کلاسیکی سنی مصادر میں محفوظ ہے کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں تھے جن کی اللہ کے نام پر قسم پوری ہونے کی فضیلت بیان ہوئی۔ فارس کے خلاف ایک بڑی جنگ میں مسلمانوں نے ان سے اپنے رب کی قسم کھا کر فتح کی دعا کرنے کو کہا۔ انہوں نے دشمن پر فتح مانگی اور روایت کے مطابق دشمن شکست کھا گیا۔ ایک بعد کے سخت مقابلے میں انہوں نے دوبارہ فتح کی دعا کی اور یہ بھی مانگا کہ اللہ انہیں اپنے نبی ﷺ کے ساتھ ملا دے؛ پھر فتح ہوئی اور حضرت براء شہید ہوئے۔ ترمذی نے عمومی فضیلت کی روایت کو حسن غریب کہا اور حاکم نے جنگی طریق کو صحیح الاسناد قرار دیا۔
فارس کے خلاف ایک بڑی جنگ میں روایت کے مطابق مسلمانوں کو سخت جانی نقصان اور شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ ایسے وقت میں وہ حضرت براء رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہا کہ اپنے رب کی قسم کھا کر مسلمانوں کے لیے فتح طلب کریں۔ حضرت براء نے قسم کے مشابہ الفاظ میں دعا کی اور اللہ سے دشمن کے مقابلے میں غلبہ اور فتح مانگی۔ روایت پھر بیان کرتی ہے کہ ان کی اس دعا کے بعد دشمن کو شکست ہوئی اور مسلمانوں کو میدان میں کامیابی ملی۔
ایک بعد کے نہایت نازک مقابلے میں اسی نوعیت کی دعا دوبارہ نقل ہوئی، مگر اس مرتبہ اس میں حضرت براء کی اپنی خواہش بھی شامل تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے فتح مانگی اور ساتھ یہ دعا کی کہ اللہ انہیں اپنے نبی ﷺ کے ساتھ ملا دے۔ روایت اس کے بعد دو نتیجے ایک ساتھ ذکر کرتی ہے: مسلمانوں کو فتح ملی اور حضرت براء رضی اللہ عنہ خود شہید ہوگئے۔ روایت کی داخلی ساخت میں یہ دونوں نتائج اسی دوسری دعا کی تکمیل کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔
جنگی سلسلہ حاکم نے زہری کے واسطے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، اور حاکم نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا۔ ابن حجر نے بھی حضرت براء کے تذکرے میں اس جنگی مواد کو محفوظ کیا، جبکہ لالکائی نے واقعے کو حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ کی کرامات میں شامل کیا۔ ان مختلف کلاسیکی ماخذوں کی موجودگی اس واقعے کو محض بہت بعد کی وعظی یا عقیدت مندانہ حکایت سے بڑھ کر ایک مضبوط تاریخی و روایتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اس لیے شواہد کی بنیاد پر نتیجہ واضح ہے۔ مصادر حضرت براء رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک معروف نبوی فضیلت، جنگ میں فتح کے لیے ان کی دعا اور اس کے بعد دشمن کی شکست، اور ایک بعد کے مقابلے میں فتح کے ساتھ شہادت مانگنے اور پھر دونوں نتائج واقع ہونے کی خبر محفوظ کرتے ہیں۔ ان کی شہادت کا قطعی سال وہاں زبردستی مقرر نہیں کرنا چاہیے جہاں تاریخی اقوال مختلف ہیں، لیکن دعا اور اس کی تکمیل کا بنیادی سلسلہ مضبوط کلاسیکی تائید رکھتا ہے اور بلند اعتماد کے ساتھ شامل کیا جا سکتا ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر مضبوط طور پر محفوظ کرتے ہیں کہ حضرت براء بن مالک رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی فتح کے لیے دعا کی، فتح واقع ہوئی، اور ایک بعد کے مقابلے میں انہوں نے فتح کے ساتھ شہادت کی دعا کی جس کے بعد دونوں نتائج کی روایت ہے۔ مجموعی ماخذی تائید اسے قبولِ دعا پر مبنی ایک صحابی کی کرامت کے طور پر بلند اعتماد سے شامل کرنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔