حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

PER-000393 صحابی / صحابیہ مصدقہ صرف عمومی علاقہ معلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی، دوسرے خلیفۂ راشد اور ابتدائی اسلامی تاریخ کی نمایاں انتظامی و عدالتی شخصیات میں سے تھے۔ مکہ میں ابتدائی مخالفت سے اسلام قبول کرنے، مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خدمت، بڑے غزوات میں شرکت، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد خلافت اور وسیع ریاستی نظم تک ان کی زندگی کئی فیصلہ کن مراحل سے گزری۔ صحیح احادیث ان کی بصیرت، قوتِ ایمان، مشاورت اور نبوی صحبت کے متعدد پہلو محفوظ کرتی ہیں۔ شہادت کے بعد انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تجدیدِ اجازت سے حجرۂ شریفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
ولادت

کلاسیکی سوانح نگار حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے تقریباً تیرہ برس بعد، قریب ۵۸۴ء، رکھتے ہیں۔ یہ عیسوی تعیین تقریبی سوانحی اندازہ ہے۔

وفات

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ذوالحجہ ۲۳ ہجری کے اواخر میں فجر کی نماز کے دوران زخمی کیا گیا اور وہ ۲۳ اور ۲۴ ہجری کی تقویمی حد کے قریب شہید ہوئے۔ صحیح بخاری حملے، آخری ہدایات، چھ رکنی شوریٰ اور تدفین کی اجازت سے متعلق بنیادی تفصیلات محفوظ کرتی ہے؛ بعض عیسوی تبدیلیوں اور عمر کے اعداد میں اختلاف ہے۔

مدفن یا منسوب مقام

صحیح بخاری کے مطابق حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آخری بیماری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت مانگی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ انہوں نے اپنی محفوظ جگہ انہیں دے دی، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق وفات کے بعد اجازت دوبارہ لی گئی۔ تجدیدِ اجازت کے بعد انہیں حجرۂ شریفہ میں دفن کیا گیا۔ حجرۂ شریفہ مسجد نبوی کے اندر محفوظ اور بند داخلی مقام ہے۔ موجودہ مختصات اس مقدس احاطے کے لیے نقشہ جاتی نشان ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی الگ دکھائی دینے والی قبر کے انفرادی مختصات نہیں۔ قدیم روایات میں تین قبروں کی عین اندرونی ترتیب کی تفصیلات یکساں نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نسب قریش کے بنو عدی تک محفوظ ہے۔ کنیت ابو حفص اور معروف لقب فاروق تھا، اگرچہ اس لقب کے اولین استعمال کے بارے میں روایات یکساں نہیں۔ والد خطاب بن نفیل تھے اور والدہ کو عموماً حنتمہ بنت ہشام بن مغیرہ مخزومیہ کہا جاتا ہے۔ سوانحی مآخذ ولادت مکہ میں عام الفیل کے تقریباً تیرہ برس بعد، قریب ۵۸۴ء، رکھتے ہیں۔ اسلام سے پہلے انہیں لکھنا پڑھنا جاننے والا، تجارت و سفر سے واقف، جسمانی قوت اور واضح گفتگو والا شخص بتایا گیا ہے۔ ابتدا میں انہوں نے اسلام کی مخالفت کی۔ قبولِ اسلام کا مشہور قصہ بہن فاطمہ بنت خطاب اور بہنوئی سعید بن زید کے گھر قرآن سننے یا پڑھنے سے جوڑا جاتا ہے؛ سورۂ طٰہٰ کی مخصوص نسبت ابتدائی سیرت کی روایت ہے اور اسے صحیحین کے درجے میں نہیں رکھا جاتا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی قوت مسلم جماعت کی خدمت میں نمایاں ہوئی۔ صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ ان کے اسلام لانے کے بعد مسلمانوں کو قوت ملی۔ وہ مدینہ ہجرت کر کے نئی جماعت میں شامل ہوئے اور ان کی صاحبزادی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ بدر، احد، خندق، حدیبیہ، خیبر، فتح مکہ، حنین اور تبوک میں ان کی شرکت ابتدائی تاریخی مآخذ میں محفوظ ہے۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ، حدیبیہ کے سخت سوالات، اور بعض معاملات میں ان کی رائے کے موافق وحی آنے کی صحیح روایات قوت کے ساتھ رجوع اور وحی کے سامنے تسلیم کا پہلو دکھاتی ہیں۔ مقامِ ابراہیم، پردے اور بعض دوسرے مواقع سے متعلق روایات بھی صحیح مآخذ میں آتی ہیں، جبکہ دیگر احادیث دین کی قوت، بصیرت اور شیطان کے ان کے راستے سے ہٹنے کا ذکر کرتی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر شدید صدمے کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سورۂ آل عمران کی آیت ۱۴۴ پڑھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حقیقت قبول کی۔ سقیفہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے قیام میں ان کا اہم کردار رہا اور خلافتِ صدیقی میں وہ بڑے مشیروں میں شامل رہے۔ جنگِ یمامہ کے بعد قرآن کے منتشر تحریری مواد کو جمع کرنے کی تجویز بھی صحیح روایت میں انہی سے منسوب ہے۔ ۱۳ ہجری میں خلافت سنبھالنے کے بعد ان کا عہد تیز جغرافیائی توسیع اور انتظامی تشکیل دونوں کا زمانہ بنا۔ شام، عراق، مصر اور ایران کے بڑے حصے مسلم نظم میں آئے۔ ہجری تقویم، وظائف کے دیوان، بیت المال، عدالتی تقرریوں، صوبائی مراسلت اور مفتوح زرعی زمین کے مالی نظم سے متعلق اہم روایات ان کے عہد سے وابستہ ہیں۔ عام الرمادہ میں امداد اور طاعونِ عمواس کے وقت سرغ میں مشاورت کے بعد متاثرہ علاقے میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ ان کے انتظامی طرز کے اہم پہلو ہیں۔

نسبی مآخذ متعدد ازواج اور اولاد کے نام محفوظ کرتے ہیں۔ زینب بنت مظعون کو عبداللہ، حفصہ اور عبدالرحمن الاکبر کی والدہ بتایا جاتا ہے، جبکہ جمیلہ بنت ثابت سے عاصم کا ذکر آتا ہے؛ بعض دوسری ازواج اور اولاد کے نسب میں اختلاف ہے۔ ام کلثوم بنت علی سے نکاح کی روایت سنی نسبی مصادر میں موجود ہے، جبکہ امامی روایت میں اس کے بعض پہلوؤں پر اعتراضات پائے جاتے ہیں، اس لیے اسے متنازع نسبی روایت کے طور پر رکھنا مناسب ہے۔ ذوالحجہ ۲۳ ہجری کے اواخر میں فجر کی نماز کے دوران ابو لؤلؤہ نے انہیں زخمی کیا۔ صحیح بخاری ان کے قرض، امت کے حقوق، چھ رکنی شوریٰ اور جانشینی کے بارے میں ہدایات محفوظ کرتی ہے۔ آخری بیماری میں انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے درخواست کی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہونے کی اجازت دی جائے، اور وفات کے بعد تجدیدِ اجازت کے ساتھ انہیں حجرۂ شریفہ میں دفن کیا گیا۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

نبوی عہد میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اہمیت ابتدائی مخالفت کے منظم خدمت، مشاورت اور دفاعِ جماعت میں بدلنے سے نمایاں ہوتی ہے۔ بڑے غزوات، بدر و حدیبیہ کے مشوروں، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے نبوی خاندانی نسبت اور صحیح روایات میں ایمان و بصیرت کے اوصاف نے انہیں پہلی مسلم جماعت کی مرکزی شخصیات میں رکھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انتقالِ اقتدار میں ان کا کردار اور یمامہ کے بعد قرآن کے تحریری مواد کو جمع کرنے کی تجویز دور رس اثر رکھتی ہے۔ خلافت میں مشاورت، مالیات، تقرری، عدالت، صوبائی نظم، ہجری تقویم، دیوان اور بیت المال سے متعلق طریقے بعد کی مسلم سیاسی و فقہی بحثوں کے اہم مراجع بنے۔

ان کے عہد کی فتوحات نے شام، عراق، مصر اور ایران کے بڑے حصوں کی سیاسی تاریخ بدل دی، مگر اہمیت صرف وسعتِ قلمرو سے نہیں بنتی۔ زرعی زمین، خراج، وظائف، سپہ سالاروں کی نگرانی، شہری مراکز اور بحرانوں کے انتظام سے متعلق فیصلے ایک وسیع و متنوع ریاست کے عملی مسائل سے نمٹنے کی مثالیں فراہم کرتے ہیں۔

شہادت، چھ رکنی شوریٰ اور حجرۂ شریفہ میں تدفین نے ان کی یاد کو خلافت اور نبوی صحبت دونوں سے جوڑ دیا۔ تدفین کا بنیادی مقام تاریخی طور پر مضبوط ہے، لیکن حجرۂ شریفہ بند اور محفوظ داخلی جگہ ہے؛ قبروں کی عین اندرونی ترتیب اور انفرادی نقشہ جاتی نقطے کو براہِ راست مشاہدہ شدہ حقیقت نہیں سمجھنا چاہیے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Al-Qur'an al-Karim | Revelation of Allah | Qur'an 2:125; 3:144; 8:67-68; 9:40; 9:84; 33:53; 6
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadiths 1392, 1597, 3682-3683, 3685, 3689, 3691, 3
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadiths 1763, 2390 and 2398a; additional reports i
Jami al-Tirmidhi | Muhammad ibn Isa al-Tirmidhi | Hadiths 3675, 3688 and 3748
Al-Tabaqat al-Kubra | Muhammad ibn Sa'd | Biographical, family, caliphal, death and burial r
Tarikh al-Rusul wa al-Muluk | Muhammad ibn Jarir al-Tabari | Events of 13-24 AH; pagination varies by edition
Futuh al-Buldan | Ahmad ibn Yahya al-Baladhuri | Sections on Syria, Iraq, Jerusalem and Egypt; pagi
Al-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Yusuf ibn Abd Allah Ibn Abd al-Barr | Biographical entry on Umar ibn al-Khattab; paginat
Al-Isaba fi Tamyiz al-Sahaba | Ahmad ibn Ali Ibn Hajar al-Asqalani | Biographical entry on Umar ibn al-Khattab; paginat
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Biography of Umar, including family, virtues, cali
Al-Kamil fi al-Tarikh | Izz al-Din Ibn al-Athir | Vol. 2, events of 23-24 AH and Umar's death; pagin
Tarikh al-Madina al-Munawwara | Umar ibn Shabba al-Numayri | Reports on Umar's administration, death and Medina
Wafa al-Wafa bi Akhbar Dar al-Mustafa | Ali ibn Ahmad al-Samhudi | Discussion of the Sacred Chamber and variant repor
Fath al-Bari bi Sharh Sahih al-Bukhari | Ahmad ibn Ali Ibn Hajar al-Asqalani | Commentary on Bukhari hadiths concerning Umar's vi
Additional donor web reference (unpaired) | https://sunnah.com/bukhari/62/50
Additional donor web reference (unpaired) | https://saudipedia.com/en/what-does-the-sacred-prophet%22s-chamber-consist-of

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔