تاریخ اور مقامِ ولادت معتبر طور پر محفوظ نہیں۔ وہ پہلی صدی ہجری میں قبیلۂ ثقیف کے ابو مرہ بن عروہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
لیلیٰ بنت ابی مرہ
PER-000082
خاندان کی شخصیت
قوی امکان
مقامِ تدفین نامعلوم
امامی ماخذی فہرست
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
لیلیٰ بنت ابی مرہ ثقفیہ ابتدائی اسلامی نسبی مآخذ میں امام حسین بن علی علیہ السلام کی زوجہ اور کربلا میں شہید ہونے والے علی بن حسین کی والدہ کے طور پر معروف ہیں۔ ان کے والد ابو مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی اور والدہ میمونہ بنت ابی سفیان بن حرب تھیں، اس لیے ان کا نسب باپ کی طرف سے قبیلۂ ثقیف اور ماں کی طرف سے بنو امیہ سے ملتا ہے۔ نسبِ قریش میں ان کے ذاتی نام کے لیے آمنہ یا لیلیٰ دونوں روایتیں محفوظ ہیں۔ ان کی اپنی ولادت، وفات اور مدفن کی مستند مستقل تفصیل دستیاب نہیں، اور کربلا میں ان کی موجودگی بھی قدیم تاریخی مآخذ سے ثابت نہیں؛ اس لیے پروفائل مضبوط نسب، نکاح اور مادری نسبت تک محدود رہتا ہے۔
تاریخ، مقام اور حالاتِ وفات معتبر طور پر محفوظ نہیں۔
مدفن نامعلوم ہے۔ کسی معتبر مستقل ماخذ یا محفوظ مرکزی مزار و نقشاتی ربط سے قبر ثابت نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
مصعب زبیری کی کتاب نسب قریش میں لیلیٰ کو ابو مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی کی صاحبزادی بتایا گیا ہے۔ ان کے دادا عروہ بن مسعود قبیلۂ ثقیف کے معروف سردار تھے۔ متعدد متوافق نسبی مآخذ اس والدانہ نسبت کو براہِ راست محفوظ کرتے ہیں۔
اسی کتاب کے بنو امیہ والے نسبی اندراج میں میمونہ بنت ابی سفیان بن حرب کا نکاح ابو مرہ سے اور ان دونوں سے لیلیٰ کی پیدائش واضح طور پر مذکور ہے۔ مقاتل الطالبیین بھی علی بن حسین کی والدہ لیلیٰ اور ان کی نانی میمونہ بنت ابی سفیان کو نام سے درج کرتی ہے۔
نسب قریش اور مقاتل الطالبیین دونوں لیلیٰ کو امام حسین علیہ السلام کی زوجہ اور ان کے فرزند علی کی والدہ بتاتے ہیں۔ یہ علی ۱۰ محرم ۶۱ھ، مطابق ۱۰ اکتوبر ۶۸۰ء، کربلا میں اپنے والد کے ساتھ شہید ہوئے۔ ابتدائی اور بعض امامی مآخذ میں علی اکبر اور علی اصغر کی ترتیب مختلف ملتی ہے، اس لیے پروفائل نامی ترتیب کے اختلاف کو تسلیم کرتے ہوئے صرف ثابت مادری نسبت محفوظ کرتا ہے۔
نسب قریش میں ان کا نام آمنہ یا لیلیٰ دونوں صورتوں میں آیا ہے۔ یہ اختلاف ممکن ہے کہ ذاتی نام اور مشہور نام یا روایت کے فرق کی وجہ سے ہو، لیکن دستیاب شہادت کسی ایک صورت کو قطعی طور پر منسوخ نہیں کرتی۔ اسی لیے آمنہ کو بنیادی نام بدلنے کے بجائے صرف مستند متبادل نام کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
لیلیٰ کی ذاتی زندگی، تعلیم، اقوال، تاریخِ ولادت اور بعد کی زندگی کے بارے میں مستقل قدیم مواد بہت کم ہے۔ بعض بعد کی مجالس اور مقتل حکایات انہیں کربلا کے خیموں میں موجود دکھاتی اور علی کی روانگی یا شہادت کے وقت مخصوص دعائیں اور مکالمے منسوب کرتی ہیں، مگر محقق مرتضیٰ مطہری نے واضح کیا کہ قدیم تاریخی کتابیں ان کی کربلا میں موجودگی بیان نہیں کرتیں۔ ان مشہور مگر غیر ثابت حکایات کو عوامی سوانح میں شامل نہیں کیا گیا۔
ان کی وفات کی تاریخ، مقام اور قبر معتبر طور پر معلوم نہیں۔ موجود شخصی ریکارڈ میں بھی کوئی مرکزی مزار یا جغرافیائی ربط محفوظ نہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت ثابت خاندانی نسبت میں ہے: وہ ثقفی گھرانے کی بیٹی، امام حسین علیہ السلام کی زوجہ اور کربلا کے ہاشمی شہید علی بن حسین کی والدہ تھیں، جبکہ غیر ثابت مناقبی تفصیل سے احتیاط ان کی یاد کو زیادہ معتبر بناتی ہے۔
اسی کتاب کے بنو امیہ والے نسبی اندراج میں میمونہ بنت ابی سفیان بن حرب کا نکاح ابو مرہ سے اور ان دونوں سے لیلیٰ کی پیدائش واضح طور پر مذکور ہے۔ مقاتل الطالبیین بھی علی بن حسین کی والدہ لیلیٰ اور ان کی نانی میمونہ بنت ابی سفیان کو نام سے درج کرتی ہے۔
نسب قریش اور مقاتل الطالبیین دونوں لیلیٰ کو امام حسین علیہ السلام کی زوجہ اور ان کے فرزند علی کی والدہ بتاتے ہیں۔ یہ علی ۱۰ محرم ۶۱ھ، مطابق ۱۰ اکتوبر ۶۸۰ء، کربلا میں اپنے والد کے ساتھ شہید ہوئے۔ ابتدائی اور بعض امامی مآخذ میں علی اکبر اور علی اصغر کی ترتیب مختلف ملتی ہے، اس لیے پروفائل نامی ترتیب کے اختلاف کو تسلیم کرتے ہوئے صرف ثابت مادری نسبت محفوظ کرتا ہے۔
نسب قریش میں ان کا نام آمنہ یا لیلیٰ دونوں صورتوں میں آیا ہے۔ یہ اختلاف ممکن ہے کہ ذاتی نام اور مشہور نام یا روایت کے فرق کی وجہ سے ہو، لیکن دستیاب شہادت کسی ایک صورت کو قطعی طور پر منسوخ نہیں کرتی۔ اسی لیے آمنہ کو بنیادی نام بدلنے کے بجائے صرف مستند متبادل نام کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
لیلیٰ کی ذاتی زندگی، تعلیم، اقوال، تاریخِ ولادت اور بعد کی زندگی کے بارے میں مستقل قدیم مواد بہت کم ہے۔ بعض بعد کی مجالس اور مقتل حکایات انہیں کربلا کے خیموں میں موجود دکھاتی اور علی کی روانگی یا شہادت کے وقت مخصوص دعائیں اور مکالمے منسوب کرتی ہیں، مگر محقق مرتضیٰ مطہری نے واضح کیا کہ قدیم تاریخی کتابیں ان کی کربلا میں موجودگی بیان نہیں کرتیں۔ ان مشہور مگر غیر ثابت حکایات کو عوامی سوانح میں شامل نہیں کیا گیا۔
ان کی وفات کی تاریخ، مقام اور قبر معتبر طور پر معلوم نہیں۔ موجود شخصی ریکارڈ میں بھی کوئی مرکزی مزار یا جغرافیائی ربط محفوظ نہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت ثابت خاندانی نسبت میں ہے: وہ ثقفی گھرانے کی بیٹی، امام حسین علیہ السلام کی زوجہ اور کربلا کے ہاشمی شہید علی بن حسین کی والدہ تھیں، جبکہ غیر ثابت مناقبی تفصیل سے احتیاط ان کی یاد کو زیادہ معتبر بناتی ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
لیلیٰ بنت ابی مرہ کی بنیادی تاریخی اہمیت امام حسین علیہ السلام کے خاندان اور کربلا کے شہید علی بن حسین کی مادری نسبت میں ہے۔ ان کے ذریعے قبیلۂ ثقیف اور بنو امیہ کی دو نسبی شاخیں اہل بیت کے گھرانے سے جڑتی ہیں، مگر یہ نسبی حقیقت کسی سیاسی یا اعتقادی وابستگی کا خودکار ثبوت نہیں۔
ان کا پروفائل قدیم نسبی مآخذ کی قدر بھی دکھاتا ہے۔ نسب قریش کے دو الگ اندراج اور مقاتل الطالبیین باپ، ماں، نکاح اور فرزند کے رشتوں کو باہم مضبوط کرتے ہیں، جبکہ آمنہ یا لیلیٰ اور علی اکبر یا علی اصغر جیسے نامی اختلافات کو واضح رکھنا ضروری ہے۔
تحقیقی اعتبار سے ان کی یاد کا احترام اسی میں ہے کہ ثابت خاندانی مقام کو محفوظ رکھا جائے اور کربلا میں موجودگی، منسوب دعاؤں، تاریخِ وفات اور قبر جیسی غیر ثابت تفصیل کو یقین نہ بنایا جائے۔ یہ امتیاز عقیدت اور تاریخی دیانت کو ایک ساتھ برقرار رکھتا ہے۔
ان کا پروفائل قدیم نسبی مآخذ کی قدر بھی دکھاتا ہے۔ نسب قریش کے دو الگ اندراج اور مقاتل الطالبیین باپ، ماں، نکاح اور فرزند کے رشتوں کو باہم مضبوط کرتے ہیں، جبکہ آمنہ یا لیلیٰ اور علی اکبر یا علی اصغر جیسے نامی اختلافات کو واضح رکھنا ضروری ہے۔
تحقیقی اعتبار سے ان کی یاد کا احترام اسی میں ہے کہ ثابت خاندانی مقام کو محفوظ رکھا جائے اور کربلا میں موجودگی، منسوب دعاؤں، تاریخِ وفات اور قبر جیسی غیر ثابت تفصیل کو یقین نہ بنایا جائے۔ یہ امتیاز عقیدت اور تاریخی دیانت کو ایک ساتھ برقرار رکھتا ہے۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
ابو مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی
مصدقہ
والدہ
میمونہ بنت ابی سفیان بن حرب امویہ
مصدقہ
🤝 ازواج و ازدواجی رشتے
امام حسین ابن علیؑ
مصدقہ
🌱 اولاد
ماخذ
نسب قریش | مصعب بن عبد اللہ زبیری | صفحہ ۵۷، اولادِ امام حسین کا اندراج | https://shamela.ws/book/2922/55 | آمنہ یا لیلیٰ بنت ابی مرہ، امام حسین کی زوجہ اور علی بن حسین کی والدہنسب قریش | مصعب بن عبد اللہ زبیری | صفحہ ۱۲۶، اولادِ ابی سفیان کا اندراج | https://shamela.ws/book/2922/121 | میمونہ بنت ابی سفیان کا ابو مرہ سے نکاح، لیلیٰ کی پیدائش اور امام حسین سے نکاح
مقاتل الطالبیین | ابو الفرج اصفہانی | صفحہ ۸۶، علی بن حسین کا اندراج | https://ftp.shamela.ws/book/12404/82 | لیلیٰ بنت ابی مرہ، والد ابو مرہ، والدہ میمونہ بنت ابی سفیان اور علی کی مادری نسبت
نفس المهموم، اولاد و ازواجِ امام حسین | شیخ عباس قمی | متعلقہ باب؛ صفحات نسخوں میں مختلف | https://al-islam.org/nafasul-mahmum-relating-heart-rending-tragedy-karbala-shaykh-abbas-qummi/children-imam-husayn-and | امامی روایت میں لیلیٰ کی زوجیت اور علی کی والدہ ہونا، نیز علی اکبر و اصغر کی نامی ترتیب
عاشورا: تحریفات اور غلط نمائندگی | مرتضیٰ مطہری | پہلا خطبہ؛ صفحات لاگو نہیں | https://al-islam.org/al-tawhid/vol13-no3/ashura-misrepresentations-distortions-part-1-mutahhari/first-sermon-ashura | کربلا میں لیلیٰ کی موجودگی اور منسوب دعاؤں کے لیے قدیم تاریخی شہادت نہ ہونے کی تنبیہ
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔