صحیح بخاری ۷۵۵ کوفہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے خلاف شکایات کی باقاعدہ تحقیق محفوظ کرتی ہے۔ مساجد میں عام طور پر لوگوں نے ان کی تعریف کی، مگر ابو سعدہ نامی ایک شخص نے تین سنگین الزامات لگائے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ لشکری مہمات میں خود شریک نہیں ہوتے، تقسیم میں برابری نہیں کرتے اور فیصلوں میں انصاف نہیں کرتے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے غیر مشروط بددعا نہیں کی؛ انہوں نے دعا کی کہ اگر یہ شخص جھوٹا ہے اور دکھاوے یا شہرت کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اللہ اس کی عمر اور فقر کو طول دے اور اسے آزمائشوں میں ڈالے۔ اسی صحیح روایت میں بعد میں وہ شخص انتہائی بڑھاپے اور ابتلا میں نظر آتا ہے اور خود کہتا ہے کہ مجھ پر سعد رضی اللہ عنہ کی دعا پوری ہوئی۔
اس کے بعد کوفہ کی مساجد میں باقاعدہ تحقیق کرائی گئی تاکہ لوگوں سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں براہِ راست پوچھا جائے۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق عام طور پر لوگ ان کی تعریف کرتے رہے، یہاں تک کہ تحقیق کرنے والے بنو عبس کی مسجد میں پہنچے۔ وہاں اسامہ بن قتادہ، جن کی کنیت ابو سعدہ تھی، کھڑے ہوئے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ پر تین سنگین الزام لگائے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت سعد لشکری دستوں کے ساتھ خود نہیں جاتے، تقسیم برابر نہیں کرتے اور فیصلے میں عدل نہیں کرتے۔
یہاں واقعے کا اصل مرکز سامنے آتا ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کوئی غیر مشروط بددعا نہیں کی۔ انہوں نے معاملہ اللہ کے سامنے ایک واضح شرط کے ساتھ رکھا: اگر یہ شخص جھوٹا ہے اور صرف دکھاوے یا شہرت کے لیے کھڑا ہوا ہے تو اے اللہ، اس کی عمر دراز کردے، اس کے فقر کو طول دے اور اسے آزمائشوں میں مبتلا کردے۔
حدیث پھر بعد کے زمانے کی خبر دیتی ہے۔ ابو سعدہ بہت زیادہ بوڑھے ہوگئے۔ جب ان سے ان کی حالت پوچھی جاتی تو وہ خود کہتے کہ میں ایک بوڑھا آزمائش زدہ شخص ہوں، مجھے سعد کی دعا پہنچ گئی ہے۔ ذیلی راوی عبد الملک بن عمیر کہتے ہیں کہ انہوں نے خود اس شخص کو بعد میں دیکھا؛ بڑھاپے کی شدت سے اس کی بھنویں آنکھوں پر جھک گئی تھیں۔ صحیح بخاری اس کی بعد کی فتنے میں مبتلا حالت کی ایک عملی علامت بھی بیان کرتی ہے۔
صحیح ابن حبان ۱۸۵۹ اسی واقعے کی مکمل متوازی روایت محفوظ کرتی ہے، جس میں کوفہ کی تحقیق، الزام، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی مشروط دعا اور بعد کا نتیجہ معمولی لفظی فرق کے ساتھ موجود ہے۔ صحیح مسلم ۴۵۳ کوفہ کی شکایت اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی نماز کے دفاع کی آزاد تائید کرتی ہے، لیکن اس مختصر روایت میں الزام، دعا اور بعد کا نتیجہ نہیں آتا۔
اس لیے اس واقعے کو صحابی کی کرامت اور قبول ہونے والی مشروط دعا کے طور پر سمجھنا درست ہے۔ اس کا اخلاقی وزن اسی احتیاط میں ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کسی سچے ناقد کے لیے بددعا نہیں کی، بلکہ دعا کو جھوٹ، ریا اور شہرت طلبی کی شرط سے وابستہ رکھا۔
خلاصۂ نتیجہ
یہ اعلیٰ اعتماد کے ساتھ صحابی کی کرامت ہے جس کی بنیادی دلیل صحیح بخاری ۷۵۵ اور مکمل متوازی تائید صحیح ابن حبان ۱۸۵۹ ہے۔ غیر معمولی پہلو کسی عمومی بددعا کا نہیں بلکہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی اس محتاط مشروط دعا کے پورا ہونے کا ہے جو جھوٹے الزام، ریا اور شہرت طلبی کی شرط کے ساتھ کی گئی تھی۔ یہ واقعہ جھوٹی گواہی، بے بنیاد عوامی الزام اور حق کے معاملے میں اللہ کو پکارنے کی سنگینی کی واضح تنبیہ بھی ہے۔