مدینہ منورہ میں پہلی صدی ہجری کے آخری حصے میں ولادت ہوئی۔ ابتدائی مآخذ سالِ ولادت پر متفق نہیں؛ اس لیے کسی ایک متاخر تاریخ کو قطعی نہیں بنایا گیا۔
زید بن علی زین العابدینؑ
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
اوائل صفر ۱۲۲ھ، غالب روایت کے مطابق ۲ صفر، کوفہ میں تیر کے مہلک زخم کے بعد شہید ہوئے؛ یہ تاریخ تقریباً ۷۴۰ء کے مطابق ہے۔
ساتھیوں نے جسمِ مبارک کو بے حرمتی سے بچانے کے لیے کوفہ کے قریب ایک نہر میں خفیہ طور پر دفن کرکے پانی جاری کردیا، مگر مقام ظاہر ہونے پر اموی حکام نے جسم نکلوایا، سر جدا کیا اور پیکر کو کناسۂ کوفہ میں آویزاں کیا؛ بعد کی روایات اسے جلائے جانے کا ذکر کرتی ہیں۔ اس لیے مستقل جسمانی قبر تاریخی طور پر شناخت شدہ نہیں۔ الکفل، بابل میں موجود مقام ان سے منسوب ثانوی یادگاری زیارت گاہ ہے۔ پرانی مزار فائل میں ریکارڈ 181 کے تحت اس مقام کے نقشاتی نقاط محفوظ ہیں، مگر موجودہ شخصی جدول کے محفوظ مرکزی مزار خانے خالی ہیں؛ مرکزی انتظامی ربط اور نئی برآمد کے بغیر انہیں تبدیل نہیں کیا گیا۔
سوانح و تاریخی تعارف
آپ نے اپنے والد امام علی زین العابدین علیہ السلام اور بڑے بھائی امام محمد باقر علیہ السلام کے علمی گھرانے میں پرورش پائی۔ یہ خاندانی ماحول آپ کو اس نسل سے براہ راست جوڑتا تھا جس نے کربلا کی یاد کو محفوظ رکھا اور علم، عبادت، صبر، صلہ رحمی اور کمزوروں کی ذمہ داری کو زندگی کا حصہ بنایا۔ رجال کی کتابیں ابان بن عثمان، عبید اللہ بن ابی رافع، عروہ بن زبیر، آپ کے والد اور آپ کے بھائی کو ان اہل علم میں شمار کرتی ہیں جن سے آپ نے روایت یا علم حاصل کیا۔
انہی مآخذ نے آپ سے روایت کرنے والے ایک وسیع حلقے کے نام بھی محفوظ کیے ہیں۔ ان میں آپ کے بھتیجے امام جعفر صادق علیہ السلام، آپ کے فرزندان حسین اور عیسیٰ، سلیمان اعمش، شعبہ بن حجاج، محمد بن شہاب زہری، فضیل بن مرزوق اور دوسرے اہل علم شامل ہیں۔ یہ علمی سلسلہ واضح کرتا ہے کہ امام زید علیہ السلام صرف ایک سیاسی قیام کے قائد کے طور پر یاد نہیں کیے گئے، بلکہ مدینہ اور کوفہ کی علمی دنیا میں حدیث، فقہ اور اہل بیت کی اخلاقی تعلیمات کے راوی و معلم بھی تھے۔
امام ذہبی اور امام مزی کی نقل کردہ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے چچا کی تعریف کرتے ہوئے انہیں خاندان میں کتاب اللہ کا زیادہ پڑھنے والا، دین کا گہرا فہم رکھنے والا اور صلہ رحمی میں نمایاں قرار دیا۔ بعد کی نسبی اور عقیدتی کتابیں، جن میں الشجرۃ المبارکۃ بھی شامل ہے، آپ کا لقب حلیف القرآن محفوظ کرتی ہیں۔ اس لقب کو آپ کی علمی و اخلاقی شہرت کے حصے کے طور پر سمجھنا چاہیے: آپ کی زندگی میں علم، خاندانی ذمہ داری اور اجتماعی جواب دہی ایک دوسرے سے جدا نہ تھے۔
آپ کی طرف مسند امام زید اور المجموع الفقہی والحدیثی جیسے مجموعے منسوب ہیں۔ یہ کتابیں آپ کے نام سے وابستہ علمی روایت کی اہم گواہی ہیں، لیکن ان کی موجودہ تدوینی صورت کو بغیر تحقیق بعینہٖ وہ کتاب قرار نہیں دیا جاسکتا جسے خود امام زید علیہ السلام نے اسی ترتیب سے مرتب کیا ہو۔ بعد کے راویوں، مجموعہ سازوں اور فقہی مکتب نے اس مواد کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔ یہ فرق ملحوظ رکھنے سے آپ کی حقیقی علمی میراث محفوظ رہتی ہے اور نسبت کو ضرورت سے زیادہ مضبوط بھی نہیں بنایا جاتا۔
نسبی مآخذ آپ کی اولاد کی بعض تفصیلات میں اختلاف رکھتے ہیں۔ الشجرۃ المبارکۃ چار بیٹوں کے نام دیتی ہے: حضرت یحییٰ، عیسیٰ، محمد اور حسین ذوالدمعہ، جنہیں اسی روایت میں ذوالعبرہ بھی کہا گیا ہے۔ اس کتاب کے مطابق آپ کی نسل تین بیٹوں سے آگے بڑھی، جبکہ حضرت یحییٰ کی کوئی باقی رہنے والی مردانہ نسل نہ تھی۔ حضرت یحییٰ سیاسی تاریخ میں اس لیے زیادہ معروف ہوئے کہ والد کی شہادت کے بعد انہوں نے خراسان میں اموی اقتدار کے خلاف جدوجہد جاری رکھی اور خود بھی شہید ہوئے۔ یوں باپ اور بیٹے کی تاریخ اسلامی یادداشت میں باہم پیوست ہوگئی۔
امام زید علیہ السلام اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے زمانے میں زندہ رہے۔ سوانحی اور تاریخی روایات آپ کی آمد و رفت کو مدینہ، حیرہ اور کوفہ سے جوڑتی ہیں اور عراق کے گورنر یوسف بن عمر کے ساتھ معاملات کا ذکر کرتی ہیں۔ کوفہ کے گروہوں نے آپ کو واپس آنے کی دعوت دی اور وسیع حمایت کے وعدے کیے، جبکہ حکام نے آپ کے رابطوں کی چھان بین کی اور طے شدہ وقت سے پہلے تصادم کو قریب کردیا۔ یہی سیاسی پس منظر بڑے وعدوں اور تحریک کے تیزی سے تنہا ہوجانے، دونوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
آپ کی تحریک سے منسوب بیعت کا مضمون کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دعوت، ظالموں کے مقابل قیام، کمزوروں کی حفاظت، محروموں کی مدد، بیت المال کی منصفانہ تقسیم، چھینے گئے حقوق کی واپسی اور اہل بیت کی نصرت پر مشتمل تھا۔ یہ نکات بتاتے ہیں کہ آپ کے قیام کو محض خاندانی اقتدار کی نجی کشمکش سمجھنا درست نہیں۔ آپ نے حکمرانی کو اخلاقی امانت قرار دیا جسے وحی، عدل اور امت کی بھلائی کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔
طبری کی نقل کردہ اور بعد کے مؤرخین میں دہرائی جانے والی روایت کے مطابق امام زید علیہ السلام نے کہا کہ خاندان نبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتدار کا زیادہ حق دار تھا، مگر آپ نے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو کافر قرار نہیں دیا اور نہ ان سے براءت کی۔ آپ نے بیان کیا کہ انہوں نے عدل کے ساتھ حکومت کی اور کتاب و سنت پر عمل کیا، جبکہ آپ کے مقابل موجود حکمران ظالم تھے۔ یوں محفوظ شدہ موقف میں علوی حق قیادت کا اثبات بھی ہے اور پہلے دو خلفاء کی تکفیر یا نفرت کو وفاداری کی شرط بنانے سے انکار بھی۔
اسی منقولہ روایت میں ہے کہ کوفہ کا ایک گروہ اس وقت الگ ہوگیا جب امام زید علیہ السلام نے پہلے دو خلفاء کے خلاف زیادہ سخت اعلان قبول نہ کیا۔ بعد کی فرقہ وارانہ تحریروں نے اس واقعے اور الگ ہونے والوں کے لیے استعمال ہونے والے نام کی مختلف توجیہات پیش کیں؛ انہیں غیر جانب دار اور قطعی لفظی تاریخ کے بجائے مناظرانہ روایت کے طور پر پڑھنا چاہیے۔ تاریخی طور پر زیادہ واضح بات یہ ہے کہ امام زید علیہ السلام نے اپنی جماعت بڑھانے کے لیے بیان کردہ عقیدہ تبدیل نہ کیا اور اس انکار کی سیاسی قیمت قبول کی۔
امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ نے امام زید علیہ السلام کے علمی مقام اور تحریک کے اخلاقی مقصد کو تسلیم کیا۔ مقاتل الطالبیین کی روایت کے مطابق انہوں نے پہلے پوچھا کہ اہل فقہ و علم میں سے کون کون امام زید علیہ السلام کے ساتھ ہے، پھر سواریوں، ہتھیاروں اور ساتھیوں کی ضروریات کے لیے مالی مدد بھیجی جسے امام زید علیہ السلام نے قبول کیا۔ اس مدد کی قطعی مقدار محفوظ نہیں۔ جدید علمی تحقیق ملاقات، احترام اور مالی اعانت کو بعد کی اس دعویٰ سے الگ کرتی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے طویل مدت باقاعدہ شاگردی اختیار کی؛ ابتدائی شواہد ایسی طویل شاگردی کو مضبوطی سے ثابت نہیں کرتے۔
روایات میں کوفہ کے بہت سے لوگوں کی بیعت کا ذکر ہے، لیکن تحریک مقررہ وقت سے پہلے ظاہر ہوگئی۔ حکام نے نقل و حرکت محدود کی، لوگوں کو جامع مسجد میں جمع کیا، راستوں کی نگرانی کی اور متعدد حامیوں کو امام زید علیہ السلام تک پہنچنے سے روک دیا۔ طبری کی منقولہ روایت کے ایک مرحلے میں صرف دو سو اٹھارہ (218) افراد کے آپ تک پہنچنے کا ذکر ہے، اگرچہ دوسری روایات مختلف تعداد دیتی ہیں اور ابتدائی وعدے کہیں زیادہ تھے۔ وعدوں اور عملی موجودگی کا یہ فرق قیام کے سب سے نمایاں اسباق میں شمار ہوا۔
امام زید علیہ السلام اور آپ کے مختصر لشکر نے کوفہ کی گلیوں اور کھلے میدانوں، خصوصاً کناسہ کے علاقے میں، ایک بڑی سرکاری فوج کا مقابلہ کیا۔ روایات ان کی ثابت قدم مزاحمت کا ذکر کرتی ہیں۔ جب معمول کے دستے لڑائی جلد ختم نہ کرسکے تو تیر انداز آگے لائے گئے۔ رات کے قریب ایک تیر آپ کی پیشانی کے بائیں حصے میں لگا اور اس کی نوک سر میں پیوست ہوگئی۔ ساتھی آپ کو ایک پوشیدہ مقام پر لے گئے اور طبیب بلایا گیا، مگر تیر کی نوک نکالے جانے کے بعد زخم اور خون بہنے کی شدت کے سبب اوائل صفر سن ایک سو بائیس ہجری میں آپ نے جام شہادت نوش کیا۔
حکومتی بے حرمتی سے بچانے کے لیے ساتھیوں نے آپ کو پانی کے ایک راستے میں خفیہ طور پر دفن کیا اور اوپر سے پانی جاری کردیا تاکہ قبر کا نشان ظاہر نہ ہو۔ بعد میں مقام کا راز حکام تک پہنچ گیا۔ طبری بیان کرتے ہیں کہ جسد مبارک نکالا گیا، سر جدا کرکے روانہ کیا گیا اور جسم کو کوفہ کے مقام کناسہ میں سولی پر آویزاں کیا گیا۔ امام ذہبی اور امام مزی کی روایات میں جسم کے کئی برس تک آویزاں رہنے اور آخرکار جلائے جانے کا ذکر ہے، تاہم مدت اور واقعاتی ترتیب میں اختلاف ہے۔ مشترک تاریخی حقیقت یہ ہے کہ وفات کے بعد جسد کی سرعام بے حرمتی جان بوجھ کر کی گئی۔
اس سلوک کا سیاسی مقصد خوف پھیلانا تھا، لیکن طویل مدت میں نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ امام زید علیہ السلام کا نام ظلم کے سامنے استقامت کی علامت بن گیا۔ آپ کے فرزند حضرت یحییٰ بن زید رحمۃ اللہ علیہ نے خراسان میں جدوجہد جاری رکھی اور وہ بھی شہید ہوئے۔ باپ اور بیٹے کی قربانی نے بعد کی علوی تحریکوں کو متاثر کیا اور اسلامی تاریخ میں ظالم کے سامنے حق کہنے کی اخلاقی زبان کا حصہ بن گئی۔
امام زید علیہ السلام کے قیام اور یاد سے بعد میں زیدیہ کے نام سے معروف شیعہ شاخ ابھری اور آپ کا نام عراق سے طبرستان، دیلم اور یمن تک پہنچا۔ آپ کی جدوجہد اس زیدی اصول کے لیے مرکزی بنی کہ امام حسن یا امام حسین علیہما السلام کی اولاد میں سے کوئی عالم، عادل اور قیادت کی صلاحیت رکھنے والا فرد ظلم کے خلاف علانیہ دعوت و قیام کے ذریعے امامت کا دعویٰ کرسکتا ہے۔ یہ ثابت شدہ تاریخی تعلق آپ کو ابتدائی زیدی شیعی تحریک سے وابستہ قرار دینے کی بنیاد فراہم کرتا ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بعد کے اثنا عشری عقائد کے پیرو تھے۔ اسی طرح بعد کے زیدی فقہاء کے ہر فقہی یا کلامی قول کو براہ راست آپ کی طرف منسوب نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ مکتب کئی نسلوں میں ترقی کرتا رہا۔
الکفل کا مزار امام زید علیہ السلام کی یاد کے گرد تشکیل پانے والے بعد کے زیارتی جغرافیے کا حصہ ہے۔ دو ہزار تئیس (2023) کی ایک مقامی رپورٹ اسے الکفل کے قریب، الکفل اور کوفہ کی سڑک کے موڑ سے تقریباً سات کلومیٹر دور واقع بتاتی ہے اور حالیہ تعمیر نو و توسیع کے بعد بڑے گنبد، دو میناروں، آراستہ دروازوں، آئینہ کاری، ہندسی نقوش، قرآنی کتبوں اور مقررہ متولی کا ذکر کرتی ہے۔ یہ معلومات موجودہ مزار اور اس کے مذہبی استعمال کو ثابت کرتی ہیں، قدیم تدفین کو نہیں۔ بعض بعد کی مقامی توضیحات مقام کو آپ کی تکلیف، جسد کے سرعام آویزاں ہونے یا یادگاری نسبت سے جوڑتی ہیں، مگر یہاں جسد کی منتقلی کسی قدیم کتبے، مسلسل وقف نامے یا استعمال شدہ کلاسیکی روایت سے ثابت نہیں۔ اس لیے درست درجہ بندی ثانوی منسوب یادگاری مزار ہی ہے۔
اس مقام کی تعلیمی اہمیت اس وقت سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے جب عقیدت کے ساتھ تاریخی وضاحت بھی موجود ہو۔ زائر یہاں امام زید علیہ السلام کے پاکیزہ نسب، مدینہ کے علم، قرآن سے وابستگی، ظالم اقتدار کے سامنے جرات، تعداد کے بدلے اصول نہ بیچنے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ثابت شدہ مدد، کوفہ کے بہت سے لوگوں کی پسپائی، شہادت اور بعد میں زیدی روایت کی تشکیل کو یاد کرسکتا ہے۔ مذہبی و ثقافتی معنی رکھنے کے لیے اس جگہ کو ثابت شدہ قبر کہنا ضروری نہیں۔ اس کا صحیح کردار اہل بیت کے ایک عالم اور ابتدائی علوی شیعی رہنما کی یاد محفوظ رکھنا ہے جس کی زندگی میں علم، عبادت، اعتدال، صلہ رحمی اور مہنگی قیمت والی حق گواہی جمع تھیں۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
آپ کی سیاسی اہمیت اس اخلاقی پروگرام میں ہے جو آپ کی بیعت سے منسوب ہے: کتاب اللہ اور سنت کی پیروی، ظلم کے مقابل قیام، کمزوروں کی حفاظت، بیت المال کی منصفانہ تقسیم، چھینے گئے حقوق کی واپسی اور اہل بیت کی نصرت۔ اس پروگرام نے حکمرانی کو خاندانی ملکیت کے بجائے دینی و اخلاقی جواب دہی کا منصب قرار دیا۔
ابتدائی اسلامی قیادت کے بارے میں آپ کا موقف بھی آپ کی میراث کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ طبری کی محفوظ کردہ روایت میں آپ نے خاندان نبوت کو اقتدار کا زیادہ حق دار قرار دیا، مگر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو کافر نہیں کہا اور بیان کیا کہ انہوں نے عدل، کتاب اور سنت کے مطابق حکومت کی۔ ایک گروہ کے الگ ہوجانے کے باوجود اپنے بیان کردہ موقف پر قائم رہنا تعداد پر اصول کی روشن مثال بنا۔ اس واقعے کی بعد کی مناظرانہ توضیحات کو فرقہ وارانہ ناموں کی غیر متنازع اصل نہیں سمجھنا چاہیے۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بھیجی ہوئی مدد ظاہر کرتی ہے کہ بعض بڑے فقہاء نے امام زید علیہ السلام کی تحریک کو ظالم اقتدار کے خلاف اخلاقی جدوجہد سمجھا۔ ساتھ ہی جدید محتاط تحقیق عقیدت کو مبالغے سے بچاتی ہے: ملاقات، احترام اور مالی اعانت کے شواہد موجود ہیں، مگر طویل باقاعدہ استاد شاگرد تعلق ابتدائی مواد سے مضبوط طور پر ثابت نہیں۔
آپ کی شہادت اور جسد مبارک کے ساتھ ہونے والا سلوک اموی جبر کے دردناک ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ ابتدائی روایات مہلک تیر، خفیہ تدفین، جسد نکالنے، سر جدا کرنے اور کناسہ میں جسم آویزاں کرنے کا ذکر کرتی ہیں؛ امام ذہبی اور امام مزی بعد میں جلائے جانے کی روایت بھی نقل کرتے ہیں، جبکہ مدت میں اختلاف ہے۔ اس کارروائی کا مقصد آپ کی یاد کو پامال کرنا اور حامیوں کو خوف زدہ کرنا تھا۔ اس کے برعکس قربانی نے علوی یادداشت کو گہرا کیا، حضرت یحییٰ بن زید رحمۃ اللہ علیہ کی جدوجہد کو متاثر کیا اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے اسلامی مباحث میں مستقل مقام پایا۔
الکفل کا مقام اسی وقت زیادہ تاریخی قدر رکھتا ہے جب اس کی درجہ بندی درست ہو۔ ایک جدید مقامی رپورٹ بڑے گنبد، دو میناروں، آراستہ اندرونی حصے اور مقررہ متولی کے حامل فعال اور تعمیر نو شدہ مزار کو دستاویزی شکل دیتی ہے، مگر استعمال شدہ کلاسیکی مآخذ اسے امام زید علیہ السلام کی جسمانی قبر ثابت نہیں کرتے۔ اسے ثانوی منسوب یادگاری مزار کہنا تحقیق اور عقیدت دونوں کی حفاظت کرتا ہے: زائر آپ کے علم، شجاعت، اعتدال، ابتدائی زیدی شیعی تاریخی کردار اور شہادت کا احترام کرسکتا ہے، بغیر اس کے کہ بعد کی مقامی نسبت کو غیر ثابت تدفین میں بدل دیا جائے۔
خاندانی روابط
ماخذ
Tarikh al-Rusul wa al-Muluk | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Vol. 7, pp. 180-187, events of 122 AH | https://lib.eshia.ir/40077/7/180 | Kufan negotiations, position concerning Abu Bakr and Umar, collapse of support, battle, fatal wound, secret burial, exhumation and public displayMaqatil al-Talibiyyin | Abu al-Faraj al-Isfahani | pp. 137-141, Zayd ibn Ali entry | https://shamela.ws/book/12404/137 | Abu Hanifa's inquiry, material assistance and early Alid movement reports
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 5, pp. 390-391, Zayd ibn Ali entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/887/%D8%B2%D9%8A%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D9%84%D9%8A | Lineage, umm walad mother, teachers and transmitters, praise attributed to Jafar al-Sadiq, martyrdom date and public display
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Vol. 10, pp. 96-99, biographical entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/2267/%D8%B2%D9%8A%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D9%84%D9%8A-%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%AD%D8%B3%D9%8A%D9%86-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D9%84%D9%8A-%D8%A8%D9%86-%D8%A3%D8%A8%D9%8A-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8 | Lineage, scholarly network, transmitters and biographical reports
Al-Kamil fi al-Tarikh | Izz al-Din Ibn al-Athir | Vol. 4, events of 122 AH; pagination varies by edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/126/893/%D8%AB%D9%85-%D8%AF%D8%AE%D9%84%D8%AA-%D8%B3%D9%86%D8%A9-%D8%A7%D8%AB%D9%86%D8%AA%D9%8A%D9%86-%D9%88%D8%B9%D8%B4%D8%B1%D9%8A%D9%86-%D9%88%D9%85%D8%A7%D8%A6%D8%A9 | Corroborating chronology of the uprising, martyrdom and treatment of the body
al-Shajara al-Mubaraka fi Ansab al-Talibiyya | Fakhr al-Din al-Razi | Vol. 1, p. 127 | https://lib.eshia.ir/10457/1/127/%D8%A7%D9%84%D8%A3%D8%B2%D9%8A%D8%A7%D8%AF | Sons of Zayd, Dhu al-Ibra / Dhu al-Dam'a forms and the title Halif al-Qur'an
Relationship between Abu Hanifa and Zayd ibn Ali: An Assessment in the Context of an Account in al-Majmu al-Fiqhi | Eren Gunduz | Ilahiyat Studies, Vol. 2, No. 2, 2011, pp. 189-213 | https://www.ilahiyatstudies.org/index.php/journal/article/view/42 | Critical assessment of contact, respect and aid without overstating a long formal teacher-student relationship
A Short History of Zaydi Fiqh | Eirik Hovden and Ebrahim Mansoor | Online scholarly article, 15 April 2023 | https://www.leidenarabichumanitiesblog.nl/articles/a-short-history-of-zaydi-fiqh | Development of later Zaydi law and distinction from direct attribution to Zayd
Zaydiyya | Institute of Ismaili Studies | Scholarly reference entry; no fixed pagination | https://www.iis.ac.uk/scholarly-contributions/zaydiyya/ | Historical development of the Zaydiyya and the role of Zayd's revolt and memory
Local report on the shrine attributed to Zayd ibn Ali | Amir Jalil Ibrahim / Sufirfan, relaying Iraqi Network Magazine material | 10 February 2023; no fixed pagination | https://sufirfan.org/%D9%85%D8%B2%D8%A7%D8%B1-%D8%B2%D9%8A%D8%AF-%D8%A8%D9%86-%D8%B9%D9%84%D9%8A-%D8%A7%D9%84%D8%B4%D9%87%D9%8A%D8%AF-%D8%B9-%D9%88-%D8%B3%D9%8A%D8%B1%D8%A9-%D8%B9%D8%B7%D8%B1%D8%A9-%D9%88%D9%83%D8%B1/ | Present Al-Kifl sanctuary, approximately seven kilometres from the Al-Kifl-Kufa junction, recent rebuilding, large dome, two minarets, decorated interiors and named custodian; modern devotional geography only
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔