خیبر کی زہر آلود بکری اور وہ غیر معمولی تنبیہ جس نے کھانا رکوا دیا

نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیرحمت یا برکتمخالفین پر حجتصحیح حدیث
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

خیبر کے بعد نبی محمد ﷺ کے سامنے ایک بھنی ہوئی زہر آلود بکری پیش کی گئی۔ خود زہر دینے کا واقعہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے مضبوط طور پر ثابت ہے۔ سنن ابی داود کی مضبوط روایت اس قصے کا معجزاتی مرکز محفوظ کرتی ہے: جب آپ ﷺ اور دوسرے لوگ کھانا شروع کرچکے تو آپ نے سب کو ہاتھ روکنے کا حکم دیا کیونکہ بکری نے آپ کو اپنے زہر آلود ہونے کی خبر دی۔ اس کے بعد سازش کھل گئی اور ذمہ دار عورت نے اپنے ارادے کا اعتراف کیا۔ دست والی مخصوص تعبیر الگ روایت ہے جس کے درجے میں اختلاف ہے۔

یہ واقعہ فتحِ خیبر کے بعد شروع ہوتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی معتبر روایات واضح طور پر بتاتی ہیں کہ نبی محمد ﷺ کے سامنے بکری کا پکا ہوا گوشت پیش کیا گیا جس میں زہر ملایا گیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا اور بعض دوسرے لوگ بھی کھانے میں شریک ہوئے۔ اس لیے خطرہ محض فرضی نہیں تھا؛ زہر حقیقتاً کھانے تک پہنچ چکا تھا اور لوگ اس سے متاثر بھی ہوئے۔

قصے کا غیر معمولی موڑ سنن ابی داود میں محفوظ ہے۔ جب نبی ﷺ اور موجود لوگ کھانے میں سے لے چکے تو آپ ﷺ نے اچانک سب کو حکم دیا کہ اپنے ہاتھ روک لو۔ پھر فرمایا کہ بکری نے آپ کو خبر دی ہے کہ وہ زہر آلود ہے۔ یہی اس واقعے کا سب سے مضبوط معجزاتی مرکز ہے: خطرہ چھپا ہوا تھا، مگر نبی ﷺ کو اس کی غیر معمولی اطلاع ملی اور فوراً مزید کھانا روک دیا گیا۔

حضرت جابرؓ سے منقول ایک متعلقہ روایت اس سے زیادہ مخصوص عبارت دیتی ہے اور کہتی ہے کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں موجود دست نے زہر کی خبر دی۔ یہ تفصیل مشہور ہے، لیکن اس مخصوص طریق کی حدیثی درجہ بندی میں اختلاف ہے۔ اس لیے محتاط بیان میں عمومی اور زیادہ مضبوط عبارت یہی رکھی گئی ہے کہ بکری نے زہر کی خبر دی، جبکہ دست والی تعبیر کو الگ منقول صورت کے طور پر رکھا گیا ہے۔

اس کے بعد معاملہ کھلا۔ صحیح بخاری میں زہر ڈالنے کا اعتراف محفوظ ہے اور مقصد یہ بتایا گیا کہ اگر محمد ﷺ جھوٹے ہیں تو ان سے نجات مل جائے، اور اگر نبی ہیں تو زہر انہیں مغلوب نہ کرسکے۔ صحیح مسلم میں عورت کا واضح اعتراف محفوظ ہے کہ اس نے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ نبی ﷺ نے جواب دیا کہ اللہ اسے اس مقصد میں آپ پر قابو نہیں دے گا۔

معتبر روایات واقعے کے دوسرے پہلو بھی دیانت داری سے محفوظ کرتی ہیں۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ بعد میں بھی وہ نبی ﷺ کے دہن میں زہر کا اثر پہچانتے تھے۔ سنن ابی داود میں بشر بن براءؓ کی وفات کا ذکر ہے، جو اسی کھانے میں شریک ہوئے تھے، اور آخری بیماری کے زمانے سے متعلق روایت میں خیبر کے لقمے کے درد کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس لیے معجزے کو اس طرح بیان کرنا درست نہیں کہ زہر نے بالکل کوئی جسمانی اثر نہیں کیا۔

واقعے کی اصل عظمت اسی حقیقت پسندانہ صورت میں زیادہ نمایاں ہوتی ہے: ایک منصوبہ بند زہر خورانی دسترخوان تک پہنچی، غیر معمولی تنبیہ سے خطرہ ظاہر ہوگیا، مزید کھانا رک گیا، سازش سامنے آگئی، اور نبی ﷺ اس فوری قاتلانہ مقصد سے محفوظ رہے۔ یوں یہ نبوی نشانی، حفاظتِ الٰہی اور سچ کے ظاہر ہونے کا ایک مضبوط واقعہ بن جاتا ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

حیثیتِ روایت: خیبر کی زہر خورانی مضبوط صحیح روایات سے ثابت ہے، اور بکری کی غیر معمولی تنبیہ سنن ابی داود کی مضبوط روایت میں محفوظ ہے۔ سب سے درست قصہ یہ ہے کہ حقیقی قاتلانہ کوشش ہوئی، معجزاتی اطلاع نے مزید کھانا رکوایا، سازش ظاہر ہوئی اور نبی ﷺ فوری قتل کے مقصد سے اللہ کی حفاظت میں رہے، جبکہ حقیقی جسمانی اثرات بھی ماخذ کے مطابق محفوظ رہیں۔

مآخذ

Sunan Abi Dawud 4512

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-02 and independently verified Sunan Abi Dawud 4512, Book 41 Hadith 19. The report explicitly says the Prophet ordered the diners to withdraw their hands because the sheep had informed him that it was poisoned. It also records Bishr ibn al-Bara's death and the Prophet's later statement about continuing pain from the Khaybar morsel. The page displays Hasan Sahih (al-Albani).

Sunan Abi Dawud 4510

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_GRADING_CONFIRMATION: linked to CLM-03 and independently verified Sunan Abi Dawud 4510, Book 41 Hadith 17. This route gives the more specific wording that the foreleg in the Prophet's hand informed him of the poison. Sunnah.com displays Da'if (al-Albani); this grading is preserved alongside the stronger assessments from Shu'ayb al-Arna'ut and Ibn Hajar.

Sahih al-Bukhari 3169

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-01 and independently verified Sahih al-Bukhari 3169, Book 58 Hadith 11. It independently establishes the Khaybar poisoned-sheep presentation and the poisoners' admission and stated motive.

Sunan Abi Dawud 4513

V3_TASK_4_LINKAGE_AND_SCOPE_CONFIRMATION: linked to CLM-05 and independently verified Sunan Abi Dawud 4513, Book 41 Hadith 20. During the Prophet's final illness it explicitly connects that illness with the poisoned sheep eaten at Khaybar. This is retained as a scope boundary against the inaccurate statement that the poisoning caused no later harm.

Shu'ayb al-Arna'ut, Takhrij Sunan Abi Dawud, hadith 4510

V3_TASK_4_HADITH_CRITICISM_CONFIRMATION: linked as additional support for CLM-03. Dorar records Shu'ayb al-Arna'ut's judgment on Abu Dawud 4510 as sahih li-ghayrihi. This does not erase al-Albani's Da'if judgment; the grading disagreement is preserved explicitly.

Ibn Hajar al-Asqalani, Hidayat al-Ruwat 5/351

V3_TASK_4_GRADING_CONFIRMATION: Ibn Hajar, Hidayat al-Ruwat 5/351, independently verified through Dorar. The foreleg-specific Abu Dawud 4510 route is graded hasan in Ibn Hajar's framework.

Sahih al-Bukhari 3169

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: unique Bukhari 3169 row added for CLM-04. The hadith explicitly records the admission that the sheep was poisoned and the stated motive: if he were lying they would be rid of him, while if he were a prophet the poison would not harm him. This statement is preserved as the poisoners' stated test, not adopted as a blanket doctrine about actual effects.

Sunan Abi Dawud 4512

V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: unique Abu Dawud 4512 row added for CLM-05. The report explicitly records Bishr ibn al-Bara's death and the Prophet's later pain from the poisoned Khaybar morsel, supporting the guardrail that the poison did have real harmful effects.