منظور شدہ واقعات کو زمرے اور مرکزی رجسٹری کی مستند شخصی نسبت، ثبوتی درجے اور اصل مآخذ کے ساتھ دیکھیں۔ نبوی معجزہ، کرامت، تاریخی واقعہ اور جدید دعویٰ اپنی درست اصطلاح میں الگ رہتے ہیں۔
ولی یا صالح کی کرامتآزمائش
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے طالب علمی کے زمانے کا ایک قابلِ توجہ واقعہ کلاسیکی سوانحی مآخذ میں محفوظ ہے۔ شدید غربت اور بھوک کے دوران، ان کے اپنے منقول بیان کے مطابق، انہوں نے ایک ایسے بولنے والے کی آواز سنی جو دکھائی نہیں دے رہا تھا اور جس نے ضرورت کے لیے قرض لینے کو کہا۔ انہوں نے ایک دکاندار سے ادھار کھانا لیا، پھر ایک جگہ کی طرف رہنمائی ہوئی جہاں سونے کا بڑا ٹکڑا ملا اور اسی سے قرض ادا کیا گیا۔
حضرت عبدالقادر جیلانی · PER-000398 · قدیم تاریخ
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیتاریخی نتیجہ
صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ کی یہ پیش گوئی محفوظ ہے کہ حضرت حسن ابن علی رضی اللہ عنہ سید ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ اسی بخاری روایت میں بعد کے تصادم کا پس منظر، صلح کے لیے مذاکرات اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا معاویہ کے ساتھ صلح کرنا بھی مذکور ہے۔ یہی مضمون سنن نسائی، سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں بھی منقول ہے، اور امام ترمذی نے اپنی روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔ بعد کی تاریخی روایات میں صلح کے سن کو ۴۰ ہجری یا اوائل ۴۱ ہجری قرار دینے میں اختلاف ہے، اس لیے اس تاریخ کو صحیح حدیث سے ثابت اصل پیش گوئی اور اس کے وقوع سے الگ رکھنا چاہیے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
قبول شدہ نبوی دعارحمت یا برکت
متعدد مضبوط حدیثی طرق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی دعائیں محفوظ کرتے ہیں، مگر انہیں ایک ہی مصنوعی منظر میں جمع نہیں کرنا چاہیے۔ صحیح بخاری کے ایک معانقہ والے طریق میں اللہ سے حکمت سکھانے کی دعا ہے، جبکہ قریب کے بخاری طرق میں کتاب سکھانے کے الفاظ ہیں۔ ایک الگ پانی رکھنے والے سیاق میں بخاری اور صحیح مسلم دین کی سمجھ کی دعا محفوظ کرتے ہیں۔ مسند احمد کے ایک مفصل طریق میں تاویل سکھانے کا اضافہ ہے۔ صحیح بخاری کی ایک بعد کی روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی غیر معمولی قرآنی بصیرت کو نمایاں کرتی ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
قبول شدہ نبوی دعانبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
صحیح مسلم ۲۴۹۱ ایک نہایت قلبی قبول شدہ دعا محفوظ کرتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کو بار بار اسلام کی دعوت دیتے تھے مگر وہ انکار کرتی تھیں۔ ایک دن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ایسی بات کہی جو حضرت ابو ہریرہؓ کو سخت ناگوار گزری، تو وہ روتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور والدہ کی ہدایت کی دعا کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «اے اللہ، ابو ہریرہ کی والدہ کو ہدایت دے۔» حضرت ابو ہریرہؓ امید کے ساتھ گھر لوٹے اور تھوڑی دیر بعد اپنی والدہ کو شہادتین کا اقرار کرتے سنا۔ وہ دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، مگر اس بار ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیدعا کی قبولیترحمت یا برکت
ایک فوجی سفر کے دوران حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا اونٹ اس قدر سست اور تھکا ہوا ہوگیا کہ وہ قافلے سے پیچھے رہنے لگے۔ صحیح بخاری بیان کرتی ہے کہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام ان کے پاس آئے، وجہ پوچھی، اترے، اونٹ کو اپنی چھڑی سے ہلکا سا حرکت دی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو دوبارہ سوار ہونے کا فرمایا۔ فوراً صورت بدل گئی اور اونٹ اتنا تیز چلنے لگا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو اسے روکنا پڑا تاکہ وہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام سے آگے نہ نکل جائے۔ صحیح مسلم کی متوازی روایات اسی تبدیلی کے ساتھ نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی دعا کو بھی صراحت سے بیان کرتی ہیں۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
قبول شدہ نبوی دعانبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکتتاریخی نتیجہ
حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اپنے کم عمر بیٹے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے لیے نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام سے دعا کی درخواست کی، جو آپ کی خدمت کرتے تھے۔ صحیح بخاری کے متعدد مقامات اور صحیح مسلم کے مستقل طریق میں ایک ہی دعا محفوظ ہے: اللہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے مال اور اولاد میں اضافہ فرمائے اور جو کچھ عطا کرے اس میں برکت دے۔ صحیح مسلم کی ایک بعد کی روایت میں حضرت انس رضی اللہ عنہ خود نتیجہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا مال بہت زیادہ ہوگیا اور ان کی اولاد اور اولاد کی اولاد تقریباً یا ایک سو سے زیادہ شمار ہوتی تھی۔ جامع ترمذی کی ایک ثانوی روایت ان کے باغ کی غیر معمولی بارآوری کو بھی دعا سے جوڑتی ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
وحیانی نشانی یا پیش خبرینبوی تائید کی نشانیپیش خبری یا وحیمخالفین پر حجت
غزوۂ تبوک کے سفر میں نبی کریم ﷺ کی سواری کا ناقہ گم ہوگیا اور بعض صحابہؓ اسے تلاش کرنے نکلے۔ زید بن اللصیت نے طنز کیا کہ محمد ﷺ نبوت اور آسمان کی خبر کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اپنی سواری کی جگہ نہیں جانتے۔ نبی کریم ﷺ نے واقعے کی بنیادی حد واضح فرمائی کہ آپ صرف وہی جانتے ہیں جو اللہ آپ کو سکھاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے ناقہ کی جگہ دکھا دی ہے: وہ وادی میں ہے اور ایک درخت نے اس کی لگام روک رکھی ہے۔ لوگ بتائی ہوئی جگہ گئے اور ناقہ کو اسی طرح پا کر واپس لے آئے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت
صحیح بخاری حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی شدید بھوک کا ایک غیر معمولی واقعہ محفوظ کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی حالت پہچانی اور انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے، جہاں ایک چھوٹا پیالہ دودھ بطور ہدیہ آیا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے یہ دودھ صرف حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے نہیں رکھا بلکہ انہیں اہلِ صفہ کو بلانے کا حکم دیا، جو اسلام کے محتاج مہمان تھے۔ ایک ایک شخص اسی پیالے سے سیر ہوکر پیتا گیا، پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بار بار پیا یہاں تک کہ مزید گنجائش نہ رہی، اور آخر میں نبی کریم ﷺ نے اللہ کی حمد اور نام کے ساتھ باقی دودھ نوش فرمایا۔ جامع ترمذی بھی یہی قصہ مستقل طریق سے نقل کرتی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت
غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت جابر بن عبداللہؓ نے رسول اللہ ﷺ پر شدید بھوک کے آثار دیکھے۔ گھر میں صرف تقریباً ایک صاع جو اور ایک چھوٹا پالتو جانور موجود تھا، اس لیے انہوں نے خاموشی سے نبی کریم ﷺ کو چند ساتھیوں سمیت کھانے کی دعوت دی۔ مگر رسول اللہ ﷺ نے اہلِ خندق کو بلند آواز سے بلا لیا، آٹے اور ہانڈی میں برکت کی دعا فرمائی، اور تقریباً ایک ہزار افراد نے سیر ہوکر کھایا۔ حضرت جابرؓ قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ سب کے کھانے کے بعد بھی ہانڈی پہلے کی طرح بھری اور آٹا مسلسل روٹیاں دیتا رہا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں اس واقعے کو محفوظ کرتی ہیں۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت
متعدد صحیح روایات بیان کرتی ہیں کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی آواز میں کمزوری محسوس کی اور سمجھا کہ آپ بھوکے ہیں۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس صرف چند جو کی روٹیاں تھیں، جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ذریعے بھیجی گئیں۔ نبی کریم ﷺ اپنے ساتھ موجود لوگوں کو لے کر گھر تشریف لائے، روٹی تیار کی گئی اور مہمانوں کو دس دس کے گروہوں میں بلایا گیا۔ ہر گروہ نے پیٹ بھر کر کھایا۔ بعض صحیح طرق میں کل تعداد ستر یا اسی اور بعض میں اسی ہے؛ صحیح مسلم کی ایک روایت نبی کریم ﷺ کے کھانے پر ہاتھ رکھنے، اللہ کا نام لینے اور آخر میں کچھ کھانا باقی رہنے کی تفصیل بھی دیتی ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت
صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک سفر کا چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں جب صحابہ کے پاس پانی کم ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو پانی باقی ہے وہ لے آؤ۔ ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لایا گیا، آپ ﷺ نے اپنا دستِ مبارک اس میں رکھا اور لوگوں کو بابرکت پانی کی طرف بلاتے ہوئے صاف فرمایا کہ برکت اللہ کی طرف سے ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے پھر رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی پھوٹتے دیکھا۔ یوں روایت خود معجزے کے ساتھ اس کا صحیح مفہوم بھی محفوظ کرتی ہے: یہ اللہ کی عطا کردہ نبوی نشانی اور برکت تھی۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث
نبوی معجزہنبوی تائید کی نشانیرحمت یا برکت
حدیبیہ کے دن صحابۂ کرام کو پینے اور وضو دونوں کے لیے پانی کی سخت کمی پیش آئی۔ نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک برتن میں تھوڑا سا پانی باقی تھا۔ جب لوگوں نے اپنی ضرورت بیان کی تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ برتن میں رکھا اور انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح پانی جاری ہونے لگا۔ صحابہ نے اس سے پیا اور وضو کیا، اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ان کی تعداد تقریباً پندرہ سو بیان کی۔ صحیح بخاری اس واقعے کو علاماتِ نبوت اور غزوۂ حدیبیہ دونوں کے ابواب میں محفوظ کرتی ہے، جبکہ متعلقہ صحیح روایت برکت کو صریح طور پر اللہ کی طرف منسوب کرتی ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ · PER-000001 · صحیح حدیث