ابتدائی سوانح نگار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا قطعی سالِ ولادت ثابت نہیں کرتے۔ ان کی قبل از اسلام جنگی سرگرمی، احد میں قیادت اور بعد کی طویل عسکری زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہجرت سے پہلے سنِ پختگی کو پہنچ چکے تھے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
زیادہ تر بڑے سوانح نگار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات 21 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں حمص میں رکھتے ہیں اور عمر تقریباً ساٹھ برس بتاتے ہیں؛ ایک اقلیتی روایت مدینہ کا ذکر کرتی ہے۔ اس لیے حمص کو غالب تاریخی روایت کے طور پر رکھا جاتا ہے، نہ کہ واحد بلا اختلاف قول کے طور پر۔
کلاسیکی سوانح، جغرافیائی اور سفری روایتوں میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی تدفین کے لیے حمص غالب مقام ہے، اور قرونِ وسطیٰ سے وہاں ان سے منسوب قبر و مزار کا ذکر ملتا ہے۔ موجودہ مسجدِ خالد بن ولید اسی طویل تاریخی نسبت کی وارث ہے، جبکہ بیبرس کے عہد 666 ہجری کی لکڑی کی یادگاری تختی اور بعد کی معماری دستاویزات اس نسبت کے تسلسل کی مادی شہادت فراہم کرتی ہیں۔ تاہم موجودہ ضریح کے نیچے عین جسمانی باقیات کی آزاد آثارِ قدیمہ سے شناخت ثابت نہیں، اس لیے مقام کو منسوب تاریخی مزار کے طور پر رکھا جاتا ہے، قطعی آثارِ قدیمہ سے ثابت قبر کے طور پر نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت خالد رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے خلاف قریشی لشکروں میں شریک رہے۔ ابن اسحاق کی روایات، جنہیں ابن ہشام نے سیرت میں نقل کیا، انہیں غزوۂ احد میں مکی سواروں کے ساتھ رکھتی ہیں۔ جب مسلمان تیر انداز اپنی مقررہ جگہ چھوڑ گئے تو خالد نے عقب کی کمزوری پہچان کر گھڑ سواروں کو گھما کر حملہ کیا، جس سے جنگ کا رخ بدل گیا۔ یہ واقعہ ان کی تیز نگاہ، حرکت، زمین کے استعمال اور موقع شناسی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اسے اسلامی کامیابی کی طرح بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس وقت ان کی مہارت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین کے کام آ رہی تھی۔ حدیبیہ کے زمانے میں بھی وہ قریش کے سواروں کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ بعد کی زندگی اسی لیے زیادہ معنی خیز ہوئی کہ ایک قابل دشمن نے حق کو قبول کیا، اپنی سابق مزاحمت کو چھوڑا اور اسی ضبط و قوت کو نئی دینی اور سیاسی وفاداری کے تابع کر دیا۔
قدیم سوانحی روایت حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے اسلام کو ہجرت کے آٹھویں سال کے ماہ صفر میں، فتح مکہ سے کچھ پہلے رکھتی ہے۔ روایات ان کے فیصلے کو حدیبیہ کے بعد پیدا ہونے والے غور، اور ان کے مسلمان بھائی ولید بن ولید کے خط سے جوڑتی ہیں، جس میں بتایا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد کے بارے میں پوچھا اور ان کی عقل و صلاحیت کو پہچانا۔ حضرت خالد، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہم مدینہ پہنچے اور اسلام قبول کیا۔ استقبال کے مکالمے کے الفاظ مختلف سندوں میں الگ ہیں، اس لیے ہر جملے کو قطعی نقل نہیں بنانا چاہیے، لیکن بنیادی تاریخ معروف ہے۔ ان کی ہجرت اولین مہاجرین کے مقابلے میں بہت دیر سے ہوئی، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باقی مدت غیر معمولی طور پر فعال رہی۔ چند ہی مہینوں میں انہیں ایسے مواقع ملے جہاں ان کی فوری تدبیر، اطاعت اور جنگی فیصلہ پوری جماعت کی سلامتی پر اثر انداز ہوا۔
آٹھ ہجری کے جمادی الاولیٰ میں جنگِ موتہ کے دوران مقررہ امرا حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم یکے بعد دیگرے شہید ہوئے۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان محفوظ ہے کہ پھر جھنڈا اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے لیا اور اللہ نے اس کے ہاتھ پر کشادگی عطا فرمائی۔ حضرت خالد ابتدا سے نامزد امیر نہیں تھے؛ انہوں نے ہنگامی حالت میں قیادت سنبھالی، سخت دباؤ میں آئے لشکر کو ازسرنو منظم کیا اور ایک بہت بڑے مقابل لشکر کے سامنے اسے مکمل تباہی سے بچا کر نکالا۔ صحیح بخاری ہی میں ان کا اپنا بیان ہے کہ اس دن ان کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں اور آخر میں ایک یمنی تلوار باقی رہی۔ ’’اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار‘‘ ان کے لقب سیف اللہ کی مضبوط اور صحیح بنیاد ہے؛ بعد کی مبالغہ آمیز حکایات کو اصل حدیث کے الفاظ پر غالب نہیں آنا چاہیے۔
رمضان آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے موقع پر حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے شہر میں داخل ہونے والے ایک لشکری حصے کی قیادت کی۔ عمومی طور پر خونریزی محدود رہی، لیکن ان کے راستے میں قریش کے ایک گروہ نے مزاحمت کی تو مختصر لڑائی ہوئی۔ سیرت کے ماخذ فتح کے بعد انہیں عزیٰ کے بت کدے کے خاتمے کے لیے بھیجا جانا بھی بیان کرتے ہیں۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو جذیمہ کے پاس دعوت اسلام کے لیے روانہ کیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ان لوگوں کے مبہم الفاظ کو غلط سمجھا گیا اور حضرت خالد نے کچھ افراد کو قتل اور قید کیا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو آپ نے اس عمل سے علانیہ براءت ظاہر کی۔ تاریخی روایات کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خون بہا اور نقصانات کی ادائیگی کے لیے بھیجا گیا۔ ذمہ دار سوانح کو خالد کی عظیم خدمت اور اس سنگین، نبوی طور پر درست کی گئی خطا دونوں محفوظ رکھنی چاہییں، کیونکہ عسکری کامیابی کسی کو عدل سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔
اس کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ حنین اور طائف میں شریک ہوئے، اور روایات میں آگے بڑھتے ہوئے ان کے زخمی ہونے کا ذکر ہے۔ انہوں نے ان مہمات میں بھی خدمت کی جن سے مدینہ کی ریاست کا اثر عرب کے دور علاقوں تک پہنچا، جن میں دومۃ الجندل کی مہم شامل ہے جہاں اکیدر گرفتار ہوا اور معاہدے کے دائرے میں آیا۔ صحیح بخاری یمن کی ایک مہم بھی بیان کرتی ہے جس میں پہلے حضرت خالد لشکر کے ساتھ گئے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھیجے گئے اور خالد کے ساتھیوں کو واپسی یا علی کے ساتھ رہنے کا اختیار ملا۔ یہ ذمہ داریاں دکھاتی ہیں کہ نبوی دور میں ان کی خدمت کوئی مستقل، خود مختار سپہ سالاری نہیں تھی؛ وہ بدلتے احکام، دوسرے جلیل القدر صحابہ کے ساتھ اشتراک اور ضرورت کے وقت براہ راست اصلاح کے تابع تھے۔ صحیح بخاری کے باب زکوٰۃ میں یہ بھی محفوظ ہے کہ انہوں نے اپنی زرہیں اور جنگی سامان اللہ کی راہ کے لیے وقف کر رکھا تھا۔
حضرت خالد رضی اللہ عنہ سے احادیث کی تعداد بہت بڑی نہیں، مگر ان کی روایات موتہ، جنگی عمل، خوراک، حفاظت اور اذکار جیسے موضوعات سے متعلق ہیں۔ ان کی تاریخی شناخت زیادہ تر کثرت روایت کے بجائے عملی مشاہدے اور خدمت سے قائم ہوتی ہے۔ صحیح روایات انہیں تین شہید امرا کے بعد جھنڈا اٹھاتے، لڑائی میں تلواریں ٹوٹنے تک ثابت قدم رہتے، زرہیں وقف کرتے اور مسلسل مہمات میں سفر کرتے دکھاتی ہیں۔ سوانح نگار ان کا یہ مزاج بھی نقل کرتے ہیں کہ سخت سرد رات میں سرحدی مہم انہیں عام آسائش سے زیادہ محبوب تھی۔ بعد کے خطبات، کرامات اور رنگین جنگی قصوں کے الفاظ و اسناد یکساں مضبوط نہیں؛ اس لیے ان کے کردار کو محفوظ واقعات سے سمجھنا بہتر ہے: دباؤ میں جرأت، فوری فیصلہ، جسمانی برداشت، اجتماعی دفاع کے لیے مالی وابستگی، اور اعلیٰ کمان سے ہٹائے جانے کے بعد بھی کسی مخالف سیاسی گروہ کے بغیر خدمت جاری رکھنا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد گیارہ ہجری میں خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارتداد اور جھوٹی نبوت کی تحریکوں کے مقابل حضرت خالد پر بہت اعتماد کیا۔ انہوں نے بزاخہ میں طلیحہ سے وابستہ قوتوں کا مقابلہ کیا اور وسطی عرب میں مختلف مقامات پر ریاستی نظم اور بیعت بحال کی۔ مالک بن نویرہ سے متعلق مہم قدیم ترین تاریخی روایت ہی میں اختلافی بن گئی: مالک کے مذہبی و سیاسی موقف، اس کی موت کے حالات اور بعد کے نکاح کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خالد پر سخت اعتراض کیا، جبکہ حضرت ابو بکر نے انہیں کمان میں باقی رکھا اور جسے وہ اجتہادی خطا سمجھتے تھے اس کی اصلاح کی ذمہ داری خود قبول کی۔ اس واقعے کو نہ حذف کرنا چاہیے نہ بعد کی فرقہ وارانہ مناظرانہ کہانی میں محدود کرنا؛ یہ فتنۂ ارتداد کے قانونی اور سیاسی دباؤ اور اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ خالد کے فیصلے خلیفہ کی جانچ سے بالاتر نہیں تھے۔
مسیلمہ اور بنو حنیفہ کے خلاف جنگ یمامہ ارتداد کی جنگوں کی سب سے سخت لڑائیوں میں تھی۔ ابتدائی مقابلے میں مسلمانوں کو بھاری نقصان ہوا اور قرآن کے بہت سے قاری و حافظ شہید ہوئے۔ حضرت خالد نے لشکر کو قبائلی اور سابقہ جماعتی گروہوں کے مطابق دوبارہ ترتیب دیا تاکہ ہر حصے کی ثابت قدمی اور ذمہ داری واضح ہو، پھر لڑائی کو اس محصور باغ تک پہنچایا جہاں مسیلمہ کی مزاحمت ختم ہوئی۔ اس فتح نے جزیرۂ عرب کی سب سے طاقتور متوازی ریاست کو توڑا اور خلافت کی سیاسی وحدت محفوظ کی۔ قرآن کے حاملین کی بڑی تعداد میں شہادت نے حضرت عمر کی تجویز اور حضرت ابو بکر کے حکم کے تحت حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ذریعے تحریری قرآنی مواد جمع کرنے کی فوری ضرورت پیدا کی۔ یہ علمی کام خالد نے نہیں کیا، لیکن ان کی قیادت والی جنگ کی قیمت نے وہ تاریخی حالات پیدا کیے جن میں یہ کام ناگزیر محسوس ہوا۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پھر حضرت خالد کو عراق کی طرف بھیجا۔ طبری اور بلاذری کی فتحی روایات زیریں فرات، حیرہ، انبار اور عین التمر سے متعلق تیز رفتار مارچوں، جنگوں اور معاہدوں کا سلسلہ محفوظ کرتی ہیں، اگرچہ ترتیب، تعداد اور بعض ڈرامائی واقعات میں اختلاف ہے۔ حضرت خالد نے گھڑ سواروں کی رفتار، قلعہ بند مراکز پر دباؤ اور ایسے معاہدوں کو جمع کیا جن میں سیاسی اطاعت اور جزیے کے بدلے جان و مال کی حفاظت کی جاتی تھی۔ یہ ماخذ مختلف علاقائی اور سلطنتی زاویوں سے لکھے گئے، اس لیے بڑے اعداد اور ہر انفرادی مبارزے کو احتیاط سے پڑھنا ضروری ہے۔ اس کے باوجود واضح ہے کہ ان کی عراقی قیادت نے مشرقی محاذ کو مستقل شکل دی، اہم شہروں کو معاہداتی نظام میں داخل کیا اور نئی ریاست کو عرب سے باہر آباد آبادیوں کے انتظام کا تجربہ دیا۔
جب شام میں مسلم لشکروں کو کمک کی ضرورت ہوئی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے خالد کو عراق سے شام منتقل ہونے کا حکم دیا۔ مشہور صحرائی عبور کئی تاریخی شکلوں میں بیان ہوا ہے؛ سب اسے تیز رفتار اور دشوار حرکت قرار دیتے ہیں، مگر راستے اور پانی کے انتظام کی تفصیلات مختلف ہیں۔ شام میں حضرت خالد نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح، یزید بن ابی سفیان، شرحبیل بن حسنہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم کے ساتھ کام کیا۔ ماخذ انہیں اجنادین، دمشق کے گرد کارروائیوں اور یرموک کی عظیم لڑائی سے وابستہ کرتے ہیں۔ یرموک میں مجموعی کمان کی ترتیب مختلف روایات میں الگ ہے، لیکن گھڑ سوار ذخیرے اور فوری جوابی دستوں کی ان کی تنظیم مسلم تاریخی حافظے کا مرکزی حصہ بنی۔ فتح کسی ایک فرد کی نہیں تھی؛ اس میں متعدد لشکر، منظم صفیں، مختلف ذمہ داریوں والے امرا اور ایک محاذ سے دوسرے محاذ کو مدد دینے والی خلافت شریک تھی۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد کو اعلیٰ ترین کمان سے ہٹا کر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی بالادستی قائم کی۔ ماخذ کئی اسباب بیان کرتے ہیں: لوگوں کے دل میں فتح کو خالد کی ذات سے جوڑ دینے کا اندیشہ، بعض عطیات اور اخراجات پر سوال، اور حضرت عمر کی زیادہ براہ راست انتظامی نگرانی۔ اس تبدیلی سے خالد کی عسکری خدمت ختم نہیں ہوئی۔ وہ ابو عبیدہ کے ماتحت رہے، شمالی شام کی مہمات میں شریک ہوئے اور منصب کی منتقلی کو بغاوت کا سبب نہیں بنایا۔ ان کی شخصیت کے جائزے میں یہ واقعہ بہت اہم ہے۔ جس سپہ سالار کا نام فتح کے ساتھ تقریباً مترادف ہو چکا تھا، وہ اعلیٰ عہدہ کھونے کے بعد بھی ریاست کے اندر رہا۔ ان کی اطاعت نے اجتماعی اقتدار محفوظ کیا اور ثابت کیا کہ ان کی میراث صرف جنگی چالوں تک محدود نہیں، بلکہ ایسے ادارہ جاتی فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کرنا بھی اس کا حصہ ہے جو انہیں ذاتی طور پر ناگوار ہو سکتا تھا۔
نسبی کتابیں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی متعدد شادیوں اور اولاد کا ذکر کرتی ہیں، مگر تعداد اور ماؤں کے تعین میں اختلاف ہے۔ ان کی کنیت ابو سلیمان بیٹے سلیمان سے منسوب ہے؛ عبد الرحمن اور مہاجر بھی ان کے معروف بیٹوں میں شامل ہیں، جبکہ بعض انساب میں مزید نام آتے ہیں۔ عبد الرحمن بعد میں شام کے نمایاں سپہ سالار ہوئے اور مہاجر خانہ جنگی کے دور میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وابستہ رہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالد کا گھرانہ بعد کی سیاست میں ایک ہی جماعت نہیں بنا۔ ازواج کے ضمن میں کبشہ بنت ہوذہ اور اسماء بنت انس کے نام ملتے ہیں، جبکہ مالک بن نویرہ سے متعلق نکاح اختلافی ارتداد روایت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ محتاط بیان ثابت شدہ خاندانی ڈھانچا محفوظ رکھتا ہے، مگر مکمل گھریلو زمانی ترتیب یا ہر متاخر نسبی اختلاف کو یقینی حقیقت نہیں بناتا۔
اکثر بڑے سوانح نگار حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی وفات اکیس ہجری میں حضرت عمر کے دور میں حمص میں، تقریباً ساٹھ برس کی عمر میں رکھتے ہیں؛ ایک اقلیتی روایت مدینہ کا نام لیتی ہے۔ آخری بیماری سے منسوب مشہور قول میں ہے کہ ان کے جسم کا شاید ہی کوئی حصہ تلوار، نیزے یا تیر کے نشان سے خالی تھا، پھر بھی وہ بستر پر وفات پا رہے تھے۔ اس کی سند اور لفظ صحیح نبوی حدیث کے درجے کے نہیں، مگر یہ قدیم سوانحی یادداشت ان کی طویل جنگی زندگی سے ہم آہنگ ہے۔ ذہبی اور دوسرے جامعین حمص کی روایت کو زیادہ مضبوط سمجھتے اور وہاں ان کے مشہور مشہد کا ذکر کرتے ہیں۔ قرون وسطیٰ کے جغرافیہ نگار اور سیاح بھی حمص میں ان سے منسوب قبر جانتے تھے۔ موجودہ جامع خالد بن ولید کی عمارت تدفین سے بہت بعد کی تاریخی تہوں پر قائم ہے: بیبرس کے عہد کی لکڑی کی تختی مملوکی نسبت کی شہادت دیتی ہے، جبکہ نمایاں موجودہ مسجد زیادہ تر عثمانی اور بیسویں صدی کے آغاز کی ہے۔ مسجد اور منسوب ضریح کو 2013 میں شدید جنگی نقصان پہنچا۔ یہ مقام حمص کی گہری اور قدیم عوامی نسبت ثابت کرتا ہے، لیکن آثارِ قدیمہ کی قطعی شناخت کے بغیر اندرونی یادگار کو تاریخی طور پر منسوب مدفن کہنا زیادہ درست ہے، آزادانہ طور پر ثابت شدہ جسمانی قبر نہیں۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
ان کی مہمات نے ابتدائی مسلم جماعت کو مدینہ مرکز ریاست سے ایسی حکومت میں بدلنے میں مدد دی جو عرب، عراق اور شام میں مربوط کارروائی کر سکتی تھی۔ حرکت، گھڑ سوار ذخیرہ، تیز کمک اور بدلتی زمین کے مطابق تدبیر ماخذ میں بار بار آتی ہے، اگرچہ بعد کی کتابوں نے اعداد بڑھائے اور اجتماعی فتوحات کو ایک فرد کا معجزہ بنا دیا۔ تنقیدی مطالعے کے بعد بھی بڑی کامیابی باقی رہتی ہے: خالد نے سخت وقت اور رسد کے دباؤ میں لشکر منتقل کیے، میدان کی بے ترتیبی سے نظم پیدا کیا اور متعدد امرا والی فوج میں کام کیا۔ ان کی عسکری میراث اس وقت زیادہ مضبوط دکھائی دیتی ہے جب اسے افسانوی ناقابل شکست شخصیت کے بجائے منظم قیادت کے طور پر پڑھا جائے۔
جنگِ ارتداد نے ان کی خدمت کو عسکری کے ساتھ دستوری اہمیت دی۔ بزاخہ اور یمامہ کی فتوحات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دعوائے وحدت کو محفوظ کرنے میں مدد دی۔ یمامہ کے جانی نقصان نے قرآن کی تحریری جمع کے فیصلے میں بھی پس منظر فراہم کیا، یوں میدان جنگ کا بحران اسلامی علمی تاریخ کے ایک مرکزی تحفظی عمل سے جڑ گیا۔ ساتھ ہی مالک بن نویرہ کا اختلافی واقعہ دکھاتا ہے کہ ہنگامی حالت قانونی جانچ ختم نہیں کرتی۔ حضرت ابو بکر کا خالد کو باقی رکھنا اور حضرت عمر کی تنقید جائز اقتدار کے اندر اختلاف کا ابتدائی ریکارڈ ہے، نہ کہ غیر مشروط ہیرو پرستی کی سادہ کہانی۔
عراق اور شام میں حضرت خالد کی اہمیت مستقل محاذوں، معاہداتی نظام اور مشترک کمان کی تشکیل سے وابستہ ہے۔ وہ اس زمانے میں نمایاں تھے جب عرب لشکر قلعہ بند شہروں، سلطنتی فوجوں اور پرانی مذہبی و مالی تنظیم رکھنے والی آبادیوں سے ملے۔ ماخذ جنگ، مذاکرات اور خراجی معاہدوں کو ساتھ بیان کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فتح انتظامی عمل بھی تھی۔ حضرت عمر کی برطرفی کے بعد حضرت ابو عبیدہ کے ماتحت خدمت جاری رکھنے نے یہ اصول مضبوط کیا کہ فتح جماعت اور اس کے اداروں کی ہے، کسی سپہ سالار کے ذاتی حلقے کی نہیں۔
نبوی دور کا ان کا ریکارڈ تاریخی تعلیم کے لیے لازمی اخلاقی توازن بھی فراہم کرتا ہے۔ صحیح بخاری موتہ سے متعلق مدح بھی محفوظ کرتی ہے اور بنو جذیمہ کے قتل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی براءت بھی۔ دونوں روایات کو ساتھ رکھنا دو تحریفوں سے بچاتا ہے: ایک سنگین خطا کی وجہ سے ان کی تمام خدمت مٹا دینا، یا شہرت کے باعث نبوی اصلاح کو چھپا دینا۔ حضرت خالد کی زندگی اس لیے شجاعت، تفویض شدہ طاقت، غلط سمجھے گئے حکم کی ذمہ داری اور عسکری کارروائی سے متاثر افراد کو معاوضہ دینے میں حکمران کی ذمہ داری کے مطالعے کے لیے قیمتی ہے۔
حمص کی نسبت نے ان کی یاد کو جغرافیائی اور ثقافتی تسلسل دیا۔ قدیم سوانح نگار، جغرافیہ نویس اور سیاح حمص کو وفات و تدفین کی غالب روایت بناتے ہیں، جبکہ مسجد اور ضریح قرون وسطیٰ اور عثمانی سرپرستی میں ترقی پا کر شہر کی معروف اسلامی علامت بنے۔ جنگی نقصان نے اسے شام کے جدید ثقافتی خسارے کی تاریخ کا حصہ بھی بنا دیا۔ تاریخی دیانت دو باتیں بیک وقت کہتی ہے: حمص میں ایک قدیم اور طاقتور تدفینی نسبت ہے، اور موجودہ یادگار اپنے نیچے موجود عین جسمانی باقیات کا آثارِ قدیمہ سے قطعی ثبوت نہیں۔ یہی فرق مقام کو مذہبی یاد، شہری ورثہ اور تعلیم گاہ کے طور پر احترام دیتا ہے اور شہادت سے زیادہ دعویٰ بھی نہیں کرتا۔
خاندانی روابط
ماخذ
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadiths 1468, 3757, 4265-4266, 4339, 4349 and 7189Al-Sirah al-Nabawiyyah | Abd al-Malik Ibn Hisham, transmitting Muhammad ibn Ishaq | Khalid's pre-Islamic role, conversion and Propheti
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Biographical, family, death and burial reports on
Tarikh al-Rusul wa al-Muluk | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Events of 11-15 AH concerning the Ridda, Iraq and
Futuh al-Buldan | Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri | Conquest sections concerning Iraq, Syria and treat
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 1, biography of Khalid ibn al-Walid; paginati
Al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ahmad ibn Ali Ibn Hajar al-Asqalani | Biographical entry on Khalid ibn al-Walid; paginat
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Yusuf ibn Abd Allah Ibn Abd al-Barr | Biographical entry on Khalid ibn al-Walid; paginat
Usd al-Ghaba fi Ma'rifat al-Sahaba | Izz al-Din Ibn al-Athir | Biographical entry on Khalid ibn al-Walid; paginat
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Vol. 8, entry on Khalid ibn al-Walid; pagination v
Rihlat Ibn Jubayr | Muhammad ibn Ahmad Ibn Jubayr | Homs visit and attributed grave tradition; paginat
Mu'jam al-Buldan | Yaqut al-Hamawi | Entry on Homs and its attributed sites; pagination
Commemorative Wooden Plaque of Sultan Baybars | National Museum of Damascus / Syrian Virtual Museum | Baibars-era wooden plaque dated 666 AH from the ol
Khalid ibn al-Walid Mosque, Homs, Syria | Library of Congress | Historical photograph record of Khalid ibn al-Wali
The Destruction of Cultural Property in the Syrian Conflict | Marina Lostal | International Journal of Cultural Property 23 (201
Additional donor web reference (unpaired) | https://sunnah.com/bukhari:3757
Additional donor web reference (unpaired) | https://virtual-museum-syria.org/damascus/commemorative-wooden-plaque-of-sultan-baybars/
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔