑ لیا کرتے تھے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ عبارت حلیۃ الاولیاء سے بھی پہلے ابن ابی الدنیا کے ہاں موجود ہے، جہاں ابو النضر کی شناخت حارث بن نعمان کے نام سے ہوجاتی ہے۔ بعد میں ابن عساکر اور ذہبی نے بھی یہی مضمون محفوظ کیا۔ عبارت قدیم ہے، مگر سند میں سنجیدہ اختلاف ہے اور اصل روایت مقام، وقت یا عینی منظر کی تفصیل نہیں دیتی۔

ابراہیم بن ادہمؒ کلاسیکی اسلامی سوانح میں ایسے زاہد کے طور پر یاد کیے گئے ہیں جنہیں حلال رزق کے معاملے میں خاص احتیاط تھی۔ ذہبی کی سیر اعلام النبلاء میں ان سے منقول ہے کہ وہ شام حلال روٹی کی تلاش میں آئے، اور ان کی زندگی میں باغات کی نگرانی، فصل کاٹنے اور محنت سے روزی کمانے کا ذکر ملتا ہے۔ اسی زہد، توکل اور رزق کے پس منظر میں ان سے متعلق ایک بہت مختصر مگر حیران کن روایت نقل ہوئی۔

اس روایت کی پرانی صورت ابن ابی الدنیا کی مجابو الدعوة میں ملتی ہے۔ محمد بن منصور، ابو النضر حارث بن نعمان سے نقل کرتے ہیں کہ ابراہیم بن ادہمؒ «بلوط کے درختوں سے رطب توڑ لیا کرتے تھے۔» عربی اسلوب «كان ... يجتني» کسی ایک تاریخ والے واقعے کے بجائے ایک معروف یا بار بار منقول حالت ظاہر کرتا ہے۔ اصل متن یہ نہیں بتاتا کہ یہ کہاں ہوا، کون ساتھ تھا، کس موسم میں ہوا، کوئی دعا پہلے ہوئی یا بعد میں کیا پیش آیا۔ یہ تفصیلات گھڑنا درست نہیں۔

ابو نعیم نے بعد میں حلیۃ الاولیاء میں تقریباً یہی جملہ محفوظ کیا اور اسے ابراہیم بن ادہمؒ کی کرامت اور بغیر سوال کے رزق ملنے سے متعلق مواد کے درمیان رکھا۔ ابن عساکر نے یہی مضمون نقل کیا اور ابو النضر کا نام حارث بن نعمان واضح کیا۔ ذہبی نے بھی سیر اعلام النبلاء میں ابن ابی الدنیا کی روایت شامل کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جملہ واقعی کلاسیکی روایت کی تاریخ رکھتا ہے، لیکن یہ متعدد مستقل عینی گواہیاں نہیں، کیونکہ بعد کے مصادر اسی پرانی نقل کو محفوظ کررہے ہیں۔

لفظی تحقیق بھی اہم ہے۔ عربی لغت میں «الرُّطَب» کھجور کے اس پھل کو کہتے ہیں جو پک کر نرم ہوچکا ہو مگر ابھی خشک تمر نہ بنا ہو۔ اس لیے «بلوط سے تازہ کھجور» مترجم کی پیدا کردہ عجیب بات نہیں؛ معروف لغوی معنی کے مطابق نباتاتی غیر معمولی پن خود قدیم متن میں موجود ہے۔

اصل مشکل سند ہے۔ ابن ابی الدنیا کی روایت سے پہلے نامعلوم «ابو النضر» کی شناخت حارث بن نعمان اکفانی کے طور پر ہوجاتی ہے، مگر اس راوی کے بارے میں رجال کی آراء یکساں نہیں۔ ذہبی نے اسے صدوق کہا، جبکہ ابو حاتم رازی سے اسی راوی کی ایک دوسری حدیثی نقل کے بارے میں نہایت سخت جرح محفوظ ہے۔ مزید یہ کہ بلوط والی روایت میں حارث یہ نہیں کہتے کہ انہوں نے خود ابراہیمؒ کو ایسا کرتے دیکھا یا براہِ راست ان سے سنا۔

اس لیے درست نتیجہ یہ ہے کہ کلاسیکی مسلم سوانحی روایت نے واقعی ابراہیم بن ادہمؒ سے یہ حیرت انگیز جملہ منسوب کیا اور کئی اہم کتابوں نے اسے محفوظ رکھا۔ مگر یہ کہنا کہ بلوط نے حقیقتاً کھجوریں پیدا کیں اور یہ تاریخی طور پر ثابت شدہ کرامت ہے، موجودہ سند سے ممکن نہیں۔ بہترین بیان یہی ہے کہ قدیم روایت اصل الفاظ کے ساتھ سنائی جائے اور آخر میں سندی کمزوری واضح کردی جائے۔

خلاصۂ نتیجہ

حیثیتِ روایت: یہ جملہ ایک قدیم کلاسیکی منقول روایت کے طور پر واقعی ثابت ہے، مگر خود واقعہ قابلِ اعتماد تاریخی سند سے ثابت نہیں۔ اسے کم اعتماد والی منقول کرامت کے طور پر رکھا جائے: متن کئی کلاسیکی کتابوں میں محفوظ ہے، لیکن سند کمزور اور محلِ اختلاف ہے۔

مآخذ

Abu Nuaym, Hilyat al-Awliya, vol.8 p.3: “كان إبراهيم بن أدهم يأخذ الرطب من شجرة البلوط”.