ایک قدیم روایت میں آتا ہے کہ ایک عورت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی ممانعت کے باوجود بار بار ان کی طرف جھانکتی تھی۔ روایت کے مطابق وہ بعد میں اس وقت بھی جھانکی جب حضرت سعد وضو کر رہے تھے، تو ان سے «شاہ وجہکِ» کے الفاظ منقول ہوئے اور پھر کہا گیا کہ اس عورت کا چہرہ سر کی پچھلی جانب پھر گیا۔ ابن ابی الدنیا نے اس روایت کی قدیم ترین جانچی گئی صورت نقل کی ہے اور لالکائی نے اسے حضرت سعد کی کرامات میں ذکر کیا، مگر اصل سند مینا، مولیٰ عبد الرحمن بن عوف، سے گزرتی ہے جسے بڑے محدثین نے متروک یا ناقابل اعتماد قرار دیا۔
اسی موقع پر روایت کہتی ہے کہ حضرت سعد سے «شاہ وجہکِ» کے الفاظ منقول ہوئے۔ اس کے بعد روایت ایک غیر معمولی جسمانی نتیجہ بیان کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس عورت کا چہرہ سر کی پچھلی جانب پھر گیا۔ متن کسی طبی عمل، جسمانی سبب یا تشریح کو بیان نہیں کرتا، اس لیے عوامی بیان میں بھی ایسا کوئی سبب خود سے شامل نہیں کیا جا سکتا۔ محفوظ روایت کی حد یہی ہے کہ تنبیہ کے باوجود جھانکنے، وضو کے وقت دوبارہ جھانکنے، منقول الفاظ اور پھر چہرے کی حالت میں غیر معمولی تبدیلی کو اسی ترتیب سے بیان کیا جائے۔
اس قصے کی قدیم ترین جانچی گئی صورت ابن ابی الدنیا کی کتاب مجاب الدعوة میں محفوظ ہے۔ بعد میں لالکائی نے اسی بنیادی روایت کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں نقل کیا۔ ابن کثیر اور ذہبی جیسے بعد کے مؤرخین اور سوانح نگاروں کے ہاں بھی یہ قصہ ملتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت قدیم سنی علمی ادب میں گردش کرتی رہی اور حضرت سعد سے منسوب ایک غیر معمولی واقعے کے طور پر قبول و نقل ہوئی، لیکن بعد کی تکرار خود بخود نئی مضبوط سند نہیں بناتی۔
سندی تحقیق اس واقعے کے بیان پر ایک اہم حد قائم کرتی ہے۔ بنیادی طریق مینا، مولیٰ عبد الرحمن بن عوف، سے گزرتا ہے۔ ذہبی نے اسی راوی کو صراحت کے ساتھ متروک کہا، اور راویوں کے جائزے میں متعدد محدثین کی سخت جرح بھی درج ہے۔ لالکائی اور بعد کے تاریخی مصادر بڑی حد تک اسی طریق یا اسی روایت کے خاندان پر منحصر ہیں؛ وہ کوئی الگ اور مضبوط مستقل سند فراہم نہیں کرتے۔ اس لیے صرف متعدد کتابوں میں موجود ہونے سے اس غیر معمولی نتیجے کو صحیح ثابت شدہ واقعہ نہیں کہا جا سکتا۔
اس بنا پر محتاط نتیجہ یہ ہے کہ کلاسیکی سنی مصادر واقعی ایک ایسی روایت محفوظ کرتے ہیں جس میں ایک عورت حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی تنبیہ کے باوجود جھانکتی رہی، وضو کے وقت پھر جھانکی، ان سے ایک جملہ منقول ہوا، اور پھر اس کے چہرے کی سمت میں ڈرامائی تبدیلی کا ذکر آیا۔ یہ قصہ کرامت کے طور پر واضح قدیم روایت و قبول رکھتا ہے، لیکن عین غیر معمولی نتیجہ ایک بہت کمزور سند پر قائم ہے۔ لہٰذا اسے یقینی تاریخی حقیقت کے بجائے کم اعتماد والی منقول کرامت کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے اور اشاعت سے پہلے اداری جائزہ ضروری رہتا ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر ایک ایسی روایت محفوظ کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی تنبیہ کو بار بار نظر انداز کرنے والی عورت نے وضو کے وقت پھر جھانکا اور اس کے بعد اس کے چہرے میں غیر معمولی تبدیلی کا ذکر ہوا۔ چونکہ اصل طریق ایک متروک قرار دیے گئے راوی سے گزرتا ہے، اس لیے اسے ثابت شدہ تاریخی حقیقت نہیں بلکہ کم اعتماد والی منقول کرامت سمجھنا چاہیے۔