درست تاریخ اور مقامِ ولادت معتبر طور پر محفوظ نہیں۔
عبداللہ بن جعفر صادقؑ
PER-000111
اہلِ بیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
عبداللہ بن امام جعفر صادق علیہ السلام اہلِ بیت کے حسینی و حسنی نسب سے وابستہ فرد تھے۔ شیخ مفید کی «الارشاد» انہیں امام جعفر صادق علیہ السلام اور فاطمہ بنت حسین اثرم کی اولاد، اور اسماعیل و ام فروہ کا حقیقی بھائی قرار دیتی ہے۔ اسماعیل کی وفات کے بعد وہ اپنے باقی بھائیوں میں عمر کے لحاظ سے بڑے تھے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام کی وفات کے بعد بعض پیروکاروں نے ان کی امامت قبول کی اور فطحیہ کے نام سے معروف ہوئے، جبکہ اثنا عشری امامی روایت نے امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو جانشین مانا۔ ابتدائی امامی فرقہ نگاری کے مطابق عبداللہ اپنے والد کے بعد تقریباً ستر دن زندہ رہے اور ان کا کوئی معتبر طور پر ثابت شدہ مرد وارث باقی نہیں رہا۔ ان کا معاملہ ابتدائی امامی مباحث میں عمر کی بڑائی، نص، علم اور جانشینی کے معیار کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی وفات کے تقریباً ستر دن بعد، غالباً ۱۴۸ھ کے آخر یا ۱۴۹ھ کے آغاز، مطابق ۷۶۵–۷۶۶ء، میں وفات ہوئی؛ درست دن معتبر طور پر معلوم نہیں۔
مدفن معتبر مستقل ماخذ سے ثابت نہیں؛ کسی منسوب مقام کو قطعی قبر نہیں مانا گیا۔
سوانح و تاریخی تعارف
عبداللہ بن جعفر صادق امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرزند، امام محمد باقر علیہ السلام کے پوتے اور امام علی زین العابدین علیہ السلام کے پڑپوتے تھے۔ ان کی والدہ فاطمہ بنت حسین اثرم بن امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام تھیں۔ اس طرح ان کا پدری سلسلہ امام حسین علیہ السلام اور مادری سلسلہ امام حسن علیہ السلام سے ملتا ہے۔
شیخ مفید کی «الارشاد» امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد میں اسماعیل، عبداللہ اور ام فروہ کو ایک ہی والدہ، فاطمہ بنت حسین اثرم، سے قرار دیتی ہے۔ اسی کتاب کے مطابق اسماعیل کی زندگی میں وفات کے بعد عبداللہ اپنے باقی بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ درست سالِ ولادت محفوظ نہیں، اس لیے بعد کے متعین عمری اندازوں کو قطعی نہیں بنایا گیا۔
عبداللہ کے ساتھ «افطح» کا لقب مشہور ہوا، لیکن اس لقب کی وجہ کے بارے میں قدیم نقلیں یکساں نہیں۔ بعض اسے سر یا پاؤں کی ساخت سے جوڑتی ہیں، جبکہ ایک قول فطحیہ کی نسبت ایک کوفی رہنما عبداللہ بن فطیح کی طرف کرتا ہے۔ اس اختلاف کی بنا پر لقب کو شناختی متبادل کے طور پر رکھا گیا ہے، نہ کہ کسی کردار یا فضیلت کے فیصلے کے طور پر۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی وفات سنہ ۱۴۸ھ میں ہوئی۔ نوبختی کی «فرق الشیعہ» کے مطابق عبداللہ نے والد کے بعد جانشینی کا دعویٰ کیا اور ان کے بڑے زندہ بیٹے ہونے کی بنا پر بہت سے پیروکار ابتدا میں ان کی طرف مائل ہوئے۔ اسی حلقے کو فطحیہ کہا گیا۔ یہ بیان ایک امامی فرقہ نگار کی تاریخی روایت ہے؛ اسے تمام مسلم مکاتب کا مشترک عقیدہ نہیں سمجھا گیا۔
اسی ابتدائی امامی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ بعض پیروکاروں نے فقہی سوالات کے ذریعے ان کی علمی اہلیت آزمائی اور پھر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرف منتقل ہوگئے۔ اثنا عشری امامی نقطۂ نظر عبداللہ کی امامت قبول نہیں کرتا، جبکہ فطحیہ کے بعض گروہوں نے انہیں امام مانا یا ان کے بعد امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت تسلیم کی۔ ان مختلف موقفوں کو نسبت کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے اور کوئی جدلی فیصلہ نہیں دیا گیا۔
«فرق الشیعہ» عبداللہ کی زندگی کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی وفات کے بعد تقریباً ستر دن بتاتی ہے اور لکھتی ہے کہ ان کا کوئی بیٹا باقی نہیں رہا۔ ان کی وفات کے بعد زیادہ تر فطحیہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرف لوٹ گئے، اگرچہ کچھ محدود دھارے باقی رہے۔ اس بنا پر وفات کا قریب ترین زمانہ ۱۴۸ھ کے آخر یا ۱۴۹ھ کے آغاز، مطابق ۷۶۵–۷۶۶ء، ہے؛ درست دن معتبر طور پر ثابت نہیں۔ جانچے گئے مآخذ کسی شریکِ حیات یا آزاد طور پر ثابت شدہ مدفن کی محفوظ شناخت نہیں دیتے۔
شیخ مفید کی «الارشاد» امام جعفر صادق علیہ السلام کی اولاد میں اسماعیل، عبداللہ اور ام فروہ کو ایک ہی والدہ، فاطمہ بنت حسین اثرم، سے قرار دیتی ہے۔ اسی کتاب کے مطابق اسماعیل کی زندگی میں وفات کے بعد عبداللہ اپنے باقی بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ درست سالِ ولادت محفوظ نہیں، اس لیے بعد کے متعین عمری اندازوں کو قطعی نہیں بنایا گیا۔
عبداللہ کے ساتھ «افطح» کا لقب مشہور ہوا، لیکن اس لقب کی وجہ کے بارے میں قدیم نقلیں یکساں نہیں۔ بعض اسے سر یا پاؤں کی ساخت سے جوڑتی ہیں، جبکہ ایک قول فطحیہ کی نسبت ایک کوفی رہنما عبداللہ بن فطیح کی طرف کرتا ہے۔ اس اختلاف کی بنا پر لقب کو شناختی متبادل کے طور پر رکھا گیا ہے، نہ کہ کسی کردار یا فضیلت کے فیصلے کے طور پر۔
امام جعفر صادق علیہ السلام کی وفات سنہ ۱۴۸ھ میں ہوئی۔ نوبختی کی «فرق الشیعہ» کے مطابق عبداللہ نے والد کے بعد جانشینی کا دعویٰ کیا اور ان کے بڑے زندہ بیٹے ہونے کی بنا پر بہت سے پیروکار ابتدا میں ان کی طرف مائل ہوئے۔ اسی حلقے کو فطحیہ کہا گیا۔ یہ بیان ایک امامی فرقہ نگار کی تاریخی روایت ہے؛ اسے تمام مسلم مکاتب کا مشترک عقیدہ نہیں سمجھا گیا۔
اسی ابتدائی امامی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ بعض پیروکاروں نے فقہی سوالات کے ذریعے ان کی علمی اہلیت آزمائی اور پھر امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرف منتقل ہوگئے۔ اثنا عشری امامی نقطۂ نظر عبداللہ کی امامت قبول نہیں کرتا، جبکہ فطحیہ کے بعض گروہوں نے انہیں امام مانا یا ان کے بعد امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت تسلیم کی۔ ان مختلف موقفوں کو نسبت کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے اور کوئی جدلی فیصلہ نہیں دیا گیا۔
«فرق الشیعہ» عبداللہ کی زندگی کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی وفات کے بعد تقریباً ستر دن بتاتی ہے اور لکھتی ہے کہ ان کا کوئی بیٹا باقی نہیں رہا۔ ان کی وفات کے بعد زیادہ تر فطحیہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی طرف لوٹ گئے، اگرچہ کچھ محدود دھارے باقی رہے۔ اس بنا پر وفات کا قریب ترین زمانہ ۱۴۸ھ کے آخر یا ۱۴۹ھ کے آغاز، مطابق ۷۶۵–۷۶۶ء، ہے؛ درست دن معتبر طور پر ثابت نہیں۔ جانچے گئے مآخذ کسی شریکِ حیات یا آزاد طور پر ثابت شدہ مدفن کی محفوظ شناخت نہیں دیتے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
عبداللہ کی بنیادی تاریخی اہمیت امام جعفر صادق علیہ السلام کے بعد پیدا ہونے والے جانشینی کے اختلاف سے وابستہ ہے۔ ان کی عمر میں بڑائی، مختصر بعد از والد حیات اور ان کے نام پر قائم فطحیہ نے ابتدائی امامی تاریخ میں امامت کے معیار، نص، عمر اور علمی اہلیت کے مباحث کو نمایاں کیا۔
ان کا پروفائل اس بات کی مثال ہے کہ ایک ہی شخصیت کے بارے میں نسبی حقیقت اور مذہبی تعبیر کو الگ رکھا جائے۔ والدین اور حقیقی بہن بھائی نسبتاً واضح ہیں، لیکن ان کی امامت، پیروکاروں کے امتحان اور جانشینی کے نتائج امامی فرقہ نگاری کے مخصوص بیانیوں سے آتے ہیں اور اسی نسبت سے پیش کیے گئے ہیں۔
ان کا معاملہ اس لیے اہم نہیں کہ ہر فرقہ نگارانہ روایت کو بلا تحقیق قبول کرلیا جائے، بلکہ اس لیے کہ یہ ایک ابتدائی جانشینی اختلاف اور بعد کی جماعتوں میں مختلف دعووں کے محفوظ رہنے کو دکھاتا ہے۔ ذمہ دارانہ سوانح مضبوط نسبی حقائق کو منسوب اعتقادی بیانیے سے الگ رکھتی، شہادت کی حدود واضح کرتی، اور خاموشی یا بعد کی مقامی روایت سے قطعی مدفن یا خاندانی سلسلہ اخذ نہیں کرتی۔
ان کا پروفائل اس بات کی مثال ہے کہ ایک ہی شخصیت کے بارے میں نسبی حقیقت اور مذہبی تعبیر کو الگ رکھا جائے۔ والدین اور حقیقی بہن بھائی نسبتاً واضح ہیں، لیکن ان کی امامت، پیروکاروں کے امتحان اور جانشینی کے نتائج امامی فرقہ نگاری کے مخصوص بیانیوں سے آتے ہیں اور اسی نسبت سے پیش کیے گئے ہیں۔
ان کا معاملہ اس لیے اہم نہیں کہ ہر فرقہ نگارانہ روایت کو بلا تحقیق قبول کرلیا جائے، بلکہ اس لیے کہ یہ ایک ابتدائی جانشینی اختلاف اور بعد کی جماعتوں میں مختلف دعووں کے محفوظ رہنے کو دکھاتا ہے۔ ذمہ دارانہ سوانح مضبوط نسبی حقائق کو منسوب اعتقادی بیانیے سے الگ رکھتی، شہادت کی حدود واضح کرتی، اور خاموشی یا بعد کی مقامی روایت سے قطعی مدفن یا خاندانی سلسلہ اخذ نہیں کرتی۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
امام جعفر صادقؑ
قوی امکان
والدہ
فاطمہ بنت حسین اثرم
قوی امکان
ماخذ
Kitab al-Irshad fi Ma'rifat Hujaj Allah ala al-Ibad | Shaykh al-Mufid | Vol. 2, p. 209 | https://books.rafed.net/view/429/page/209 | Lists Ismail, Abd Allah and Umm Farwa as children of Imam Jafar al-Sadiq by Fatima bint Husayn al-Athram and establishes the full-sibling groupKitab al-Irshad fi Ma'rifat Hujaj Allah ala al-Ibad | Shaykh al-Mufid | Vol. 2, pp. 210-211 | https://books.rafed.net/view/429/page/210 | Identifies Abd Allah as the eldest surviving brother after Ismail, records his succession claim, the Fathiyya designation and the later movement of many followers toward Musa al-Kazim
Firaq al-Shia | al-Hasan ibn Musa al-Nawbakhti | p. 77 | https://books.rafed.net/view/3492/page/77 | Early Imami heresiographical account of Abd Allah's seniority, succession claim and the beginning of the Fathiyya
Firaq al-Shia | al-Hasan ibn Musa al-Nawbakhti | p. 78 | https://books.rafed.net/view/3492/page/78 | Reports testing by legal questions, competing explanations of the Fathiyya name, absence of a male child, return of most followers to Musa al-Kazim and survival for about seventy days
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔