ولادت مدینہ میں ہوئی۔ بعد کی مذہبی روایت میں ۴ شعبان ۲۶ھ، تقریباً ۶۴۷ء، مشہور ہے؛ قدیم ترین مصادر میں عین تاریخ یکساں طور پر ثابت نہیں۔
عباس علمدارؑ بن علیؑ
PER-000043
اہلِ بیت
قوی امکان
مخصوص مقام معلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت عباس بن علی علیہ السلام، امام علی بن ابی طالب علیہ السلام اور ام البنین فاطمہ بنت حزام کلابیہ کے فرزند اور امام حسین علیہ السلام کے برادر تھے۔ وہ ۶۱ھ/۶۸۰ء میں کربلا میں علمدار، خیمہ گاہ کے محافظ اور پانی پہنچانے کی کوشش کرنے والے وفادار ساتھی کے طور پر شہید ہوئے۔ قدیم مصادر ان کی کنیت ابو الفضل، لقب سقّا اور بنیادی واقعۂ شہادت کو محفوظ کرتے ہیں، جبکہ ہاتھوں کے قطع ہونے، مشکیزے اور خود پانی نہ پینے کی تفصیلات زیادہ تر بعد کے مقتل اور زیارتی ادب میں وسیع ہوئی ہیں۔
کربلا میں عاشورا، ۱۰ محرم ۶۱ھ/۱۰ اکتوبر ۶۸۰ء، کو امام حسین علیہ السلام کے محصور خیمہ گاہ کے لیے پانی لانے کی کوشش کے دوران شہید ہوئے۔
شیخ مفید کے بیان کو دانشنامہ ایرانیکا کے خلاصے میں اسی مقام پر تدفین سے جوڑا گیا ہے جہاں وہ شہید ہوئے اور جہاں بعد میں مزار و روضہ قائم ہوا۔ یہی کربلا میں ان کا معروف منسوب مدفن ہے۔ مقام کف راست اور مقام کف چپ بعد کی یادگاریں ہیں، اضافی قبریں نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
حضرت عباس بن علی علیہ السلام بنی ہاشم اور علوی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ امام علی بن ابی طالب علیہ السلام اور ام البنین فاطمہ بنت حزام کلابیہ کے فرزند اور امام حسین علیہ السلام کے برادر تھے۔ ان کی ولادت مدینہ میں ہوئی۔ بعد کی مذہبی روایت میں ۴ شعبان ۲۶ھ، تقریباً ۶۴۷ء، مشہور ہے، لیکن قدیم تاریخی تذکروں میں تاریخ ولادت یکساں طور پر متعین نہیں۔
قدیم تواریخ ان کی ابتدائی زندگی کی طویل تفصیل محفوظ نہیں کرتیں۔ بعد کی مسلم یادداشت ان کی تربیت کو امام علی علیہ السلام کے گھر کے دینی، اخلاقی اور عسکری ماحول سے وابستہ کرتی ہے۔ ان کی سب سے مضبوط کنیت ابو الفضل ہے۔ مقاتل الطالبیین میں انہیں اور ان کی اولاد کو سقّا اور ابو قِربہ کہے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے، جو پانی اٹھانے سے متعلق القاب ہیں۔ قمر بنی ہاشم اور علمدار کے القاب بعد کی زیارتی روایت میں خاص طور پر معروف ہوئے۔
ام البنین کے بطن سے حضرت عباس علیہ السلام کے تین حقیقی بھائی عبداللہ، جعفر اور عثمان تھے۔ قدیم و متوسط دور کے بیانات چاروں بھائیوں کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا میں رکھتے ہیں۔ مقاتل الطالبیین کے مطابق حضرت عباس ام البنین کے سب سے بڑے فرزند اور اپنے ان حقیقی بھائیوں میں آخری شہید تھے، کیونکہ انہوں نے پہلے اپنے بھائیوں کو آگے کیا۔ یہ خاندانی ترتیب کربلا کی مشترک قربانی کی یاد کا اہم حصہ بن گئی۔
۶۱ھ/۶۸۰ء میں حضرت عباس علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے اس سفر میں شریک تھے جو کربلا پر ختم ہوا۔ مصادر اور بعد کی یادداشت انہیں خیمہ گاہ کے نمایاں محافظ اور امام حسین علیہ السلام کے مختصر لشکر کے علمدار کے طور پر پہچانتی ہے۔ محاصرہ سخت ہونے اور فرات تک رسائی محدود ہونے کے ساتھ ان کا کردار اہل بیت اور اصحاب کے لیے پانی حاصل کرنے کی کوشش سے ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔
سقّا کا لقب صرف بہت بعد کا اعزازی نام نہیں۔ مقاتل الطالبیین، نسب قریش اور دوسرے قدیم یا متوسط تذکرے حضرت عباس علیہ السلام کو پانی پہنچانے سے وابستہ کرتے ہیں۔ ایک تحقیقی مطالعہ قاضی نعمان، ابن حبان اور مصعب زبیری کے بیانات جمع کرتا ہے، جن میں حضرت عباس اور ان کے حقیقی بھائیوں کی پانی لانے کی مختلف کوششیں مذکور ہیں۔ یہ روایات مشکیزے، فرات اور پیاسے خیموں سے ان کے بنیادی تعلق پر متفق ہیں، اگرچہ ترتیب اور ہر کوشش میں پانی پہنچنے کے بارے میں فرق ہے۔
بعد کے مقتل اور زیارتی ادب میں مشہور ہے کہ آخری کوشش میں حضرت عباس علیہ السلام فرات تک پہنچے، مشکیزہ بھرا اور امام حسین علیہ السلام اور پیاسے بچوں کو یاد کرکے خود پانی نہ پیا۔ یہ منظر ان سے وابستہ عظیم اخلاقی علامت بن گیا۔ چونکہ الفاظ، اشعار اور مکالمہ قدیم ترین تواریخ میں یکساں طور پر محفوظ نہیں، اس لیے اسے ایثار کا معروف زیارتی بیان کہنا زیادہ محتاط ہے، نہ کہ لفظ بہ لفظ متفق علیہ تاریخی گفتگو۔
واپسی کے بیانات میں گھات لگانے اور دایاں ہاتھ قطع ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ بعد کی زیارت اور مقتل روایات میں یزید بن رقاد یا یزید بن زیاد اور حکیم بن طفیل کے نام ان کی شہادت سے وابستہ ہوتے ہیں، مگر ناموں اور ترتیب میں اختلاف ہے۔ اس لیے کربلا کا موجودہ مقام کف راست بعد کی زیارتی جغرافیہ میں ایک منسوب یادگار سمجھا جاتا ہے، نہ دوسری قبر اور نہ پہلی صدی کی کتابوں سے ثابت عین نقشاتی نقطہ۔
اسی بعد کی روایت کے مطابق حضرت عباس علیہ السلام نے بائیں ہاتھ سے مشن جاری رکھا، پھر وہ ہاتھ بھی قطع ہوا اور زمین پر گرنے سے پہلے مشکیزہ چھلنی ہوگیا۔ مقام کف چپ اسی یاد شدہ راستے کے اس حصے کی یادگار ہے۔ یہ تفصیلات عظیم زیارتی اور اخلاقی معنی رکھتی ہیں، لیکن ذمہ دار تاریخ پانی لانے کی وسیع طور پر ثابت کوشش اور شہادت کو ہر ضرب، شعر اور مقام کی بعد کی تفصیل سے الگ رکھتی ہے۔
اکثر روایات ان کی شہادت عاشورا، ۱۰ محرم ۶۱ھ/۱۰ اکتوبر ۶۸۰ء، کو قرار دیتی ہیں۔ دانشنامہ ایرانیکا واضح کرتا ہے کہ طبری اور بلاذری جیسی بنیادی تواریخ ان کے آخری لمحات کی مفصل داستان نہیں دیتیں، جبکہ شیخ مفید ایک مختصر بیان محفوظ کرتے ہیں کہ حضرت عباس امام حسین علیہ السلام کے ساتھ دریا کی طرف بڑھے، جدا ہوگئے، بہادری سے لڑے اور شہید ہوئے۔ اس سے بنیادی واقعہ ثابت رہتا ہے مگر ڈرامائی جزئیات میں احتیاط ضروری ہے۔
شیخ مفید کے بیان کو جدید علمی خلاصے میں یوں نقل کیا گیا ہے کہ بنی اسد کے لوگوں نے حضرت عباس علیہ السلام کو اسی مقام پر دفن کیا جہاں وہ شہید ہوئے اور جہاں بعد میں ان کا مزار اور روضہ قائم ہوا۔ یوں ان کا مدفن امام حسین علیہ السلام کے قریب اجتماعی قبور سے الگ یاد کیا گیا۔ دونوں مقامات کف بعد کی یادگاریں ہیں، اضافی قبریں نہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام کربلا کی یاد میں وفاداری، منظم خدمت، شجاعت اور کمزوروں کی حفاظت کی سب سے طاقتور علامتوں میں شامل ہوگئے۔ ان کی یاد خصوصاً امامی زیارتی ثقافت میں بہت وسیع ہوئی، جبکہ اہل بیت سے تعلق اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہادت کے سبب دوسرے مسلمان بھی ان کا احترام کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا پائیدار سبق حکومت یا ذاتی عظمت کا دعویٰ نہیں، بلکہ فرض، خاندان کی حفاظت اور عادلانہ مقصد سے وفا کو ذاتی سلامتی پر مقدم رکھنا ہے۔
قدیم تواریخ ان کی ابتدائی زندگی کی طویل تفصیل محفوظ نہیں کرتیں۔ بعد کی مسلم یادداشت ان کی تربیت کو امام علی علیہ السلام کے گھر کے دینی، اخلاقی اور عسکری ماحول سے وابستہ کرتی ہے۔ ان کی سب سے مضبوط کنیت ابو الفضل ہے۔ مقاتل الطالبیین میں انہیں اور ان کی اولاد کو سقّا اور ابو قِربہ کہے جانے کا ذکر بھی ملتا ہے، جو پانی اٹھانے سے متعلق القاب ہیں۔ قمر بنی ہاشم اور علمدار کے القاب بعد کی زیارتی روایت میں خاص طور پر معروف ہوئے۔
ام البنین کے بطن سے حضرت عباس علیہ السلام کے تین حقیقی بھائی عبداللہ، جعفر اور عثمان تھے۔ قدیم و متوسط دور کے بیانات چاروں بھائیوں کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کربلا میں رکھتے ہیں۔ مقاتل الطالبیین کے مطابق حضرت عباس ام البنین کے سب سے بڑے فرزند اور اپنے ان حقیقی بھائیوں میں آخری شہید تھے، کیونکہ انہوں نے پہلے اپنے بھائیوں کو آگے کیا۔ یہ خاندانی ترتیب کربلا کی مشترک قربانی کی یاد کا اہم حصہ بن گئی۔
۶۱ھ/۶۸۰ء میں حضرت عباس علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے اس سفر میں شریک تھے جو کربلا پر ختم ہوا۔ مصادر اور بعد کی یادداشت انہیں خیمہ گاہ کے نمایاں محافظ اور امام حسین علیہ السلام کے مختصر لشکر کے علمدار کے طور پر پہچانتی ہے۔ محاصرہ سخت ہونے اور فرات تک رسائی محدود ہونے کے ساتھ ان کا کردار اہل بیت اور اصحاب کے لیے پانی حاصل کرنے کی کوشش سے ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔
سقّا کا لقب صرف بہت بعد کا اعزازی نام نہیں۔ مقاتل الطالبیین، نسب قریش اور دوسرے قدیم یا متوسط تذکرے حضرت عباس علیہ السلام کو پانی پہنچانے سے وابستہ کرتے ہیں۔ ایک تحقیقی مطالعہ قاضی نعمان، ابن حبان اور مصعب زبیری کے بیانات جمع کرتا ہے، جن میں حضرت عباس اور ان کے حقیقی بھائیوں کی پانی لانے کی مختلف کوششیں مذکور ہیں۔ یہ روایات مشکیزے، فرات اور پیاسے خیموں سے ان کے بنیادی تعلق پر متفق ہیں، اگرچہ ترتیب اور ہر کوشش میں پانی پہنچنے کے بارے میں فرق ہے۔
بعد کے مقتل اور زیارتی ادب میں مشہور ہے کہ آخری کوشش میں حضرت عباس علیہ السلام فرات تک پہنچے، مشکیزہ بھرا اور امام حسین علیہ السلام اور پیاسے بچوں کو یاد کرکے خود پانی نہ پیا۔ یہ منظر ان سے وابستہ عظیم اخلاقی علامت بن گیا۔ چونکہ الفاظ، اشعار اور مکالمہ قدیم ترین تواریخ میں یکساں طور پر محفوظ نہیں، اس لیے اسے ایثار کا معروف زیارتی بیان کہنا زیادہ محتاط ہے، نہ کہ لفظ بہ لفظ متفق علیہ تاریخی گفتگو۔
واپسی کے بیانات میں گھات لگانے اور دایاں ہاتھ قطع ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ بعد کی زیارت اور مقتل روایات میں یزید بن رقاد یا یزید بن زیاد اور حکیم بن طفیل کے نام ان کی شہادت سے وابستہ ہوتے ہیں، مگر ناموں اور ترتیب میں اختلاف ہے۔ اس لیے کربلا کا موجودہ مقام کف راست بعد کی زیارتی جغرافیہ میں ایک منسوب یادگار سمجھا جاتا ہے، نہ دوسری قبر اور نہ پہلی صدی کی کتابوں سے ثابت عین نقشاتی نقطہ۔
اسی بعد کی روایت کے مطابق حضرت عباس علیہ السلام نے بائیں ہاتھ سے مشن جاری رکھا، پھر وہ ہاتھ بھی قطع ہوا اور زمین پر گرنے سے پہلے مشکیزہ چھلنی ہوگیا۔ مقام کف چپ اسی یاد شدہ راستے کے اس حصے کی یادگار ہے۔ یہ تفصیلات عظیم زیارتی اور اخلاقی معنی رکھتی ہیں، لیکن ذمہ دار تاریخ پانی لانے کی وسیع طور پر ثابت کوشش اور شہادت کو ہر ضرب، شعر اور مقام کی بعد کی تفصیل سے الگ رکھتی ہے۔
اکثر روایات ان کی شہادت عاشورا، ۱۰ محرم ۶۱ھ/۱۰ اکتوبر ۶۸۰ء، کو قرار دیتی ہیں۔ دانشنامہ ایرانیکا واضح کرتا ہے کہ طبری اور بلاذری جیسی بنیادی تواریخ ان کے آخری لمحات کی مفصل داستان نہیں دیتیں، جبکہ شیخ مفید ایک مختصر بیان محفوظ کرتے ہیں کہ حضرت عباس امام حسین علیہ السلام کے ساتھ دریا کی طرف بڑھے، جدا ہوگئے، بہادری سے لڑے اور شہید ہوئے۔ اس سے بنیادی واقعہ ثابت رہتا ہے مگر ڈرامائی جزئیات میں احتیاط ضروری ہے۔
شیخ مفید کے بیان کو جدید علمی خلاصے میں یوں نقل کیا گیا ہے کہ بنی اسد کے لوگوں نے حضرت عباس علیہ السلام کو اسی مقام پر دفن کیا جہاں وہ شہید ہوئے اور جہاں بعد میں ان کا مزار اور روضہ قائم ہوا۔ یوں ان کا مدفن امام حسین علیہ السلام کے قریب اجتماعی قبور سے الگ یاد کیا گیا۔ دونوں مقامات کف بعد کی یادگاریں ہیں، اضافی قبریں نہیں۔
حضرت عباس علیہ السلام کربلا کی یاد میں وفاداری، منظم خدمت، شجاعت اور کمزوروں کی حفاظت کی سب سے طاقتور علامتوں میں شامل ہوگئے۔ ان کی یاد خصوصاً امامی زیارتی ثقافت میں بہت وسیع ہوئی، جبکہ اہل بیت سے تعلق اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہادت کے سبب دوسرے مسلمان بھی ان کا احترام کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کا پائیدار سبق حکومت یا ذاتی عظمت کا دعویٰ نہیں، بلکہ فرض، خاندان کی حفاظت اور عادلانہ مقصد سے وفا کو ذاتی سلامتی پر مقدم رکھنا ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حضرت عباس علیہ السلام کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ چند قدیم تذکروں سے کربلا کی ایک نہایت اثر انگیز اخلاقی یاد تشکیل پائی۔ ابو الفضل کی کنیت، سقّا کا لقب، ام البنین کے فرزندوں میں ان کا مقام اور امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہادت قدیم و متوسط مصادر میں جڑ رکھتے ہیں، جبکہ بعد کی زیارتی ثقافت نے ان حقائق کو وفاداری، آب رسانی، شجاعت اور ایثار کی زبان میں وسیع کیا۔
ان کی سوانح ایک مضبوط تاریخی مرکز اور بعد کی مقدس روایت میں فرق رکھنے کی ضرورت بھی دکھاتی ہے۔ پانی لانے کی کوشش اور شہادت مضبوط طور پر ثابت ہیں، مگر دریا پر عین مکالمہ، زخموں کی ترتیب اور دونوں مقامات کف کے درست نقاط زیادہ تر بعد کے مقتل اور زیارتی حافظے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں سطحوں کو واضح نسبت کے ساتھ محفوظ رکھنا تاریخی دیانت اور مذہبی روایت دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کے قریب ان کا الگ مدفن اور روضہ کربلا کی مقدس جغرافیہ کا بنیادی حصہ بن گیا۔ دونوں روضوں کے درمیان فضا اب یاد، عزاداری، تعلیم، تحقیق اور زائرین کی خدمت کو جوڑتی ہے۔ عوامی تاریخ میں حضرت عباس علیہ السلام سیاسی منصب یا ذاتی اقتدار کے بجائے کمزوروں کی منظم حفاظت کے ذریعے ظاہر ہونے والی وفاداری کی علامت ہیں۔
ان کی سوانح ایک مضبوط تاریخی مرکز اور بعد کی مقدس روایت میں فرق رکھنے کی ضرورت بھی دکھاتی ہے۔ پانی لانے کی کوشش اور شہادت مضبوط طور پر ثابت ہیں، مگر دریا پر عین مکالمہ، زخموں کی ترتیب اور دونوں مقامات کف کے درست نقاط زیادہ تر بعد کے مقتل اور زیارتی حافظے سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں سطحوں کو واضح نسبت کے ساتھ محفوظ رکھنا تاریخی دیانت اور مذہبی روایت دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کے قریب ان کا الگ مدفن اور روضہ کربلا کی مقدس جغرافیہ کا بنیادی حصہ بن گیا۔ دونوں روضوں کے درمیان فضا اب یاد، عزاداری، تعلیم، تحقیق اور زائرین کی خدمت کو جوڑتی ہے۔ عوامی تاریخ میں حضرت عباس علیہ السلام سیاسی منصب یا ذاتی اقتدار کے بجائے کمزوروں کی منظم حفاظت کے ذریعے ظاہر ہونے والی وفاداری کی علامت ہیں۔
متعلقہ تحقیقی سلسلے
🤲 دونوں مقامِ کف کی جغرافیائی نشان دہی
شہادت کی مکمل روایت اسی مرکزی صفحے پر رکھی گئی ہے۔ الگ صفحات موجودہ منسوب مقامات، عمارت اور مقامی زیارتی جغرافیہ کی نشان دہی کرتے ہیں؛ یہ حضرت عباس علیہ السلام کے مدفن نہیں۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام علی ابن ابی طالبؑ
قوی امکان
والدہ
ام البنین فاطمہ بنت حزام
قوی امکان
🌱 اولاد
ماخذ
Encyclopaedia Iranica, ‘Abbas b. Ali b. Abu Taleb | Jean Calmard | Vol. I, Fasc. 1, pp. 77-79; cites al-Irshad pp. 224-25 and 227 | https://www.iranicaonline.org/articles/abbas-b-ali-b-abu-taleb/ | Academic overview, Ashura death, limits of primary-source detail, full brothers, water mission, burial at place of deathMaqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | Vol. 1, p. 89 in the inspected digital edition | https://lib.eshia.ir/40132/1/89 | Kunya Abu al-Fadl, mother Umm al-Banin, eldest full brother, sequence of brothers’ deaths, titles al-Saqqa and Abu Qirba
Nasab Quraysh | Musab al-Zubayri | Section ‘Children of al-Abbas ibn Ali’, p. 79 in the inspected digital edition | https://shamela.ws/book/2922/75 | Genealogical continuity through Ubayd Allah and early family record; used for verification, not to alter protected spouse fields
Historical review of the water reports | al-Hoda Center for Islamic Studies | Article quoting Sharh al-Akhbar, al-Thiqat of Ibn Hibban, and Nasab Quraysh; source references listed in article | https://www.alhodacenter.com/article/2263 | Standard-bearing, al-Saqqa title, water missions, differing sequences, death between the Euphrates and camp
Al-Abbas ibn Ali | Imam Hussain Holy Shrine | Institutional biographical article; devotional details require attribution | https://imamhussain.org/english/46612 | Later birth tradition, devotional titles, final water narrative, severed-hands memory and modern shrine tradition
History of the al-Abbas Holy Shrine | al-Abbas Holy Shrine | Institutional historical overview; pagination not applicable | https://alkafeel.net/history?lang=en | Later shrine development and the present Karbala memorial landscape
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔