صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ کی یہ پیش گوئی محفوظ ہے کہ حضرت حسن ابن علی رضی اللہ عنہ سید ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ اسی بخاری روایت میں بعد کے تصادم کا پس منظر، صلح کے لیے مذاکرات اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا معاویہ کے ساتھ صلح کرنا بھی مذکور ہے۔ یہی مضمون سنن نسائی، سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں بھی منقول ہے، اور امام ترمذی نے اپنی روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔ بعد کی تاریخی روایات میں صلح کے سن کو ۴۰ ہجری یا اوائل ۴۱ ہجری قرار دینے میں اختلاف ہے، اس لیے اس تاریخ کو صحیح حدیث سے ثابت اصل پیش گوئی اور اس کے وقوع سے الگ رکھنا چاہیے۔
صحیح بخاری بعد کا وہ تاریخی پس منظر بھی محفوظ کرتی ہے جس میں یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ بڑے لشکری دستوں کے ساتھ معاویہ کی طرف بڑھے اور سنجیدہ تصادم کا امکان پیدا ہوا۔ پھر معاویہ نے عبدالرحمن ابن سمرہ اور عبداللہ ابن عامر ابن کریز کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس صلح کی بات چیت کے لیے بھیجا۔ روایت کا نتیجہ یہ ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ کے ساتھ صلح کر لی۔ یوں اسی روایت میں نبوی پیش گوئی اور بعد کی مصالحت، خبر اور وقوع کے طور پر ساتھ آتی ہیں۔
یہ پیش گوئی حدیث میں ایک مقام تک محدود نہیں۔ صحیح بخاری نے اسے دوسرے ابواب میں بھی روایت کیا ہے، ان میں مناقبِ حسن کی مختصر روایت اور کتاب الفتن کی روایت شامل ہے۔ متوازی روایات سنن نسائی، سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں بھی ملتی ہیں، اور امام ترمذی نے اپنی روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔ صحیح بخاری نے اسی روایت کی سند کے ضمن میں یہ بھی بتایا ہے کہ یہ حسن بصری کا ابو بکرہ سے سماع ثابت کرتی ہے۔ یہ نکتہ اسی روایت کی سند سے متعلق ہے۔
بعد کے کلاسیکی مورخین اس صلح کو عام الجماعت، یعنی اتحاد کے سال، سے جوڑتے ہیں۔ تاہم تاریخی روایات میں صلح کی عین تاریخ یکساں نہیں۔ ابن کثیر نے ۴۰ ہجری کی روایات بھی نقل کی ہیں اور اوائل ۴۱ ہجری کو ترجیح دینے والی روایات بھی، جبکہ ایک دوسرے مقام پر انہوں نے صلح کو ربیع الاول ۴۱ ہجری میں رکھا ہے۔ یہ بعد کی زمانی بحث صحیح حدیث سے ثابت اصل پیش گوئی سے الگ رہنی چاہیے۔
اس واقعے کا مضبوط ترین نتیجہ واضح ہے: رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کی پیش گوئی فرمائی، اور صحیح بخاری بعد کا وہ واقعہ محفوظ کرتی ہے جس میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے واقعی صلح کر لی۔ تصدیق شدہ شواہد اس پیش گوئی اور اس کے وقوع کے تعلق کو ثابت کرتے ہیں، لیکن غیر ثابت معاہداتی شرائط یا بعد کی ہر سیاسی بحث پر فریقانہ فیصلہ اس ثبوت کا حصہ نہیں ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
مستند روایت میں دونوں باتیں محفوظ ہیں: رسول اللہ ﷺ کی یہ پیش گوئی کہ اللہ تعالیٰ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا، اور بعد میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا صلح کرنا۔ پیش گوئی سے وقوع تک یہی دستاویزی تسلسل اس واقعے کا سب سے مضبوط ثابت شدہ نتیجہ ہے۔