حسن بصری سے منقول ہے کہ ان کی پیدائش اس وقت ہوئی جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے تقریباً دو سال باقی تھے۔ کلاسیکی سوانح نگار اسی بنا پر ان کی پیدائش تقریباً 21 یا 22ھ، یعنی تقریباً 642ء، مدینہ میں رکھتے ہیں۔ ہجری اور عیسوی تاریخوں کی تبدیلی مختلف تقویمی طریقوں سے بدل سکتی ہے، اس لیے روایتی زمانی ترتیب میں ہجری تاریخ زیادہ دقیق مرجع ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری دو سال ان کی ولادت کی زمانی تعیین کا بنیادی قدیم حوالہ ہیں، اسی بنا پر ۲۱ یا ۲۲ ہجری کی تاریخ کلاسیکی سوانح میں رائج ہوئی۔
حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حسن بصری کی وفات بصرہ میں رجب 110ھ، تقریباً 728ء، ہشام بن عبد الملک کے عہدِ خلافت میں ہوئی۔ کلاسیکی رجال کے مصادر سال کو مستقل طور پر محفوظ کرتے ہیں اور ان کی عمر تقریباً اٹھاسی یا نواسی برس بتاتے ہیں۔ ان کی وفات پہلی اسلامی صدی کے ایک بڑے بصری عالم کے دور کے اختتام کی علامت بنی، اور سوانحی ادب میں دوسرے بڑے اہلِ علم کے غم کی روایات بھی محفوظ ہیں جب انہیں وفات کی خبر پہنچی۔
مقام کی نوعیت: تاریخی طور پر تسلیم شدہ تدفینی مقام۔ حسن بصری کی تدفین کی روایت الزبیر، صوبہ بصرہ، عراق کے اس تاریخی قبرستان سے وابستہ ہے جو اب قبرستانِ حسن بصری کے نام سے معروف ہے۔ موجودہ مزار ایک دیرینہ مقامی اسلامی ورثہ ہے اور اسی قبرستان میں محمد بن سیرین سے منسوب قبر بھی موجود ہے۔ بصرہ کی ورثہ جاتی دستاویزات اس مقام کو حسن بصری کے معروف تاریخی مزار کے طور پر شناخت کرتی ہیں۔ موجودہ نقشہ جاتی مقام حسن بصری قبرستان کے اندر معروف مزار کی جگہ کی نشاندہی کرتا ہے اور اسی تاریخی تدفینی نسبت کو جغرافیائی طور پر ظاہر کرتا ہے۔
سوانح و تاریخی تعارف
یہ خاندانی ماحول نوجوان حسن کو مدینہ میں پہلی مسلم نسل کے گھریلو اور علمی ماحول کے قریب لے آیا۔ کلاسیکی مصادر والدہ کے ذریعے ان کے بچپن کو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھرانے سے جوڑتے ہیں، جبکہ محفوظ تاریخی تعبیر بعد کی آرائش سے بچتے ہوئے صرف اتنا یقینی رکھتی ہے کہ حسن صحابہ اور ابتدائی راویوں سے گہرے تعلق والے مدنی ماحول میں پلے بڑھے۔
نوجوانی میں انہوں نے خلافتِ راشدہ کے آخری سال دیکھے۔ سوانحی روایات کہتی ہیں کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا خطبہ سنا اور محاصرۂ عثمان کے دور کو نو عمری میں دیکھا۔ ان یادوں نے بعد کی بصری تعلیم کو صحابہ کی زندہ یاد سے مربوط رکھا۔
حضرت علیؓ اور حسن بصریؒ کے تعلق میں صرف زمانی ہم عصری ہی نہیں بلکہ براہِ راست رؤیت بھی محفوظ ہے۔ حسن بصریؒ مدینہ میں پیدا ہوئے اور اپنی ابتدائی عمر وہیں گزاری۔ رجال کے بڑے مصادر لکھتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علیؓ کو دیکھا تھا۔ امام سیوطی نے اس تعلق کے حق میں ایک اضافی زمانی استدلال بھی پیش کیا: حسن بصریؒ بچپن ہی سے مسجد کی جماعت میں شریک ہونے والے مدنی ماحول میں تھے، حضرت علیؓ بھی خلافتِ عثمانؓ کے آخری دور تک مدینہ میں موجود تھے، اور حسن بصریؒ کی والدہ خیرہ کا ام سلمہؓ کے گھر سے قریبی تعلق تھا۔ سیوطی نے ان حالات کو اس امکان سے کہیں بڑھ کر سمجھا کہ دونوں صرف اتفاقاً ایک ہی شہر میں تھے، اور اسی بنا پر حضرت علیؓ سے سماع کے اثبات کو راجح قرار دیا۔
اس تعلق کا ایک خاص قرینہ سیاسی ماحول سے متعلق روایت ہے۔ تہذیب الکمال میں یونس بن عبید کے واسطے سے منقول ہے کہ انہوں نے حسن بصریؒ سے پوچھا کہ آپ “رسول اللہ ﷺ نے فرمایا” کہتے ہیں حالانکہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ نہیں پایا۔ حسن بصریؒ سے منسوب جواب یہ ہے کہ وہ ایسے زمانے میں رہ رہے تھے—اور روایت اسے حجاج کے اقتدار کا زمانہ بتاتی ہے—جس میں وہ حضرت علیؓ کا نام کھلے طور پر نہیں لے سکتے تھے؛ اور ان کی بعض بلاواسطہ نبوی روایات حضرت علیؓ کے واسطے سے تھیں۔ یہ روایت خود رجال کی بحث کا حصہ ہے اور اسے ہر مرسل روایت پر بلااستثناء لاگو نہیں کرنا چاہیے، لیکن یہ اس بات کا اہم تاریخی قرینہ ہے کہ سیاسی حالات نے کبھی حضرت علیؓ کا نام صراحت سے لینے کو حساس بنا دیا تھا۔ امام سیوطی نے بھی اسی روایت کو حسن بصریؒ کے حضرت علیؓ سے سماع کے حق میں اپنے دلائل میں شامل کیا۔
اس لیے زیادہ مکمل نتیجہ یہ بنتا ہے کہ حسن بصریؒ کی حضرت علیؓ سے رؤیت ثابت ہے، حدیثی سماع کے بارے میں محدثین کے اقوال مختلف ہیں، جبکہ اس کے اثبات کے حق میں بھی متعدد روایات اور قرائن موجود ہیں اور امام سیوطی نے اسے راجح کہا۔ دوسری طرف کلاسیکی صوفی روایت اس تعلق کو محض علمی ملاقات تک محدود نہیں رکھتی بلکہ حضرت علیؓ → حسن بصریؒ → حبیب عجمیؒ کی روحانی نسبت کے طور پر محفوظ کرتی ہے۔ قادریہ سمیت کئی معروف سلاسل اسی نسبت کو اپنی روحانی سند کا بنیادی حصہ مانتے ہیں۔ یوں حسن بصریؒ صحابہ کے مدنی ماحول، حضرت علیؓ سے منسوب روحانی وراثت، اور بصرہ کے ابتدائی زہد و تصوف کے درمیان ایک نہایت اہم واسطہ بن جاتے ہیں۔
حسن بڑے راوی بنے، لیکن ان کی حدیثی صورت حال میں دقت ضروری ہے۔ رجال کے ناقدین ان کی شخصی ثقاہت اور علمی مقام کی تعریف کرتے ہیں، مگر ساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ وہ بہت سی مرسل روایات نقل کرتے اور تدلیس کرتے تھے۔ ابو بکرہ سے سماع جیسی کوئی روایت جہاں براہِ راست نقل صراحت سے ثابت ہو، اسے اس بات کی عمومی اجازت نہیں بنایا جا سکتا کہ ہر حسن-عن-صحابی طریق میں براہِ راست سماع فرض کر لیا جائے۔
بصرہ ان کی پختہ علمی زندگی کا مرکزی شہر بنا۔ وہاں وہ واعظ، معلم، فقیہ، مفسرِ قرآن اور اخلاقی مرجع کے طور پر ابھرے اور ان کا اثر کئی ابھرتے علوم تک پھیل گیا۔ بعد کے حدیث، فقہ، کلام، زہد اور تصوف کے بڑے سلسلوں نے ان کی یاد کو محفوظ کرنے کی وجہ پائی۔
ان کی عوامی تعلیم بالخصوص زہد اور اخلاقی خود نگرانی سے وابستہ ہے۔ منقول حسن بار بار مومن کو نیت، حساب، دنیاوی زندگی کی مختصری اور نفاق و خود فریبی کے خطرے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی موضوعات انہیں ابتدائی اسلامی زاہدانہ ادب کی بنیادی آوازوں میں شامل کرتے ہیں۔
حسن کی سرگرمی صرف مسجد تک محدود نہ تھی۔ ابن سعد کی پیروی کرنے والی جدید ماخذی تنقیدی ترکیب انہیں عبد الرحمن بن سمرہ کے تحت کابل کی طرف مشرقی فوجی مہمات میں بھی رکھتی ہے۔ یہ فوجی مرحلہ ان کی نسبتاً ابتدائی بالغ زندگی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد کے بیٹھے ہوئے زاہد واعظ کے معروف تصور سے ان کی زندگی کی تصویر کو وسیع کرتا ہے۔
ان کی سیاسی یاد زیادہ متنازع ہے۔ روایات ظالم حکمرانوں پر سخت تنقید اور بدسلوکی کے خلاف اخلاقی مخالفت محفوظ کرتی ہیں، لیکن ابن اشعث کی بغاوت میں ان کے عین کردار اور مسلح خروج کے بارے میں ان کے مشورے پر مصادر مختلف ہیں۔ محفوظ نتیجہ یہ ہے کہ وہ دوٹوک اخلاقی ناقد تھے، مگر ان کی سیاسی حکمتِ عملی کو کسی ایک بعد کے نظریاتی خانے میں بند نہیں کیا جا سکتا۔
حسن قَدَر، انسانی ذمہ داری اور الٰہی تقدیر پر اسلامی بحث کے آغاز کے قریب بھی کھڑے ہیں۔ اموی خلیفہ عبد الملک کے نام ایک خط الٰہی عدل اور قرآن سے استدلال کرتے ہوئے انسانی اخلاقی ذمہ داری کے حقیقی معنی کا دفاع کرتا ہے۔ جدید اہلِ علم اکثر اس دستاویز میں حسن بصری کی ایک قابلِ ذکر اصل تسلیم کرتے ہیں، مگر اس کی متنی تاریخ اور نقل کے مراحل پر بحث جاری رکھتے ہیں۔
بعد کے مختلف مکاتب نے اس کلامی میراث کو اپنے اپنے انداز میں اپنایا۔ معتزلی مصنفین حسن کو انسانی ذمہ داری کے ابتدائی مدافع کے طور پر پیش کر سکتے تھے، جبکہ سنی محدثین ایسی روایات محفوظ کرتے ہیں جو کلامی غلو کی مخالفت دکھاتی ہیں اور کبھی انہیں بعد میں قدریہ سے منسوب موقف کے رد سے جوڑتی ہیں۔ حسن ایک پہلے کے فکری دور سے تعلق رکھتے تھے؛ اس لیے بعد کے مکتبی نام ان پر بلا توضیح واپس نہیں لگانے چاہییں۔
انہیں قاریِ قرآن اور مفسر کے طور پر بھی یاد کیا گیا۔ کلاسیکی تفاسیر میں ان کا نام کثرت سے آتا ہے، جہاں ان کی تعبیرات اکثر مجرد نظری بحث کے بجائے اخلاقی اور روحانی نتائج پر زور دیتی ہیں۔ ان سے منسوب فقہی آراء بھی بتاتی ہیں کہ بصرہ میں ان کا اختیار محض وعظ تک محدود نہ تھا۔
حسن کے نام سے منقول کتابوں کے بارے میں بھی یہی احتیاط لازم ہے۔ ذہبی حسن کے بیٹے عبد اللہ سے ایک روایت محفوظ کرتے ہیں کہ زندگی کے آخر میں حسن نے اپنی کتابیں جمع کروا کر جلانے کا حکم دیا، سوائے ایک ورق کے جس کی روایت کی اجازت دی۔ اس واقعے کی عین وسعت جو بھی رہی ہو، یہ ہر بعد کی کتاب کو جو حسن کے نام سے گردش کرتی ہے براہِ راست ان کے ہاتھ سے محفوظ مکمل تصنیف ماننے سے روکتی ہے۔
ان کے خاندان میں والد یسار اور والدہ خیرہ مضبوط طور پر محفوظ ہیں۔ ان کے بھائی سعید بن ابی الحسن خود ایک معروف بصری راوی تھے۔ بیٹے عبد اللہ بن حسن کا نام بھی براہِ راست سوانحی مواد میں آتا ہے، اور جدید علمی تحقیق ابن سعد کی روایت کی بنیاد پر حسن بصری کے کم از کم تین بیٹوں کا ذکر کرتی ہے۔
حسن کی کرامات کے باب میں لالکائی ایک مشہور غیر معمولی واقعہ محفوظ کرتے ہیں۔ ایک خوارجی بار بار حسن کی مجلس میں آتا اور لوگوں کو اذیت دیتا تھا۔ جب حسن کے ساتھیوں نے انہیں حاکم سے شکایت کرنے کو کہا تو وہ خاموش رہے؛ ایک دوسرے موقع پر انہوں نے دعا کی کہ اللہ، جو اس شخص کے شر کو جانتا ہے، جیسے چاہے انہیں اس سے کافی ہو جائے۔ پھر روایت کہتی ہے کہ وہ شخص مردہ گر پڑا اور اسے اس کے گھر لے جایا گیا، جبکہ بعد میں حسن اسے یاد کر کے روئے۔
اس قصے کی ایک ابتدائی کلاسیکی سند ہے، اس لیے یہ محض بے نام دیرینہ حکایت نہیں، لیکن اس کی دلیل کی حد اہم ہے۔ طریق میں عصام بن زید شامل ہیں جن کی شناخت محدود ہے اور جن کے بارے میں ناقدانہ صورت حال کمزور یا صرف تائید کے ساتھ قابلِ قبول ہے۔ کسی مستند متعدد طرق والی صحیح یا حسن تائید کا ثبوت نہیں ملا۔ اس لیے واقعے کو محدود سندی تائید والی ابتدائی کلاسیکی کرامت کے طور پر محفوظ کرنا چاہیے، نہ کہ صحیح حدیث کے درجے کی ثابت فوری ماورائی موت کے طور پر۔
حسن کی وفات بصرہ میں رجب 110ھ میں ہشام بن عبد الملک کے عہدِ خلافت میں ہوئی۔ کلاسیکی روایات ان کی عمر تقریباً اٹھاسی یا نواسی برس بتاتی ہیں۔ ان کی تدفین کی روایت الزبیر کے اس تاریخی قبرستان سے وابستہ ہے جو اب ان کے نام سے معروف ہے، اور موجودہ تسلیم شدہ مقبرہ ایک دیرینہ مقامی ورثہ جاتی مقام کا حصہ ہے جو محمد بن سیرین سے بھی وابستہ ہے۔ موجودہ معروف قبر کی سطح پر مقام کی شناخت مضبوط ہے، جبکہ عوامی بیانیہ میں خام مختصات شامل نہیں کیے جاتے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
حضرت علیؓ کے ساتھ حسن بصریؒ کا تعلق ان کی تاریخی اور صوفیانہ اہمیت کا بنیادی حصہ ہے۔ رؤیت رجال کے مصادر میں محفوظ ہے؛ سماع پر اختلاف کے باوجود امام سیوطی نے مدنی زمانی قرائن، ام سلمہؓ کے گھرانے سے حسن بصریؒ کی قربت، اور حجاج کے دور میں حضرت علیؓ کا نام ظاہر نہ کرسکنے والی منقول روایت سمیت متعدد دلائل کی بنا پر سماع کو راجح کہا۔ بعد کی کلاسیکی صوفی روایت نے اسی تعلق کو حضرت علیؓ → حسن بصریؒ → حبیب عجمیؒ کی روحانی سند میں محفوظ کیا۔ اس طرح حسن بصریؒ کی شخصیت حدیثی، تاریخی اور صوفی تینوں روایتوں کے سنگم پر کھڑی نظر آتی ہے۔
ان کی اہمیت ان کی فکری قبولیت کی وسعت میں بھی ہے۔ محدثین ان کی شخصی ثقاہت کی قدر کرتے ہوئے مرسل روایات اور تدلیس سے متنبہ کرتے ہیں؛ فقہاء ان کی آراء محفوظ کرتے ہیں؛ مفسرین ان کی تعبیرات نقل کرتے ہیں؛ زہد و تصوف کی روایات انہیں زہد کے بنیادی معلموں میں رکھتی ہیں؛ اور متکلمین ان کے نام سے وابستہ قَدَر کے مواد کے معنی پر بحث کرتے ہیں۔
چونکہ بعد کے بہت سے مکاتب حسن کو اپنا پیش رو بنانا چاہتے تھے، اس لیے وہ ماخذی تنقید کی بہترین مثال بھی ہیں۔ ان کے سیاسی موقف کو ایک نعرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا، ان کی کلامی شناخت بعد کے فرقہ وارانہ خانے بننے سے پہلے کی ہے، اور ان سے منسوب کتابوں و اقوال کو مجموعی طور پر قبول کرنے کے بجائے الگ الگ جانچنا ضروری ہے۔
لالکائی کی روایت کرامات سے متعلق مواد میں بھی اسی ماخذی اصول کی مثال ہے۔ وہ خارجی کے بار بار اذیت دینے کے بعد حسن بصری کی دعا اور اس شخص کی اچانک موت کا واقعہ ایک قدیم سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں، لیکن راویوں کی محدود تائید کے باعث اسے صحیح یا حسن حدیث کے درجے تک نہیں بڑھایا جاتا۔ اسے اسی درجے کے ساتھ محفوظ کرنا کلاسیکی روایت اور اصولِ تحقیق دونوں کے مطابق ہے۔
الزبیر میں حسن بصری قبرستان اور ان کا موجودہ مزار جنوبی عراق میں ان کی یاد کا مضبوط جغرافیائی تسلسل پیش کرتے ہیں۔ بصرہ کی ورثہ جاتی دستاویزات اس مزار کو ایک قدیم تاریخی مقام کے طور پر شناخت کرتی ہیں، اور موجودہ مقام حسن بصری سے منسوب معروف تدفینی جگہ کے طور پر مضبوط طور پر قائم ہے۔
خاندانی روابط
ماخذ
Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna wa-al-Jama'a | Abu al-Qasim al-Lalaka'i | Vol. 9, pp. 232-233, report 166 | https://islamweb.net/ar/library/content/110/257/ | سی اے این ڈی-0161 کا اصل ماخذ؛ خوارجی حسن کی مجلس کو اذیت دیتا ہے، حسن دعا کرتے ہیں اور پھر اچانک موت کی خبر آتی ہےTahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Vol. 6, al-Hasan ibn Abi al-Hasan entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/1287/ | شناخت، والد یسار، والدہ خیرہ، پیدائش کی زمانی ترتیب، روایت پر تنقیدی احتیاط اور وفات
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 4, al-Hasan al-Basri | https://islamweb.net/ar/library/content/60/673/ | شناخت، مدینہ کا بچپن، ام سلمہ سے تعلق، صحابہ سے روابط، علمی مقام اور ماخذی اختلافات
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 4, continuation | https://islamweb.net/ar/library/content/60/674/ | بیٹا عبد اللہ اور حسن کی کتابوں سے متعلق روایت؛ زاہدانہ اقوال
Sunnah.com Narrator Rijal Profile | aggregated classical rijal | al-Hasan al-Basri | https://sunnah.com/narrator/1239 | کلاسیکی رجال کے اقتباسات، ثقاہت، مرسل و تدلیس کی احتیاط، شیوخ اور روایت
Sunnah.com Narrator Rijal Profile | aggregated classical rijal | Khayra, client of Umm Salama | https://sunnah.com/narrator/2762 | والدہ خیرہ کی شناخت؛ حسن اور سعید بطور بیٹے؛ راویہ کی حیثیت
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Sa'id ibn Abi al-Hasan, vol. 10 p. 386 | https://islamweb.net/ar/library/content/1001/2422/ | حسن کے بھائی سعید، والدہ خیرہ اور سعید کا روایتی حلقہ
Tahdhib al-Kamal / rijal extract | Jamal al-Din al-Mizzi | death section, pp. 126-127 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/1287/ | 110ھ میں وفات، رجب کی روایت، عمر کے اختلافات اور ابن سیرین کا ردِ عمل
Encyclopaedia Iranica, Hasan Basri | Christopher Melchert | updated 2017 | https://www.iranicaonline.org/articles/hasan-basri-abu-said-b-abil-hasan-yasar/ | ابن سعد کی سوانح پر جدید ماخذی تنقیدی ترکیب، مشرقی مہمات، قَدَر کا خط، سیاست اور کم از کم تین بیٹے
TDV Islam Ansiklopedisi, Hasan-i Basri | Tahsin Gorgun | 1997 electronic edition | https://islamansiklopedisi.org.tr/hasan-i-basri | فکری میراث، قرآنی اخلاق، کلامی قبولیت اور جدید علمی مراجع
Hasan Basri'nin Kader Risalesi Uzerine Bir Inceleme | Muhit Mert | Hitit University Journal of Divinity Faculty 2/3 (2003), pp. 123-141 | https://dergipark.org.tr/en/pub/hititilahiyat/article/100885 | قَدَر کے خط اور مختلف سنی و معتزلی قبولیت پر علمی بحث
Some Aspects of the Qadar Controversy in Early Islam | Gyorgy Fodor | The Arabist 1 (1988), pp. 57-65 | https://arabist.hu/volumes/volume-1/some-aspects-of-the-qadar-controversy-in-early-islam/ | قَدَر کے تنازع اور حسن کی رسالہ کو ابتدائی کلامی دستاویز کے طور پر زیرِ بحث لاتا ہے
Egyptian Ministry of Awqaf biography | Abd al-Fattah Ghunayma | Hasan al-Basri | https://awkafonline.gov.eg/content-sections/131/3490/ | پیدائش، والدین، تعلیم اور وفات کی جدید ادارہ جاتی ترکیب
Basra Governorate heritage page | Basra Governorate | Mausoleum of Imam Hasan al-Basri | https://albasra.com/165-2/ | موجودہ مزار، الزبیر کا مقام، ابن سیرین سے تعلق اور ورثہ جاتی عمارت
IslamicPedia current shrine registry | current public project registry | IRQ-0016 Tomb of Hasan al-Basri | https://islamicpedia.org/shrines/irq-0016?lang=en | موجودہ مزار کوڈ، الزبیر جغرافیہ، درجہ اے مقام کی توثیق اور نقشہ جاتی قبر کی شناخت
Mapcarta / GeoNames geographic record | open geographic data aggregation | Imam Hassan al-Basri shrine | https://mapcarta.com/13235748 | الزبیر ضلع میں مزار کی شناخت کی آزاد جدید جغرافیائی تائید
Wikidata | open structured geographic record | al-Hasan al-Basri cemetery | https://www.wikidata.org/wiki/Q120870547 | قبرستان کی شناخت اور الزبیر کا مقام
Tahdhib al-Kamal | Jamal al-Din al-Mizzi | Issam ibn Zayd al-Hijazi entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/4963/ | سی اے این ڈی-0161 کے طریق سے متعلق عصام بن زید حجازی کی راویانہ شناخت اور محدود ناقدانہ خاکہ
Hadith narrator synthesis | classical rijal aggregation | Issam ibn Zayd | https://hdith.com/encyclopedia/rawi/p-10531 | ذہبی کے «نامعلوم» اور ابن حجر کے «مقبول» احکام محفوظ کرتا ہے اور سی اے این ڈی-0161 کی محتاط درجہ بندی کی تائید کرتا ہے
Project Central Candidate Dedup Index | internal project registry | CAND-0161 / MIR-000048 | internal Library record | حسن بصری کے واقعے کو PER-000420 سے جوڑتا اور منصوبے کا واقعہ عنوان شناخت کرتا ہے
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | Vol. 6, al-Hasan ibn Abi al-Hasan al-Basri entry, pp. 97-99 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/1287/ | explicitly states Hasan saw Ali ibn Abi Talib, Talha and Aisha, but that sound direct hearing from them is not established; places Hasan at age fourteen during the siege of Uthman
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Jamal al-Din al-Mizzi | same entry, pp. 124-125 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/1287/ | preserves a separate report attributed to Hasan that his unnamed Prophetic reports in the Hajjaj period came through Ali; retained as a disputed transmission and not used to override al-Mizzi's explicit hearing caution
Encyclopaedia Iranica | Christopher Melchert | Hasan Basri | https://www.iranicaonline.org/articles/hasan-basri-abu-said-b-abil-hasan-yasar/ | modern critical synthesis of Hasan's Medinan birth, Tabi'i status, Basran career and source-critical transmission
Later Sufi lineage tradition | Ali ibn Abi Talib -> Hasan al-Basri -> early ascetic masters | included as reception history and spiritual genealogy, not as hadith-critical proof of direct hearing
Tahdhib al-Tahdhib / Abu Zur'a assessment on Hasan al-Basri and Ali | https://ar.wikisource.org/wiki/تهذيب_التهذيب/حرف_الحاء | Hasan saw Ali in Medina; he was about fourteen when Ali was pledged allegiance; Ali then left for Kufa/Iraq and Hasan did not meet him afterward; direct hearing was denied by Abu Zur'a
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | al-Mizzi | Hasan al-Basri entry, report through Yunus ibn Ubayd | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/1287/ | Hasan is reported to have said that under al-Hajjaj he could not openly mention Ali and that some unnamed Prophetic reports came through Ali
Al-Hawi lil-Fatawi: Ithaf al-Firqa bi-Rafw al-Khirqa | Jalal al-Din al-Suyuti | Vol. 2 p. 123 onward | https://www.islamweb.net/ar/library/content/130/488/ | al-Suyuti gathers arguments for Hasan's hearing from Ali and explicitly says affirmation is the stronger view in his judgment; cites Medinan chronology, mosque attendance, Umm Salama household connection and the al-Hajjaj report
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔