کے۔ اے۔ نظامی کی ماخذی تحقیق حضرت فرید الدین مسعود کی ولادت تقریباً ۵۷۱ھ/۱۱۷۵ء میں ملتان کے قریب کہتوال میں جمال الدین سلیمان اور قرصم بی بی کے گھر رکھتی ہے۔ وہ تین بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔
حضرت شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر رحمہ اللہ
نسبی تحقیقی نوٹ — مزید دیکھیں
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
بابا فرید کا وصال اجودھن میں ۶۶۴ھ/۱۲۶۵ء میں ہوا۔ ضلع پاکپتن کی سرکاری تاریخ ۵ محرم ۶۶۴ھ کو یادگاری تاریخ کے طور پر محفوظ کرتی ہے۔ ابتدائی چشتی روایت ان کے آخری ایام کو خاندان، بیٹوں اور حضرت نظام الدین اولیاء تک روحانی تبرکات و امانات کی منتقلی کے ساتھ جوڑتی ہے۔
بابا فرید کو اجودھن میں ان کی اپنی رہائش گاہ میں دفن کیا گیا، اسی مقام پر آج پاکپتن کا مزار قائم ہے۔ «سیر الاولیاء» اور حضرت نظام الدین اولیاء سے منقول یادداشت تدفین کی نمایاں سادگی بیان کرتی ہے: سفید چادر کفن بنی، گھر کی کچی اینٹیں قبر میں استعمال ہوئیں اور بعد میں ایک عقیدت مند نے گنبد تعمیر کیا۔ سلطان فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مقبرے کی مرمت ہوئی۔ موجودہ مرکزی حجرے میں ضلع پاکپتن کی سرکاری تاریخ دوسری قبر کو بابا فرید کے بیٹے شیخ بدر الدین سلیمان کی قبر قرار دیتی ہے۔
سوانح و تاریخی تعارف
قرصم بی بی بابا فرید کی ابتدائی تربیت میں مرکزی مقام رکھتی ہیں۔ چشتی روایت انہیں ان کی پہلی معلمہ قرار دیتی ہے؛ وہ شب بیداری اور عبادت کی پابند خاتون تھیں اور ان کی دینداری نے بچپن ہی سے اپنے بیٹے کے مزاج پر گہرا اثر ڈالا۔ بابا فرید ایک قاضی خاندان کے علمی ماحول میں پروان چڑھے اور بعد میں ملتان میں مزید تعلیم حاصل کی، جو اس عہد کا بڑا علمی مرکز تھا۔ خاندانی تربیت، قرآنی تعلیم اور عبادت نے ان کی آئندہ صوفیانہ زندگی کی بنیاد مضبوط کی۔
ملتان میں بابا فرید کی ملاقات خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمہ اللہ سے ہوئی اور وہ ان کے ہاتھ پر سلسلۂ چشتیہ میں داخل ہوئے۔ بعد میں دہلی اور ہانسی میں قیام کیا اور اپنے پیر کی تربیت سے گہرا تعلق قائم رکھا۔ ابتدائی چشتی ماخذ اس تعلق کو اطاعت، روزہ، ذکر، مطالعہ، خلوت اور پیر سے مسلسل رہنمائی لینے کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ خواجہ قطب الدین کاکی کے وصال کے بعد بابا فرید ان کی چشتی میراث کے بڑے حاملین میں نمایاں ہوئے اور آخرکار اجودھن کو اپنی پختہ روحانی سرگرمی کا مرکز بنایا۔
اجودھن وہ مقام بنا جہاں بابا فرید کا گھر، خانقاہ اور حلقۂ تعلیم ایک دوسرے سے جڑ گئے۔ ان کی جماعت خانہ میں مرید، علما، مسافر، حاجت مند اور فقرا آتے تھے۔ کتابی ماخذ ان کی زندگی کو فقر، نماز، روزہ، مہمان نوازی اور بے طلب آنے والے عطیات کی فوری تقسیم سے جوڑتے ہیں۔ وہ سادہ رہائش کو پسند کرتے اور وسائل کو درویشوں اور مہمانوں پر خرچ کرتے تھے؛ یوں ان کی روزمرہ زندگی میں روحانی مجاہدہ اور خدمتِ خلق ایک ہی تربیتی نظام کے دو رخ بن گئے۔
ابتدائی چشتی روایت بابا فرید کو ایک بڑے گھرانے کے سربراہ کے طور پر بھی دکھاتی ہے۔ «سیر الاولیاء» اور «خیر المجالس» میں ان کی دو یا تین ازواج کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ وہ گھریلو معاملات میں عدل و مساوات کا خیال رکھتے تھے۔ اسی گھرانے کے آٹھ بچوں کے نام امیر خرد نے محفوظ کیے ہیں: پانچ بیٹے—خواجہ نصیر الدین، خواجہ شہاب الدین، شیخ بدر الدین سلیمان، شیخ نظام الدین اور شیخ یعقوب—اور تین بیٹیاں—بی بی مستورہ، بی بی شریفہ اور بی بی فاطمہ۔
خواجہ نصیر الدین، بابا فرید کے بڑے بیٹے، عبادت اور کھیتی کے ذریعے رزق حاصل کرنے کے لیے معروف تھے۔ ان کے بیٹے شیخ بایزید نے خاندانی دینداری کو جاری رکھا، اور بایزید کے بیٹے شیخ کمال الدین بعد میں دھار میں آباد ہوئے اور حضرت نظام الدین اولیاء کے مرید و خلیفہ کی حیثیت سے وہاں چشتی تعلیم پھیلائی۔ دوسرے بیٹے خواجہ شہاب الدین جید عالم تھے، بابا فرید کی جماعت خانہ میں رہتے اور حضرت نظام الدین اولیاء سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔
تیسرے بیٹے شیخ بدر الدین سلیمان پاکپتن کے خاندانی تسلسل میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ بابا فرید کے خاندان نے انہیں سجادہ پر بٹھایا، جس سے روحانی خلافت کے ساتھ ایک خاندانی تولیتی سلسلہ بھی قائم ہوا۔ بدر الدین کے بیٹے شیخ علاء الدین نے جانشینی کی اور فریدی خاندان کے بڑے بزرگ بنے۔ علاء الدین کے بیٹوں میں معز الدین اور عالم الدین شامل تھے؛ معز الدین کے بیٹے افضل الدین فضیل کے بعد منور اور سعد الدین کی نسل چلی، جبکہ عالم الدین کے بیٹے مظہر الدین نے بھی بڑا دینی منصب سنبھالا۔ بدر الدین سلیمان کی اولاد کی شاخیں اجودھن، گجرات اور دکن تک پھیلیں۔
بابا فرید کے چوتھے بیٹے شیخ نظام الدین اپنے والد کے محبوب بیٹوں میں شمار ہوتے تھے، شجاعت اور عملی بصیرت کے لیے مشہور تھے اور سلطان غیاث الدین بلبن کی فوج میں خدمت کی۔ ان کے بیٹے خواجہ ابراہیم کا نکاح امیر خرد کے خاندان میں ہوا اور ابراہیم کے بیٹے خواجہ عزیز الدین نے حضرت نظام الدین اولیاء کی جماعت خانہ میں تربیت پائی۔ سب سے چھوٹے بیٹے شیخ یعقوب نے بدر الدین اسحاق سے قرآن پڑھا، زاہدانہ زندگی اختیار کی اور ان کے بیٹوں میں خواجہ عزیز الدین شامل تھے، جنہیں بعد میں حضرت نظام الدین اولیاء نے دیوگیر کی طرف روانہ کیا۔
بابا فرید کی بیٹیاں بھی فریدی خاندان کی تاریخ میں نمایاں ہیں۔ بی بی مستورہ عبادت گزار تھیں اور ان کے دو بیٹے خواجہ عزیز الدین صوفی اور خواجہ کبیر الدین تھے، جن دونوں نے حضرت نظام الدین اولیاء کے حلقے میں تربیت پائی؛ عزیز الدین کے بیٹے قطب الدین حسن کو بعد میں حضرت نصیر الدین چراغ دہلی سے خلافت نامہ ملا۔ بی بی شریفہ کی دینداری کو بابا فرید بہت بلند مقام دیتے تھے۔ بی بی فاطمہ کا نکاح بابا فرید کے خاص مرید شیخ بدر الدین اسحاق سے ہوا؛ ان کے دو بیٹے خواجہ محمد امام اور خواجہ موسیٰ تھے، دونوں نے حضرت نظام الدین اولیاء کی سرپرستی میں تعلیم پائی اور محمد امام کو ان سے روحانی اجازت بھی ملی۔
یوں بابا فرید کا خاندانی شجرہ سلسلۂ چشتیہ کے روحانی نقشے کے ساتھ گہرائی سے جڑ گیا۔ نسبی اولاد پاکپتن کے مزار اور مختلف علاقائی مراکز سے وابستہ رہی، جبکہ کئی رشتہ دار دہلی اور دکن کے چشتی حلقوں میں داخل ہوئے۔ اسی کے ساتھ بابا فرید نے ایسے روحانی وارث بھی تیار کیے جن کا تعلق خون کے رشتے سے نہیں تھا۔ ابتدائی چشتی روایت میں نجیب الدین محمد متوکل، بدر الدین اسحاق، جمال الدین ہانسوی، نظام الدین اولیاء، علاء الدین علی صابر، شیخ عارف اور فخر الدین اصفہانی نمایاں نام ہیں۔
حضرت نظام الدین اولیاء بابا فرید کے سب سے مؤثر روحانی جانشین بنے۔ اجودھن کے ان کے سفر تعلیم، خدمت اور روحانی تربیت کا مجموعہ تھے؛ ابتدائی چشتی روایت میں قرآن کی تعلیم اور «عوارف المعارف» کے مطالعے کو بھی اس تعلق کا حصہ بتایا گیا ہے۔ بابا فرید کی اجازت و خلافت کے ذریعے اجودھن کی چشتی روایت دہلی پہنچی، جہاں غیاث پور کی خانقاہ سلطنتِ دہلی کے بڑے صوفی مراکز میں بدل گئی۔ اس استاد و شاگرد کے سلسلے نے بابا فرید کے اثر کو پنجاب سے بہت دور تک پہنچایا۔
بابا فرید رحمہ اللہ کی خلافت کے بارے میں ایک مشہور روایت کو بھی اصل ماخذ کے مطابق سمجھنا ضروری ہے۔ کے۔ اے۔ نظامی نے «سیر الاولیاء» کے حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا ہے جس میں بابا فرید نے پہلے «نظام» پکارا تو حضرت نظام الدین اولیاء نے جواب دیا، مگر بابا فرید نے فرمایا کہ ان کی مراد ان کا اپنا بیٹا شیخ نظام الدین ہے۔ کچھ دیر بعد انہوں نے حضرت نظام الدین اولیاء کو بلایا اور مفہوم یہ بیان ہوا: «مسعود اپنے بیٹے نظام کو نوازنا چاہتا تھا، مگر اللہ تمہیں نوازنا چاہتا ہے۔» کے۔ اے۔ نظامی اس روایت کو ایک مخصوص روحانی عنایت کے طور پر سمجھتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ حضرت نظام الدین اولیاء کو مرکزی خلافت اس سے پہلے باقاعدہ غور و انتخاب کے بعد دی جاچکی تھی۔ اسی سلسلے میں بابا فرید نے اپنے حقیقی بیٹے کو «نان کا بیٹا» اور حضرت نظام الدین اولیاء کو «جان کا بیٹا» قرار دینے والی مشہور تعبیر بھی استعمال کی۔ اس واقعے میں مذکور «نظام» بابا فرید کے صاحبزادے شیخ نظام الدین ہیں؛ امیر خسرو کی عظیم نسبت اس کے بعد حضرت نظام الدین اولیاء کی مریدی اور محبت کے ذریعے سامنے آتی ہے۔
بابا فرید رحمہ اللہ کی روحانی میراث کا ایک نہایت اہم ادبی و ثقافتی تسلسل حضرت امیر خسرو دہلوی رحمہ اللہ تک حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ کے ذریعے پہنچا۔ محمد وحید مرزا کی مستند سوانح «دی لائف اینڈ ورکس آف امیر خسرو» کے مطابق امیر خسرو ۶۷۱ھ میں حضرت نظام الدین اولیاء کے باقاعدہ مرید ہوئے۔ اس وقت بابا فرید رحمہ اللہ کا وصال ہوچکا تھا، اس لیے امیر خسرو کی نسبت فریدی فیض سے حضرت نظام الدین اولیاء کے واسطے سے قائم ہوئی۔ یہی واسطہ بہت اہم ہے: بابا فرید نے نظام الدین اولیاء کو اجودھن میں تربیت و خلافت دی، اور اسی نظامی چشتی روایت نے بعد میں امیر خسرو جیسے شاعر، عالم اور موسیقی و سماع کے بڑے نمائندے کو اپنی آغوش میں لیا۔ وحید مرزا لکھتے ہیں کہ حضرت نظام الدین اولیاء نے خسرو کو خاص محبت دی، انہیں «ترک اللہ» اور اپنا «ترک» کہا، اور ان کی حاضر جوابی، ذہانت اور روحانی محبت کے باعث وہ خانقاہ کے نہایت مقرب اور باقاعدہ حاضر رہنے والے مریدوں میں شمار ہوئے۔
بابا فرید کی تعلیم سخت عبادت کو خدمتِ انسان کے ساتھ جوڑتی تھی۔ کتابی روایت ان کے روزوں، ذکر، سماع، تواضع، صبر اور خانقاہ کو ذاتی جمع و ذخیرہ سے محفوظ رکھنے کے مزاج کا ذکر کرتی ہے۔ ان کے حلقے میں مختلف سماجی طبقات کے لوگ آتے، عطیات درویشوں اور محتاجوں میں تقسیم ہوتے اور مستقل سیاسی سرپرستی کے بجائے اخلاقی خودمختاری پر زور رہتا۔ یہی طرز بعد کے شمالی ہند کے ابتدائی چشتی مزاج کی نمایاں پہچان بنا۔
ان کی ادبی یادداشت بھی غیر معمولی طور پر پائیدار ثابت ہوئی۔ امیر خرد بابا فرید کی مقامی ملتان و پنجاب کی زبان میں شعر کہنے کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ سکھ مذہبی صحیفے میں فرید کے نام سے ایک بڑا شعری ذخیرہ محفوظ ہے۔ ان اشعار کی زبان میں پنجابی ماحول کے ساتھ اسلامی اخلاقی اور صوفیانہ الفاظ جمع ہوتے ہیں، جس نے فرید کے نام کو پنجابی روحانی ادب کی تاریخ اور مختلف مذہبی برادریوں کی مشترک ادبی یادداشت میں مرکزی مقام دیا۔
«گنج شکر» یعنی شکر کے خزانے کا لقب ان کی عوامی شناخت سے ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔ کلاسیکی اور بعد کی چشتی کتابوں میں شکر سے متعلق کئی روایات محفوظ ہیں: ایک روایت سخت روزے اور مجاہدے کے دوران مٹھاس کے ظہور سے متعلق ہے، دوسری ان کی والدہ کی طرف سے بچپن میں نماز کی ترغیب کے ساتھ شکر رکھنے سے، اور ایک روایت سفر کرنے والے تاجروں کے واقعے سے وابستہ ہے۔ ان کہانیوں میں مٹھاس فقر، مجاہدہ، الٰہی عنایت اور بابا فرید کی نرم روحانی کشش کی علامت بن جاتی ہے۔
آخری ایام میں ان کا خاندان اور روحانی حلقہ دونوں ان کے قریب رہے۔ ابتدائی چشتی روایت ان کے بیٹے شیخ نظام الدین اور مرید حضرت نظام الدین اولیاء دونوں کے لیے محبت اور توجہ کو بیان کرتی ہے۔ ۶۶۴ھ/۱۲۶۵ء میں اجودھن میں وصال کے بعد گھر والوں نے ابتدا میں جنازہ شہر سے باہر قبرستان کی طرف لے جانا چاہا، مگر ان کے بیٹے نظام الدین نے خاندان کو واپس لانے پر آمادہ کیا اور بابا فرید کو اسی رہائش گاہ میں دفن کیا گیا جہاں آج مزار قائم ہے۔ اسی روایت میں کفن کے لیے سفید چادر، گھر کی کچی اینٹوں سے قبر کی تیاری اور بعد میں ایک عقیدت مند کے ہاتھوں گنبد کی تعمیر کا ذکر ہے؛ بعد کے زمانے میں سلطان فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مقبرے کی مرمت بھی ہوئی۔
بہشتی دروازے کی روایت کو پاکپتن کی قدیم فریدی خانقاہی تاریخ کے اندر سمجھنا زیادہ درست ہے۔ علی اصغر چشتی کی «جواہرِ فریدی»، جو ۱۶۲۳ء میں مرتب ہوئی، اس دروازے کے قدیم ترین نام زد حوالوں میں شمار ہوتی ہے۔ محمد مبین کی تحقیق «پاکپتن میں چشتی مزار اور چشتیوں کا ارتقا» کے مطابق «جواہرِ فریدی» میں یہ روایت محفوظ ہے کہ حضرت بابا فرید رحمہ اللہ کی تدفین کے موقع پر حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کے جلیل القدر اصحاب کی روحانی زیارت ہوئی اور اس دروازے سے گزرنے والوں کے لیے تقدیس و نجات کی بشارت منقول ہوئی۔ ایم۔ اکرام چغتائی کی مرتبہ کتاب «بابا جی: حیات و تعلیماتِ فرید الدین گنجِ شکر»، سنگِ میل، ۲۰۰۶ء، ص ۵۰۳، سے بعد کی علمی تحقیقات یہ مفہوم نقل کرتی ہیں: «اے نظام الدین! جو اس دروازے سے گزرے گا وہ نجات پائے گا۔» اسی نسبت سے اس جنوبی دروازے کی روحانی شہرت «بہشتی دروازہ» کے نام سے مضبوط ہوئی۔ اس عبارت کو حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ کے روحانی مشاہدے سے منقول فریدی روایت کے طور پر بیان کرنا چاہیے۔ «جواہرِ فریدی» کی روایت یہ بھی محفوظ کرتی ہے کہ حضرت شیخ بدر الدین سلیمان کے عہدِ دیوانی میں سالانہ عرس کے موقع پر جنوبی دروازہ کھولنے کی رسم دستار بندی، سماع اور لنگر جیسی بڑی مزار رسومات کے ساتھ باقاعدہ ہوچکی تھی۔
موجودہ پاکپتن مزار اسی خاندانی اور روحانی یاد کو زندہ ادارے کی صورت میں جاری رکھتا ہے۔ پنجاب اوقاف بابا فرید کے مزار، نوری دروازہ اور بہشتی دروازہ کی سرکاری شناخت رکھتا ہے، جبکہ ضلع پاکپتن کی سرکاری تاریخ مرکزی حجرے کی دوسری قبر کو ان کے بیٹے بدر الدین سلیمان کی قبر بتاتی ہے۔ سالانہ محرم عرس، فریدی تولیتی روایت اور مسلسل زیارت کا سلسلہ قرونِ وسطیٰ کے اجودھن کے گھرانے کو آج کے پاکپتن کی مقدس جغرافیہ سے جوڑتا ہے۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
ان کی خاندانی تاریخ بھی اس لیے اہم ہے کہ یہاں جانشینی کی دو صورتیں ساتھ ساتھ دکھائی دیتی ہیں۔ روحانی میراث حضرت نظام الدین اولیاء جیسے مریدوں کو پہنچی، جبکہ نسبی گھرانہ بدر الدین سلیمان اور بعد کے سجادہ نشینوں کے ذریعے جاری رہا۔ روحانی فرزندان اور حقیقی اولاد کا یہی امتزاج صدیوں تک پاکپتن کی تاریخ پر اثرانداز ہوا۔
«سیر الاولیاء» میں محفوظ پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں واضح کرتے ہیں کہ فریدی نیٹ ورک صرف مرد تولیتی شاخ تک محدود نہیں تھا۔ بی بی مستورہ، بی بی شریفہ اور بی بی فاطمہ جیسی بیٹیوں نے گھرانے کو دوسرے علمی اور چشتی خاندانوں سے جوڑا، جبکہ ان کی اولاد نے حضرت نظام الدین اولیاء اور حضرت نصیر الدین چراغ دہلی سے تعلیم و اجازت حاصل کی۔ یوں خواتین کی شاخ بھی فریدی یادداشت کی منتقلی میں حقیقی کردار رکھتی ہے۔
اجودھن ایک پائیدار سماجی ادارہ بھی بن گیا۔ فقر، مہمان نوازی، تقسیم اور ذاتی سادگی کے مزاج نے ایسی خانقاہ پیدا کی جہاں وسیع عوام کو تعلیم، کھانا، رہنمائی اور پناہ ملتی تھی۔ بعد کی فریدی اولاد نے مزار مرکز ادارے کو جاری رکھا، جس کی اخلاقی و سماجی حیثیت مقامی معاشرے، علاقائی سیاست اور پنجاب کی مقدس جغرافیہ تک پھیلی۔
ان کی ادبی میراث نے بابا فرید کو رسمی خانقاہی تصوف سے بھی آگے پہنچایا۔ پنجاب سے وابستہ فریدی مقامی شعری ذخیرہ سکھ صحیفے میں داخل ہوا اور مشترک پنجابی ادبی ورثے کا حصہ بنا۔ اس طرح فرید کا نام مسلم صوفی تاریخ، پنجابی ادب اور مختلف مذہبی برادریوں کی روحانی یادداشت میں بیک وقت اہم ہوگیا۔
بہشتی دروازہ پاکپتن کے مزار کی تاریخ میں ایک اہم مثال ہے کہ کس طرح فریدی روحانی یاد، خاندانی تولیت اور سالانہ عرس ایک مستقل زیارتی رسم میں جمع ہوئے۔ علی اصغر چشتی کی «جواہرِ فریدی» کے بارے میں جدید علمی مطالعات جنوبی دروازے کے سالانہ افتتاح کو شیخ بدر الدین سلیمان کے عہد سے جوڑتے ہیں، جبکہ حضرت نظام الدین اولیاء رحمہ اللہ سے منسوب روحانی مشاہدے نے اسے امان و نجات کی علامتی معنویت دی۔ رچرڈ ایم۔ ایٹن نے بھی پاکپتن کے مزار کی تاریخ میں بہشتی رسم کو روحانی نجات کی تصوراتی درجہ بندی اور دیوان کے رسمی کردار کے ایک نمایاں اظہار کے طور پر بیان کیا ہے۔
امیر خسرو کی موجودگی بابا فرید کی میراث کے ادبی پھیلاؤ کو سمجھنے میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ محمد وحید مرزا کے مطابق حضرت نظام الدین اولیاء کی خانقاہ میں ہر سال پانچ محرم کو بابا فرید کا عرس منایا جاتا اور سماع کی مجلسوں میں امیر خسرو، امیر حسن اور سعدی کی غزلیں پڑھی جاتی تھیں۔ یوں خسرو صرف نظامی خانقاہ کے محبوب شاعر نہ رہے بلکہ ان کا کلام خود بابا فرید کی سالانہ یاد کے ساتھ بھی جڑ گیا۔ حضرت نظام الدین اولیاء کی یہ محبت بھی منقول ہے کہ وہ دوسروں سے تھک جاتے مگر خسرو سے نہیں؛ اسی روحانی قرب نے فریدی-نظامی تصوف کو فارسی و ہندوی شاعری، سماع اور مشترک ہندوستانی ثقافت میں غیر معمولی قوت دی۔
پاکپتن کا مزار ان تمام دھاروں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے: خاندان، روحانی جانشینی، عمارت، زیارت اور موجودہ سرکاری انتظام۔ بدر الدین سلیمان کی قبر کے ساتھ بابا فرید کا مدفن، نوری و بہشتی دروازے، محرم کا عرس اور پنجاب اوقاف کی مسلسل شناخت قرونِ وسطیٰ کے اس گھرانے کو جدید شہر میں زندہ ادارے کی صورت دیتے ہیں۔
خاندانی روابط
ماخذ
سیر الاولیاء | امیر خرد، سید محمد بن مبارک کرمانی | محبِ ہند پریس، دہلی، ۱۳۰۲ھ/۱۸۸۵ء | ابتدائی چشتی سوانح؛ بابا فرید کے خاندان و اولاد بالخصوص ص ۱۸۶–۲۰۳؛ تدفین ص ۸۹–۹۱فوائد الفؤاد | امیر حسن سجزی، ملفوظاتِ حضرت نظام الدین اولیاء | اوائل چودھویں صدی، بعد کی محققہ طبعات | بابا فرید کی تعلیم، آخری ایام اور تدفین سے متعلق براہِ راست چشتی یادداشت
خیر المجالس | حمید قلندر، ملفوظاتِ حضرت نصیر الدین چراغ دہلی | محققہ تدوین کے۔ اے۔ نظامی | بابا فرید کا گھرانہ، ازواج اور چشتی روایت
سیر العارفین | جمالی، حامد بن فضل اللہ | رضوی پریس، دہلی، ۱۳۱۱ھ/۱۸۹۳ء | خاندانی آغاز اور ابتدائی چشتی تذکرے
اخبار الاخیار | شیخ عبد الحق محدث دہلوی | کلاسیکی ہند اسلامی تذکرہ | بابا فرید، اولاد، مریدین اور چشتی حلقے
سیر الاقطاب | اللہ دیا چشتی | نول کشور ایڈیشن، ۱۹۱۳ء | بابا فرید کے روایتی پدری فاروقی نسب کا شجرہ
زندگی و زمانۂ شیخ فرید الدین گنج شکر | کے۔ اے۔ نظامی | پہلی اشاعت ۱۹۵۵ء، ادارۂ ادبیاتِ دہلی | ماخذی سوانح؛ خاندان ص ۱۱–۱۵ و ۳۹–۴۰؛ اولاد ص ۵۹–۶۶؛ آخری ایام ص ۵۶–۵۸
سنز آف بریڈ اینڈ سنز آف سول: بابا فرید کی نسبی و روحانی اولاد اور مسئلۂ جانشینی | تنویر انجم | «صوفی ازم اِن پنجاب»، ۲۰۰۹ء، ص ۶۳–۷۹ | نسبی اولاد، روحانی خلفا اور مزار کی جانشینی
بابا فرید کے مزار کی سیاسی و مذہبی اتھارٹی | رچرڈ ایم۔ ایٹن | «مورل کنڈکٹ اینڈ اتھارٹی»، ۱۹۸۴ء، ص ۳۳۳–۳۵۶ | مزار، خاندان اور پاکپتن کی طویل ادارہ جاتی تاریخ
قرونِ وسطیٰ کے پنجاب کی تشکیل | سرِندر سنگھ | منوہر/روٹلیج | چشتی تربیت، خانقاہ، مریدی اور قرونِ وسطیٰ کا پنجاب
محکمۂ اوقاف و مذہبی امور پنجاب | مزار حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر، پاکپتن | https://auqaf.punjab.gov.pk/shrine-baba-farid | موجودہ سرکاری مزار شناخت، دروازے اور دو قبریں
ضلع پاکپتن کی سرکاری تاریخ | https://pakpattan.punjab.gov.pk/our-history | مزار، محرم عرس اور بدر الدین سلیمان کی قبر کی شناخت
جواہرِ فریدی | علی اصغر چشتی | تالیف ۱۶۲۳ء؛ لاہور ایڈیشن ۱۸۸۳–۸۴ء، ص ۲۹۸–۳۰۰ | بہشتی دروازے کا قدیم نام زد ذکر اور شیخ بدر الدین سلیمان کے عہد میں جنوبی دروازے کے سالانہ افتتاح کی رسم
پاکپتن میں چشتی مزار اور چشتیوں کا ارتقا | محمد مبین | کتاب «ڈیوشنل اسلام اِن کنٹیمپرری ساؤتھ ایشیا»، مرتبین مشیل بواں و ریمی دلاج، روٹلیج، ۲۰۱۶ء، ص ۱۱۹–۱۳۷، بالخصوص ص ۱۲۳–۱۳۵ اور حاشیہ ۱۵ | «جواہرِ فریدی» کو بہشتی دروازے کا پہلا ذکر قرار دیتا اور حضرت نظام الدین اولیاء کے مشاہدے کی روایت نقل کرتا ہے
بابا جی: حیات و تعلیماتِ فرید الدین گنجِ شکر | مرتب ایم۔ اکرام چغتائی | سنگِ میل پبلیکیشنز، لاہور، ۲۰۰۶ء، ص ۵۰۳ | بعد کی علمی تحقیقات میں حضرت نظام الدین اولیاء سے منسوب «جو اس دروازے سے گزرے گا وہ نجات پائے گا» کی عبارت کا حوالہ
بابا فرید کے مزار کی سیاسی و مذہبی حیثیت | رچرڈ ایم۔ ایٹن | کتاب «مورل کنڈکٹ اینڈ اتھارٹی»، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا پریس، ۱۹۸۴ء، ص ۳۳۳–۳۵۶ | بہشتی رسم، مزار کی روحانی درجہ بندی اور زیارتی مفہوم کا تاریخی تجزیہ
دی لائف اینڈ ورکس آف امیر خسرو | محمد وحید مرزا | یونیورسٹی آف پنجاب کے لیے شائع، بیپٹسٹ مشن پریس، کلکتہ، ۱۹۳۵ء، بالخصوص ص ۱۱۲–۱۲۰ | امیر خسرو کی ۶۷۱ھ میں حضرت نظام الدین اولیاء سے باقاعدہ بیعت، «ترک اللہ/میرا ترک» کی نسبت، خانقاہی قربت، بابا فرید کے پانچ محرم عرس میں خسرو کی غزلوں کا سماع اور مرشد و مرید کی محبت
دی لائف اینڈ ٹائمز آف شیخ نظام الدین اولیاء | کے۔ اے۔ نظامی | ادارۂ ادبیاتِ دہلی، ۱۹۹۱، ص ۴۸–۵۰ | حضرت نظام الدین اولیاء کی خلافت، «مسعود اپنے بیٹے نظام کو نوازنا چاہتا تھا، مگر اللہ تمہیں نوازنا چاہتا ہے» والی روایت اور اس کی ماخذی تشریح؛ اصل حوالہ «سیر الاولیاء»
سیر الاولیاء | امیر خرد | متعلقہ روایت و نسبی شاخیں؛ کے۔ اے۔ نظامی کی حوالہ دہی میں ص ۱۱۶–۱۲۲ اور خاندانی بحث کے متعلقہ صفحات | حضرت نظام الدین اولیاء کی خلافت و بابا فرید کے صاحبزادے شیخ نظام الدین سے متعلق روایت
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔