کلاسیکی سنی مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے کہ حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک ہانڈی یا برتن سے تسبیح کی آواز سنائی دی اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی اس واقعے سے وابستہ تھے۔ لالکائی نے خیثمہ کے طریق کو نقل کیا اور بعد میں اسے ابو الدرداء اور سلمان رضی اللہ عنہما کی کرامات میں شمار کیا، جبکہ ذہبی نے اسی بنیادی صورت کو نقل کر کے اسے صحیح قرار دیا۔ ابن ابی شیبہ کی ایک مفصل صورت میں ہانڈی کے الٹنے اور بغیر کچھ گرے واپس اپنی جگہ آنے کا اضافہ ہے، مگر اس کا طریق منقطع ہے۔ ایک الگ طبق یا پیالے والی روایت بھی ہے جسے بنیادی ہانڈی والی روایت کے ساتھ خلط نہیں کرنا چاہیے۔
آواز بند ہونے کے بعد حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا قول بھی منقول ہے۔ انہوں نے مفہوم کے اعتبار سے کہا کہ اگر یہ کیفیت جاری رہتی تو حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی اور بھی بڑی نشانیاں سنتے یا دیکھتے۔ لالکائی نے اس واقعے کو ابو الدرداء اور سلمان رضی اللہ عنہما کی کرامات کے باب میں جگہ دی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلاسیکی سنی روایت میں اسے کس نوعیت سے سمجھا گیا۔ بعد میں امام ذہبی نے تاریخ الاسلام میں خیثمہ کے طریق کی یہی بنیادی صورت نقل کی اور اس روایت کو صحیح کہا، اس لیے اصل صورت کو نمایاں مثبت تائید حاصل ہے۔
دیگر طرق اضافی تفصیلات لاتے ہیں، مگر انہیں ملا کر نئی مشترک کہانی بنانا درست نہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ابو البختری کے طریق سے ایک مفصل صورت ہے جس میں ہانڈی الٹ جاتی ہے، پھر اپنی جگہ لوٹ آتی ہے اور اس میں موجود چیز نہیں گرتی۔ لیکن تحقیق شدہ نسخے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ابو البختری کی حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں، اس لیے یہی خاص طریق منقطع شمار ہوتا ہے۔
ایک متعلقہ روایت میں حضرت ابو الدرداء اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہما کے ایک طبق یا پیالے سے کھانے کا ذکر ہے اور برتن اور اس کے کھانے کی تسبیح سنائی دینے کا بیان آتا ہے۔ یہ صورت قیس بن ابی حازم کے طریق سے ہے اور اسے اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ لوگ یہ بات بیان کیا کرتے تھے۔ کلاسیکی رجال اور سوانحی مواد میں یہ بھی ذکر ہے کہ قیس نے نہ حضرت ابو الدرداء اور نہ حضرت سلمان رضی اللہ عنہما سے سماع کیا، اس لیے اس متوازی روایت کی سندی حیثیت بنیادی ہانڈی والی روایت سے مختلف ہے۔
اس لیے مضبوط ترین عوامی نتیجہ مثبت مگر محتاط ہے۔ کلاسیکی مصادر ایک صحابی کی کرامت محفوظ کرتے ہیں جس میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے برتن سے قابل سماعت تسبیح منسوب ہے اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ واقعے سے وابستہ ہیں، جبکہ امام ذہبی نے بنیادی خیثمہ والے طریق کو مثبت درجہ دیا ہے۔ ہانڈی کے الٹنے والی مفصل صورت اور طبق یا پیالے والی صورت متعلق ضرور ہیں مگر کمزور تر طرق ہیں۔ اس واقعے کو صحابی کا اثر یا کرامت کہنا مناسب ہے، اسے صحیح مرفوع نبوی حدیث کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے متعلق برتن سے تسبیح کی آواز والی روایت محفوظ کرتے ہیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی اس منظر سے وابستہ ہیں، اور امام ذہبی نے بنیادی طریق کو مثبت درجہ دیا ہے۔ متعلقہ مفصل صورتوں میں انقطاع یا عدم سماع موجود ہونے کی وجہ سے اسے احتیاط کے ساتھ درمیانے اعتماد کی صحابی کرامت کے طور پر شامل کرنا مناسب ہے۔