حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور ملک الموت کے نرم برتاؤ کی روایت

صحابی/صحابیہ کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

کلاسیکی سنی مصادر میں ایک اثر محفوظ ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایک مومن ساتھی کے پاس وفات کے قریب گئے اور ملک الموت سے اس کے ساتھ نرمی کی درخواست کی۔ پھر ایسا جواب سننے کی روایت ہے جس کا مفہوم تھا: “میں ہر مومن کے ساتھ نرمی کرتا ہوں۔” اس اثر کے قدیم طرق موجود ہیں اور بوصیری نے ایک سند کے راویوں کو ثقہ کہا۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی صحیح نبوی حدیث مومن کی روح کے نرمی اور آسانی سے نکلنے کے مفہوم کے لیے مضبوط اور براہِ راست متعلق پس منظر فراہم کرتی ہے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں محفوظ ایک کلاسیکی روایت ایک ایسے مومن کے بسترِ مرگ سے شروع ہوتی ہے جو نزع کی سختی سے گزر رہا تھا۔ روایت کے مطابق حضرت سلمان اس آخری مرحلے میں اپنے ساتھی کی عیادت کے لیے پہنچے، جب اس کی زندگی اختتام کے قریب تھی۔ اس پورے واقعے کا ماحول ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے لیے شفقت اور خیر خواہی کا ہے؛ نہ یہ کسی عوامی مقابلے کی حکایت ہے اور نہ کسی غیر متعلق ڈرامائی سفر کی۔

روایت کے مطابق حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے ملک الموت کو مخاطب کر کے درخواست کی کہ اس دم توڑتے مومن کے ساتھ نرمی کی جائے۔ اسی مقام پر روایت غیر معمولی بات نقل کرتی ہے: گھر یا کمرے کی جانب سے ایک جواب سنائی دیا جس کا مفہوم تھا، “میں ہر مومن کے ساتھ نرمی کرتا ہوں۔” ایک دوسری کلاسیکی روایت میں جواب گھر کے ایک جانب سے آنے کا ذکر ہے۔ مقام کے یہ لفظی فرق ہر طریق کے ساتھ الگ رہنے چاہییں، مگر بنیادی ترتیب ایک ہے: حضرت سلمان درخواست کرتے ہیں اور پھر ایک غیبی جواب سنائی دینے کی خبر دی جاتی ہے۔

اس اثر کی حفاظت قدیم کلاسیکی مصادر میں ملتی ہے۔ ابن ابی عمر اسے مروان فزاری، محمد بن قیس اسدی اور سلم بن عطیہ فقیمی کے واسطے سے نقل کرتے ہیں۔ ابو نعیم وکیع، محمد بن قیس اور سلم بن عطیہ کے ذریعے قریب المعنی طریق محفوظ کرتے ہیں۔ بعد میں بوصیری نے ابن ابی عمر کی سند کے راویوں کے بارے میں مثبت حکم دیتے ہوئے انہیں ثقہ کہا۔ لالکائی نے بھی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی کرامات کے باب میں اس سے متعلق روایت ذکر کی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے کلاسیکی علمی ذخیرے میں یہ واقعہ ایک غیر معمولی اثر کے طور پر ان سے منسوب رہا۔

اس مفہوم کے لیے مضبوط نبوی پس منظر حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث میں ملتا ہے۔ مسند احمد میں ملک الموت مومن سے کہتے ہیں: “اے پاکیزہ نفس! اللہ کی مغفرت اور رضا کی طرف نکل چل”، اور روح کو مشکیزے کے قطرے کی طرح آسان نکلتے بتایا گیا ہے۔ طبرانی کے ایک حسن طریق میں بھی مومن کی روح کے پسینے کی مانند نکلنے کا مفہوم ہے، جبکہ جامع ترمذی میں پیشانی کے پسینے کے ساتھ مومن کی وفات کی معتبر روایت ہے۔

اس لیے شواہد کی بنیاد پر مناسب نتیجہ یہ ہے کہ ابتدائی اور کلاسیکی سنی مصادر حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا ایسا اثر محفوظ کرتے ہیں جس میں وہ ایک محتضر مومن کے لیے ملک الموت سے نرمی کی درخواست کرتے ہیں اور پھر غیبی جواب سننے کی روایت آتی ہے۔ صحیح نبوی احادیث مستقل طور پر مومن کی روح کے ساتھ رحمت اور آسانی کے عمومی مفہوم کو ثابت کرتی ہیں۔ یہ مضبوط پس منظر حضرت سلمان کے اثر کے مفہوم کو بہتر سمجھاتا ہے، مگر مخصوص غیبی جواب کی الگ سند نہیں بنتا۔

خلاصۂ نتیجہ

کلاسیکی مصادر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا یہ اثر محفوظ کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک محتضر مومن کے لیے نرمی کی درخواست کی اور پھر غیبی جواب سننے کی خبر دی گئی۔ صحیح نبوی احادیث مستقل طور پر مومن کی روح کے ساتھ رحمت اور آسانی کے عمومی مفہوم کو ثابت کرتی ہیں۔ اس لیے حضرت سلمان کا واقعہ متوسط اعتماد کے ساتھ ایک صحابی کی منقول کرامت کے طور پر شامل رہ سکتا ہے اور صحیح احادیث اس کے متعلقہ مضبوط پس منظر کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔

مآخذ

Ibn Abi Umar as preserved in al-Matalib al-Aliya, report 817
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya 1/204
Ibn Abi Umar / al-Matalib al-Aliya
Ibn Abi Umar route: Marwan al-Fazari -> Muhammad ibn Qays al-Asadi -> Salm ibn Atiyya
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya 1/204
al-Busiri, Ithaf al-Khiyara al-Mahara 2/413
al-Lalaka'i, report 102 / digital 2425
Musnad Ahmad, hadith of al-Bara ibn Azib on the departure of the believer's soul
CAND-0127 Task 1 evidence synthesis
al-Tabarani, al-Mu'jam al-Kabir 10/233, no. 10417; al-Haythami, Majma' al-Zawa'id 2/326
Jami al-Tirmidhi 982