عبیداللہ بن علیؑ

PER-000048 اہلِ بیت قوی امکان منسوب مقام امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
عبید اللہ بن علی رضی اللہ عنہ امام علی بن ابی طالب علیہ السلام اور لیلیٰ بنت مسعود تمیمیہ کے صاحبزادے تھے۔ نسبی ماخذ انہیں بنو دارم کی مادری نسبت سے پہچانتے اور بے اولاد بتاتے ہیں۔ شیخ مفید نے انہیں ۶۱ھ میں کربلا کے شہدا میں شمار کیا، لیکن مصعب زبیری، ابن حزم اور ابو الفرج اصفہانی سمیت متعدد قدیم نسبی و سوانحی ماخذ انہیں مختار کے زمانے تک زندہ بتا کر ۶۷ھ میں مقامِ مذار پر مقتول قرار دیتے ہیں؛ دستیاب شواہد میں یہی دوسری روایت زیادہ قوی ہے۔
ولادت

قطعی سال ولادت محفوظ نہیں؛ وہ امام علی علیہ السلام اور لیلیٰ بنت مسعود کے صاحبزادے تھے اور پہلی صدی ہجری میں زندہ رہے۔

وفات

شیخ مفید نے ۶۱ھ میں کربلا کی شہادت لکھی، مگر زیادہ مضبوط اور متعدد قدیم نسبی و سوانحی شواہد کے مطابق عبید اللہ ۶۷ھ میں مقامِ مذار پر مختار کے لشکر کے شب خون میں قتل ہوئے۔

مدفن یا منسوب مقام

بعد کی مقامی روایت میں مقامِ مذار کی ایک قبر عبید اللہ بن علی سے منسوب ہے۔ ان کی موت المذار میں ہونے کی تاریخی روایت قوی ہے، لیکن موجودہ عین قبر کی مستقل قدیم کتبہ جاتی یا آثارِ قدیمہ کی تصدیق دستیاب نہیں؛ کربلا میں الگ قبر ثابت نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

عبید اللہ رضی اللہ عنہ امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کے ہاشمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ لیلیٰ بنت مسعود قبیلہ تمیم کی شاخ نہشل اور دارم سے تھیں؛ اہل نسب ان کا سلسلہ مسعود بن خالد بن مالک بن ربعی بن سلمیٰ بن جندل بن نہشل بن دارم تک پہنچاتے ہیں۔ مصعب زبیری اور ابن حزم دونوں عبید اللہ کو انہی کا بیٹا قرار دیتے اور بتاتے ہیں کہ ان کی کوئی نسل باقی نہیں رہی۔

ماخذ ان کی ولادت کا کوئی قطعی سال، بچپن کی مستقل داستان یا الگ علمی ذخیرہ محفوظ نہیں رکھتے۔ ان کا تاریخی تعارف زیادہ تر خاندانی فہرستوں اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد کے سیاسی ہنگاموں سے سامنے آتا ہے۔ اس محدود مواد میں خاص احتیاط ضروری ہے، کیونکہ بعد کی کربلا فہرستوں میں عبید اللہ کا نام ان کے بھائی محمد اصغر، جن کی کنیت ابو بکر تھی، اور عبد اللہ نامی دوسرے بھائی کے ساتھ خلط ملط ہوا ہے۔

شیخ مفید نے کتاب الارشاد میں محمد اصغر معروف بہ ابو بکر اور عبید اللہ کو امام علی علیہ السلام اور لیلیٰ بنت مسعود کے دو بیٹے قرار دے کر دونوں کو طف کے شہدا میں شمار کیا۔ تاہم مصعب زبیری، ابن حزم اور ابو الفرج اصفہانی عبید اللہ کو ابو بکر سے الگ شخصیت قرار دیتے ہیں اور انہیں مختار کے زمانے تک زندہ بتاتے ہیں۔ ماخذ کی کثرت، باہمی موافقت اور سیاسی واقعات کی مسلسل تفصیل کی بنا پر المذار والی روایت تاریخی طور پر زیادہ قوی ہے، جبکہ مفید کی کربلا نسبت کو محفوظ مگر مرجوح روایت کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔

ابن سعد کے مطابق عبید اللہ حجاز سے کوفہ میں مختار کے پاس آئے اور اس کی حمایت چاہی۔ روایات کے الفاظ مختلف ہیں، مگر اس بات پر متفق ہیں کہ مختار نے ان کی درخواست قبول نہیں کی؛ ایک روایت میں چند روز قید رکھنے کے بعد چھوڑنے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد عبید اللہ بصرہ گئے اور مصعب بن زبیر سے ملے، جس نے ان کا فراخ دلی سے استقبال کیا۔ تمیم سے ان کے مادری رشتہ داروں نے بھی انہیں پناہ دی۔

ابن سعد کی ایک قابل توجہ روایت کے مطابق مصعب کے لشکر لے کر نکلنے کے دوران بنو سعد کے کچھ افراد عبید اللہ کے گرد جمع ہوئے اور ان کی ناگواری کے باوجود سیاسی بیعت کرنے لگے۔ یہ واقعہ کسی پائیدار تحریک میں تبدیل نہیں ہوا۔ بعد میں وہ مختار کے خلاف مصعب کی مہم میں محمد بن اشعث سے وابستہ مقدمہ لشکر کے ساتھ چلے یا اس میں شامل کیے گئے۔

ابو الفرج اصفہانی، مصعب زبیری، ابن حزم اور ذہبی ان کی وفات ۶۷ھ میں مقام مذار پر لکھتے ہیں۔ ان کے مطابق مختار کے لوگوں نے رات کے حملے میں انہیں قتل کیا، اور ایک روایت میں ہے کہ ہنگامے میں انہیں پہچانا بھی نہ گیا۔ بعد کے زمانے میں مذار میں ایک قبر ان سے منسوب ہوئی، لیکن ابتدائی آثار یا مستقل کتبہ جاتی شہادت سے عین قبر کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اس لیے ذمہ دار تاریخی نتیجہ یہ ہے کہ مفید کی کربلا نسبت کو ذکر کیا جائے، لیکن اسے مساوی قوت کی روایت نہ بنایا جائے۔ امام علی علیہ السلام اور لیلیٰ بنت مسعود کا بیٹا ہونا مضبوط طور پر ثابت ہے، اور متعدد قدیم نسبی و سوانحی ماخذ کی مشترک شہادت ۶۷ھ میں المذار کی موت کو زیادہ راجح بناتی ہے۔ یہ امتیاز ابو بکر یا عبد اللہ بن علی کی سوانح کو عبید اللہ کی طرف منتقل ہونے سے بھی روکتا ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

عبید اللہ بن علی رضی اللہ عنہ کی سوانح اہل بیت کے کم معروف افراد کے مطالعے میں نسبی کتابوں کی اہمیت دکھاتی ہے۔ ان کی مادری تمیمی نسبت، بنو دارم سے تعلق اور بے اولاد ہونے کی خبر مختلف نسبی ماخذ میں ایک دوسرے کی تائید کرتی ہے۔

ان کی وفات کا اختلاف کربلا کے شہدا کی فہرست میں نام، کنیت اور بھائیوں کے خلط کی واضح مثال ہے۔ مفید کی نسبت محفوظ ہے، لیکن مصعب زبیری، ابن حزم اور ابو الفرج اصفہانی کی متفق تفصیل کی بنا پر المذار والی روایت زیادہ قوی ہے؛ اسی لیے ابو بکر، عبد اللہ اور عبید اللہ بن علی کو الگ الگ ماخذ کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔

مختار اور مصعب بن زبیر کے زمانے کی روایات انہیں پہلی صدی ہجری کے سیاسی بحران میں ایک ہاشمی شخصیت کے طور پر دکھاتی ہیں، مگر کوئی مستقل خلافتی تحریک ان سے ثابت نہیں۔ ان کا تذکرہ محتاط تاریخی تحریر، متعارض ماخذ کی دیانت دار پیش کش اور منسوب قبر کو قطعی تدفین نہ بنانے کی اہمیت سمجھاتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Nasab Quraysh | Musab ibn Abd Allah al-Zubayri | p. 44, section on the children of Ali ibn Abi Talib | https://ftp.shamela.ws/book/2922/42 | Mother Layla bint Masud, no descendants, journey to al-Mukhtar, attachment to Musab's advance force and death in the night attack
Jamharat Ansab al-Arab | Ibn Hazm al-Andalusi | p. 38, section on the children of Ali ibn Abi Talib | https://shamela.ws/book/9793/38 | Mother Layla bint Masud, no descendants, distinction from Abu Bakr and death in Musab's army against al-Mukhtar
Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | p. 123, entry 8, Ubayd Allah ibn Ali | https://shamela.ws/book/12404/119 | Death at al-Madhar after leaving al-Mukhtar and joining Musab ibn al-Zubayr
Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Vol. 1, p. 354, list of the children of Amir al-Muminin | https://ito.lib.eshia.ir/86018/01/354 | Contrary Imami attribution listing Ubayd Allah and Muhammad al-Asghar among the martyrs at al-Taff
Mujam Rijal al-Hadith | Sayyid Abu al-Qasim al-Khui | Vol. 12, entry on Ubayd Allah ibn Ali; pagination varies by digital edition | https://lib.eshia.ir/14036/12/88 | Later Imami critical discussion of the name/kunya confusion and the competing Karbala and al-Madhar reports

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔