حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ

PER-000396 صحابی / صحابیہ مصدقہ صرف عمومی علاقہ معلوم مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، ابو نجید الخزاعی، رسول اللہ ﷺ کے صحابی اور بصرہ سے وابستہ ابتدائی دور کے اہم اساتذہ اور محدثین میں سے تھے۔ قرآن مجید ان کا ذاتی نام ذکر نہیں کرتا، اس لیے ان کی سوانح کی بنیاد مستند حدیث، ابتدائی کتبِ رجال اور طبقات پر ہے۔ اہم سوانحی روایت کے مطابق انہوں نے ۷ ہجری، یعنی خیبر کے سال، تقریباً اسی زمانے میں اسلام قبول کیا جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے۔ وہ عہدِ نبوی کی جماعت کا حصہ رہے اور سوانحی مواد میں فتح مکہ کے موقع پر خزاعہ کے علم بردار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کی مستند روایات میں یہ بنیادی حکم شامل ہے کہ بیمار شخص استطاعت ہو تو کھڑے ہو کر نماز پڑھے، ورنہ بیٹھ کر، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پہلو کے بل؛ اسی طرح حیا کے صرف خیر لانے کی تعلیم، ابتدائی مسلم نسلوں کی فضیلت، اور یہ مشاہدہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز سے بہت مشابہ تھی۔ بعد میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمران کو دین کی تعلیم کے لیے بصرہ بھیجا، جہاں وہ شہر کے معزز صحابی فقہا میں شمار ہوئے اور مختصر مدت قاضی بھی رہے۔ عمران کی طویل بیماری ان کی سوانح کی سب سے نمایاں کرامت سے گہری وابستگی رکھتی ہے۔ صحیح مسلم میں عمران کا اپنا بیان محفوظ ہے کہ انہیں ایک غیر معمولی سلام پہنچتا تھا، داغنے کا علاج کرانے کے بعد وہ بند ہوگیا اور پھر اسے ترک کرنے کے بعد واپس آگیا۔ سنن ابی داود اس کی صریح توضیح فرشتوں کے سلام کے طور پر کرتی ہے، جبکہ ابن سعد ایک متصل روایت محفوظ کرتے ہیں کہ وفات سے کچھ پہلے یہ سلام دوبارہ لوٹ آیا تھا۔ سب سے مضبوط شواہد سلام سننے یا وصول ہونے کی تائید کرتے ہیں؛ انہیں مرئی فرشتوں سے ملاقات یا مصافحے جیسی زائد تفصیلات تک بڑھانا درست نہیں۔ عمران کی بیماری ہی سے وہ مشہور نماز کی رخصت بھی متعلق ہے جو صحیح بخاری میں محفوظ ہے۔ کلاسیکی مصادر انہیں تعلیم، عدالتی ذمہ داری اور خانہ جنگی کے معاملات میں نہایت محتاط یاد کرتے ہیں: ایک پریشان کن مقدمے کے بعد انہوں نے قضا سے استعفا دے دیا اور فتنۂ اولیٰ میں مسلح شرکت سے الگ رہے۔ ان کی وفات بصرہ میں ہوئی، غالب امکان ۵۲ ہجری میں، جبکہ ۵۳ ہجری ایک معمولی اختلافی روایت کے طور پر محفوظ ہے۔ ابن سعد جنازے اور قبر سے متعلق تفصیلی ہدایات نقل کرتے ہیں، لیکن کوئی قبرستان یا عین قبر معتبر طور پر متعین نہیں ہوئی، اس لیے ان کا مقامِ تدفین نامعلوم ہے۔
ولادت

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی کوئی معتبر عین تاریخِ پیدائش، سالِ پیدائش یا مضبوطی سے ثابت جائے پیدائش زیرِ جائزہ شواہد میں محفوظ نہیں۔ وہ قبیلہ خزاعہ سے تعلق رکھتے تھے اور حصین بن عبید بن خلف کے بیٹے تھے۔ اہم کلاسیکی زمانی روایت کے مطابق عمران نے ۷ ہجری، یعنی خیبر کے سال، تقریباً حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی اسلام قبول کیا۔ یہ ان کی ابتدائی زندگی کے لیے ایک محفوظ زمانی بنیاد فراہم کرتا ہے، مگر عین پیدائش کی ازسرِنو تعیین کی اجازت نہیں دیتا۔

وفات

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے طویل بیماری کے بعد بصرہ میں وفات پائی۔ اہم کلاسیکی تاریخ ۵۲ ہجری ہے، جس کی تائید مزی، ابن عبد البر، حاکم اور دیگر بڑے سوانحی مصادر کرتے ہیں۔ بعض تذکروں میں ۵۳ ہجری کی روایت بھی آتی ہے، جسے ایک معمولی زمانی اختلاف کے طور پر برقرار رہنا چاہیے۔ ابن سعد مطرف کے واسطے سے ایک روایت محفوظ کرتے ہیں کہ عمران کو پہلے جو غیر معمولی سلام ملتا تھا وہ وفات سے کچھ پہلے دوبارہ لوٹ آیا۔ مصادر کوئی معتبر طور پر ثابت عین یومِ وفات فراہم نہیں کرتے۔

مدفن یا منسوب مقام

مقام کی نوعیت: مقامِ تدفین نامعلوم۔ کلاسیکی مصادر مضبوطی سے بتاتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی وفات بصرہ میں ہوئی اور وہ جنازے سے متعلق غیر معمولی تفصیلی ہدایات بھی محفوظ کرتے ہیں۔ ابن سعد کے مطابق انہوں نے وصیت کی کہ جنازہ تیزی سے لے جایا جائے، ساتھ آگ یا رسمی نوحہ نہ ہو، اور قبر مربع بنائی جائے اور صرف چند انگلیاں اونچی رکھی جائے۔ یہ روایات ان کی تدفین کو ثابت کرتی ہیں، لیکن قبرستان، محلہ، موجودہ مقبرہ یا عین مقامِ قبر کا نام نہیں بتاتیں۔ بصرہ میں وفات بذاتِ خود کسی مخصوص قبر کی جگہ کا ثبوت نہیں۔ زیرِ جائزہ شواہد میں کوئی معتبر طور پر دستاویزی موجودہ مزار یا قبر کا نقطہ ثابت نہیں ہوا۔ اس لیے تدفین کے لیے عرض البلد، طول البلد یا گوگل میپس مقام اخذ نہیں کرنا چاہیے، اور مقامِ تدفین نامعلوم ہی رہتا ہے۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ قبیلہ خزاعہ سے تعلق رکھنے والے ابتدائی مسلم صحابی تھے۔ عام طور پر ان کی شناخت عمران بن حصین بن عبید بن خلف الخزاعی الکعبی کے طور پر کی جاتی ہے اور ان کی کنیت ابو نجید تھی۔ ان کے والد حصین بن عبید بن خلف کا نام کلاسیکی سوانحی ریکارڈ میں مضبوطی سے محفوظ ہے، جبکہ معمولی اختلافات صرف طویل آبائی سلسلے کو متاثر کرتے ہیں۔

اہم کتبِ رجال کے مطابق عمران نے ۷ ہجری، یعنی خیبر کے سال، تقریباً حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی کے زمانے میں اسلام قبول کیا۔ امام ذہبی ان کے والد کے اسلام قبول کرنے کا ذکر بھی محفوظ کرتے ہیں۔ مصادر کوئی قابلِ اعتماد عین سالِ پیدائش نہیں بتاتے، اس لیے ان کی ابتدائی زندگی کو کسی اندازہ شدہ عمر کے بجائے اسی قبولِ اسلام کی تاریخ سے جوڑنا زیادہ محفوظ ہے۔

عمران رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست روایت کرنے والے صحابی بنے۔ ان کی احادیث بنیادی حدیثی مجموعوں میں جگہ جگہ موجود ہیں اور ان کی اہمیت بعد کی کرامت سے متعلق روایات سے مستقل طور پر ثابت کرتی ہیں۔

ان کی سب سے بااثر روایات میں سے ایک بیماری کے دوران نماز کے بارے میں ہے۔ صحیح بخاری حدیث ۱۱۱۷ میں ہے کہ عمران ایک تکلیف دہ بیماری میں مبتلا تھے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ نماز کیسے ادا کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ استطاعت ہو تو کھڑے ہو کر، ورنہ بیٹھ کر، اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پہلو کے بل نماز پڑھیں۔ یہ روایت جسمانی معذوری یا بیماری کے وقت عبادت کے احکام میں ایک بنیادی فقہی نص بن گئی۔

عمران نے اہم اخلاقی اور اجتماعی تعلیمات بھی روایت کیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ان کی روایت محفوظ ہے کہ حیا صرف خیر لاتی ہے یا سراسر خیر ہے۔ جب ایک سامع نے دوسری تحریروں کے مواد کی بنیاد پر نبوی الفاظ کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تو عمران نے اپنی روایت کردہ حدیث کی حجیت کا مضبوط دفاع کیا۔ انہوں نے ابتدائی مسلم نسلوں کی فضیلت پر معروف نبوی شہادت بھی روایت کی۔

ایک اور مستند روایت میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی نماز کے بارے میں عمران کا مشاہدہ محفوظ ہے۔ عمران نے کہا کہ علی کی نماز نے انہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز یاد دلا دی۔ یہ روایت عبادتی عمل کی شہادت بھی ہے اور اس بات کی دلیل بھی کہ بعد کی خانہ جنگی میں عمران کی غیر جانب داری کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں منفی فیصلے میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔

کلاسیکی سوانحی ادب عمران کو محض راوی ہی نہیں بلکہ ابتدائی مسلم جماعت میں عملی شرکت کرنے والے شخص کے طور پر بھی یاد کرتا ہے۔ ابن حجر کی جامع سوانح میں ہے کہ انہوں نے غزوات و مہمات میں شرکت کی اور فتح مکہ کے موقع پر خزاعہ کا جھنڈا اٹھایا۔ یہ قرآنی دعوے نہیں بلکہ سوانحی نسبتیں ہیں اور انہیں اسی تاریخی ماخذی درجے میں رکھنا چاہیے۔

بعد میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمران کو دین کی تعلیم کے لیے بصرہ بھیجا۔ طبرانی، ابو نعیم اور بڑی سوانحی تالیفات اس علمی مشن کو محفوظ کرتی ہیں۔ وہاں ان کے اثر کو غیر معمولی تعریف کے ساتھ یاد کیا گیا، حتیٰ کہ حسن بصری سے منقول ہے کہ بصرہ میں کوئی ایسا سوار نہیں آیا جو اس کے لوگوں کے لیے عمران بن حصین سے بہتر ہو۔

عمران نے بصرہ میں مختصر مدت قاضی کی خدمت بھی انجام دی اور بعد میں اس عہدے سے سبک دوشی کی درخواست کی۔ ایک روایت میں استعفے کو ایسے مقدمے سے جوڑا گیا ہے جس میں ایک فریق نے گواہ پر جھوٹی گواہی کا الزام لگایا، اور فیصلے کی ذمہ داری نے عمران کو بہت پریشان کیا۔ مختصر عدالتی خدمت اور اپنی مرضی سے الگ ہونے کی عمومی حقیقت، واقعے کی ہر جزوی تفصیل سے زیادہ مضبوط ہے۔ ان کے شاگردوں میں مطرف بن عبد اللہ، محمد بن سیرین، ابو رجاء العطاردی، ابو السوار، صفوان بن محرز اور عبد اللہ بن بریدہ جیسے بڑے بصری و عراقی راوی شامل تھے؛ ان کے بیٹے نجید بن عمران نے بھی ان سے روایت کی۔

عمران کئی برس ایک سنگین بیماری کے ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ صحیح بخاری براہِ راست ایسی تکلیف دہ حالت کی تصدیق کرتی ہے جو ان کی نماز کی ادائیگی کو متاثر کرتی تھی۔ ابن سیرین کے واسطے سے منقول روایات سمیت کلاسیکی سوانح میں تقریباً تیس سال تک رہنے والی طویل شکمی بیماری کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ آخرکار زندگی کے آخری حصے میں داغنے کا علاج کرانے سے پہلے اسے کئی بار تجویز کیا گیا تھا۔ تاریخی الفاظ کو مصادر کے بیان سے آگے بڑھا کر کسی جدید طبی تشخیص میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔

یہی بیماری ان کی سب سے مشہور کرامت کا پس منظر ہے۔ صحیح مسلم حدیث ۱۲۲۶ میں عمران کا اپنا بیان ہے کہ انہیں ایک سلام پہنچتا تھا، داغنے کا علاج کرانے کے بعد وہ رک گیا، اور جب انہوں نے اسے چھوڑ دیا تو دوبارہ لوٹ آیا۔ یہ روایت غیر معمولی طور پر مضبوط ہے کیونکہ یہ ماورائی تجربہ خود عمران کی گواہی کے ذریعے ایک صحیح مجموعے میں محفوظ ہے۔

سنن ابی داود حدیث ۳۸۶۵ صراحت سے بتاتی ہے کہ عمران فرشتوں کا سلام سنا کرتے تھے اور داغنے کے بعد یہ سلام بند ہوگیا، پھر اسے ترک کرنے پر واپس آگیا۔ جامع ترمذی الگ سے عمران کی یہ روایت محفوظ کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے داغنے سے منع فرمایا تھا اور جب انہوں نے اسے اختیار کیا تو انہیں اس میں کامیابی نہ ملی۔ سوانحی اہمیت اس تعلق میں ہے جو خود عمران نے داغنے اور سلام کے منقطع ہونے کے درمیان بیان کیا، نہ کہ اس روایت کو اس کے فقہی سیاق سے بڑھا کر ایک عمومی طبی قاعدہ بنا دینے میں۔

ابن سعد ایک اور متصل روایت محفوظ کرتے ہیں جس میں عمران مطرف سے کہتے ہیں کہ وہ غیر معمولی سلام دوبارہ لوٹ آیا ہے، اور مطرف بیان کرتے ہیں کہ اس کے زیادہ عرصہ بعد عمران کا انتقال نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے بعد کے سوانح نگاروں نے اس واقعے کو بیماری کے دوران فرشتوں کے سلام کے طور پر خلاصہ کیا۔ سب سے محفوظ تعبیر یہی ہے کہ عمران نے ایک غیر معمولی سلام وصول ہونے یا سننے کی خبر دی، جسے ابو داود اور کلاسیکی سوانح میں صراحتاً فرشتوں کا سلام کہا گیا ہے۔ مضبوط ترین شواہد میں مرئی فرشتے، مصافحہ یا دوسری زائد تفصیلات لازم نہیں آتیں۔

فتنۂ اولیٰ کے دوران عمران سیاسی احتیاط کے لیے یاد کیے گئے۔ امام ذہبی صراحت کرتے ہیں کہ وہ نزاع سے الگ رہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ ان سے منسوب روایات خونریز داخلی کشمکش سے دور رہنے کی نصیحت کرتی ہیں، البتہ براہِ راست حملہ ہونے پر معمول کی ذاتی مدافعت کی اجازت دیتی ہیں۔ ان کے موقف کو مسلح خانہ جنگی میں عدمِ شرکت کے طور پر بیان کرنا چاہیے، نہ کہ اسے کسی فرقہ وارانہ فیصلے میں تبدیل کرنا چاہیے۔

عمران کا خاندانی ریکارڈ محدود مگر معنی خیز ہے۔ ان کے والد حصین کا نام مضبوطی سے ثابت ہے اور ان کے بیٹے نجید کا اپنے والد سے روایت کرنے والے راوی کے طور پر مستقل ثبوت موجود ہے۔ ابن سعد ایک بے نام بیٹی کے واسطے سے بسترِ وفات کی روایت اور ایک ایسی وصیت بھی نقل کرتے ہیں جس میں جمع کے صیغے میں ان کے بچوں کی ماؤں کا ذکر ہے۔ یہ اشارات ایک بڑے گھرانے کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن اتنی معلومات نہیں دیتے کہ زوجات کے نام یا اولاد کی مکمل فہرست گھڑی جا سکے۔

عمران نے روایت، تدریس اور طویل بیماری سے بھرپور زندگی کے بعد بصرہ میں وفات پائی۔ اہم کلاسیکی تاریخ ۵۲ ہجری ہے جسے مزی اور کئی بڑے سوانح نگاروں کی تائید حاصل ہے، جبکہ ۵۳ ہجری ایک معمولی اختلافی روایت کے طور پر آتی ہے۔ ابن سعد نقل کرتے ہیں کہ عمران نے وصیت کی تھی کہ ان کا جنازہ تیزی سے لے جایا جائے، اس کے ساتھ آگ یا رسمی نوحہ نہ ہو، اور ان کی قبر مربع بنائی جائے اور صرف چند انگلیاں اونچی کی جائے۔ یہ روایات تدفین اور جنازے کے طریقے کو ثابت کرتی ہیں، لیکن قبرستان یا موجودہ قبر کی شناخت نہیں کرتیں۔ اس لیے ان کا عین مقامِ تدفین نامعلوم ہے۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ تاریخی طور پر ایسے صحابی کی حیثیت سے اہم ہیں جن کی روایات سنی حدیثی ذخیرے کے اعلیٰ ترین درجوں میں شامل ہوئیں۔ بیماری میں نماز سے متعلق ان کی روایت اسلامی فقہ میں بنیادی دلیل بن گئی، جبکہ حیا، ابتدائی نسلوں کی فضیلت اور رسول اللہ ﷺ کی نماز کے طریقے سے متعلق ان کی روایات مسلم تعلیمات کا مستقل حصہ بنیں۔

بصرہ منتقل ہونے سے وہ ابتدائی اسلامی علم کے سب سے اہم مراکز میں سے ایک کی تشکیل کا حصہ بن گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں دین سکھانے کے لیے بھیجا، اور ان کے شاگردوں میں بڑے بصری محدث شامل تھے جنہوں نے بعد کے حدیثی اور فقہی علم کو شکل دی۔ ان کی مختصر عدالتی خدمت ایک ابتدائی مثال بھی فراہم کرتی ہے کہ ایک صحابی قانونی ذمہ داری کو غیر معمولی سنجیدگی سے لیتا تھا۔

فرشتوں کے سلام کی روایت عمران کو کرامات کی تاریخ میں ایک منفرد مقام دیتی ہے، کیونکہ اس کی ماخذی بنیاد بہت سی بعد کی اولیائی روایات سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ بنیادی غیر معمولی سلام خود عمران کے واسطے سے صحیح مسلم میں آتا ہے، جبکہ ابو داود صراحت سے اسے فرشتوں کا سلام قرار دیتے ہیں۔ پھر کلاسیکی روایات سلام کے منقطع ہونے اور واپس آنے کو داغنے کے علاج اور ان کی بیماری کے آخری دور سے جوڑتی ہیں۔

ان کی وسیع سوانح مذہبی ذمہ داری اور احتیاط کی ایک مسلسل تصویر پیش کرتی ہے۔ بیماری میں انہوں نے نبوی رخصتوں کو قبول کیا، منقول حدیث کی حجیت کا دفاع کیا، عدالتی ذمہ داری سے پریشان ہونے پر منصب چھوڑ دیا، اور فتنۂ اولیٰ کے بڑے مسلح گروہوں سے باہر رہے۔ ان کی عین قبر کا نامعلوم ہونا اس تاریخی ورثے کو کم نہیں کرتا جس کی بنیاد مستند روایت اور بصرہ کی ابتدائی علمی زندگی میں ان کے کردار پر ہے۔

خاندانی روابط

ماخذ

صحیح بخاری | محمد بن اسماعیل بخاری | حدیث ۱۱۱۷، کتاب تقصیر الصلاۃ | https://sunnah.com/bukhari:1117 | صحابی کی براہِ راست روایت: بیماری میں استطاعت کے مطابق کھڑے، بیٹھے یا پہلو کے بل نماز
صحیح مسلم | مسلم بن حجاج | حدیث ۱۲۲۶، کتاب الحج | https://dorar.net/h/LDC0ePd8?osoul=1 | عمران کا اپنا بیان کہ انہیں ایک سلام پہنچتا تھا، داغنے کے بعد بند ہوگیا اور اسے ترک کرنے پر واپس آگیا
سنن ابی داود | ابو داود سجستانی | حدیث ۳۸۶۵، کتاب الطب | https://dorar.net/h/spM7mGHF | داغنے کے بارے میں مستند متوازی روایت؛ ابو داود صراحت کرتے ہیں کہ عمران فرشتوں کا سلام سنا کرتے تھے اور یہ بند ہوا پھر واپس آیا
جامع ترمذی | محمد بن عیسیٰ ترمذی | حدیث ۲۰۴۹، ابواب الطب | https://dorar.net/h/Y8WfBYpd?osoul=1 | عمران کی روایت میں داغنے کی نبوی ممانعت؛ ترمذی اسے حسن صحیح قرار دیتے ہیں
صحیح بخاری | محمد بن اسماعیل بخاری | حدیث ۶۱۱۷، کتاب الادب | https://dorar.net/h/0wbeJdqL?osoul=1 | عمران روایت کرتے ہیں کہ حیا صرف خیر لاتی ہے اور نبوی روایت کا مضبوط دفاع کرتے ہیں
صحیح مسلم | مسلم بن حجاج | حدیث ۳۷، کتاب الایمان | https://dorar.net/h/0wbeJdqL?osoul=1 | مستقل صحیح متوازی روایت: حیا سراسر خیر ہے
صحیح بخاری | محمد بن اسماعیل بخاری | حدیث ۲۶۵۱، کتاب الشہادات | https://dorar.net/h/neqRzalF?osoul=1 | عمران رسول اللہ ﷺ کی نسل اور اس کے بعد آنے والی نسلوں کی فضیلت روایت کرتے ہیں
صحیح مسلم | مسلم بن حجاج | حدیث ۲۵۳۵، کتاب فضائل الصحابہ | https://dorar.net/h/neqRzalF?osoul=1 | ابتدائی نسلوں والی روایت کا مستقل صحیح متوازی متن
صحیح بخاری / صحیح مسلم | بخاری / مسلم | بخاری ۷۸۶؛ مسلم ۳۹۳ | https://dorar.net/h/Jvlf1vdx?osoul=1 | عمران کا مشاہدہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز سے بہت مشابہ تھی
تہذیب الکمال فی اسماء الرجال | یوسف المزی | جلد ۲۲، صفحات ۳۱۹ تا ۳۲۲، اندراج ۴۴۸۶ | https://islamweb.net/ar/library/content/1001/5582/ | مکمل شناخت، خزاعی نسب، ابو نجید کنیت، خیبر کے سال اسلام، بیٹے نجید سمیت شاگرد، بصرہ کی قضا اور ۵۲ ہجری میں وفات
تہذیب الکمال فی اسماء الرجال | یوسف المزی | اندراج ۶۳۸۷، نجید بن عمران بن حصین | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/7667/ | مستقل خاندانی توثیق: نجید عمران کے بیٹے ہیں؛ نجید کے بیٹوں عبد اللہ اور محمد کے نام بھی دیتا ہے
سیر اعلام النبلاء | شمس الدین ذہبی | جلد ۲، صفحات ۵۰۸ تا ۵۱۰، ترجمۂ عمران بن حصین | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/239/ | ۷ ہجری میں اسلام، والد کا اسلام، حضرت عمر کا بصرہ میں تدریسی مشن، قضا، بیماری، فرشتوں کا سلام اور فتنہ میں عدمِ شرکت
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب | ابن عبد البر | جلد ۳، ترجمۂ عمران | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/2008/ | ابو نجید کی شناخت، خیبر میں اسلام، بصرہ کی قضا، صحابی فقہا میں مقام اور فرشتوں کے سلام کی شہرت
الطبقات الکبری | محمد بن سعد | بصرہ کا حصہ، ترجمۂ عمران بن حصین | https://hadithportal.com/index.php?bab_id=4194&book=802&chapter_id=9&e=5505&f=4190&show=bab&sub_idBab=0 | بسترِ وفات کی وصیتیں، جنازے کی ہدایات، معمولی بلند مربع قبر، بے نام بیٹی کی روایت اور بصرہ میں وفات
الطبقات الکبری | محمد بن سعد | جلد ۷، دکھایا گیا صفحہ ۱۸۰ | https://www.masaha.org/book/view/2060/page/180 | مطرف کی متصل روایت کہ غیر معمولی سلام وفات سے کچھ پہلے واپس آیا؛ جنازہ و قبر کی ہدایات؛ بے نام بیٹی کی روایت
الطبقات الکبری | محمد بن سعد | بصرہ کے طبقے میں عمران کی سوانح | https://hadithportal.com/index.php?bab_id=5&book=80002&chapter_id=9&page=2&show=bab | بصرہ منتقل ہوئے اور وفات تک وہیں رہے؛ بصرہ میں باقی رہنے والی نسل؛ بچوں کی ماؤں سے متعلق وصیت
معرفۃ الصحابہ | ابو نعیم اصفہانی | ترجمۂ عمران بن حصین، روایت ۴۷۳۱ | https://hadithportal.com/index.php?bab_id=2361&book=813&chapter_id=2&page=1&show=bab | صحابی شناخت، بصرہ میں رہائش، فتنہ میں غیر جانب داری، حضرت عمر کا تدریسی مشن، فرشتوں کا سلام اور ۵۲/۵۳ ہجری کی تاریخ
المستدرک علی الصحیحین | حاکم نیشاپوری | مناقب عمران بن حصین، روایات ۶۰۱۹ تا ۶۰۲۰ | https://hadithportal.com/index.php?bab_id=482&book=37&chapter_id=31&e=692&f=293&show=bab&sub_idBab=0 | وفات تک بصرہ میں رہائش؛ ۵۲ ہجری میں بصرہ میں وفات کی صریح روایت
المعجم الکبیر | طبرانی | سوانح عمران، روایت ۱۸۷ | https://islamweb.net/ar/library/content/84/14621/ | ابو الاسود کی روایت کہ حضرت عمر نے عمران کو بصرہ کے لوگوں کو دین سکھانے کے لیے بھیجا
پروجیکٹ مرکل ماسٹر پرسن میپ | داخلی پروجیکٹ رجسٹری | CAND-0079 / PER-000396 | داخلی پروجیکٹ رجسٹری | ماخذ کے زیرِ ضبط واقعے کی شناخت عمران بن حصین کے فرشتوں کا سلام سننے کے طور پر کرتا ہے؛ صرف شناختی میپنگ، ماخذ کی درجہ بندی الگ طور پر کنٹرول ہوتی ہے

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔