حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عصا اور جہجاہ پر منقول آفت

صحابی/صحابیہ کی کرامتالٰہی عذابتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

کلاسیکی سنی مصادر میں منقول ہے کہ جہجاہ غفاری نامی شخص نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے، جب آپ منبر پر تھے، عصا لیا اور اسے توڑ دیا۔ اس کے بعد اسے الآکِلَہ نامی آفت لاحق ہونے کا ذکر آتا ہے۔ بعض روایات اس آفت کو گھٹنے میں بتاتی ہیں، جبکہ ابو نعیم کی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت میں ہاتھ کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ ایک سال گزرنے سے پہلے اس کی موت ہوگئی۔ کلاسیکی مصنفین نے اس واقعے کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے وابستہ غیر معمولی نشانیوں میں محفوظ کیا ہے۔

کلاسیکی سنی مصادر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک واقعہ محفوظ کرتے ہیں جو اس وقت پیش آیا جب آپ منبر پر تھے۔ جہجاہ غفاری نامی ایک شخص آگے بڑھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے عصا لیا اور اسے توڑ دیا۔ اللالکائی کی روایت میں یہ تفصیل ہے کہ جہجاہ نے عصا اپنے گھٹنے پر توڑا۔ دوسرے کلاسیکی طرق بھی یہی بنیادی واقعہ محفوظ کرتے ہیں، اگرچہ بعض ضمنی تفصیلات مختلف ہیں۔

اس کے بعد روایت اس انجام کی طرف بڑھتی ہے جس نے واقعے کو غیر معمولی بنا دیا۔ مصادر میں ہے کہ عصا توڑنے کے بعد جہجاہ کو الآکِلَہ نامی شدید آفت لاحق ہوئی۔ متعدد روایات اس کی جگہ گھٹنا بتاتی ہیں۔ ابو نعیم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک دوسری روایت محفوظ کی ہے جس میں الآکِلَہ جہجاہ کے ہاتھ میں لاحق ہونے کا ذکر ہے، اور یہ بھی کہ ایک سال گزرنے سے پہلے اسی سے اس کی موت ہوگئی۔ ابن عساکر نے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے جس میں عصا توڑنے کے بعد الآکِلَہ کے ظاہر ہونے کا ذکر ہے۔

کلاسیکی مصنفین نے اس واقعے کو جس انداز سے اپنی کتابوں میں جگہ دی، وہ بھی قابل توجہ ہے۔ اللالکائی نے اسے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں درج کیا، جبکہ ابو نعیم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول روایت کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق غیر معمولی نشانیوں کے ضمن میں محفوظ کیا۔ یوں یہ واقعہ محض عصا توڑنے کا ایک جھگڑا نہیں رہتا، بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیے گئے ایک عمل اور اس کے بعد آنے والی سخت آفت کے سلسلے کے طور پر سامنے آتا ہے۔

تمام روایات ہر جزوی تفصیل ایک ہی طرح بیان نہیں کرتیں۔ بعض میں الآکِلَہ گھٹنے میں ہے اور ایک روایت میں ہاتھ میں۔ بعد کی کچھ روایات یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ عصا رسول اللہ ﷺ کا تھا اور خلفا کے استعمال میں رہا، جبکہ دوسری روایات صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں موجود عصا کا ذکر کرتی ہیں۔ الآکِلَہ کا قدیم نام اسی طرح محفوظ رکھا گیا ہے جس طرح مصادر میں آیا ہے، کیونکہ ان روایات میں اسے کسی مخصوص جدید طبی بیماری کے برابر قرار نہیں دیا گیا۔

یوں حکایت اسی یادگار ترتیب پر ختم ہوتی ہے: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ منبر پر تھے، جہجاہ نے عصا لیا اور توڑ دیا، اس کے بعد اسے الآکِلَہ لاحق ہونے کی روایت آئی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بعض روایات تقریباً ایک سال کے اندر اس کی موت کا ذکر کرتی ہیں۔ سنی مصنفین نے اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے وابستہ غیر معمولی نشانی یا کرامت کے طور پر محفوظ کیا، جبکہ ہاتھ، گھٹنے اور عصا کی نسبت سے متعلق مختلف تفصیلات الگ رہتی ہیں۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت کی یادگار ترتیب یہ ہے کہ جہجاہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے لیا ہوا عصا توڑا، پھر اسے الآکِلَہ لاحق ہونے کا ذکر آیا، اور بعض روایات تقریباً ایک سال کے اندر اس کی موت بھی بیان کرتی ہیں۔

مآخذ

al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, report 2396, section on the karamat of Uthman
al-Lalaka'i report 2396
al-Lalaka'i report 2396
Ibn Asakir, Tarikh Madinat Dimashq, vol. 39 p. 330
Abu Nu'aym, Dala'il al-Nubuwwa, report 529, 'What appeared at the hand of Uthman'
Ibn Asakir, Tarikh Dimashq 39/330: Muhammad ibn Sa'd -> Abd Allah ibn Idris -> Ubayd Allah ibn Umar -> Nafi -> Ibn Umar
al-Lalaka'i, chapter heading: reports of the karamat of Uthman ibn Affan
Abu Nu'aym, Dala'il al-Nubuwwa, 'What appeared at the hand of Uthman', report 529
al-Lalaka'i report 2396 compared with the connected Ibn Umar routes
Ibn Hajar's al-Isaba material on Jahjah ibn Sa'id as reproduced in the Sunnah.com narrator dossier
Abu Nu'aym, Dala'il al-Nubuwwa 529
al-Bukhari, al-Tarikh al-Awsat (also called al-Tarikh al-Saghir), report 271 in the displayed Mahmoud Ibrahim Zayed edition
Ibn Kathir, al-Bidaya wa al-Nihaya, events of 35 AH
Ibn Hajar al-Isaba material: variant names and routes for Jahjah al-Ghifari
al-Lalaka'i report 2396 and Abu Nu'aym report 529 use the term al-akila
CAND-0109 Task 1 evidence synthesis