صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی نہایت واضح گواہی محفوظ ہے کہ صحابہؓ نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں کھانے کو اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے سنا جبکہ اسے کھایا جا رہا تھا۔ حضرت ابن مسعودؓ ایسے غیر معمولی واقعات کا ذکر اس وضاحت سے شروع کرتے ہیں کہ صحابہ انہیں اللہ کی برکتیں سمجھتے تھے۔ قرآن کی سورۃ الاسراء 17:44 اس واقعے کا وسیع تر روحانی پس منظر بیان کرتی ہے کہ ہر چیز اللہ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے، اگرچہ انسان عموماً اس تسبیح کو سمجھ نہیں پاتے۔
پھر حضرت ابن مسعودؓ نہایت سادہ الفاظ میں حیرت انگیز بات بیان کرتے ہیں: ہم کھانے کی تسبیح سنتے تھے جبکہ اسے کھایا جا رہا ہوتا تھا۔ روایت مختصر ہے، لیکن اس کی تاثیر اسی اختصار میں ہے۔ جو تسبیح عام طور پر انسان کے کانوں سے پوشیدہ رہتی ہے، وہ اس موقع پر نبی کریم ﷺ کی مجلس میں موجود صحابہؓ کے لیے سنائی دینے والی حقیقت بن گئی۔
امام بخاری نے اس روایت کو علاماتِ نبوت کے باب میں ذکر کیا ہے۔ اسی حدیث میں سفر کے دوران رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی جاری ہونے کا واقعہ بھی آتا ہے، لیکن کھانے کی تسبیح ایک الگ واضح جملے کے طور پر منقول ہے۔ اس لیے اسے اپنی جگہ ایک مستقل نبوی نشانی کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہے۔
قرآن اس واقعے کے لیے ایک نہایت خوبصورت وسیع تر پس منظر فراہم کرتا ہے۔ سورۃ الاسراء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ساتوں آسمان، زمین اور ان میں موجود ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے، مگر انسان ان کی تسبیح کو عموماً سمجھ نہیں پاتے۔ کلاسیکی مفسرین نے اس آیت کے تحت مخلوقات کی حقیقی تسبیح پر گفتگو کی ہے۔ امام طبری نے ابتدائی اہلِ علم سے مختصر قول نقل کیا کہ «کھانا تسبیح کرتا ہے»، جبکہ ابن کثیر نے اسی آیت کی تفسیر میں حضرت ابن مسعودؓ کی صحیح بخاری والی روایت کو بطور مثال ذکر کیا۔
اس پس منظر میں واقعے کا مفہوم اور بھی روشن ہوجاتا ہے۔ معجزہ یہ نہیں کہ کھانا پہلی بار اللہ کی تسبیح کرنے لگا؛ قرآن تو بتاتا ہے کہ تمام مخلوق اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ غیر معمولی بات یہ تھی کہ اس خاص موقع پر صحابہؓ کو وہ تسبیح سننے کی توفیق دی گئی۔
یوں یہ واقعہ ایک نہایت پُرسکون مگر طاقتور پیغام دیتا ہے: رسول اللہ ﷺ کی صحبت میں صحابہؓ نے ایسے آثار دیکھے اور سنے جنہوں نے مخلوق کی پوشیدہ عبادت کو لمحہ بھر کے لیے ان کے سامنے آشکار کردیا۔ ان کے لیے یہ آواز صرف عجیب نہیں تھی، بلکہ اللہ کی ایک برکت اور نبوت کی ایک نشانی تھی۔
خلاصۂ نتیجہ
مستند روایت ایک نہایت واضح منظر محفوظ کرتی ہے: نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں صحابہؓ نے کھانے کی تسبیح سنی، اور حضرت ابن مسعودؓ نے ایسی غیر معمولی نشانیوں کو اللہ کی برکتوں کے طور پر یاد کیا۔
مآخذ
V3_TASK_4_LINKAGE_AND_METADATA_CONFIRMATION: linked to CLM-01 and independently verified Sahih al-Bukhari 3579, Book 61, Hadith 88, in al-Bukhari's chapter on signs of prophethood. The report explicitly says the Companions regarded such signs as blessings, and separately states that they heard the food glorifying Allah while it was being eaten.
V3_TASK_4_SOURCE_VERIFICATION: linked directly to CLM-03 and independently verified Qur'an 17:44. The verse gives the general principle that the seven heavens, earth and all things glorify Allah, while humans do not ordinarily comprehend their glorification. It does not narrate the specific food event.
V3_TASK_4_SOURCE_URL_REPAIR: prior URL [https://tafsir.app/tabari/17/44] replaced with independently verified al-Tabari 17:44 page. Al-Tabari treats created things as glorifying Allah and transmits the early statement 'food glorifies' from Ibrahim. This is conceptual/classical corroboration; the specific audible event remains established by Sahih al-Bukhari 3579. V3_SOURCE_METADATA_GAP: current volume_page is only a commentary-on-verse locator; edition-specific printed volume/page is not supplied and was not invented.
V3_TASK_4_LINKAGE_REPAIR: direct Bukhari 3579 row added for CLM-02. The hadith explicitly says the Companions heard the food glorifying Allah while it was being eaten.