ابراہیم خواصؒ کا زخمی شیر کا علاج اور بچوں کے ساتھ روٹی لے کر لوٹنا

⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

رسالہ قشیریہ میں ابراہیم خواصؒ سے منقول ہے کہ ایک زخمی شیر ان کے قریب آیا اور اپنا سوجا ہوا پنجہ علاج کے لیے ان کے سامنے رکھا۔ ابراہیم خواصؒ نے اس کے زخم کا علاج اور پٹی کی، پھر کچھ دیر بعد وہ شیر دو بچوں کے ساتھ واپس آیا اور روایت کے مطابق وہ بچے روٹی لے کر آئے۔ یہ خبر نام دار سند سے محفوظ ہے، البتہ فراہم کردہ مواد میں پوری سند کی باقاعدہ حدیثی درجہ بندی موجود نہیں۔

رسالہ قشیریہ میں ابراہیم خواصؒ سے ایک غیر معمولی واقعہ منقول ہے۔ روایت کے مطابق ایک شیر ان کے قریب آیا جس کا ایک پنجہ زخمی اور سوجا ہوا تھا۔ شیر نے حملہ کرنے کے بجائے اپنا زخمی پنجہ ابراہیم خواصؒ کے سامنے رکھا۔ موجودہ روایت میں یہ تفصیل بھی آتی ہے کہ انہوں نے اس پنجے کو اپنی گود میں لیا، زخم کو کھولا، اس کا علاج کیا اور زخمی جگہ پر پٹی باندھ دی۔

اس واقعے کا پہلا حصہ بہت سادہ انداز میں آگے بڑھتا ہے۔ ایک جنگلی جانور زخمی حالت میں مدد کے لیے قریب آتا ہے اور ابراہیم خواصؒ اس کی تکلیف دیکھ کر عملی طور پر اس کا علاج کرتے ہیں۔ روایت یہاں کسی طویل گفتگو یا اضافی تشریح میں نہیں جاتی؛ اصل توجہ شیر کے زخمی پنجے اور ابراہیم خواصؒ کی طرف سے کیے گئے علاج پر ہے۔ علاج کے بعد شیر وہاں سے چلا گیا۔

لیکن قصہ اسی جگہ ختم نہیں ہوا۔ روایت کے مطابق کچھ دیر بعد وہی شیر دوبارہ واپس آیا۔ اس مرتبہ اس کے ساتھ اس کے دو بچے بھی تھے۔ بیان میں آتا ہے کہ وہ دونوں بچے ابراہیم خواصؒ کے لیے روٹی لے کر آئے تھے۔ یوں واقعے کا دوسرا حصہ پہلے حصے سے جڑ جاتا ہے: پہلے شیر زخمی حالت میں آیا اور اس کا علاج کیا گیا، پھر وہ اپنے بچوں کے ساتھ لوٹا اور ان بچوں کے ذریعے روٹی پہنچنے کا واقعہ بیان ہوا۔

پورا واقعہ ایک مسلسل ترتیب میں دیکھا جائے تو بات واضح ہے: زخمی شیر ابراہیم خواصؒ کے پاس آیا، اپنا سوجا ہوا پنجہ پیش کیا، انہوں نے زخم کا علاج اور پٹی کی، شیر چلا گیا، اور کچھ وقفے کے بعد دو بچوں کے ساتھ واپس آیا؛ روایت کے مطابق وہ بچے روٹی لے کر آئے۔ اسی ترتیب میں یہ قصہ اپنی اصل تاثیر رکھتا ہے اور اسے غیر متعلق بحث کے بغیر سمجھا جا سکتا ہے۔

قشیری نے اس خبر کو ایک نام دار سند کے ذریعے محفوظ کیا ہے جو ابو بکر محمد بن علی تکریتی اور محمد بن علی کتانی سے ہوتی ہوئی ابراہیم خواصؒ تک پہنچتی ہے۔ اس بنا پر روایت کی نسبت قابل شناخت ہے۔ تاہم فراہم کردہ مواد میں پوری سند کو صحیح یا حسن کی باقاعدہ درجہ بندی نہیں دی گئی، اس لیے اسے اسی احتیاط کے ساتھ ایک قدیم صوفیانہ منقول روایت کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

یہ واقعہ احتیاط کے ساتھ ایک قدیم اور قابل شناخت صوفیانہ روایت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، جس میں ابراہیم خواصؒ کے زخمی شیر کا علاج کرنے اور پھر اس کے بچوں کے روٹی لانے کا ذکر ہے۔

مآخذ

al-Risala al-Qushayriyya, vol.2 p.553; Qushayri reports via Abu Bakr Muhammad b. Ali al-Tikriti <- Muhammad b. Ali al-Kattani <- Ibrahim al-Khawwas.