ہوا کے دباؤ سے پانی کا پیچھے ہٹنا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عبور: جدید آبی نمونہ

⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

قرآن مجید حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی نجات کو ایک الٰہی واقعے کے طور پر بیان کرتا ہے جس میں سمندر جدا ہوا اور تعاقب کرنے والے غرق ہوگئے۔ جدید آبی حرکیات میں ایک حقیقی عمل کا مطالعہ کیا گیا ہے جس میں مسلسل تیز ہوا اتھلے پانی کو ایک سمت دھکیل کر پہلے ڈوبی ہوئی زمین کو عارضی طور پر ظاہر کر سکتی ہے۔ دو ہزار دس کی ایک تحقیقی شبیہ سازی میں مشرقی نیل ڈیلٹا کی مفروضہ قدیم جغرافیہ میں خشک راستہ بنا، جبکہ دو ہزار تیرہ کی بعد کی تحقیق میں ماڈل کی بعض تبدیلیوں کے بعد اس راستے کی مدت مختلف نکلی۔ یہ تحقیقات ایک ممکنہ طبعی عمل دکھاتی ہیں، مگر تاریخی عبور کی جگہ یا قرآنی واقعے کو سائنسی طور پر ثابت نہیں کرتیں۔

قرآن مجید حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھ اہلِ ایمان کے عبور کو ایک الٰہی واقعے کے طور پر بیان کرتا ہے۔ سورۂ شعراء میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عصا سمندر پر مارنے کا حکم دیا جاتا ہے، سمندر جدا ہوجاتا ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی بچا لیے جاتے ہیں اور تعاقب کرنے والے غرق ہوجاتے ہیں۔ یہ اندراج اس قرآنی بیان کو کسی سائنسی نظریے سے بدلنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک جدید آبی حرکیاتی نمونے کی وضاحت کے لیے ہے۔

اس طبعی عمل میں مسلسل تیز ہوا اتھلے پانی کی سطح پر دباؤ ڈالتی ہے اور پانی کو ایک سمت دھکیل سکتی ہے۔ نتیجتاً مخالف سمت میں سطحِ آب نیچے اترتی ہے اور وہ زمین جو پہلے پانی کے نیچے تھی عارضی طور پر ظاہر ہوسکتی ہے۔ آبی حرکیات میں یہ ایک معروف مظہر ہے اور اسے عددی نمونوں میں جانچا جاسکتا ہے۔

دو ہزار دس میں کارل ڈریوز اور ویکنگ ہان نے مشرقی نیل ڈیلٹا اور سویز کے علاقے پر ایک تحقیقی نمونہ شائع کیا۔ انہوں نے قدیم جھیل تانیس اور کدوع کے قریب کانسی کے آخری دور کی مفروضہ جغرافیہ استعمال کی۔ تقریباً اٹھائیس میٹر فی سیکنڈ کی مسلسل مشرقی ہوا کے تحت نمونے میں تقریباً تین سے چار کلومیٹر لمبا اور پانچ کلومیٹر چوڑا خشک زمینی راستہ ظاہر ہوا جو تقریباً چار گھنٹے کھلا رہا۔ مصنفین نے خود واضح کیا کہ اس قدیم زمانے کی مشرقی نیل ڈیلٹا جغرافیہ پوری یقین کے ساتھ معلوم نہیں۔

دو ہزار تیرہ کی بعد کی تحقیق میں ڈریوز نے جھیل ایری کے مشاہدات سے بعض ماڈلی عوامل کی ازسرِنو جانچ کی اور ان تبدیلیوں کو کدوع کے نمونے پر لاگو کیا۔ کم زمینی رگڑ اور موجوں کے اثر کے ساتھ اٹھائیس میٹر فی سیکنڈ کی ہوا میں خشک راستہ تقریباً نو اعشاریہ نو گھنٹے کھلا رہا، جبکہ تقریباً چار گھنٹے کی مدت قریب چوبیس میٹر فی سیکنڈ کی ہوا پر حاصل ہوئی۔

ان نتائج کی حدود واضح ہیں۔ یہ تحقیق دکھاتی ہے کہ مخصوص مفروضہ اتھلی جغرافیہ میں مسلسل تیز ہوا عارضی خشک راستہ بنا سکتی ہے۔ یہ اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ کدوع ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تاریخی عبور کی جگہ تھی، اور نہ یہ قرآنی بیان کے ہر جزو کو نمونے میں دوبارہ پیدا کرتی ہے۔ قرآن سمندر کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جدا ہونے کو نشانی کے طور پر بیان کرتا ہے، جبکہ سائنسی تحقیق مفروضہ جغرافیہ اور مقررہ طبعی شرائط کے اندر پانی کے ایک ممکنہ عمل کو جانچتی ہے۔

اس لیے متوازن پیشکش یہ ہے کہ قرآنی واقعہ اپنی دینی حیثیت میں محفوظ رہے، جبکہ ہوا کے دباؤ سے پانی کے پیچھے ہٹنے کا نمونہ جدید تحقیق کے طور پر دکھایا جائے کہ اتھلے پانی میں شدید عارضی زمینی راستہ طبعی طور پر پیدا ہوسکتا ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

ہوا کے دباؤ سے پانی کا پیچھے ہٹنا ایک حقیقی آبی مظہر ہے، اور تحقیقی نمونے دکھاتے ہیں کہ مسلسل تیز مشرقی ہوا مخصوص اتھلے مفروضہ حوض میں عارضی خشک راستہ ظاہر کرسکتی ہے۔ اسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عبور سے متعلق جدید طبعی تحقیق کے طور پر پیش کیا جائے، نہ تاریخی مقام یا قرآنی معجزے کے سائنسی ثبوت کے طور پر۔

مآخذ

Qur’an 26:63–66; 2:50
Drews C, Han W (2010) Dynamics of Wind Setdown at Suez and the Eastern Nile Delta. PLOS ONE 5(8): e12481.
Drews C (2013) Using Wind Setdown and Storm Surge on Lake Erie to Calibrate the Air-Sea Drag Coefficient. PLOS ONE 8(8): e72510.
Drews C, Han W (2010) Dynamics of Wind Setdown at Suez and the Eastern Nile Delta. PLOS ONE 5(8): e12481.

DIRECT_SUPPORT_FOR_CLM-0090-02=PASS

Drews C, Han W (2010) Dynamics of Wind Setdown at Suez and the Eastern Nile Delta. PLOS ONE 5(8): e12481.

DIRECT_SUPPORT_FOR_CLM-0090-05=PASS