امام لالکائی کی محفوظ کردہ ایک کلاسیکی روایت میں ابو قلابہ کا ذکر ہے کہ شام کے سفر میں انہیں ایک نابینا شخص ملا جس کے ہاتھ اور ٹانگیں نہیں تھیں۔ اس شخص نے کہا کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر کے محاصرے کے دوران وہ اندر داخل ہونے والوں میں تھا، اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ کو مارا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اللہ اس کے ہاتھ اور ٹانگیں لے لے، اسے نابینا کر دے اور جہنم میں داخل کرے۔ اس شخص کے مطابق دعا کے جسمانی حصے بعد میں پورے ہوئے اور اس نے اپنی حالت کو اسی دعا کا نتیجہ سمجھا۔ لالکائی نے اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کرامات میں ذکر کیا، مگر سند کمزور ہے اور بعد کی نقلیں کوئی مضبوط مستقل سند فراہم نہیں کرتیں۔
اس کے اپنے اعتراف کے مطابق وہ ان لوگوں میں تھا جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے گھر کے محاصرے کے دوران اندر داخل ہوئے۔ اس نے کہا کہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ باہر آئیں تو اس نے انہیں مارا۔ روایت کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ اللہ اس کے ہاتھ اور ٹانگیں لے لے، بینائی چھین لے اور اسے جہنم میں داخل کرے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ یہ دعا سن کر خوف زدہ ہوا اور بھاگ گیا۔
روایت کا غیر معمولی حصہ اس کے بعد آتا ہے۔ اس شخص نے دعویٰ کیا کہ رات کو ایک کارندہ اس کے پاس آیا اور اسے ہاتھوں اور ٹانگوں سے محروم اور نابینا چھوڑ گیا۔ اس نے اپنی جسمانی حالت کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دعا کی تکمیل سمجھا۔ اس کے بیان میں صرف جہنم سے متعلق آخری حصہ باقی تھا۔ اس لیے اسے اسی شخص کی اپنی تعبیر کے طور پر بیان کرنا چاہیے، نہ کہ اس کے آخری انجام کے یقینی علم کے طور پر۔
امام لالکائی نے یہ روایت امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں شامل کی۔ یہی وجہ ہے کہ بعد میں اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک غیر معمولی نشانی کے طور پر یاد کیا گیا۔ بعد کی کتابیں، جن میں الریاض النضرۃ بھی شامل ہے، ابو قلابہ والی یہی روایت دہراتی ہیں، لیکن کوئی مضبوط مستقل سند نہیں لاتیں جو اس واقعے کو صحیح تاریخی خبر کے درجے تک پہنچا دے۔
سند میں اہم کمزوریاں موجود ہیں۔ اس طریق میں بشار بن موسیٰ الخفاف ہیں، جنہیں بڑے محدثین نے ضعیف یا ناقابل اعتماد کہا اور بعد کی رجال کی کتابوں میں بھی ان سے کثرتِ خطا منقول ہے۔ اسی سند میں بکر بن ایوب السختیانی ہیں، جن کی صریح توثیق محدود ہے؛ بنیادی طور پر ابن حبان نے انہیں ثقہ راویوں میں شمار کیا۔ بعد میں ابو قلابہ کا آنا پہلے راویوں سے متعلق ان کمزوریوں کو ختم نہیں کرتا۔
اس لیے محتاط نتیجہ یہ ہے کہ کلاسیکی سنی مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ پر حملہ کرنے والے شخص نے بعد میں شدید جسمانی مصائب بیان کیے اور انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دعا کی تکمیل سمجھا۔ روایت کو کرامت کے طور پر کلاسیکی قبولیت ملی، مگر اس کی مخصوص غیر معمولی تفصیل کمزور سند پر قائم ہے۔ لہٰذا اسے کم اعتماد والی منقول کرامت کے طور پر، ادارتی نظرِ ثانی کے ساتھ پیش کرنا چاہیے؛ قطعی تاریخی حقیقت یا اس شخص کے آخرت کے انجام کا یقینی ثبوت نہیں کہنا چاہیے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ پر حملہ کرنے والا ایک شخص بعد میں شدید جسمانی مصائب میں مبتلا ہوا اور اس نے انہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دعا کی تکمیل سمجھا۔ چونکہ اس مخصوص واقعے کی سند کمزور ہے، اس لیے اسے قطعی ثابت شدہ تاریخی حقیقت کے بجائے کم اعتماد والی منقول کرامت کے طور پر پیش کرنا زیادہ درست ہے۔