کلاسیکی سوانح نگار حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے تقریباً تیرہ برس بعد، قریب ۵۸۴ء، رکھتے ہیں۔ یہ عیسوی تعیین تقریبی سوانحی اندازہ ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحجہ ۲۳ ہجری کے اواخر میں فجر کی نماز کے دوران زخمی کیا گیا اور وہ ۲۳ اور ۲۴ ہجری کی تقویمی حد کے قریب شہید ہوئے۔ صحیح بخاری حملے، آخری ہدایات، چھ رکنی شوریٰ اور تدفین کی اجازت سے متعلق بنیادی تفصیلات محفوظ کرتی ہے؛ بعض عیسوی تبدیلیوں اور عمر کے اعداد میں اختلاف ہے۔
صحیح بخاری کے مطابق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آخری بیماری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت مانگی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ انہوں نے اپنی محفوظ جگہ انہیں دے دی، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق وفات کے بعد اجازت دوبارہ لی گئی۔ تجدیدِ اجازت کے بعد انہیں حجرۂ شریفہ میں دفن کیا گیا۔ حجرۂ شریفہ مسجد نبوی کے اندر محفوظ اور بند داخلی مقام ہے۔ موجودہ مختصات اس مقدس احاطے کے لیے نقشہ جاتی نشان ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی الگ دکھائی دینے والی قبر کے انفرادی مختصات نہیں۔ قدیم روایات میں تین قبروں کی عین اندرونی ترتیب کی تفصیلات یکساں نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی قوت مسلم جماعت کی خدمت میں نمایاں ہوئی۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ ان کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو قوت ملی۔ وہ مدینہ ہجرت کر کے نئی جماعت میں شامل ہوئے اور ان کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ بدر، احد، خندق، حدیبیہ، خیبر، فتح مکہ، حنین اور تبوک میں ان کی شرکت ابتدائی تاریخی مآخذ میں محفوظ ہے۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ، حدیبیہ کے سخت سوالات، اور بعض معاملات میں ان کی رائے کے موافق وحی آنے کی صحیح روایات قوت کے ساتھ رجوع اور وحی کے سامنے تسلیم کا پہلو دکھاتی ہیں۔ مقامِ ابراہیم، پردے اور بعض دوسرے مواقع سے متعلق روایات بھی صحیح مآخذ میں آتی ہیں، جبکہ دیگر احادیث دین کی قوت، بصیرت اور شیطان کے ان کے راستے سے ہٹنے کا ذکر کرتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر شدید صدمے کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سورۂ آل عمران کی آیت ۱۴۴ پڑھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حقیقت قبول کی۔ سقیفہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے قیام میں ان کا اہم کردار رہا اور خلافتِ صدیقی میں وہ بڑے مشیروں میں شامل رہے۔ جنگِ یمامہ کے بعد قرآن کے منتشر تحریری مواد کو جمع کرنے کی تجویز بھی صحیح روایت میں انہی سے منسوب ہے۔ ۱۳ ہجری میں خلافت سنبھالنے کے بعد ان کا عہد تیز جغرافیائی توسیع اور انتظامی تشکیل دونوں کا زمانہ بنا۔ شام، عراق، مصر اور ایران کے بڑے حصے مسلم نظم میں آئے۔ ہجری تقویم، وظائف کے دیوان، بیت المال، عدالتی تقرریوں، صوبائی مراسلت اور مفتوح زرعی زمین کے مالی نظم سے متعلق اہم روایات ان کے عہد سے وابستہ ہیں۔ عام الرمادہ میں امداد اور طاعونِ عمواس کے وقت سرغ میں مشاورت کے بعد متاثرہ علاقے میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ ان کے انتظامی طرز کے اہم پہلو ہیں۔
نسبی مآخذ متعدد ازواج اور اولاد کے نام محفوظ کرتے ہیں۔ زینب بنت مظعون کو عبداللہ، حفصہ اور عبدالرحمن الاکبر کی والدہ بتایا جاتا ہے، جبکہ جمیلہ بنت ثابت سے عاصم کا ذکر آتا ہے؛ بعض دوسری ازواج اور اولاد کے نسب میں اختلاف ہے۔ ام کلثوم بنت علی سے نکاح کی روایت سنی نسبی مصادر میں موجود ہے، جبکہ امامی روایت میں اس کے بعض پہلوؤں پر اعتراضات پائے جاتے ہیں، اس لیے اسے متنازع نسبی روایت کے طور پر رکھنا مناسب ہے۔ ذوالحجہ ۲۳ ہجری کے اواخر میں فجر کی نماز کے دوران ابو لؤلؤہ نے انہیں زخمی کیا۔ صحیح بخاری ان کے قرض، امت کے حقوق، چھ رکنی شوریٰ اور جانشینی کے بارے میں ہدایات محفوظ کرتی ہے۔ آخری بیماری میں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے درخواست کی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت دی جائے، اور وفات کے بعد تجدیدِ اجازت کے ساتھ انہیں حجرۂ شریفہ میں دفن کیا گیا۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انتقالِ اقتدار میں ان کا کردار اور یمامہ کے بعد قرآن کے تحریری مواد کو جمع کرنے کی تجویز دور رس اثر رکھتی ہے۔ خلافت میں مشاورت، مالیات، تقرری، عدالت، صوبائی نظم، ہجری تقویم، دیوان اور بیت المال سے متعلق طریقے بعد کی مسلم سیاسی و فقہی بحثوں کے اہم مراجع بنے۔
ان کے عہد کی فتوحات نے شام، عراق، مصر اور ایران کے بڑے حصوں کی سیاسی تاریخ بدل دی، مگر اہمیت صرف وسعتِ قلمرو سے نہیں بنتی۔ زرعی زمین، خراج، وظائف، سپہ سالاروں کی نگرانی، شہری مراکز اور بحرانوں کے انتظام سے متعلق فیصلے ایک وسیع و متنوع ریاست کے عملی مسائل سے نمٹنے کی مثالیں فراہم کرتے ہیں۔
شہادت، چھ رکنی شوریٰ اور حجرۂ شریفہ میں تدفین نے ان کی یاد کو خلافت اور نبوی صحبت دونوں سے جوڑ دیا۔ تدفین کا بنیادی مقام تاریخی طور پر مضبوط ہے، لیکن حجرۂ شریفہ بند اور محفوظ داخلی جگہ ہے؛ قبروں کی عین اندرونی ترتیب اور انفرادی نقشہ جاتی نقطے کو براہِ راست مشاہدہ شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔
خاندانی روابط
ماخذ
Al-Qur'an al-Karim | Revelation of Allah | Qur'an 2:125; 3:144; 8:67-68; 9:40; 9:84; 33:53; 6Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadiths 1392, 1597, 3682-3683, 3685, 3689, 3691, 3
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadiths 1763, 2390 and 2398a; additional reports i
Jami al-Tirmidhi | Muhammad ibn Isa al-Tirmidhi | Hadiths 3675, 3688 and 3748
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Biographical, family, caliphal, death and burial r
Tarikh al-Rusul wa al-Muluk | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Events of 13-24 AH; pagination varies by edition
Futuh al-Buldan | Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri | Sections on Syria, Iraq, Jerusalem and Egypt; pagi
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Yusuf ibn Abd Allah Ibn Abd al-Barr | Biographical entry on Umar ibn al-Khattab; paginat
Al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ahmad ibn Ali Ibn Hajar al-Asqalani | Biographical entry on Umar ibn al-Khattab; paginat
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Biography of Umar, including family, virtues, cali
Al-Kamil fi al-Tarikh | Izz al-Din Ibn al-Athir | Vol. 2, events of 23-24 AH and Umar's death; pagin
Tarikh al-Madina al-Munawwara | Umar ibn Shabba al-Numayri | Reports on Umar's administration, death and Medina
Wafa al-Wafa bi Akhbar Dar al-Mustafa | Ali ibn Ahmad al-Samhudi | Discussion of the Sacred Chamber and variant repor
Fath al-Bari bi Sharh Sahih al-Bukhari | Ahmad ibn Ali Ibn Hajar al-Asqalani | Commentary on Bukhari hadiths concerning Umar's vi
Additional donor web reference (unpaired) | https://sunnah.com/bukhari/62/50
Additional donor web reference (unpaired) | https://saudipedia.com/en/what-does-the-sacred-prophet%22s-chamber-consist-of
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔