ابتدائی اور کلاسیکی سنی مصادر میں روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی زمین کے نگران نے شکایت کی کہ زمین خشک ہو گئی ہے اور پانی کی ضرورت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ باہر گئے، نماز پڑھی اور دعا کی؛ پھر بادل جمع ہوا اور بارش ہوئی یہاں تک کہ حوض بھر گیا۔ بارش کی حد دیکھی گئی تو طرق کے مطابق وہ ان کی زمین سے یا تو بالکل باہر نہیں گئی یا صرف بہت تھوڑا آگے بڑھی۔ ابن سعد نے ابتدائی طریق محفوظ کیا، جبکہ ذہبی نے ایک دوسرا ملتا جلتا طریق نقل کر کے واقعے کو دو سندوں سے ثابت نمایاں کرامت کہا۔
مفصل طرق کے مطابق حضرت انس رضی اللہ عنہ باہر تشریف لے گئے، نماز ادا کی اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اس کے بعد ایک بادل بنا یا جمع ہوا اور ان کی زمین پر بارش شروع ہو گئی۔ بارش جاری رہی یہاں تک کہ ان کا حوض یا پانی ذخیرہ کرنے کی جگہ بھر گئی۔ بیہقی کی مفصل صورت میں واقعہ گرمی کے موسم میں ہے، جو اس کی غیر معمولی نوعیت کو نمایاں کرتا ہے؛ یہ تفصیل اسی طریق تک محدود رہنی چاہیے۔
روایت پھر ایک تفصیل بیان کرتی ہے جو اسے کرامت سمجھنے میں اہم بنی۔ یہ دیکھنے کے لیے کسی کو بھیجا گیا کہ بارش کہاں تک پہنچی ہے۔ منقول صورتوں میں معمولی فرق ہے: ایک طریق کہتا ہے کہ بارش حضرت انس رضی اللہ عنہ کی زمین سے صرف تھوڑا سا آگے گئی، جبکہ دوسری صورت کہتی ہے کہ وہ ان کی زمین سے باہر ہی نہیں گئی۔ ان تعبیرات کو طرق کے فرق کے طور پر محفوظ رکھنا چاہیے۔
ابن سعد نے جعفر بن سلیمان، ثابت بنانی کے واسطے سے ایک ابتدائی طریق نقل کیا ہے۔ بیہقی اسی عمومی روایتی سلسلے سے زیادہ مفصل صورت لاتے ہیں جس میں نماز، دعا، بادل، بارش اور حوض کے بھرنے کی تفصیلات محفوظ ہیں۔ امام ذہبی نے انصاری، ان کے والد اور ثمامہ کے واسطے سے ایک دوسرا مشابہ طریق بھی نقل کیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نہایت واضح انداز میں اسے ایک ظاہر و نمایاں کرامت قرار دیا جو دو سندوں سے ثابت ہے۔
دو طرق کی تائید اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ محض کسی ایک الگ تھلگ دیرینہ سلسلے کی بعد کی تکرار نہیں، اور کلاسیکی محدث و مؤرخ کی صریح مثبت رائے اس کی شہادتی حیثیت کو مضبوط کرتی ہے۔ اس کے باوجود بارش کی عین جغرافیائی حد کے بارے میں مصادر میں موجود چھوٹے فرق کو دیانت داری سے برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سب سے مضبوط نتیجہ یہ ہے کہ ابتدائی اور کلاسیکی سنی مصادر مضبوطی سے ایک ایسا واقعہ محفوظ کرتے ہیں جس میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنی خشک زمین کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اس کے بعد بارش ہوئی، ان کا پانی کا ذخیرہ بھر گیا، اور بارش تقریباً مکمل طور پر یا مکمل طور پر اسی زمین تک محدود بتائی گئی۔ اسے اعلیٰ اعتماد کی صحابی کرامت اور قبولِ دعا کے واقعے کے طور پر پیش کرنا مناسب ہے، نہ کہ مرفوع نبوی حدیث کے طور پر۔
خلاصۂ نتیجہ
ابتدائی مصادر اور امام ذہبی کی دو سندوں والی واضح تائید اس روایت کو مضبوط بناتی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بارش کے لیے دعا کی اور غیر معمولی طور پر محدود انداز میں ان کی زمین پر راحت نازل ہوئی۔ یہ واقعہ قبولِ دعا پر مبنی اعلیٰ اعتماد کی صحابی کرامت کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔