میمونہ بنت حارثؓ

PER-000172 اہلِ بیت مصدقہ منسوب مقام مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
امّ المؤمنین حضرت میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ اور آپ کی آخری نکاح کردہ زوجہ تھیں۔ وہ حارث بن حزن اور ہند بنت عوف کی بیٹی تھیں اور ان کے خاندانی حلقے میں امّ الفضل، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ ان کا نکاح ۷ھ میں عمرۃ القضاء کے سفر کے دوران ہوا اور ازدواجی زندگی مکہ کے قریب سرف میں شروع ہوئی۔ ان کی روایات نے عبادت اور گھریلو سنت کی اہم تفصیلات محفوظ کیں، جبکہ مضبوط ترین تدفینی شہادت انہیں سرف ہی میں مدفون بتاتی ہے؛ البتہ وفات کے درست سال میں اختلاف ہے۔
ولادت

مکہ میں بعثتِ نبوی سے پہلے پیدائش ہوئی۔ ابتدائی مصادر میں پیدائش کا کوئی قطعی سال محفوظ نہیں۔

وفات

زیادہ معروف قول کے مطابق مکہ کے قریب سرف میں ۵۱ھ، تقریباً ۶۷۱ء، وفات ہوئی۔ ۶۱ھ اور دوسرے سال بھی منقول ہیں، اس لیے درست سال میں احتیاط ضروری ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

مکہ کے قریب سرف میں دفن ہوئیں۔ صحیح بخاری میں سرف کے جنازے کی براہِ راست شہادت ہے، جبکہ بعد کی سوانح اسی مقام کو ازدواجی زندگی کے آغاز کی جگہ بھی بتاتی ہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا میمونہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ تھیں اور بنو ہلال بن عامر سے تعلق رکھتی تھیں۔ ابن عبدالبر اور دوسرے سوانح نگار ان کی والدہ کا نام ہند بنت عوف لکھتے ہیں، اگرچہ والدہ کی دور کی قبائلی نسبت میں معمولی اختلاف نقل ہوا ہے۔ ان کی سگی بہن لبابہ کبریٰ، معروف بہ امّ الفضل، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں، اس لیے حضرت میمونہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ تھیں۔ ایک دوسری بہن کے ذریعے وہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بھی خالہ تھیں۔

قدیم سوانح کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ان کے دو نکاح ہوئے: پہلے مسعود بن عمرو ثقفی سے، پھر ابو رہم بن عبدالعزیٰ سے، جن کی وفات کے بعد وہ بیوہ ہوئیں۔ امام ذہبی نے یہ روایت بھی محفوظ کی ہے کہ ان کا سابق نام برّہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ نام رکھا۔ چونکہ سابق نام کی خبر بعد کے سوانحی مواد سے آتی ہے اور تمام ابتدائی روایات میں یکساں نہیں، اس لیے اسے منقول سابق نام کے طور پر بیان کرنا زیادہ محتاط ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۷ھ میں عمرۃ القضاء سے متعلق سفر کے دوران ان سے نکاح کیا اور سرف میں ازدواجی زندگی شروع ہوئی۔ مصادر میں یہ مشہور اختلاف محفوظ ہے کہ عقد کے وقت آپ احرام میں تھے یا نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت احرام کا ذکر کرتی ہے، جبکہ حضرت میمونہ کے قریبی راوی، ابو رافع اور یزید بن اصم، دونوں کو احرام سے باہر بتاتے ہیں۔ امام ذہبی نے اختلاف کو ختم کیے بغیر دونوں روایتیں نقل کیں۔ یقینی تاریخی مرکز ۷ھ کا نکاح اور سرف سے تعلق ہے۔

زوجۂ رسول کی حیثیت سے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قرآن کے عطا کردہ اجتماعی لقب امّ المؤمنین کی حامل تھیں۔ ان کا گھر مشاہدے اور تعلیم کا مقام بھی بنا۔ ان کے بھانجے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک رات ان کے گھر قیام کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تہجد، وضو اور تلاوت کو غور سے دیکھا۔ صحیح مسلم کی یہ تفصیلی روایت بتاتی ہے کہ خاندانی مہمان نوازی، براہِ راست مشاہدے اور بعد کی تعلیم کے ذریعے علم کیسے منتقل ہوا۔

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے خود بھی ایسے عملی احکام روایت کیے جو اسلامی فقہ میں اہم بنے۔ صحیح بخاری میں غسلِ جنابت کے بارے میں ان کی روایت غسل اور وضو کی ترتیب محفوظ کرتی ہے۔ ایسی روایات اس لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں کہ وہ نجی عبادت کے وہ پہلو بیان کرتی ہیں جنہیں عام مجمع نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ان سے روایت کرنے والوں میں حضرت ابن عباس، یزید بن اصم، کریب، سلیمان بن یسار اور عطاء بن یسار رحمہم اللہ شامل ہیں۔

ایک دوسری صحیح روایت ان کی سخاوت اور صلۂ رحمی دونوں کو روشن کرتی ہے۔ انہوں نے ایک باندی آزاد کی اور بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ نے عمل کو قبول فرمایا، لیکن تعلیم دی کہ اگر وہ اسے اپنے ماموؤں میں سے کسی کو دے دیتیں تو صلۂ رحمی کی وجہ سے زیادہ اجر ہوتا۔ امام ذہبی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ قول بھی نقل کیا کہ حضرت میمونہ ازواج میں اللہ سے بہت ڈرنے والی اور رشتہ داری جوڑنے والی تھیں۔

وصالِ نبوی کے بعد حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا مدینہ و مکہ کے علمی حلقے میں محترم راویہ رہیں۔ مضبوط مواد انہیں بعد کے سیاسی نزاعات کی قائد کے طور پر پیش نہیں کرتا؛ ان کا واضح عوامی اثر حدیث، گھریلو احکام، عبادت اور رشتہ داروں و تابعین کی تعلیم میں ہے۔ اس لیے ان کی سوانح کو انہی محفوظ روایات اور ان کے شاگردوں کے ذریعے سمجھنا چاہیے، نہ کہ غیر ثابت ڈرامائی قصوں سے۔

مدفن کے مقام کے بارے میں شہادت غیر معمولی طور پر مضبوط ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سرف میں جنازے میں شرکت کرنا اور نعش کو نرمی سے اٹھانے کی ہدایت دینا محفوظ ہے، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں۔ امام ذہبی نے یہ روایت بھی نقل کی کہ انہیں اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں ازدواجی زندگی شروع ہوئی تھی۔ زیادہ معروف اور ترجیحی سال ۵۱ھ ہے، جبکہ ۶۱ھ کی متاخر روایت اور دوسرے اقوال بھی ملتے ہیں؛ اس لیے سال میں احتیاط اور سرف میں تدفین کو قوی ماننا مناسب ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی مستقل علمی اہمیت گھریلو اور عبادتی علم کی روایت میں ہے۔ طہارت کی ان کی روایات اور ان کے گھر میں حضرت ابن عباس کے مشاہدۂ تہجد نے بعد کی عبادت اور فقہی بحث کے لیے بنیادی شہادت فراہم کی۔ ان کا گھر صرف نجی رہائش نہیں بلکہ سنتِ نبوی کے علمی انتقال کا ایک مقام تھا۔

ان کے خاندانی رشتوں نے کئی بڑے ابتدائی مسلم گھرانوں کو بھی باہم جوڑا۔ امّ الفضل، حضرت ابن عباس اور دوسرے اقارب کے ذریعے وہ بیتِ نبوی، عباسی خاندانی سلسلے اور اہم صحابی حلقوں کے درمیان ایک رابطہ تھیں۔ باندی آزاد کرنے کی روایت اور حضرت عائشہ سے منقول تعریف سخاوت، تقویٰ اور صلۂ رحمی پر قائم اخلاقی میراث محفوظ کرتی ہے۔

ان کی سوانح ماخذ شناس تاریخ کی ضرورت بھی دکھاتی ہے۔ نکاح کے وقت احرام اور وفات کے درست سال میں ابتدائی روایات ہی سے اختلاف ہے، جبکہ سرف میں جنازہ زیادہ براہِ راست شہادت رکھتا ہے۔ ثبوت کی ان سطحوں کو الگ رکھنا احترام اور تاریخی صحت دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

The Qur'an, Surah al-Ahzab 33:6 | Qur'an | Verse 33:6 | https://quran.com/33/6 | The Prophet's wives as Mothers of the Believers
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 2, pp. 239-246 in the displayed edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/159/ | Lineage, marriage at Sarif, students, Aisha's praise, death-date discussion and burial
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | Vol. 4, p. 1915 in the displayed edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/3537/ | Full paternal lineage and mother Hind bint Awf
Subul al-Huda wa al-Rashad | Muhammad ibn Yusuf al-Salihi al-Shami | Biographical section; pagination varies by edition | https://www.islamweb.net/ar/library/content/420/3293/ | Mother, sisters and wider family relationships
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 763b | https://sunnah.com/muslim:763b | Ibn Abbas observing the Prophet's night prayer in Maymuna's house
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Ismail al-Bukhari | Hadith 249 | https://sunnah.com/bukhari:249 | Maymuna's detailed report of the ritual bath
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Ismail al-Bukhari | Hadith 2592 | https://sunnah.com/bukhari:2592 | Manumission of a slave-girl and the teaching about maintaining maternal kinship
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Ismail al-Bukhari | Hadith 5067 | https://sunnah.com/bukhari:5067 | Funeral at Sarif and Ibn Abbas's instruction to handle the bier gently
Usd al-Ghaba fi Ma'rifat al-Sahaba | Ibn al-Athir | Biographical entry; pagination varies by edition | https://shamela.ws/book/23700/3346 | Marriage in 7 AH, Sarif and variant death reports
Egyptian Ministry of Awqaf biographical dossier | Ministry of Awqaf | Institutional article with cited classical sources | https://awkafonline.gov.eg/content-sections/131/10643/ | Source comparison on name, family, marriage and burial traditions

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔