ان کی پیدائش کی قطعی تاریخ اور مقام نامعلوم ہیں۔ مآخذ انہیں ابو سفیان بن حرب اور لبابہ بنت ابی العاص کی صاحبزادی بتاتے ہیں، مگر پیدائش کی الگ معتبر خبر محفوظ نہیں۔
میمونہ بنت ابی سفیان بن حرب امویہ
PER-000199
خاندان کی شخصیت
مصدقہ
مقامِ تدفین نامعلوم
مختلف مآخذ سے تائید
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
میمونہ بنت ابی سفیان بن حرب ایک اموی قریشی خاتون تھیں جن کی شناخت قدیم نسبی اور سوانحی مآخذ میں محفوظ ہے۔ ابن سعد ان کی والدہ لبابہ بنت ابی العاص بتاتے ہیں۔ تاہم ثقفی خاندان میں ان کے نکاح کے بارے میں اختلاف ہے: ابن سعد اور ابن حبیب انہیں عروہ بن مسعود اور بعد میں مغیرہ بن شعبہ سے مربوط کرتے ہیں، جبکہ مصعب زبیری اور ابن حجر انہیں ابو مرہ بن عروہ کی اہلیہ اور لیلیٰ کی والدہ بتاتے ہیں، جن کا نکاح امام حسین بن علی علیہ السلام سے ہوا۔ ایک متوازی روایت عروہ کی اہلیہ کا نام زینب بنت ابی سفیان لکھتی ہے۔ ان کی پیدائش، وفات اور مدفن معتبر طور پر محفوظ نہیں، اس لیے ثابت نسب برقرار رکھتے ہوئے نام اور نکاح کے اختلافات واضح کیے گئے ہیں۔
ان کی وفات کا سال، مقام اور حالات نامعلوم ہیں؛ کوئی مستقل معتبر وفاتی خبر نہیں ملی۔
ان کا مدفن نامعلوم ہے۔ معتبر مآخذ میں کوئی ثابت شدہ قبر، مزار، مقام، قبرستانی نسبت یا نقشے کی جگہ نہیں ملی۔
سوانح و تاریخی تعارف
میمونہ قریش کے بنو امیہ خاندان سے تھیں اور متعدد مآخذ انہیں ابو سفیان بن حرب کی صاحبزادی کے طور پر شناخت کرتے ہیں۔ ابن سعد ان کی والدہ لبابہ بنت ابی العاص بن امیہ لکھتے ہیں اور مصعب زبیری بھی یہی مادری نسبت محفوظ کرتے ہیں۔ اس سے ان کی اموی خاندانی شناخت واضح ہوتی ہے اور انہیں ام المؤمنین میمونہ بنت حارث یا دوسری ہم نام خواتین سے الگ رکھا جا سکتا ہے۔
ایک قدیم سوانحی روایت، جس کی نمائندگی ابن سعد کرتے ہیں، بیان کرتی ہے کہ عروہ بن مسعود ثقفی نے میمونہ سے نکاح کیا اور ان سے اولاد ہوئی، پھر عروہ کے بعد مغیرہ بن شعبہ نے ان سے نکاح کیا۔ ابن حبیب کی المحبر بھی انہیں عروہ سے مربوط کرتی، داؤد نامی بیٹے کا ذکر کرتی اور بعد کے شوہر کے طور پر مغیرہ بن شعبہ کو درج کرتی ہے۔ یہ روایات انہیں طائف کے نمایاں ثقفی خاندان سے جوڑتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں مصعب زبیری کی نسبی روایت بتاتی ہے کہ ابو مرہ بن عروہ بن مسعود نے میمونہ سے نکاح کیا اور ان سے لیلیٰ بنت ابی مرہ پیدا ہوئیں۔ ابن حجر کی ابو مرہ والی ترجمانی بھی لیلیٰ کی والدہ میمونہ بنت ابی سفیان کو قرار دیتی ہے۔ اس روایت کے مطابق لیلیٰ نے امام حسین بن علی علیہ السلام سے نکاح کیا اور حضرت علی اکبر علیہ السلام کی والدہ بنیں۔
یہ اختلاف صرف معمولی املا کا فرق نہیں۔ بعض سوانحی کتابیں عروہ بن مسعود کی قریشی اہلیہ کا نام زینب بنت ابی سفیان بھی لکھتی ہیں۔ دستیاب مواد یہ قطعی ثابت نہیں کرتا کہ زینب میمونہ کا دوسرا نام تھا، ابو سفیان کی الگ صاحبزادی تھیں یا عروہ اور ان کے بیٹے ابو مرہ کی ازواج کے درمیان خلط ہوا۔
دستیاب معتبر مآخذ میمونہ کی پیدائش کا قطعی سال، وفات کا سال، مقامِ وفات، جنازہ یا تدفین محفوظ نہیں کرتے۔ ان کا زمانی مقام صرف خاندانی نسبتوں کی بنیاد پر ابتدائی اسلامی صدی میں عمومی طور پر رکھا جا سکتا ہے۔ کوئی ثابت شدہ قبر، مزار، مقام یا نقشے کی جگہ ان سے منسوب نہیں، اور نسبی اہمیت کو غیر ثابت مدفن کے دعوے میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
ایک قدیم سوانحی روایت، جس کی نمائندگی ابن سعد کرتے ہیں، بیان کرتی ہے کہ عروہ بن مسعود ثقفی نے میمونہ سے نکاح کیا اور ان سے اولاد ہوئی، پھر عروہ کے بعد مغیرہ بن شعبہ نے ان سے نکاح کیا۔ ابن حبیب کی المحبر بھی انہیں عروہ سے مربوط کرتی، داؤد نامی بیٹے کا ذکر کرتی اور بعد کے شوہر کے طور پر مغیرہ بن شعبہ کو درج کرتی ہے۔ یہ روایات انہیں طائف کے نمایاں ثقفی خاندان سے جوڑتی ہیں۔
اس کے مقابلے میں مصعب زبیری کی نسبی روایت بتاتی ہے کہ ابو مرہ بن عروہ بن مسعود نے میمونہ سے نکاح کیا اور ان سے لیلیٰ بنت ابی مرہ پیدا ہوئیں۔ ابن حجر کی ابو مرہ والی ترجمانی بھی لیلیٰ کی والدہ میمونہ بنت ابی سفیان کو قرار دیتی ہے۔ اس روایت کے مطابق لیلیٰ نے امام حسین بن علی علیہ السلام سے نکاح کیا اور حضرت علی اکبر علیہ السلام کی والدہ بنیں۔
یہ اختلاف صرف معمولی املا کا فرق نہیں۔ بعض سوانحی کتابیں عروہ بن مسعود کی قریشی اہلیہ کا نام زینب بنت ابی سفیان بھی لکھتی ہیں۔ دستیاب مواد یہ قطعی ثابت نہیں کرتا کہ زینب میمونہ کا دوسرا نام تھا، ابو سفیان کی الگ صاحبزادی تھیں یا عروہ اور ان کے بیٹے ابو مرہ کی ازواج کے درمیان خلط ہوا۔
دستیاب معتبر مآخذ میمونہ کی پیدائش کا قطعی سال، وفات کا سال، مقامِ وفات، جنازہ یا تدفین محفوظ نہیں کرتے۔ ان کا زمانی مقام صرف خاندانی نسبتوں کی بنیاد پر ابتدائی اسلامی صدی میں عمومی طور پر رکھا جا سکتا ہے۔ کوئی ثابت شدہ قبر، مزار، مقام یا نقشے کی جگہ ان سے منسوب نہیں، اور نسبی اہمیت کو غیر ثابت مدفن کے دعوے میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
میمونہ کی اہمیت بنیادی طور پر نسبی ہے۔ ابو مرہ اور لیلیٰ والی روایت ابو سفیان کی ایک اموی صاحبزادی کو ثقفی خاندان سے اور لیلیٰ کے امام حسین علیہ السلام سے نکاح کے ذریعے حضرت علی اکبر علیہ السلام کے منقول مادری نسب سے جوڑتی ہے۔ اس نسبت کو صرف ماخذی بنیاد اور نکاحی اختلاف کی واضح قید کے ساتھ بیان کرنا تاریخی طور پر درست ہے۔
ان کا پروفائل خاندانی شجرے میں سخت شناختی نظم کی ضرورت بھی دکھاتا ہے۔ میمونہ اور زینب کے نام، نیز عروہ اور ابو مرہ کے مختلف شوہری بیانات کو خاموشی سے ایک نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا پروفائل خاندانی شجرے میں سخت شناختی نظم کی ضرورت بھی دکھاتا ہے۔ میمونہ اور زینب کے نام، نیز عروہ اور ابو مرہ کے مختلف شوہری بیانات کو خاموشی سے ایک نہیں کیا جا سکتا۔
خاندانی روابط
👪 والدین
والد
ابو سفیان بن حرب
مصدقہ
والدہ
لبابہ بنت ابی العاص بن امیہ
مصدقہ
🌱 اولاد
ماخذ
Al-Tabaqat al-Kubra | Ibn Sa'd | entry 4177, Maymuna bint Abi Sufyan; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/1686/2858 | father, mother Lubaba bint Abi al-As, marriage to Urwa ibn Masud, and later marriage to al-Mughira ibn ShubaNasab Quraysh | Musab al-Zubayri | descendants of Abu Sufyan; p. 121 in the displayed edition | https://shamela.ws/book/2922/121 | mother Lubaba bint Abi al-As and the competing report that Abu Murra ibn Urwa married Maymuna and she bore Layla
Al-Muhabbar | Ibn Habib | marriage notice; pagination varies by edition | https://ablibrary.net/book_content/3014/106 | records Maymuna with Urwa ibn Masud, a son Dawud, and later al-Mughira ibn Shuba
Al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ibn Hajar al-Asqalani | entry on Abu Murra ibn Urwa; pagination varies by edition | https://ftp.shamela.ws/book/9767/3838 | identifies Layla as daughter of Abu Murra and Maymuna bint Abi Sufyan
Maqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | Ali al-Akbar entry; pagination varies by edition | https://ftp.shamela.ws/book/12404/82 | identifies Maymuna, also called Umm Shayba, as maternal grandmother in the lineage of Ali al-Akbar
Usd al-Ghaba fi Marifat al-Sahaba | Ibn al-Athir | entry on Zaynab bint Abi Sufyan; pagination varies by edition | https://ftp.shamela.ws/book/1110/3406 | preserves a parallel report naming Urwa ibn Masud's Qurashi wife Zaynab bint Abi Sufyan, creating an unresolved name attribution
تصویری گیلری
ابھی کوئی منظور شدہ تصویر موجود نہیں۔
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔