قدیم اور کلاسیکی سنی مصادر میں حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایات محفوظ ہیں کہ سمندر میں داخل ہوتے یا اسے عبور کرتے وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ ابن ابی شیبہ کی مصنف میں اس دعا کا ایک ابتدائی ماخذ ملتا ہے، جبکہ طبرانی اور ابو نعیم کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول مفصل روایات میں علاءؓ اور ان کے لشکر کے پانی پار کرنے کا ذکر ہے۔ ان مفصل روایتوں میں یہ اضافہ بھی ہے کہ پانی اونٹوں کے پاؤں کے نچلے حصے سے بہت کم اوپر تک پہنچا یا اس سے بھی آگے نہ بڑھا۔ دعا اور عبورِ سمندر کا ابتدائی مرکزی حصہ قابلِ لحاظ تائید رکھتا ہے، لیکن لشکر اور کم بھیگنے کی تفصیلات محدود اسانید پر منحصر ہیں، اس لیے واقعہ احتیاط کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔
بعد کی زیادہ مفصل کلاسیکی روایات میں لشکر کا منظر بھی شامل ہے۔ طبرانی اور ابو نعیم کے ہاں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ایک طریق میں علاءؓ اور ان کے ساتھیوں کو دعا کے بعد پانی پار کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے۔ انہی روایتوں میں ایک غیر معمولی تفصیل یہ بھی آتی ہے کہ پانی نے انہیں بہت کم متاثر کیا؛ ایک طریق میں کہا گیا ہے کہ پانی اونٹوں کے پاؤں کے نچلے حصے سے آگے نہ بڑھا۔ لالکائی کی زیادہ مفصل روایت میں عبارت اور زیادہ قوی ہو جاتی ہے اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ نہ پاؤں بھیگے اور نہ کھر۔ ان مختلف تعبیرات کو ایک ہی قطعی عبارت میں ملا دینا درست نہیں، کیونکہ ہر تفصیل اپنے مخصوص طریق کے ساتھ وابستہ ہے۔
تمام ماخذ یکساں قوت کے نہیں ہیں۔ ابن ابی شیبہ کی مصنف دعا اور سمندر عبور کرنے کے واقعے کا سب سے ابتدائی براہِ راست جانچا گیا مقام فراہم کرتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی زیادہ مفصل روایت کو کلاسیکی تائید حاصل ہے، لیکن ہیثمی نے اس کے ایک راوی ابراہیم بن معمر ہروی کو اپنے لیے نامعلوم قرار دیا، جبکہ باقی رجال کو قابلِ اعتماد بتایا۔ لالکائی کی اس سے بھی زیادہ مفصل روایت میں چار ہزار کے لشکر کا ذکر آتا ہے، مگر اس کی سند میں عدی بن فضل ہے جسے محدثین نے متروک قرار دیا ہے۔ اس لیے ابتدائی مرکزی واقعہ اور بعد کی تفصیلی شکلوں کو ایک ہی درجۂ ثبوت نہیں دیا جا سکتا۔
اسی بنا پر عوامی بیان میں ابتدائی مرکزی حصے اور بعد کی غیر معمولی تفصیلات کے درمیان فرق قائم رہنا چاہیے۔ دستیاب شواہد ایک کلاسیکی روایت کی تائید کرتے ہیں کہ علاءؓ نے سمندر عبور کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی، اور بعد کے طرق ان کے لشکر کے ساتھ عبور کا ذکر کرتے ہیں۔ پانی کے بہت کم لگنے یا نہ لگنے کی تفصیلات انہی مفصل طرق سے تعلق رکھتی ہیں، ابتدائی روایت کا اتنا مضبوط حصہ نہیں۔ چنانچہ اسے صحابی کی کرامت اور قبولِ دعا کی ایک معنی خیز کلاسیکی روایت کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے، مگر سندی حدود کی وجہ سے درمیانی درجے کے اعتماد اور واضح احتیاط کے ساتھ۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر میں حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کی دعا اور سمندر عبور کرنے کی روایت محفوظ ہے، اور مفصل طرق میں ان کے لشکر کے ساتھ غیر معمولی انداز میں عبور کا ذکر بھی آتا ہے۔ ابتدائی مرکزی حصہ قابلِ لحاظ تائید رکھتا ہے، جبکہ پانی نہ لگنے کی مضبوط ترین تفصیلات محدود طرق پر قائم ہیں، اس لیے واقعہ درمیانی اعتماد اور احتیاط کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔