پیدائش کا سال اور مقام معتبر مآخذ میں معلوم نہیں۔
جمانہ بنت علیؑ
PER-000057
اہلِ بیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
جمانہ بنت علی علیہا السلام امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ان بیٹیوں میں شمار ہوتی ہیں جنہیں شیخ مفید نے الارشاد میں مختلف امہاتِ اولاد سے پیدا ہونے والی اولاد کی فہرست میں درج کیا ہے۔ ان کی کنیت ام جعفر محفوظ ہے، مگر والدہ کا ذاتی نام، نکاح، اولاد، پیدائش، وفات اور تدفین کے معتبر حالات معلوم نہیں۔ انہیں امام علی علیہ السلام کی ہمشیرہ جمانہ بنت ابی طالب یا دوسری ہم نام خواتین سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
وفات کی تاریخ اور حالات معلوم نہیں۔ پندرہ محرم کی بعد کی نسبت کے لیے معتبر ابتدائی شہادت نہیں ملی۔
تاریخی مدفن معلوم نہیں؛ کسی موجودہ قبر یا مزار کو ان سے معتبر طور پر منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
سوانح و تاریخی تعارف
شیخ مفید نے الارشاد میں امام علی علیہ السلام کی اولاد کی فہرست دیتے ہوئے جمانہ کا نام درج کیا اور ان کی کنیت ام جعفر بتائی۔ اسی فہرست میں وہ ان بیٹیوں کے ساتھ آتی ہیں جن کی مائیں مختلف امہاتِ اولاد تھیں۔ یہ اندراج ان کے وجود اور علوی نسبت کا سب سے مضبوط قابلِ رسائی ثبوت ہے، مگر اس میں والدہ کا ذاتی نام نہیں دیا گیا۔
نام جمانہ کے باعث ہم نام شخصیات میں خلط کا امکان زیادہ ہے۔ جمانہ بنت ابی طالب امام علی علیہ السلام کی بہن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عم زاد اور ایک الگ صحابیہ تھیں۔ اسی طرح جمانہ بنت مسیب ایک دوسری خاتون تھیں جن کا تعلق عبداللہ بن جعفر کے گھرانے سے ملتا ہے۔ اس پروفائل کی شخصیت صرف جمانہ بنت علی، کنیت ام جعفر، ہیں۔
دستیاب قدیم اندراج ان کے نکاح، اولاد، تعلیم، روایتِ حدیث، سفر، کربلا میں حاضری یا کسی عوامی کردار کی تفصیل نہیں دیتا۔ اس لیے ام جعفر کی کنیت سے جعفر نامی بیٹے کا قطعی وجود اخذ نہیں کیا گیا، کیونکہ کنیت ہمیشہ حقیقی اولاد کا یقینی ثبوت نہیں ہوتی۔ اسی اصول کے تحت خالی محفوظ ازدواجی اور تعلقاتی خانوں کو تبدیل نہیں کیا گیا۔
ان کی پیدائش اور وفات کا سال، حالاتِ وفات اور تاریخی مدفن معلوم نہیں۔ بعد کی مذہبی مجالس اور انٹرنیٹ روایتوں میں پندرہ محرم کو وفات یا شہادت کی نسبت ملتی ہے، مگر اس تاریخ کے لیے کوئی معتبر ابتدائی ماخذ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے پروفائل ان کی عزت اور علوی شناخت محفوظ رکھتے ہوئے غیر ثابت واقعات، شہادت اور قبر کی تعیین سے گریز کرتا ہے۔
نام جمانہ کے باعث ہم نام شخصیات میں خلط کا امکان زیادہ ہے۔ جمانہ بنت ابی طالب امام علی علیہ السلام کی بہن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عم زاد اور ایک الگ صحابیہ تھیں۔ اسی طرح جمانہ بنت مسیب ایک دوسری خاتون تھیں جن کا تعلق عبداللہ بن جعفر کے گھرانے سے ملتا ہے۔ اس پروفائل کی شخصیت صرف جمانہ بنت علی، کنیت ام جعفر، ہیں۔
دستیاب قدیم اندراج ان کے نکاح، اولاد، تعلیم، روایتِ حدیث، سفر، کربلا میں حاضری یا کسی عوامی کردار کی تفصیل نہیں دیتا۔ اس لیے ام جعفر کی کنیت سے جعفر نامی بیٹے کا قطعی وجود اخذ نہیں کیا گیا، کیونکہ کنیت ہمیشہ حقیقی اولاد کا یقینی ثبوت نہیں ہوتی۔ اسی اصول کے تحت خالی محفوظ ازدواجی اور تعلقاتی خانوں کو تبدیل نہیں کیا گیا۔
ان کی پیدائش اور وفات کا سال، حالاتِ وفات اور تاریخی مدفن معلوم نہیں۔ بعد کی مذہبی مجالس اور انٹرنیٹ روایتوں میں پندرہ محرم کو وفات یا شہادت کی نسبت ملتی ہے، مگر اس تاریخ کے لیے کوئی معتبر ابتدائی ماخذ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے پروفائل ان کی عزت اور علوی شناخت محفوظ رکھتے ہوئے غیر ثابت واقعات، شہادت اور قبر کی تعیین سے گریز کرتا ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
جمانہ بنت علی علیہا السلام کی اہمیت ایک طویل سوانح کے بجائے امام علی علیہ السلام کے وسیع خاندانی نقشے میں ایک محفوظ نام اور کنیت ہونے میں ہے۔ الارشاد کا مختصر اندراج اس امر کی یاد دہانی ہے کہ خاندان کی بہت سی خواتین تاریخی فہرستوں میں موجود ہیں، اگرچہ ان کے انفرادی حالات محفوظ نہیں رہے۔
ان کا پروفائل ماخذی ضبط کی مثال بھی ہے۔ جمانہ بنت ابی طالب، جمانہ بنت مسیب اور جمانہ بنت علی کو الگ رکھنا، اور بعد کی غیر مستند وفات، شہادت یا قبر کی روایت کو احترام کے ساتھ محدود کرنا، اہل بیت کی تاریخ کو افسانوی اضافے سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
ان کا پروفائل ماخذی ضبط کی مثال بھی ہے۔ جمانہ بنت ابی طالب، جمانہ بنت مسیب اور جمانہ بنت علی کو الگ رکھنا، اور بعد کی غیر مستند وفات، شہادت یا قبر کی روایت کو احترام کے ساتھ محدود کرنا، اہل بیت کی تاریخ کو افسانوی اضافے سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام علی ابن ابی طالبؑ
قوی امکان
ماخذ
Kitab al-Irshad | Shaykh al-Mufid | Vol. 1, pp. 354-355, chapter on the children of Imam Ali | https://ar.lib.eshia.ir/27035/1/354 and https://ar.lib.eshia.ir/27035/1/355 | lists Jumana among Imam Ali's daughters, gives the kunya Umm Jafar, and places the group among children of different umm waladsAl-Muhaddithun min Al Abi Talib | Sayyid Mahdi al-Raja'i al-Musawi | Vol. 3, p. 488, entry 650 | https://najafdesertlibrary.com/book/%D8%A7%D9%84%D9%85%D8%AD%D8%AF%D8%AB%D9%88%D9%86-%D9%85%D9%86-%D8%A2%D9%84-%D8%A3%D8%A8%D9%8A-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8-%D8%B9%D9%84%D9%8A%D9%87-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85/v/3/p/488 | modern biographical index confirming the al-Irshad identification, kunya Umm Jafar, and umm-walad maternal classification
Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | p. 118 in the accessed digital edition | https://shamela.ws/book/12404/118 | distinguishes Jumana bint al-Musayyab, mother of Awn ibn Abd Allah ibn Jafar, from Jumana bint Ali
Nasab Quraysh | Musab al-Zubayri | p. 38 in the accessed digital edition | https://shamela.ws/book/2922/38 | distinguishes Jumana bint Abi Talib, Imam Ali's sister, from Jumana bint Ali
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔