عبداللہ بن علیؑ

PER-000046 اہلِ بیت قوی امکان صرف عمومی علاقہ معلوم امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
حضرت عبداللہ بن علی علیہ السلام، امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور ام البنین فاطمہ بنت حزام سلام اللہ علیہا کے صاحبزادے اور حضرت عباس، جعفر اور عثمان علیہم السلام کے حقیقی بھائی تھے۔ قدیم علوی مقتل مآخذ انہیں کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ رکھتے اور ۶۱ ہجری کے عاشورا میں ان کی شہادت بیان کرتے ہیں۔ ابو الفرج اصفہانی کے مطابق آپ کی عمر تقریباً ۲۵ سال تھی اور آپ کی اولاد نہ تھی، جبکہ شہادت کی دقیق کیفیت ایک سے زیادہ روایتوں میں منقول ہے۔
ولادت

صحیح تاریخ ولادت معلوم نہیں۔ ۶۱ ہجری میں شہادت کے وقت ۲۵ سال عمر والی روایت سے تقریباً ۳۶ ہجری بنتی ہے، مگر یہ استنباطی تاریخ ہے۔

وفات

۱۰ محرم ۶۱ ہجری کو کربلا میں شہید ہوئے۔ ایک قدیم روایت ہانی بن ثبیت حضرمی کا نام لیتی ہے، جبکہ دوسری فہرست خولی بن یزید کے تیر اور بنی دارم کے ایک شخص کی آخری ضرب کا ذکر کرتی ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

قدیم امامی تدفینی روایت کے مطابق آپ کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے قدموں کے قریب دوسرے ہاشمی شہداء کے ساتھ اجتماعی طور پر مدفون ہیں۔ الگ شناخت شدہ قبر یا مستقل مزار ثابت نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت عبداللہ بن علی علیہ السلام اپنے والد امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی طرف سے ہاشمی گھرانے اور اپنی والدہ ام البنین فاطمہ بنت حزام سلام اللہ علیہا کی طرف سے قبیلہ کلاب سے تعلق رکھتے تھے۔ مقاتل الطالبیین آپ کی والدہ کی واضح تعیین کرتا اور آپ کو ان کے چار صاحبزادوں حضرت عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان علیہم السلام میں شمار کرتا ہے۔ یہی نسب انہیں وسیع خاندان میں عبداللہ بن علی نام رکھنے والی دوسری شخصیات سے ممتاز کرتا ہے۔

دستیاب مآخذ آپ کے بچپن، تعلیم یا کربلا سے پہلے کی عوامی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات محفوظ کرتے ہیں۔ ابو الفرج اصفہانی کے مطابق شہادت کے وقت آپ کی عمر ۲۵ سال تھی اور آپ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اس عمر کو قبول کیا جائے تو ولادت تقریباً ۳۶ ہجری بنتی ہے، مگر یہ وفات کی عمر سے نکالا گیا حساب ہے، مستقل طور پر محفوظ تاریخ ولادت نہیں۔ کسی معتبر زوجہ، اولاد، منصب، تدریسی سلسلے یا تصنیف کا ثبوت نہیں ملتا۔

کربلا کی روایت میں حضرت عبداللہ علیہ السلام، ام البنین سلام اللہ علیہا کے دوسرے صاحبزادوں کے ساتھ امام حسین علیہ السلام کے لشکر میں موجود ہیں۔ طبری میں محفوظ ابو مخنف کی روایت بتاتی ہے کہ مادری قبائلی رشتے کی وجہ سے چاروں بھائیوں کے لیے امان مانگی گئی۔ انہوں نے ایسی امان مسترد کردی جس میں امام حسین علیہ السلام شامل نہ تھے۔ ایک منقول جواب میں حضرت عباس، جعفر اور عثمان علیہم السلام کے نام صراحت سے آتے اور عبداللہ کا نام اس جملے میں رہ جاتا ہے، مگر اس سے پہلے کی درخواست چاروں کو نامزد کرتی ہے؛ اس لیے اسے عدم موجودگی کے بجائے متنی اختصار یا سقوط سمجھنا زیادہ درست ہے۔

مقاتل الطالبیین نقل کرتا ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام نے اپنے حقیقی بھائی حضرت عبداللہ علیہ السلام سے فرمایا کہ وہ ان سے پہلے میدان میں جائیں، کیونکہ ان کی اولاد نہ تھی۔ حضرت عبداللہ علیہ السلام آگے بڑھے اور شہید ہوئے۔ وہاں نقل شدہ ابو مخنف کی سند میں ہانی بن ثبیت حضرمی کو قاتل کہا گیا ہے۔ ایک دوسری قدیم فہرست تسمیۃ من قتل مع الحسین میں خولی بن یزید کے تیر اور بنی دارم کے ایک شخص کی آخری ضرب کا ذکر ہے۔ اس لیے پروفائل ایک نسبت کو قطعی بنانے کے بجائے اختلاف محفوظ کرتا ہے۔

بعد کے مقتل مآخذ ایک رزمیہ شعر اور جنگ کی مزید تفصیلات نقل کرتے ہیں، مگر یہ مواد مختصر قدیم خبروں کے بعد کا ہے؛ اس لیے اسے منسوب روایت کے طور پر ہی پڑھنا چاہیے، آزاد طور پر ثابت شدہ خطاب نہیں۔ مضبوط تاریخی بنیاد آپ کی شناخت، والدہ اور بھائیوں کا نسب، امام حسین علیہ السلام کے ساتھ موجودگی اور کربلا میں شہادت ہے۔ عمر، میدان میں جانے کی ترتیب اور قاتل کی تعیین مخصوص روایتوں پر منحصر ہیں۔

کتاب الارشاد حضرت عبداللہ علیہ السلام کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ شہید ہونے والے اہل بیت میں شمار کرتی اور بیان کرتی ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کے سوا ہاشمی شہداء کو امام حسین علیہ السلام کے قدموں کے قریب اجتماعی طور پر دفن کیا گیا۔ اس سے حضرت عبداللہ علیہ السلام کی الگ شناخت شدہ قبر ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا آپ کی زیارتی یاد کربلا کے اجتماعی شہداء اور ان کے مدفن سے وابستہ ہے، کسی مستقل مزار یا انفرادی نقشۂ مقام سے نہیں۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت عبداللہ بن علی علیہ السلام کی تاریخی اہمیت اس حیثیت سے ہے کہ وہ امام علی علیہ السلام اور ام البنین سلام اللہ علیہا کے ان صاحبزادوں میں تھے جو کربلا میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ ان کی موجودگی دکھاتی ہے کہ عاشورا کی قربانی میں علوی گھرانے کی متعدد قریبی شاخیں شریک تھیں اور قرابت صرف نسب نہیں بلکہ عملی وفاداری کی صورت اختیار کرتی تھی۔

یہ پروفائل ماخذی احتیاط کی اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔ بنیادی شناخت اور شہادت قدیم علوی فہرستوں اور سوانحی کتب میں مستحکم ہیں، جبکہ قاتل، جنگی ترتیب اور مفصل رزمیہ کلام میں اختلاف ہے۔ اس فرق کو محفوظ رکھنا شخصیت کو فراموشی اور بعد کی غیر ثابت تفصیل دونوں سے بچاتا ہے۔

بے اولاد ہونے اور دوسرے ہاشمی شہداء کے ساتھ اجتماعی دفن کی روایت کا مطلب ہے کہ آپ کی میراث نہ کسی بعد کی نسلی شاخ پر قائم ہے اور نہ الگ قبر پر۔ یہ میراث کربلا کے ریکارڈ، انتخابی امان کے انکار اور جان لیوا دباؤ میں امام حسین علیہ السلام سے وفاداری کی یاد سے زندہ ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | Page 87 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/12404/83 | mother, Kilabi lineage and exact-person identification
Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | Page 88 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/12404/84 | age twenty-five, no descendants, order before al-Abbas and Hani ibn Thabit attribution
Tasmiyat man qutila ma'a al-Husayn | Al-Fudayl ibn al-Zubayr al-Asadi | Ahl al-Bayt martyr roster; pagination varies by edition | https://research.rafed.net/%D8%B9%D9%82%D8%A7%D8%A6%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%8A%D8%B9%D8%A9/731-%D9%83%D8%B1%D8%A8%D9%84%D8%A7%D8%A1-%D9%88%D9%88%D8%A7%D9%82%D8%B9%D8%A9-%D8%A7%D9%84%D8%B7%D9%81/3351-%D8%AA%D8%B3%D9%85%D9%8A%D8%A9-%D9%85%D9%86-%D9%82%D8%AA%D9%84-%D9%85%D8%B9-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B3%D9%8A%D9%86-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D9%84%D9%8A%D9%91-%D8%B9%D9%84%D9%8A%D9%87%D9%85%D8%A7-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%85%D9%86-%D9%88%D9%84%D8%AF%D9%87-%D9%88%D8%A5%D8%AE%D9%88%D8%AA%D9%87-%D9%88%D8%A3%D9%87%D9%84%D9%87-%D9%88%D8%B4%D9%8A%D8%B9%D8%AA%D9%87 | mother, martyrdom roster and variant killer attribution
Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | English translation, pages 119-121 | https://al-islam.org/printpdf/book/export/html/112885 | Ahl al-Bayt martyr list, mother and collective burial near Imam Husayn
The Event of Taff, Abu Mikhnaf material preserved by al-Tabari | Abu Mikhnaf; English translation | Pages 146-147 in the cited edition | https://al-islam.org/printpdf/book/export/html/31378 | safe-conduct request for the four sons of Umm al-Banin and their refusal
Ibsar al-Ayn fi Ansar al-Husayn | Muhammad al-Samawi | Volume 1, pages 67-68 | https://ar.lib.eshia.ir/27710/1/67 | later synthesis of age, battle order, attributed martial verse and Hani ibn Thabit report

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔