حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی قطعی تاریخِ پیدائش معتبر ابتدائی مآخذ میں محفوظ نہیں۔ ان کا تعلق یثرب، بعد میں مدینہ منورہ، کے خزرجی بنو نجار سے مضبوطی سے ثابت ہے، لیکن کسی عددی سالِ پیدائش کو قطعی تاریخی تاریخ نہیں بنایا گیا۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
Abu Ayyub al-Ansari was Khalid ibn Zayd ibn Kulayb ibn Tha'labah ibn Abd Awf ibn Ghanm ibn Malik ibn al-Najjar, an Ansari Companion of the Khazraj and Banu al-Najjar of Medina. His father was Zayd ibn Kulayb, while a strong biographical form identifies his mother as Hind, also called Zahra, bint Sa'd ibn Qays. His wife, Umm Ayyub al-Ansariyya bint Qays ibn Sa'd, was also a Companion, and the Prophet stayed in their household after the Hijrah. Rijal sources directly preserve at least one son, Khalid ibn Abi Ayyub al-Ansari, as a transmitter from his father, and one daughter, Umayrah bint Abi Ayyub al-Ansariyya. Surviving evidence does not close a complete and uniform roster of all his children, so these directly attested names are preserved without presenting them as an exhaustive family list.
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بڑھاپے میں بھی اسلامی لشکروں کے ساتھ سفر جاری رکھا اور قسطنطنیہ کے محاصرے سے متعلق آخری مہم میں بیمار ہو کر وفات پائی۔ موجودہ علمی خلاصوں میں ۴۹ ہجری، مطابق ۶۶۹ء، معروف قول ہے، جبکہ کلاسیکی روایات ۵۰، ۵۱، ۵۲ اور ۵۵ ہجری کے اقوال بھی محفوظ کرتی ہیں۔ ان کی آخری وصیت کے بارے میں ابن سعد اور دیگر قدیم سوانحی روایات کا مرکزی مفہوم یہ ہے کہ وفات کے بعد ان کے جسد کو دشمن کی سرزمین میں جہاں تک ممکن ہو آگے لے جا کر دفن کیا جائے۔ بعد کے معروف مصادر اس تدفین کو قسطنطنیہ کی فصیل کے قریب قرار دیتے ہیں۔ وفات کے سال میں ۵۰ھ، ۵۱ھ، ۵۲ھ اور ۵۵ھ کے اقوال ملتے ہیں، اس لیے یہاں کسی ایک متنازع تاریخ یا لشکری تفصیل کو قطعی نہیں بنایا گیا۔
کلاسیکی سوانحی اور تاریخی مآخذ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی تدفین قسطنطنیہ کی فصیل کے قریب بیان کرتے ہیں۔ قرونِ وسطیٰ کے زائر علی بن ابی بکر ہروی نے بھی عثمانی فتح سے بہت پہلے ان کی قبر کی زیارت درج کی، جس سے اس مقام کی تدفینی یادداشت کی قدامت واضح ہوتی ہے۔ آج ایوب سلطان، استنبول میں موجود مسجد و مزار کا مجموعہ اسی تاریخی قبر کی معروف زیارتی روایت کا موجودہ مرکز ہے۔ عثمانی روایت ۱۴۵۳ء کے بعد عین مقام کی تعیین کو آق شمس الدین سے جوڑتی ہے اور سلطان محمد ثانی کے عہد میں یہاں مسجد و مزار قائم ہوا۔ موجودہ نقشہ جاتی نقطہ اسی فعال مزار کی درست موجودہ جگہ دکھاتا ہے؛ اسے ساتویں صدی کی اصل قبر کی آزاد آثارِ قدیمہ کی قطعی دلیل نہیں سمجھا گیا۔
سوانح و تاریخی تعارف
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ ہجرت سے پہلے اسلام قبول کیا اور ۶۲۲ء میں بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شریک ہوئے۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ بدر، احد، خندق، خیبر، فتح مکہ، حنین اور عہدِ نبوی کی دوسری بڑی مہمات میں شریک رہے۔ سوانحی مآخذ انہیں نبوی جماعت کے کاتبین میں بھی یاد کرتے ہیں اور علمی مقام کے باعث دینی مسائل میں ان سے فتویٰ پوچھا جاتا تھا؛ یوں ان کی زندگی میں جہاد، علم اور اجتماعی خدمت جمع تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کی اونٹنی بنو نجار کے محلے میں بیٹھی اور مسجد و حجرات کی تعمیر کے دوران تقریباً سات ماہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کا گھر آپ کی قیام گاہ رہا۔ صحیح مسلم میں گھر والوں کی اس تشویش کا ذکر ہے کہ وہ بالائی منزل پر ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے قیام فرمائیں؛ حضرت ابو ایوب اور ام ایوب رات کو احتیاط سے ایک طرف سمٹ گئے اور ادب سے درخواست کی کہ آپ اوپر منتقل ہوجائیں۔ یہ گھر تعلیمِ اسلام، محتاج مہاجرین کی ضیافت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا مرکز بھی بنا، اسی نسبت سے بعد کے عثمانی ماحول میں انہیں مہماندارِ نبی کہا گیا۔
اسی صحیح روایت میں کھانے کے متعلق ان کی باریک توجہ بھی محفوظ ہے۔ وہ دیکھتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کے کس حصے سے تناول فرمایا اور محبت سے وہیں سے کھاتے۔ ایک مرتبہ لہسن والا کھانا بغیر تناول واپس آیا تو آپ نے سمجھایا کہ آپ ان ہستیوں سے گفتگو فرماتے ہیں جن سے ابو ایوب گفتگو نہیں کرتے، جبکہ ان کے لیے وہ کھانا جائز ہے۔ اس واقعے میں حلال غذا اور صاحبِ وحی کے خصوصی حالات کے درمیان ایک عملی فرق واضح ہوتا ہے۔
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ علمِ دین اور حدیث کی نہایت محتاط روایت کے لیے معروف تھے۔ بعد کے محدثین ان سے تقریباً ایک سو پچاس روایات شمار کرتے ہیں، اگرچہ طریقۂ شمار سے تعداد میں فرق ہوسکتا ہے، اور ان سے صحابہ اور بڑے تابعین نے روایت کی۔ ان کی احتیاط کی مشہور مثال یہ ہے کہ وہ مدینہ سے مصر تک صرف ایک روایت حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سننے گئے، کیونکہ ان کے خیال میں اس خبر کو انہی دونوں نے محفوظ کیا تھا۔ ان کی زندگی براہِ راست سماع اور تحقیقِ روایت کی ابتدائی علمی روایت کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ فتاویٰ اور تعلیم کے ذریعے بھی وہ صحابہ میں دینی رہنمائی کا معتبر ذریعہ تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی ان کی خدمت جاری رہی۔ انہوں نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ادوار کی مہمات میں حصہ لیا، شام، فلسطین اور مصر کی جانب لشکروں میں شریک ہوئے اور ۲۸ھ مطابق ۶۴۸–۶۴۹ء کی قبرص مہم میں بھی ان کی شرکت منقول ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرے کے بحران میں، جب خلیفہ کو نماز کی امامت سے روکا گیا، انہوں نے کچھ مدت لوگوں کو نماز پڑھائی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں ان کی حمایت کی اور سوانحی روایات کے مطابق حضرت علی عراق گئے تو انہیں مدینہ میں اپنا قائم مقام چھوڑا۔ یہ واقعات ان کی طویل فوجی، شہری اور دینی ذمہ داری کو ظاہر کرتے ہیں۔
وہ ذاتی اقتدار کی طلب کے بغیر عوامی عمل کی اصلاح کے لیے معروف تھے۔ سوانحی مآخذ میں ہے کہ انہوں نے ایسے والیوں کو متنبہ کیا جو نماز کو پسندیدہ وقت سے مؤخر کرتے تھے اور واضح کیا کہ قیادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کی تنقید نسب یا جماعت کے بجائے عمل سے متعلق ہوتی تھی۔ مصر تک ایک حدیث کے لیے سفر بھی یہی اصول دکھاتا ہے کہ منصب تحقیق کی ضرورت ختم نہیں کرتا اور بڑھتی عمر ذمہ دار گفتگو سے معاف نہیں کرتی۔
قسطنطنیہ کی ایک مہم میں ایک مسلمان مجاہد رومی صفوں کے اندر دور تک داخل ہوا تو بعض لوگوں نے سورۂ بقرہ کی آیت ایک سو پچانوے، اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو، اس کے خلاف پیش کی۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ یہ آیت انصار کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب اسلام مضبوط ہوجانے کے بعد انہوں نے جہاد سے رک کر اپنے نظرانداز شدہ مال و باغات کی اصلاح کا سوچا تھا۔ سنن ابی داود اور جامع ترمذی نے اس تفسیر کو مضبوط درجے کے ساتھ محفوظ کیا ہے۔ آیت میں ان کا نام نہیں، لیکن ان کی وضاحت اس کے ابتدائی سیاق کی اہم روایت ہے۔
بہت بڑھاپے میں حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ قسطنطنیہ کی طرف جانے والی ایک ابتدائی مسلم مہم میں شریک ہوئے اور مہم کے دوران بیمار ہوگئے۔ قدیم سوانحی مآخذ ان کی وفات کے سال میں مختلف اقوال نقل کرتے ہیں: ۵۰ھ، ۵۱ھ، ۵۲ھ اور ۵۵ھ؛ ان میں ۵۲ھ کا قول متعدد معروف سوانحی مصادر میں نمایاں ہے، اس لیے کسی ایک تاریخ کو بلا اختلاف قطعی قرار دینا مناسب نہیں۔ نسبتاً مضبوط مشترک روایت یہ ہے کہ بیماری کی شدت میں انہوں نے اپنے ساتھیوں سے وصیت کی کہ وفات کے بعد ان کے جسد کو دشمن کی سرزمین میں جہاں تک لشکر آگے لے جاسکے لے جائیں اور وہیں دفن کریں۔ قدیم و بعد کے سوانحی مصادر ان کی تدفین کو قسطنطنیہ کی فصیل کے قریب بیان کرتے ہیں، اور یہی نسبت بعد میں ان کے معروف مزار کی تاریخی بنیاد بنی۔
قدیم سوانحی اور تاریخی مآخذ بیان کرتے ہیں کہ لشکر نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی وصیت پوری کی اور انہیں قسطنطنیہ کی فصیل کے قریب دفن کیا۔ قرونِ وسطیٰ کے مسلم جغرافیائی اور زیارتی ادب میں ان کی قبر کی یاد جاری رہی؛ مشہور سیاح علی بن ابی بکر ہروی، جن کا انتقال ۱۲۱۵ء میں ہوا، نے صراحت کے ساتھ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کا ذکر کیا۔ یہ عثمانی دور سے پہلے کی شہادت اہم ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قسطنطنیہ کی فصیل کے پاس ان کی تدفین کی یاد عثمانی فتح سے پہلے بھی موجود تھی۔
۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ کی عثمانی فتح کے بعد عثمانی تاریخی روایت نے قبر کے عین مقام کی شناخت کو عالم آق شمس الدین سے جوڑا۔ اس کے بعد سلطان محمد ثانی نے اس مقام کے گرد مسجد، مزار اور رفاہی مجموعہ قائم کیا؛ ترکی کے سرکاری ثقافتی ورثہ مواد میں پہلی مسجد کی تعمیر ۱۴۵۸ء بتائی گئی ہے، جبکہ معماری تحقیق اس مجموعے کو فتح کے فوراً بعد قائم ہونے والے اہم عثمانی اداروں میں شمار کرتی ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز کے قریب مسجد دوبارہ تعمیر ہوئی، مگر مزار مجموعے کا روحانی مرکز رہا اور عثمانی سلاطین کی تلوار باندھنے کی تقریبات سے بھی گہرا تعلق پیدا ہوا۔
آج استنبول کے ضلع ایوب سلطان میں واقع جامع مسجد و مزار ایوب سلطان حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منسوب بنیادی تاریخی زیارت گاہ ہے۔ ترکی کے سرکاری ثقافتی ورثہ مواد میں اسی مجموعے کے اندر مزار کی واضح شناخت موجود ہے، جبکہ ترکی دیانت وقف کی اسلامی انسائیکلوپیڈیا اسے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی قبر کے گرد قائم ہونے والا مجموعہ قرار دیتی ہے۔ اسی لیے موجودہ مزار کو اس ریکارڈ میں ان کی زندہ اور معروف تاریخی زیارت گاہ کے طور پر رکھا گیا ہے، جبکہ موجودہ پتہ اور نقشاتی مقام صرف مخصوص جغرافیائی خانوں میں محفوظ کیے گئے ہیں۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
ان کا حدیثی ورثہ صرف منقول روایات کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کی زندگی کے علمی طریقے سے اہم ہے۔ ایک روایت کی براہِ راست تحقیق کے لیے سفر، سورۂ بقرہ کی آیت ایک سو پچانوے کے سیاق کی وضاحت اور تاخیر سے نماز پر تنبیہ ایسے صحابی کو دکھاتی ہے جو صحیح نقل، درست سیاق اور عوامی عمل کی اصلاح کے لیے حساس تھے۔
ان کی طویل فوجی اور شہری خدمت عہدِ نبوی کو بعد کی خلافتوں سے جوڑتی ہے۔ بڑی نبوی مہمات، بعد کے سرحدی لشکروں اور مدینہ کی عوامی ذمہ داریوں میں شرکت ثابت کرتی ہے کہ ان کی زندگی صرف ایک مشہور میزبانی کے واقعے تک محدود نہیں تھی۔
ایوب سلطان کا مزار عثمانی استنبول کے سب سے اثر انگیز مقدس اور شہری مقامات میں شامل ہوا۔ قسطنطنیہ کے قریب حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی تدفین کی قرونِ وسطیٰ کی یاد، ۱۴۵۳ء کے بعد عثمانی سرپرستی، سلطان محمد ثانی کے عہد میں مسجد و مزار کا قیام اور بعد کی تلوار باندھنے کی شاہی تقریبات نے اس مجموعے کو ایک عام قبرستانی مقام سے کہیں وسیع تاریخی کردار دیا۔ آج بھی سرکاری طور پر شناخت شدہ یہ مزار ایوب سلطان میں فعال دینی زیارت گاہ ہے اور اس صحابی کی یاد محفوظ کرتا ہے جنہوں نے مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میزبانی کی اور بازنطینی سرحد پر وفات پائی۔
خاندانی روابط
ماخذ
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | al-Mizzi | Abu Ayyub al-Ansari entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/1722/ | lineage, major campaigns, residence of the Prophet, hadith transmissionAl-Isti'ab fi Ma'rifat al-Ashab | Ibn Abd al-Barr | Abu Ayyub entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1080/640/ | mother, Aqabah, Badr and later campaigns, Constantinople death and burial chronology variants
Siyar A'lam al-Nubala | al-Dhahabi | Vol. 2, Abu Ayyub al-Ansari entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/217/ | final campaign, burial near Constantinople wall, death-year variants, family transmission chain
Sahih Muslim | Muslim ibn al-Hajjaj | Hadith 2053a-c | https://sunnah.com/muslim:2053a | Medina hosting, upper-floor concern, food and garlic report
Jami al-Tirmidhi | Muhammad ibn Isa al-Tirmidhi | Hadith 2972 | https://sunnah.com/tirmidhi:2972 | Abu Ayyub's explanation of Qur'an 2:195 and continued campaigning until burial in Roman territory
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | al-Mizzi | Umm Ayyub al-Ansariyya, vol. 35 p. 332 | https://islamweb.net/ar/library/content/1001/11377/ | wife identity and lineage
Al-Mu'jam al-Kabir | al-Tabarani | Vol. 4 pp. 133-134 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/84/3887/ | Khalid ibn Abi Ayyub as a son transmitting from Abu Ayyub
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | al-Mizzi | Ayyub ibn Khalid ibn Safwan entry | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/653/ | Umayrah bint Abi Ayyub as Abu Ayyub's daughter
TDV Islam Ansiklopedisi | Huseyin Algul | Ebu Eyyub el-Ensari | https://islamansiklopedisi.org.tr/ebu-eyyub-el-ensari | current critical synthesis, 49 AH principal date, 50/52/55 variants, burial near wall, medieval grave memory
TDV Islam Ansiklopedisi | Eyup Sultan Kulliyesi | https://islamansiklopedisi.org.tr/eyup-sultan-kulliyesi | Ottoman mausoleum and complex history
Republic of Turkiye Culture Portal | Eyup Sultan Camii | https://www.kulturportali.gov.tr/turkiye/istanbul/gezilecekyer/eyup-sultan-camii | present mosque and mausoleum complex in Eyup, Istanbul
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔