قدیم سوانح نگار حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ولادت عام الفیل کے تقریباً دس برس بعد مکہ میں قرار دیتے ہیں۔ صحیح شمسی یا ہجری تاریخ محفوظ نہیں، اس لیے اسے تخمینی تاریخی بیان کے طور پر رکھا گیا ہے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ
Abd al-Rahman's lineage is Abd al-Rahman ibn Awf ibn Abd Awf ibn Abd ibn al-Harith ibn Zuhra ibn Kilab ibn Murra ibn Ka'b ibn Lu'ayy ibn Ghalib al-Qurashi al-Zuhri. His kunyah was Abu Muhammad. Classical sources clearly preserve his father as Awf ibn Abd Awf. His mother is most commonly identified as al-Shifa bint Awf ibn Abd ibn al-Harith ibn Zuhra, although Safiyya bint Abd Manaf ibn Zuhra is also transmitted; the maternal name is therefore retained with cautious confidence.
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
مشہور قول کے مطابق حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات مدینہ منورہ میں ۳۲ھ میں ہوئی، جبکہ ۳۱ھ بھی منقول ہے۔ عمر کے بارے میں بھی مختلف اقوال ہیں، اس لیے ۳۲ھ کو معروف قول کے طور پر اور دوسرے قول کو اختلاف کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔
کلاسیکی سوانحی مآخذ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی تدفین مدینہ منورہ کے بقیع الغرقد میں بیان کرتے ہیں۔ موجودہ جنت البقیع ان کی تدفین کا معتبر قبرستانی مقام ہے، لیکن ان کی انفرادی قبر آج قابلِ اعتماد طور پر شناخت نہیں کی جا سکتی۔ اس ریکارڈ کا نقشہ صرف پورے قبرستان کے مشترک مقام کی نشان دہی کرتا ہے، کسی مخصوص انفرادی قبر کی نہیں۔
سوانح و تاریخی تعارف
انہوں نے دارِ ارقم میں مسلمانوں کے جمع ہونے سے پہلے اسلام قبول کیا اور اس طرح مکہ کے سابقینِ اسلام میں شمار ہوئے۔ سوانحی مآخذ انہیں اس ابتدائی کمزور جماعت میں رکھتے ہیں جس نے مخالفت اور عدم تحفظ کا دور برداشت کیا اور دونوں ہجرتیں کیں: پہلے حبشہ اور پھر مدینہ منورہ کی طرف۔ دو ہجرتوں کا یہ شرف ان کی سبقت کی نمایاں علامت سمجھا گیا۔ یوں ان کی عملی زندگی ابتدائی اسلام کے تین اہم ماحولوں سے گزری: مکہ کی آزمائش، بحیرۂ احمر کے پار عارضی پناہ، اور مدینہ میں نئی اسلامی معاشرت کی تعمیر۔
مدینہ پہنچنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ صحیح بخاری میں محفوظ مشہور واقعے کے مطابق سعد رضی اللہ عنہ نے بڑی مالی مدد پیش کی، مگر عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ان کے اہل و مال کے لیے برکت کی دعا کی اور بازار کا راستہ پوچھا۔ انہوں نے تجارت شروع کی، اپنی محنت سے آمدنی حاصل کی اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی کی خبر دی؛ آپ نے انہیں فرمایا کہ ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔ یہ روایت ان کی تجارتی صلاحیت کے ساتھ خودداری، شکر اور دوسرے کے مال پر بوجھ نہ بننے کے مزاج کو نمایاں کرتی ہے۔
ابن عبدالبر کے مطابق حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بدر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بڑے غزوات میں شریک ہوئے۔ اُحد میں وہ میدان میں ثابت قدم رہے اور ان کے جسم پر متعدد زخم آئے؛ قدیم اوصاف میں پاؤں کے ایک ایسے زخم کا ذکر ہے جس کے باعث انہیں مستقل لنگڑا کر چلنا پڑتا تھا۔ ان کی عسکری زندگی محض معرکوں کے ناموں کی فہرست نہیں تھی، بلکہ اُحد کے بحران میں حقیقی جسمانی قربانی بھی شامل تھی، جب مسلمانوں کی صفیں بکھر گئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت خطرے میں پڑ گئی۔ بعد میں اہلِ بدر میں ان کا شمار دینی اور اجتماعی اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا تھا۔
ہجرت کے چھٹے سال شعبان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دومة الجندل کی مہم کا امیر مقرر کیا۔ ابن سید الناس نے ابن سعد سے نقل کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے سامنے بٹھایا، اپنے ہاتھ سے عمامہ باندھا اور غدر، خیانت اور بچوں کے قتل سے منع کرتے ہوئے مہم کی ہدایات دیں۔ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے تین دن بنو کلب کے سرداروں کو دعوت دی، پھر اصبغ بن عمرو اور ان کے ساتھ متعدد افراد نے اسلام قبول کیا جبکہ دوسرے معاہدے پر قائم رہے۔ انہوں نے تماضر بنت اصبغ سے نکاح کیا اور ان کے بیٹے ابو سلمہ بعد میں مدینہ کے معروف فقیہ اور راوی بنے۔
غزوۂ تبوک کے سفر میں ایک اور واقعے نے ان پر کیے گئے اعتماد کو واضح کیا۔ صحیح مسلم کے مطابق فجر کی نماز کا وقت نکلنے کے خوف سے لوگوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو امام بنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع ہونے کے بعد پہنچے، اشارہ فرمایا کہ عبدالرحمن اپنی جگہ قائم رہیں، اور ایک رکعت ان کے پیچھے ادا کی، پھر اپنی باقی نماز پوری فرمائی۔ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو وقت پر نماز ادا کرنے پر سراہا۔ اس واقعے میں جماعتی نظم کے ساتھ یہ غیر معمولی حقیقت بھی محفوظ ہوئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کی اقتدا میں نماز ادا فرمائی۔
ان کی فضیلت اُن روایات میں بھی محفوظ ہے جن میں دس صحابہ کو جنت کی بشارت دی گئی۔ جامع ترمذی میں اس جماعت کے اندر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا نام آتا ہے اور امام ترمذی نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے واسطے والی سند کو دوسری روایت سے زیادہ قوی قرار دیا۔ اس لیے یہاں اس فضیلت کو حدیثی روایت کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور خود مجموعۂ حدیث کی سندی توضیح بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ بعد کے سوانح نگار انہیں اُن چھ افراد میں بھی شمار کرتے ہیں جنہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کی مشاورت کے لیے منتخب کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی دنیا سے تشریف لے گئے تھے۔
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے احادیث روایت کیں اور شرعی و اجتماعی مسائل میں ان سے مشورہ لیا جاتا تھا۔ ان سے روایت کرنے والوں میں ان کے صاحبزادے ابراہیم، حمید اور ابو سلمہ کے علاوہ متعدد صحابہ اور تابعین شامل تھے۔ امام ذہبی نے نقل کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ادوار میں اپنی سنی ہوئی احادیث کی بنیاد پر رائے اور فتویٰ دیتے تھے۔ ان کا گھرانہ مدینہ کے علمی خاندانوں میں شامل ہوا؛ ابو سلمہ بن عبدالرحمن اگلی نسل کے معروف فقہاء اور محدثین میں شمار ہوئے، اس طرح ان کا اثر عملی خدمات کے ساتھ علمی روایت میں بھی آگے بڑھا۔
تجارت میں کامیابی نے انہیں بہت مال دیا، مگر مآخذ اس مال کو بار بار انفاق سے جوڑتے ہیں۔ امام ذہبی نے زہری کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنے مال کا نصف دیا، بعد میں بڑی رقوم خرچ کیں اور اجتماعی ضرورت کے لیے گھوڑے اور سواریاں فراہم کیں؛ اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کا زیادہ تر مال تجارت سے حاصل ہوا۔ یہ اعداد ایک واحد جدید حسابی دفتر نہیں بلکہ قدیم سوانحی روایت کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں آج کی کرنسی میں قطعی قیمت نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا مستقل تاریخی مفہوم یہ ہے کہ انہوں نے تجارتی کامیابی کو صدقہ، دفاع اور اجتماعی خدمت کا ذریعہ بنایا۔
نسبی کتابیں ان کے ایک بڑے اور پیچیدہ گھرانے کا ذکر کرتی ہیں اور تفصیلی فہرستوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مستند طور پر مذکور ازواج میں ام کلثوم بنت عقبہ، تماضر بنت اصبغ اور قریش، انصار اور حلیف قبائل کی دوسری خواتین شامل ہیں۔ معروف اولاد میں ابراہیم، حمید، اسماعیل، ابو سلمہ، محمد، سالم اور متعدد بیٹیاں آتی ہیں، جبکہ مآخذ مختلف بچوں کو مختلف ماؤں سے منسوب کرتے ہیں۔ چونکہ یہ فہرستیں طویل اور نسخوں کے اعتبار سے مختلف ہیں، اس مضمون میں ایک قطعی مجموعی تعداد قائم نہیں کی گئی۔ تاریخی لحاظ سے سب سے نمایاں رشتہ تماضر کے بیٹے ابو سلمہ کا ہے جن کی علمی حیثیت نے اس گھرانے کو مدینہ کی بعد کی فقہی روایت سے جوڑ دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ امورِ عامہ کے مرکز سے وابستہ رہے، مگر انہوں نے اپنے لیے کوئی موروثی منصب قائم نہیں کیا۔ روایات امہات المؤمنین کی خدمت و نگہداشت میں ان کے کردار کا ذکر کرتی ہیں، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے سفرِ حج میں شریک ہوئے تاکہ پردے اور تحفظ کا انتظام قائم رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں چھ رکنی شوریٰ میں بھی شامل کیا۔ انہوں نے اپنی امیدواری واپس لی، مشاورت کی ذمہ داری قبول کی، امیدواروں اور عام لوگوں سے گفتگو کی اور آخرکار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کا اعلان کیا۔ صحیح بخاری اس مشاورت اور بیعت سے پہلے کی راتوں کا بنیادی واقعہ محفوظ کرتی ہے۔
مشہور روایت کے مطابق حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات مدینہ میں ۳۲ ہجری میں ہوئی، تاہم ۳۱ ہجری بھی منقول ہے۔ عمر کے اقوال میں بھی اختلاف ہے اور بہتر، پچھتر یا اٹھتر برس کی روایات ملتی ہیں۔ ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ ان کی وصیت کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور انہیں بقیع میں دفن کیا گیا۔ اس لیے تاریخی اور سوانحی مآخذ جنت البقیع میں تدفین کی تائید کرتے ہیں، لیکن آج ان کی الگ قبر قابلِ اعتماد نشان کے ساتھ شناخت نہیں ہوتی۔ اس ریکارڈ کا نقشہ صرف پورے قبرستان کے مجاز مشترک مقام کی طرف رہنمائی کرتا ہے، کسی انفرادی قبر، ضریح، احاطے یا اصل کتبے کی طرف نہیں۔
تاریخی اہمیت اور اثرات
ان کی تجارتی زندگی ابتدائی مدینہ میں معاشی خود کفالت کی مستقل مثال بن گئی۔ صحیح بخاری کا واقعہ دولت کی محض تعریف نہیں کرتا؛ وہ ایک مہاجر کو دکھاتا ہے جو انصاری بھائی کی فراخ دلی سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتا، بازار میں جاتا ہے اور محنت سے اپنا معاش دوبارہ قائم کرتا ہے۔ پھر سوانحی روایات بڑے انفاق کو صدقہ، سواریوں اور اجتماعی ضرورت سے جوڑتی ہیں۔ اس امتزاج نے انہیں شکر گزار صاحبِ ثروت مؤمن کی مثال بنایا، نہ محض غربت کی علامت اور نہ جمعِ مال کی۔
دومة الجندل کی قیادت اور تبوک کی نماز اعتماد کی دو مختلف صورتیں ظاہر کرتی ہیں۔ پہلی صورت میں انہیں عسکری و سفارتی ذمہ داری ملی اور تشدد کی واضح حدود بتائی گئیں؛ دوسری صورت میں جماعت نے نماز کا وقت محفوظ رکھنے کے لیے ان پر اعتماد کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلے کی توثیق فرمائی۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ وہ صرف تاجر نہیں تھے بلکہ قیادت، معاہدہ، عبادت کی امامت اور دباؤ میں ذمہ دارانہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد شوریٰ میں ان کا کردار ان کی سیاسی اہمیت کی سب سے روشن مثالوں میں ہے۔ مقابلے سے الگ ہو کر اور مشاورت کی ذمہ داری قبول کر کے وہ ایک مشکل انتقالِ اقتدار کے عملی ثالث بنے۔ صحیح بخاری کی روایت میں عام مشورہ، امیدواروں سے گفتگو اور آخری بیعت اس عمل کا مرکز ہیں۔ ابتدائی خلافت کے بارے میں بعد کے اختلافات اپنی جگہ، اس واقعے میں ان کا طرزِ عمل منظم انتقالِ اختیار کی کوشش کو سمجھنے کے لیے بنیادی شہادت ہے۔
جنت البقیع میں منقول تدفین ان کی سوانح کو مدینہ کے مرکزی تاریخی قبرستان سے جوڑتی ہے، مگر مقام کو درست انداز میں پیش کرنا ضروری ہے۔ ابن عبدالبر انفرادی تدفین کی تاریخی روایت فراہم کرتے ہیں، جبکہ موجودہ بقیع ایک وسیع اجتماعی قبرستان ہے جس میں کئی نسلوں کے لوگ مدفون ہیں۔ یہاں استعمال شدہ مشترک مختصات صرف قبرستان کی شناخت کرتے ہیں۔ یہ امتیاز تاریخی دیانت اور عوامی نقشہ بندی دونوں کی حفاظت کرتا ہے: قاری تدفین کی منقول جگہ جانتا ہے مگر اسے یہ غلط تاثر نہیں دیا جاتا کہ کوئی جدید نقطہ ان کی قطعی انفرادی قبر ہے۔
خاندانی روابط
ماخذ
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ابن عبدالبر، جلد ۲، ص ۸۴۵ تا ۸۵۰ | شناخت، ہجرتیں، بدر، وفات اور بقیع میں تدفینتہذیب الکمال فی اسماء الرجال، مزی، جلد ۱۷، ص ۳۲۴ تا ۳۲۷، ترجمہ ۳۹۲۳ | نسب، والد، والدہ، ابتدائی اسلام اور جسمانی اوصاف | https://www.islamweb.net/ar/library/content/1001/4279/
سیر اعلام النبلاء، ذہبی، جلد ۱، ص ۶۸ تا ۹۲ | جامع سوانح، سخاوت، سیاسی و فقہی کردار
صحیح بخاری، حدیث ۲۰۴۹ | مدینہ میں تجارت اور سعد بن ربیع کے ساتھ مواخات | https://sunnah.com/bukhari:2049
صحیح بخاری، حدیث ۷۲۰۷ | شوریٰ اور انتخابِ عثمان رضی اللہ عنہ | https://sunnah.com/bukhari:7207
جامع ترمذی، حدیث ۳۷۴۸ | عشرۂ مبشرہ میں ذکر | https://sunnah.com/tirmidhi:3748
سعودی پیڈیا، مقبرة البقيع | بقیع کی سرکاری موجودہ شناخت اور مدینہ میں محلِ وقوع | https://saudipedia.com/en/al-baqi-cemetery
وزارت حج و عمرہ، رہنمائے مدینہ | بقیع الغرقد کا مسجد نبوی کے جنوب مشرق میں محل | https://haj.gov.sa/-/media/Project/HAJJ/PDF-and-FILES/umrah-hero-guide/EN-Umrah-Guide.pdf
تصویری گیلری
📤 اس شخصیت یا مقام کی تصویر جمع کریں
تصویر منظوری سے پہلے عوامی صفحے پر ظاہر نہیں ہوگی۔
💬 زائرین کے تبصرے
تبصرہ انتظامی منظوری کے بعد شائع ہوگا۔