کلاسیکی سنی مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے کہ جہجاہ غفاری نامی شخص نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے، جب آپ منبر پر تھے، عصا لے کر توڑ دیا۔ اسی روایت کے مجموعے میں ہے کہ اس کے بعد جہجاہ کو الآکِلَہ نامی آفت لاحق ہوئی، اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک متصل طریق میں ہے کہ ایک سال گزرنے سے پہلے اسی سے اس کی موت ہوگئی۔ اللالکائی نے اس واقعے کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کرامات کے ضمن میں ذکر کیا ہے، جبکہ ابو نعیم نے بھی ابن عمر رضی اللہ عنہ سے متصل روایت کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے متعلق نشانیوں کے باب میں محفوظ کیا ہے۔ مختلف طرق میں جسم کے متاثرہ حصے کی تعیین مختلف ہے، اس لیے الآکِلَہ کو ایک تاریخی مرض کا نام ہی رہنے دینا چاہیے اور اسے کسی جدید تشخیص کے برابر قرار نہیں دینا چاہیے۔
غیر معمولی پہلو اس کے بعد آتا ہے۔ مصادر کہتے ہیں کہ جہجاہ کو الآکِلَہ نامی آفت لاحق ہوئی۔ بعض روایات میں اس کی جگہ گھٹنا ہے، جبکہ ابو نعیم کے متصل طریق میں، مالک سے نافع اور نافع سے ابن عمر رضی اللہ عنہ تک، ہاتھ متاثر ہونے کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ ایک سال گزرنے سے پہلے اسی سے اس کی موت ہوگئی۔ ابن عساکر نے بھی عبید اللہ بن عمر، نافع اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متصل طریق سے عصا توڑنے کے بعد الآکِلَہ لاحق ہونے کی روایت محفوظ کی ہے۔
یہ اختلافات اہم ہیں، کیونکہ واقعے کو یوں پیش نہیں کرنا چاہیے گویا ہر مصدر نے ایک ہی مکمل تفصیل نقل کی ہو۔ اللالکائی نے اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں رکھا، لیکن سلیمان بن یسار کے ذریعے ان کا طریق کسی عینی شاہد تک براہ راست نہیں پہنچتا۔ اصل روایت کو ابن عمر رضی اللہ عنہ سے الگ متصل طرق تقویت دیتے ہیں، جن میں ابو نعیم اور ابن عساکر کے محفوظ طرق شامل ہیں۔ ابن حجر نے بھی نافع سے ابن عمر رضی اللہ عنہ تک ایک سے زیادہ روایات درج کی ہیں، جس سے متعدد متصل طرق سے اس واقعے کی نقل ظاہر ہوتی ہے۔
بعد کی بعض روایات مزید تفصیلات دیتی ہیں، جن میں یہ دعویٰ بھی ہے کہ عصا رسول اللہ ﷺ کا تھا اور خلفا کے استعمال میں رہا۔ چونکہ یہ نسبت اصل طرق میں یکساں نہیں، اسے مرکزی واقعے کے بجائے ثانوی اختلاف کے طور پر رکھنا چاہیے۔ اسی طرح جہجاہ نام کے ہر شخص کی دقیق سوانحی تعیین بنیادی واقعے کے لیے ضروری نہیں۔
محتاط نتیجہ یہ ہے کہ کلاسیکی مصادر میں جہجاہ کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے لیا گیا عصا توڑنے، اس کے بعد الآکِلَہ لاحق ہونے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بعض متصل طرق میں تقریباً ایک سال کے اندر اس کی موت کا ذکر ہے۔ سنی مصنفین نے اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے وابستہ غیر معمولی نشانی یا کرامت کے طور پر پیش کیا۔ تاہم مصادر الآکِلَہ کی کوئی جدید طبی تشخیص متعین نہیں کرتے اور ہاتھ اور گھٹنے کے مختلف بیانات کو ایک ہی تفصیل بنا کر پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی مصادر ایک ایسی روایتی ترتیب کی تائید کرتے ہیں جس میں جہجاہ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے لیا گیا عصا توڑا، اس کے بعد اسے الآکِلَہ لاحق ہوئی، اور بعض متصل طرق میں تقریباً ایک سال کے اندر اس کی موت کا ذکر ہے۔ سنی مصنفین نے اہم اختلافات محفوظ رکھتے ہوئے اس واقعے کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے وابستہ ایک غیر معمولی نشانی یا کرامت کے طور پر بیان کیا۔