حبیب عجمیؒ، تین سو درہم کا جھوٹا دعویٰ اور توبہ کے بعد صحت کی دعا

ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیتقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

لالکائی ایک قدیم روایت محفوظ کرتے ہیں جس میں ایک نامعلوم شخص نے حبیب عجمیؒ پر تین سو درہم کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ حبیبؒ نے مجمع میں جھگڑا نہیں کیا بلکہ اسے اگلے دن آنے کو کہا، وضو کرکے نماز پڑھی اور سچ اور جھوٹ کے درمیان فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہوئے مشروط دعا کی۔ روایت کے مطابق وہ شخص اگلے دن جسم کے ایک حصے میں فالج کی کیفیت کے ساتھ لایا گیا، اس نے اعتراف کیا کہ قرض سراسر جھوٹ تھا، دوبارہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ کیا، پھر حبیبؒ کی صحت کی دعا کے بعد اٹھ کھڑا ہوا۔

کلاسیکی سوانح نگار حبیب عجمیؒ کو بصرہ کے نمایاں زاہدوں اور عبادت گزاروں میں شمار کرتے ہیں۔ مزی ان کا ذکر زہد، ورع، عبادت اور قبولیتِ دعا کے حوالے سے کرتے ہیں، جبکہ ذہبی بھی ان کے بارے میں دعا کی قبولیت اور منقول کرامات کا ذکر محفوظ کرتے ہیں۔ ایک قدیم بصری نقل میں ان کے یقین کی قوت کو بھی خاص طور پر سراہا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں لالکائی ایک مختصر مگر اثر انگیز واقعہ نقل کرتے ہیں جس میں حبیبؒ کا رویہ پہلے تحمل، پھر دعا، اور آخر میں توبہ کرنے والے کے لیے رحمت کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

ایک شخص حبیب ابو محمدؒ کے پاس آیا اور کہا: میرے تین سو درہم آپ کے ذمہ ہیں۔ حبیبؒ نے پوچھا: یہ قرض میرے ذمہ کیسے آیا؟ اس شخص نے کوئی حساب، معاملہ یا سبب بیان نہیں کیا؛ بس اپنا دعویٰ دہراتا رہا کہ میرے تین سو درہم آپ پر ہیں۔ حبیبؒ نے اسے لوگوں کے سامنے بحث اور رسوائی کا موضوع نہیں بنایا۔ صرف اتنا کہا کہ کل آنا۔

روایت کے مطابق اس کے بعد حبیبؒ نے وضو کیا، نماز پڑھی اور نہایت مشروط انداز میں اللہ سے دعا کی۔ مفہوم یہ تھا کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو اس کا حق اسے پہنچا دے، اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کو اس پر ظاہر کردے۔ اس دعا میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ حبیبؒ نے اپنے علم سے اس شخص کے باطن کا فیصلہ نہیں کیا، بلکہ معاملہ سچ اور جھوٹ کی شرط کے ساتھ اللہ کے سامنے رکھا۔

اگلے دن روایت ایک اچانک موڑ بیان کرتی ہے۔ وہی شخص اٹھا کر حبیبؒ کے پاس لایا گیا اور اس کے جسم کا ایک پہلو فالج سے متاثر بتایا گیا۔ حبیبؒ نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس مرتبہ اس شخص نے سچ بیان کردیا۔ اس نے اقرار کیا کہ حبیبؒ کے ذمہ اس کا کوئی قرض نہیں تھا۔ اس کا منصوبہ صرف یہ تھا کہ لوگوں کے سامنے دعویٰ کرے گا تو شاید حبیبؒ شرمندگی سے بچنے کے لیے تین سو درہم دے دیں گے۔

یہاں قصے کا سب سے خوبصورت حصہ سامنے آتا ہے۔ حبیبؒ نے اس کی حالت پر خوشی ظاہر نہیں کی اور نہ اسے مزید ذلیل کیا۔ صرف پوچھا: کیا پھر ایسا کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں۔ اس اقرار اور رجوع کے بعد حبیبؒ نے دوبارہ دعا کی، مگر اس مرتبہ دعا اس شخص کی عافیت کے لیے تھی۔

لالکائی کی روایت کا اختتام یہ ہے کہ وہ شخص زمین پر کھڑا ہوگیا اور اس طرح چلنے دوڑنے لگا جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔ یوں اس قصے کا پیغام صرف گرفت نہیں بلکہ پورا اخلاقی سفر ہے: کسی صالح شخص کی حیا سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش، سچ کا ظاہر ہونا، جھوٹ کا اعتراف، دوبارہ نہ کرنے کا عہد، اور آخر میں اسی شخص کے لیے خیر اور صحت کی دعا۔

خلاصۂ نتیجہ

اس روایت کا سب سے دل نشین پہلو حبیب عجمیؒ کا آخری عمل ہے: جب جھوٹا مدعی اپنے عمل کا اقرار کرکے دوبارہ نہ کرنے کا وعدہ کرتا ہے تو حبیبؒ اس کے لیے عافیت کی دعا کرتے ہیں۔ یوں کلاسیکی روایت قبولیتِ دعا کے ساتھ توبہ، درگزر اور رحمت کی تصویر بھی پیش کرتی ہے۔

مآخذ

اثر 198: أبو إسحاق الآدمي ← مسلم بن إبراهيم؛ report begins «أن رجلا أتى أبا محمد» without named intermediary.
مسلم بن إبراهيم: «ولد في حدود الثلاثين ومائة»؛ therefore not a direct contemporary witness to Habib if death 119H dating is followed.
Classical biographical dating used in this audit places Habib al-Ajami’s death at 119H; exact death-date traditions vary in later literature.