تاریخ اور مقام ولادت قطعی طور پر محفوظ نہیں۔ ابتدائی مآخذ انہیں کم سن بچہ یا شیر خوار کہتے ہیں؛ کسی متعین عمر یا تاریخ کو تاریخی طور پر یقینی نہیں سمجھا گیا۔
عبداللہ شیر خوار بن حسینؑ
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
علی اکبر، علی اصغر اور عبداللہ رضیع کی نام گذاری میں مآخذی فرق ہے؛ الگ شناختیں بناتے وقت ماخذی نسبت واضح رکھی گئی ہے۔
PER-000086
اہلِ بیت
قوی امکان
صرف عمومی علاقہ معلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
عبداللہ رضیع بن امام حسین علیہ السلام، رباب بنت امرؤ القیس کے کم سن فرزند اور واقعۂ کربلا کے ہاشمی شہداء میں سے تھے۔ ابتدائی مآخذ انہیں عموماً عبداللہ بن الحسین کہتے ہیں، جبکہ علی اصغر کا نام بعد کی معروف یادگاری روایت میں زیادہ رائج ہوا۔ عاشورا، ۱۰ محرم ۶۱ ہجری میں وہ اپنے والد کی گود میں تیر لگنے سے شہید ہوئے۔ ان کی سوانح معصوم جان کے احترام، تاریخی روایت میں احتیاط اور ظلم کے سامنے انسانی ضمیر کی ذمہ داری کی ایک انتہائی اثر انگیز مثال ہے۔
عاشورا، ۱۰ محرم ۶۱ ہجری، مطابق ۶۸۰ عیسوی، کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی گود میں تیر گلے پر لگنے سے شہید ہوئے۔ تیر انداز کے نام میں اختلاف ہے؛ قدیم بیان بنی اسد کے ایک شخص کا ذکر کرتا ہے، جبکہ بعد کی روایات میں مختلف نام ملتے ہیں۔
ابتدائی روایت میں امام حسین علیہ السلام کے ہاتھوں بچے کو شہید اہل خانہ کے ساتھ رکھنے کا ذکر ہے۔ الگ نشان زدہ انفرادی قبر ثابت نہیں۔ بعد کی کربلائی روایت انہیں حرم امام حسین علیہ السلام سے وابستہ اجتماعی ہاشمی شہداء میں یاد کرتی ہے۔
سوانح و تاریخی تعارف
عبداللہ، امام حسین ابن علی علیہ السلام اور رباب بنت امرؤ القیس کے کم سن فرزند تھے۔ شیخ مفید کی اولاد کی فہرست میں رباب کو سکینہ سلام اللہ علیہا اور عبداللہ دونوں کی والدہ قرار دیا گیا ہے۔ کربلا کے ابتدائی بیانات میں ان کا نام عموماً عبداللہ بن الحسین آتا ہے۔ بعد کی مذہبی اور سوانحی روایت میں اسی بچے کے لیے علی اصغر، یعنی چھوٹے علی، کا نام زیادہ مشہور ہوا۔ چونکہ امام حسین علیہ السلام کے فرزندوں کی نام گذاری میں مآخذی فرق ہے، اس تعارف میں عبداللہ کو بنیادی تاریخی نام اور علی اصغر کو معروف بعد کی نام گذاری کے طور پر رکھا گیا ہے، تاکہ ایک غیر یقینی نامی روایت سے دو الگ بچے نہ بنا دیے جائیں۔
ابتدائی مآخذ ان کی تاریخ ولادت یا قطعی عمر محفوظ نہیں کرتے۔ وہ انہیں کم سن بچہ یا شیر خوار قرار دیتے اور امام حسین علیہ السلام کے اہل خانہ کے ساتھ اس سفر میں دکھاتے ہیں جو کربلا پر ختم ہوا۔ قطعی تاریخ پیدائش یا متعین عمر بیان کرنے والی تفصیلات زیادہ تر بعد کی یادگاری روایت سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں ابتدائی شہادت کے برابر نہیں رکھنا چاہیے۔ تاریخی طور پر مضبوط بات ان کا خاندانی تعارف، کربلا میں موجودگی اور ۱۰ محرم ۶۱ ہجری کو جنگ کے آخری مرحلے میں شہادت ہے۔
شیخ مفید کے بیان کے مطابق امام حسین علیہ السلام خیمے کے سامنے بیٹھے، بچہ آپ کے پاس لایا گیا اور آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھایا۔ بعض بعد کی روایات اس لمحے کو آخری وداع یا بچے کے لیے پانی کی درخواست کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہ صورتیں مجالس اور مرثیہ کی روایت میں اہم ہوئیں، لیکن ابتدائی بنیادی بیان زیادہ مختصر ہے۔ اس لیے محتاط سوانح یہ مشترک حقیقت محفوظ کرتی ہے کہ شیر خوار اپنے والد کے بازوؤں میں تھا، مگر ایسا مفصل خطاب شامل نہیں کرتی جو قدیم مآخذ میں یکساں طور پر ثابت نہیں۔
مآخذ اس بنیادی واقعے پر متفق ہیں کہ ایک تیر بچے کے گلے میں لگا اور وہ شہید ہوگیا۔ ایک قدیم بیان تیر چلانے والے کو بنی اسد کا ایک شخص کہتا ہے، جبکہ بعد کی نقلوں میں حرملہ بن کاہل یا ہانی بن ثبیت کے نام آتے ہیں۔ اس لیے اصل واقعہ قاتل کے متعین نام سے زیادہ مضبوط ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے بچے کا خون اپنے ہاتھ میں لیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی۔ روایات میں یہ فرق ہے کہ خون زمین پر ڈالا گیا یا اوپر کی طرف اچھالا گیا، لہٰذا اس تعارف میں کسی ایک جسمانی تفصیل پر اصرار کے بجائے غم، دعا اور عدل الٰہی کی فریاد کا مشترک مفہوم محفوظ کیا گیا ہے۔
ابتدائی روایت بتاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے بچے کو اپنے شہید اہل خانہ کے ساتھ رکھا۔ یہ بیان کسی الگ نشان زدہ انفرادی قبر کو ثابت نہیں کرتا۔ بعد کی کربلائی روایت عبداللہ کو امام حسین علیہ السلام کے حرم سے وابستہ ہاشمی شہداء میں یاد کرتی ہے، مگر اجتماعی یاد کو ایک جداگانہ متعین قبر کا ثبوت نہیں بنایا جاسکتا۔ اسی لیے اس شخصی ریکارڈ میں کوئی مزار یا مختصات شامل نہیں کیے گئے، اور الگ مقام کا نہ ہونا بچے کی تاریخی شناخت کو کمزور نہیں کرتا۔
عبداللہ کی شہادت کربلا کی سب سے اثر انگیز یادوں میں سے ایک بن گئی، کیونکہ یہ غیر جنگجو اور بے دفاع جانوں کے دکھ کو نظر انداز کرنا ناممکن بناتی ہے۔ اس واقعے کی اخلاقی قوت کے لیے من گھڑت مکالمے، غیر ثابت قطعی عمر یا ہر بعد کی تفصیل پر یقین ضروری نہیں۔ مشترک تاریخی حقیقت کافی ہے کہ خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بچہ خیمہ گاہ کے تحفظ کے خاتمے کے وقت اپنے والد کی گود میں شہید ہوا۔ اس کی یاد بچوں کے لیے رحم، مقدس تاریخ بیان کرنے میں دیانت اور بے دفاع انسانوں پر تشدد کو کسی عذر سے قبول نہ کرنے کا سبق دیتی ہے۔
ابتدائی مآخذ ان کی تاریخ ولادت یا قطعی عمر محفوظ نہیں کرتے۔ وہ انہیں کم سن بچہ یا شیر خوار قرار دیتے اور امام حسین علیہ السلام کے اہل خانہ کے ساتھ اس سفر میں دکھاتے ہیں جو کربلا پر ختم ہوا۔ قطعی تاریخ پیدائش یا متعین عمر بیان کرنے والی تفصیلات زیادہ تر بعد کی یادگاری روایت سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں ابتدائی شہادت کے برابر نہیں رکھنا چاہیے۔ تاریخی طور پر مضبوط بات ان کا خاندانی تعارف، کربلا میں موجودگی اور ۱۰ محرم ۶۱ ہجری کو جنگ کے آخری مرحلے میں شہادت ہے۔
شیخ مفید کے بیان کے مطابق امام حسین علیہ السلام خیمے کے سامنے بیٹھے، بچہ آپ کے پاس لایا گیا اور آپ نے اسے اپنی گود میں بٹھایا۔ بعض بعد کی روایات اس لمحے کو آخری وداع یا بچے کے لیے پانی کی درخواست کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہ صورتیں مجالس اور مرثیہ کی روایت میں اہم ہوئیں، لیکن ابتدائی بنیادی بیان زیادہ مختصر ہے۔ اس لیے محتاط سوانح یہ مشترک حقیقت محفوظ کرتی ہے کہ شیر خوار اپنے والد کے بازوؤں میں تھا، مگر ایسا مفصل خطاب شامل نہیں کرتی جو قدیم مآخذ میں یکساں طور پر ثابت نہیں۔
مآخذ اس بنیادی واقعے پر متفق ہیں کہ ایک تیر بچے کے گلے میں لگا اور وہ شہید ہوگیا۔ ایک قدیم بیان تیر چلانے والے کو بنی اسد کا ایک شخص کہتا ہے، جبکہ بعد کی نقلوں میں حرملہ بن کاہل یا ہانی بن ثبیت کے نام آتے ہیں۔ اس لیے اصل واقعہ قاتل کے متعین نام سے زیادہ مضبوط ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے بچے کا خون اپنے ہاتھ میں لیا اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی۔ روایات میں یہ فرق ہے کہ خون زمین پر ڈالا گیا یا اوپر کی طرف اچھالا گیا، لہٰذا اس تعارف میں کسی ایک جسمانی تفصیل پر اصرار کے بجائے غم، دعا اور عدل الٰہی کی فریاد کا مشترک مفہوم محفوظ کیا گیا ہے۔
ابتدائی روایت بتاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے بچے کو اپنے شہید اہل خانہ کے ساتھ رکھا۔ یہ بیان کسی الگ نشان زدہ انفرادی قبر کو ثابت نہیں کرتا۔ بعد کی کربلائی روایت عبداللہ کو امام حسین علیہ السلام کے حرم سے وابستہ ہاشمی شہداء میں یاد کرتی ہے، مگر اجتماعی یاد کو ایک جداگانہ متعین قبر کا ثبوت نہیں بنایا جاسکتا۔ اسی لیے اس شخصی ریکارڈ میں کوئی مزار یا مختصات شامل نہیں کیے گئے، اور الگ مقام کا نہ ہونا بچے کی تاریخی شناخت کو کمزور نہیں کرتا۔
عبداللہ کی شہادت کربلا کی سب سے اثر انگیز یادوں میں سے ایک بن گئی، کیونکہ یہ غیر جنگجو اور بے دفاع جانوں کے دکھ کو نظر انداز کرنا ناممکن بناتی ہے۔ اس واقعے کی اخلاقی قوت کے لیے من گھڑت مکالمے، غیر ثابت قطعی عمر یا ہر بعد کی تفصیل پر یقین ضروری نہیں۔ مشترک تاریخی حقیقت کافی ہے کہ خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بچہ خیمہ گاہ کے تحفظ کے خاتمے کے وقت اپنے والد کی گود میں شہید ہوا۔ اس کی یاد بچوں کے لیے رحم، مقدس تاریخ بیان کرنے میں دیانت اور بے دفاع انسانوں پر تشدد کو کسی عذر سے قبول نہ کرنے کا سبق دیتی ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
عبداللہ رضیع علیہ السلام کی تاریخی اہمیت اس حقیقت میں ہے کہ ان کی شہادت کربلا کے سیاسی اور فوجی تنازعے کو معصوم انسانی جان کے مسئلے سے جوڑ دیتی ہے۔ ایک شیر خوار بچے کا قتل یہ دکھاتا ہے کہ جب طاقت اخلاقی حدود سے آزاد ہوجائے تو اس کا نقصان صرف میدان کے مسلح افراد تک محدود نہیں رہتا۔
امامی مذہبی یاد میں وہ مظلومیت، صبر اور اہل بیت کی مصیبت کے نمایاں نشان ہیں۔ علی اصغر کا معروف نام اسی یادگاری روایت میں وسیع ہوا، جبکہ تاریخی تحقیق عبداللہ کے قدیم نام اور بعد کی نام گذاری دونوں کو ان کے درجے کے مطابق محفوظ رکھتی ہے۔ یہ فرق عقیدت کو کم نہیں کرتا بلکہ اسے علمی دیانت کے ساتھ مضبوط کرتا ہے۔
ان کی سوانح تحقیق کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ اس میں ثابت بنیادی واقعہ اور بعد کی تفصیلی روایت کو الگ کرنا ضروری ہے۔ نام، عمر، تیر انداز اور خون کے طریقے میں فرق کے باوجود اصل حقیقت واضح ہے۔ اس طریقے سے ان کی یاد احترام کے ساتھ محفوظ رہتی اور غیر ثابت تفصیلات کو مقدس تاریخ کا لازمی حصہ بننے سے روکا جاتا ہے۔
امامی مذہبی یاد میں وہ مظلومیت، صبر اور اہل بیت کی مصیبت کے نمایاں نشان ہیں۔ علی اصغر کا معروف نام اسی یادگاری روایت میں وسیع ہوا، جبکہ تاریخی تحقیق عبداللہ کے قدیم نام اور بعد کی نام گذاری دونوں کو ان کے درجے کے مطابق محفوظ رکھتی ہے۔ یہ فرق عقیدت کو کم نہیں کرتا بلکہ اسے علمی دیانت کے ساتھ مضبوط کرتا ہے۔
ان کی سوانح تحقیق کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ اس میں ثابت بنیادی واقعہ اور بعد کی تفصیلی روایت کو الگ کرنا ضروری ہے۔ نام، عمر، تیر انداز اور خون کے طریقے میں فرق کے باوجود اصل حقیقت واضح ہے۔ اس طریقے سے ان کی یاد احترام کے ساتھ محفوظ رہتی اور غیر ثابت تفصیلات کو مقدس تاریخ کا لازمی حصہ بننے سے روکا جاتا ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام حسین ابن علیؑ
قوی امکان
والدہ
رباب بنت امرؤ القیس
قوی امکان
ماخذ
Kitab al-Irshad, Karbala narrative | Shaykh al-Mufid | Relevant Karbala passage; pagination varies by edition | https://al-islam.org/imam-husayn-saviour-islam/life-imam-husayn | Abd Allah name, infancy, arrow, blood, prayer and placement with the slain familyTarikh al-Rusul wa al-Muluk and the Abu Mikhnaf corpus | Muhammad ibn Jarir al-Tabari; Abu Mikhnaf | Vol. 5, pp. 448 and 468 as identified in the annotated translation | https://al-islam.org/event-taff-earliest-historical-account-tragedy-karbala-abu-mikhnaf/martyrdom-family-members-al | Infant on Imam Husayn's lap, arrow report, mother Rubab and transmitter variations
Musnad al-Imam al-Shahid Abi Abd Allah al-Husayn | Aziz Allah al-Utaridi, quoting Shaykh al-Mufid | Vol. 3, p. 36 | https://lib.eshia.ir/86866/3/36 | Child list, Abd Allah's martyrdom and Rubab as his mother
Sharh al-Akhbar fi Fada'il al-A'imma al-Athar | al-Qadi al-Nu'man | Vol. 3, p. 177 | https://lib.eshia.ir/16045/3/177 | Abd Allah among Imam Husayn's sons and Rubab as mother
Nafas al-Mahmum | Shaykh Abbas al-Qummi | Children of Imam Husayn section; pagination varies by edition | https://al-islam.org/nafasul-mahmum-relating-heart-rending-tragedy-karbala-shaykh-abbas-qummi/children-imam-husayn-and | Naming variation between Abd Allah and the later common name Ali al-Asghar
Burial of the Martyrs of al-Taff: A Historical-Analytical Study | Amir al-Jabiri; Warith al-Anbiya Foundation | Online study; print pagination not used | https://www.warithanbia.com/productions/10/195 | Later collective burial tradition and distinction from an individually verified grave
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔