حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ

Abu Ubaydah's personal name was Amir, and his lineage is preserved as Amir ibn Abd Allah ibn al-Jarrah ibn Hilal ibn Uhayb ibn Dabbah ibn al-Harith ibn Fihr. He belonged to the Fihri branch of Quraysh, and his lineage meets that of the Prophet Muhammad at Fihr. His father was Abd Allah ibn al-Jarrah. His mother was Umayma bint Ghanm ibn Jabir; Tahdhib al-Kamal, transmitting Ibn Sa'd, preserves her name and states that she lived into the Islamic period and accepted Islam. Early genealogical material names Hind bint Jabir ibn Wahb as the mother of Abu Ubaydah's two sons, Yazid and Umayr. Later biographical summaries call her his wife; for that reason the structured spouse confidence is kept cautious rather than absolute. Yazid and Umayr are the two safely named biological sons, and the classical text states that Abu Ubaydah's line did not continue. No reliable complete source reviewed here supplied a named daughter, so no daughter count or name has been invented and no PER code has been created for any relative.

PER-001698 صحابی / صحابیہ مصدقہ منسوب مقام مشترک تاریخی دائرہ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
نقشے کا کیو آر
حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ قریش کی بنو الحارث بن فہر شاخ کے جلیل القدر صحابی، سابقینِ اسلام میں سے اور نبی کریم ﷺ کے معتمد قائد تھے۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس امت کا امین قرار دیا، اور اہلِ نجران کے لیے قابلِ اعتماد نمائندہ بھی انہی کو منتخب فرمایا۔ انہوں نے بدر، احد اور دیگر غزوات میں شرکت کی اور غزوۂ خبط میں تقریباً تین سو افراد کے دستے کی قیادت کی۔ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد وہ سقیفہ کی مشاورت میں موجود رہے اور خلافتِ ابوبکر و عمر میں شام کے بڑے سپہ سالاروں میں شمار ہوئے۔ ۱۸ ہجری/۶۳۹ء میں طاعونِ عمواس کے دوران ان کا انتقال ہوا۔ کلاسیکی روایات وفات و تدفین کو فحل، بیسان اور وادیِ اردن کے گرد رکھتی ہیں، جبکہ آج دیر علا کے قریب ان سے منسوب مسجد و مقام اردن کے سرکاری اداروں کے نزدیک معروف زیارتی مقام ہے؛ موجودہ مقام کی نسبت مضبوط ہے، مگر اصل ساتویں صدی کی قبر تک مسلسل آثارِ قدیمہ کا ثبوت الگ دعویٰ ہے۔
ولادت

ان کی صحیح تاریخ پیدائش ابتدائی مآخذ میں محفوظ نہیں۔ ذہبی انہیں مکی، قرشی اور فہری قرار دیتے ہیں، اس لیے ان کا ابتدائی تعلق مکہ اور بنو الحارث بن فہر سے ثابت ہے۔ بعد کی معروف زمانی ترتیب ان کی پیدائش تقریباً ۴۰ قبل ہجرت/۵۸۴ء کے آس پاس رکھتی ہے، مگر یہ اندازہ قطعی ابتدائی تاریخ نہیں۔

وفات

مشہور اور مضبوط تاریخی قول کے مطابق حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ۱۸ ہجری/۶۳۹ء میں طاعونِ عمواس کے دوران وفات پا گئے اور ان کی عمر تقریباً اٹھاون برس تھی۔ ذہبی اسی سال کو جمہور کا قول بتاتے ہیں، جبکہ ۱۷ ہجری کی ایک اقلیتی روایت بھی محفوظ ہے۔ ذہبی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ بیت المقدس کی طرف جاتے ہوئے ان کا آخری وقت فحل کے قریب، بیسان کے نواح میں آیا۔ اس لیے طاعونِ عمواس ان کی موت کا تاریخی سبب ہے، جبکہ آخری مقام کی تفصیلات وادیِ اردن کے فحل/بیسان علاقے کے اندر مختلف تعبیرات کے ساتھ محفوظ ہیں۔

مدفن یا منسوب مقام

کلاسیکی جغرافیہ اور تراجم میں قبر کی نسبت وادیِ اردن کے ایک محدود خطے میں گھومتی ہے۔ ذہبی فحل کے قریب بیسان کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ فتح المغیث قبر کو بیسان یا عمتا کے قریب العادلیہ سے منسوب روایتوں کو محفوظ کرتا ہے۔ اس سے ایک ہی وسیع غوری علاقے کی قدیم یاد سامنے آتی ہے، نہ کہ ہر روایت میں بالکل ایک جیسا مقام نام۔ مملوکی دور تک یہ زیارتی روایت واضح ہو چکی تھی۔ ابن کثیر سلطان ظاہر بیبرس کے آثار میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے عمتا کے قریب ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر ایک مشہد تعمیر کرایا اور اس کے لیے اوقاف مقرر کیے۔ یہ موجودہ مقام کی طرف جانے والی قرونِ وسطیٰ کی مضبوط مقامی روایت کی شہادت ہے، اگرچہ اس سے ساتویں صدی کی قبر تک مسلسل آثارِ قدیمہ خود بخود ثابت نہیں ہوتے۔ آج دیر علا کے قریب اغوارِ وسطیٰ میں مسجد و مقام ابو عبیدہ کو اردن کی وزارتِ ثقافت اور متعلقہ سرکاری تعمیراتی روایت ان سے منسوب مرکزی مقام کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ موجودہ عمارت اور مقام کی جگہ جدید جغرافیائی مآخذ سے بھی باہم مطابقت کے ساتھ متعین ہے؛ منظم جغرافیائی مقام اسی موجودہ مقام کا ہے، اصل ابتدائی قبر کی آزادانہ آثارِ قدیمہ تصدیق کا دعویٰ نہیں۔

سوانح و تاریخی تعارف

حضرت ابو عبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنو حارث بن فہر سے تعلق رکھنے والے جلیل القدر صحابی تھے۔ ان کا ذاتی نام عامر، کنیت ابو عبیدہ اور خاندانی شہرت ان کے جد جراح کی نسبت سے تھی۔ ابن سعد اور مزی کی نقل کے مطابق ان کی والدہ امیمہ بنت غنم تھیں، جنہوں نے اسلام کا زمانہ پایا اور مسلمان ہوئیں۔ ان کی اہلیہ ہند بنت جابر بن وہب بتائی جاتی ہیں اور ان سے یزید اور عمیر نامی دو بیٹے منقول ہیں؛ قدیم نسبی مآخذ کے مطابق ان کی نسل آگے باقی نہ رہی۔ سوانح نگار انہیں مکہ کے اولین مسلمانوں، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ابتدائی دعوت سے اسلام قبول کرنے والوں اور بعد میں مدینہ میں مسلم جماعت قائم کرنے والے مہاجرین میں شمار کرتے ہیں۔ انہیں عشرۂ مبشرہ میں بھی یاد کیا جاتا ہے، لیکن ان کی سب سے نمایاں شناخت امین الامت کی ہے۔

انہوں نے بدر، احد اور عہد نبوی کے دوسرے بڑے معرکوں میں شرکت کی۔ مشہور روایت میں آتا ہے کہ غزوۂ احد کی نازک ساعت میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ثابت قدم رہے اور خود کے دو حلقے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار میں داخل ہو گئے تھے، اپنے دانتوں سے نکالے، جس سے ان کے سامنے کے دو دانت گر گئے۔ حاکم نے اس طریق کو صحیح الاسناد کہا، لیکن ذہبی نے اس کے ایک بنیادی راوی اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ پر سخت جرح کی اور علی بن مدینی سے بھی روایت کو ضعیف قرار دینا منقول ہے۔ اس لیے یہ واقعہ مشہور سوانحی و مغازی روایت کے طور پر محفوظ ہے، صحیحین کی غیر اختلافی روایت کے درجے پر نہیں۔ بدر و احد میں شرکت، شجاعت اور نبوی قربت کا بنیادی خاکہ قدیم تاریخ میں مضبوط ہے۔

ان کے کردار کے بارے میں سب سے قطعی گواہی صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں محفوظ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابو عبیدہ ہیں۔ نجران کے وفد نے ایک قابل اعتماد نمائندہ مانگا تو صحابہ کی خواہش کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا۔ اس طرح امین الامت کا لقب محض بعد کی تعظیمی تعبیر نہیں، بلکہ تعلیم، فیصلے اور عوامی ذمہ داری میں آزمودہ اعتماد کی نبوی شہادت ہے۔

ان کی عملی قیادت جیش الخبط کی مہم میں نمایاں ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً تین سو افراد کے ساحلی لشکر پر انہیں امیر مقرر کیا۔ زادِ راہ ختم ہوا تو انہوں نے باقی خوراک جمع کرکے کھجوریں نظم کے ساتھ تقسیم کیں، یہاں تک کہ وہ ذخیرہ بھی ختم ہو گیا۔ لشکر نے درختوں کے پتے کھائے اور بعد میں سمندر کے کنارے پڑی ایک بڑی مچھلی سے فائدہ اٹھایا، جس کے کھانے کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی پر اجازت کی تصدیق فرمائی۔ صحیح روایت شدید بھوک میں نظم، مشترکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور غیر معمولی حالت کے بعد شرعی رہنمائی لینے کی تصویر پیش کرتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ کی فوری مشاورت میں بھی حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ صحیح بخاری بیان کرتی ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پکڑ کر لوگوں کے سامنے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی تجویز دی۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے اقتدار طلب نہ کیا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیعت میں شامل ہوئے۔ یہ واقعہ ان پر اولین قیادت کے اعتماد اور ذاتی وقار کو سیاسی رقابت میں نہ بدلنے، دونوں باتوں کی دلیل ہے۔

حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں وہ شام کے بڑے سپہ سالاروں میں شامل ہوئے۔ فتوحات اور امارتوں کی جزوی ترتیب تاریخی کتابوں میں مختلف ہے، مگر بنیادی خاکہ واضح ہے: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں شامی افواج کے ساتھ روانہ کیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں مجموعی قیادت ان کے سپرد کی، اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ عسکری کوشش میں خدمت کرتے رہے۔ دمشق، فحل، حمص اور شام کے دوسرے علاقوں کے استحکام اور بیت المقدس کی سمت پیش رفت میں ان کا نام آتا ہے۔ ان کی قیادت کو سکون، مشاورت اور اجتماعی نظم کے ساتھ یاد کیا گیا۔

سوانحی کتابیں اقتدار کے باوجود ان کی سادگی کو بار بار نمایاں کرتی ہیں۔ روایات میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ان کے گھر آنے اور بہت کم گھریلو سامان دیکھنے کا ذکر ہے۔ ان حکایات کی اسناد اور الفاظ یکساں نہیں، مگر وہ اس وسیع تاریخی تصویر سے ہم آہنگ ہیں کہ انہوں نے امارت کو دولت مند سیاسی گھرانے میں تبدیل نہیں کیا۔ ان کی انتظامی اہمیت صرف فتوحات میں نہیں، بلکہ سادہ عوامی خدمت، جواب دہی اور ذاتی ضبط کے یادگار نمونے میں بھی ہے۔

اٹھارہ ہجری میں عمواس سے منسوب طاعون شام اور ارض اردن میں پھیلا۔ صحیح بخاری کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ عنہ سرغ پہنچے، جہاں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے امراء نے وبا کی خبر دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین، انصار اور قریش کے بزرگوں سے مشورہ کرکے متاثرہ علاقے میں داخل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا اللہ کی تقدیر سے فرار ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ایک تقدیر سے دوسری تقدیر کی طرف جایا جاتا ہے۔ پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے وبا والے علاقے میں داخل نہ ہونے اور وہاں موجود ہونے کی صورت میں فرار نہ کرنے کی نبوی ہدایت سنائی۔

تاریخی روایات مزید بتاتی ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خطرے سے نکالنے کے لیے اپنے پاس بلانے کی کوشش کی، مگر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے لشکر کو چھوڑ کر خصوصی نجات قبول نہ کی۔ مستدرک کی روایت میں ان کا جواب محفوظ ہے کہ وہ مسلمانوں کے ایک لشکر میں ہیں اور اپنے آپ کو ان پر ترجیح نہیں دیں گے۔ دوسری روایات کے مطابق انہوں نے لوگوں کو نشیبی اور ناسازگار علاقے سے کھلی جگہ کی طرف لے جانے کی کوشش کی، مگر خود بیمار ہو گئے۔ یہ تمام خبریں صحیح بخاری کی روایت کے درجہ کی نہیں، تاہم ان کی ذمہ داری اور مشترکہ خطرے میں سپاہ کے ساتھ رہنے کی تاریخی یاد محفوظ کرتی ہیں۔

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اٹھارہ ہجری میں طاعون کے دوران وفات پا گئے اور عام روایت کے مطابق ان کی عمر تقریباً اٹھاون برس تھی۔ قدیم مصادر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے نماز جنازہ پڑھانے اور قبر کو اردن، غورِ بیسان، بیسان، عمتا یا عمتا کے قریب عادلیہ سے جوڑتے ہیں۔ اردن کی وزارت ثقافت دیر علا کے قریب اغوار وسطیٰ میں مسجد ابو عبیدہ کے مجموعے کے اندر ان سے منسوب مرکزی مزار کو سرکاری طور پر تسلیم کرتی ہے؛ وزارت کی ایک عمومی تعارفی عبارت اسے ان کی طرف منسوب ضریح بھی کہتی ہے۔ اس بنا پر موجود مقام ایک سرکاری طور پر تسلیم شدہ انفرادی و مرکزی مزار ہے، لیکن ساتویں صدی کی اصل تدفین سے موجود عمارت تک مسلسل مادی و آثارِ قدیمہ کی کڑی آزاد طور پر ثابت نہیں۔ اسی لیے مقام کی روایت محفوظ رکھی جاتی ہے، مگر کوئی غیر ثابت مختصات یا قطعی آثارِ قدیمہ کا دعویٰ شامل نہیں کیا جاتا۔

تاریخی اہمیت اور اثرات

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی پہلی تاریخی اہمیت نبوی گواہیِ امانت میں ہے۔ امین الامت کا لقب صحیح ترین حدیثی کتابوں میں محفوظ ہے اور نجران کے لیے ان کی تقرری نے اسے عملی صورت دی۔ اس گواہی میں اخلاقی کردار اور ادارہ جاتی ذمہ داری یکجا ہیں، کیونکہ تعلیم، نمائندگی، قیادت اور فیصلہ ایسے شخص کے سپرد کیے گئے جس کی دیانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علانیہ بیان فرمائی۔

ان کی دوسری اہمیت دو سیاسی ادوار میں قیادت ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر فرمان لشکر چلایا، سقیفہ میں سب سے معتمد افراد میں شمار ہوئے اور حضرت ابو بکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں شام کی افواج کے بڑے قائد بنے۔ جیش الخبط شدید قلت میں وسائل کے نظم کی مثال ہے، جبکہ شام کی مہمات عسکری امارت سے صوبائی انتظام اور وسیع اجتماعی ذمہ داری کی طرف انتقال دکھاتی ہیں۔

ان کی آخری بیماری وباؤں کی تاریخ اور اجتماعی اخلاق میں مستقل اہمیت رکھتی ہے۔ سرغ کی صحیح بخاری والی مشاورت ماہر رائے، نقل و حرکت کی احتیاط اور تقدیر پر ایمان کو عملی تدبیر کے ساتھ جمع کرتی ہے۔ تاریخی یاد میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کا ذاتی طور پر نکالے جانے سے انکار، مشترکہ خطرے میں سپہ سالار اور سپاہ کے باہمی اتحاد کی مثال بن گیا۔

دیر علا کے قریب مقام اردن میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی یاد کی نمایاں جغرافیائی علامت ہے۔ قدیم کتابیں قبر کو اردن، غورِ بیسان اور عمتا کے ماحول سے جوڑتی ہیں، جبکہ جدید اردنی ادارے ان سے منسوب مرکزی انفرادی مزار کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاریخی دیانت کا تقاضا ہے کہ سرکاری و دیرینہ مزار کی روایت کو محفوظ رکھا جائے، مگر اسے مسلسل آثارِ قدیمہ سے ثابت اصل قبر یا اندازے سے بنائے گئے نقشاتی مقام کے برابر نہ سمجھا جائے۔

خاندانی روابط

ماخذ

Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 3744 | https://sunnah.com/bukhari:3744 | امینِ امت کا صحیح حدیثی لقب
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 7254 | https://sunnah.com/bukhari:7254 | اہلِ نجران کے لیے ابو عبیدہ کا انتخاب
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadiths 4360-4362 | https://sunnah.com/bukhari:4360 | جیش الخبط کی قیادت، خوراک کی تقسیم اور ساحلی مچھلی کا واقعہ
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadith 5729 | https://sunnah.com/bukhari:5729 | سرغ میں طاعون کی مشاورت اور وبا میں داخل یا فرار نہ ہونے کی نبوی ہدایت
Sahih al-Bukhari | Muhammad ibn Isma'il al-Bukhari | Hadiths 3667-3668 and 6830 | https://sunnah.com/bukhari:3668 | سقیفہ میں ابو بکر کی طرف سے عمر یا ابو عبیدہ کے نام پیش کیے جانے کی روایت
Tahdhib al-Kamal fi Asma al-Rijal | Yusuf al-Mizzi | Vol. 14, pp. 53-55 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/3301/ | نسب، والدہ امیمہ، بیٹے یزید و عمیر، ان کی والدہ ہند اور نسل کے ختم ہونے کا بیان
Siyar A'lam al-Nubala | Shams al-Din al-Dhahabi | Vol. 1, Abu Ubaydah entry, pp. 5-23 | https://www.islamweb.net/ar/library/content/60/1/ | ابتدائی اسلام، فضائل، شام کی قیادت، طاعون، ۱۸ ہجری، عمر تقریباً اٹھاون برس اور فحل/بیسان کی روایت
Fath al-Mughith bi-Sharh Alfiyyat al-Hadith | Shams al-Din al-Sakhawi | Vol. 4, p. 329 | https://islamweb.net/ar/library/content/82/362/ | وفات ۱۸ ہجری اور قبر کو بیسان یا عمتا کے قریب العادلیہ سے منسوب روایتیں
Al-Bidaya wa al-Nihaya | Isma'il ibn Kathir | Baybars works section | https://johnshaqi.com/islam/history/ibn-kathir-bidaya/739 | ظاہر بیبرس کا عمتا کے قریب ابو عبیدہ کی قبر پر مشہد بنوانا اور وقف مقرر کرنا
Jordan Ministry of Culture | Government of Jordan | Deir Alla official page | https://culture.gov.jo/AR/Pages/%D8%AF%D9%8A%D8%B1_%D8%B9%D9%84%D8%A7 | دیر علا میں موجودہ سرکاری طور پر تسلیم شدہ مسجد و مقام اور اغوارِ وسطیٰ کی شناخت
Wikimedia Commons / Wikidata | Wikimedia contributors | Mosque of Abu Ubaidah Amer ibn al-Jarrah, Q124040244 | https://commons.wikimedia.org/wiki/Category:Mosque_of_Abu_Ubaidah_Amer_ibn_al-Jarrah | موجودہ مسجد و مقام کی جغرافیائی شناخت اور نقشہ جاتی نقطے کی آزاد تائید

💬 زائرین کے تبصرے

ابھی کوئی منظور شدہ تبصرہ نہیں؛ پہلا تبصرہ آپ کریں۔

تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔