علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ اور پانی کے غیر معمولی عبور کی روایت

صحابی/صحابیہ کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہقدیم تاریخ
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

کلاسیکی مصادر میں صحابی علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ سفر کرنے والے لشکر کے بارے میں ایک غیر معمولی روایت محفوظ ہے۔ راستے میں پانی حائل ہوا تو روایات نماز، دعا اور اللہ کا نام لے کر آگے بڑھنے کا ذکر کرتی ہیں۔ پھر جماعت نے پانی عبور کیا اور متن اس بات پر زور دیتا ہے کہ ان کے پاؤں اور سواریوں کے سم پانی سے نہ بھیگے۔ یہ واقعہ صحابی کی کرامت کے طور پر احتیاط کے ساتھ شائع کیا جا سکتا ہے، کیونکہ محفوظ اسانید میں نمایاں کمزوریاں موجود ہیں۔

علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سے تھے جنہیں بحرین سے متعلق اہم ذمہ داریاں دی گئیں۔ بعد کے کلاسیکی مصادر نے ان کے سفر اور مہمات سے وابستہ ایک نہایت غیر معمولی واقعہ محفوظ کیا ہے۔ لالکائی کی مفصل روایت میں جماعت ایک سخت زمینی سفر کے بعد ایسے پانی تک پہنچتی ہے جو ان کی پیش قدمی کے راستے میں حائل ہو جاتا ہے۔ کشتیاں دستیاب نہیں ہوتیں اور بظاہر پورے لشکر کا سفر رک جاتا ہے۔ اس موقع پر علاء رضی اللہ عنہ کسی ذاتی یا مستقل قوت کا دعویٰ نہیں کرتے بلکہ نماز اور دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔

روایت کے مطابق انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ ان کے لیے عبور آسان فرما دے۔ اس کے بعد اپنی سواری کی لگام تھامی اور ساتھیوں کو حکم دیا کہ اللہ کا نام لے کر آگے بڑھیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں روایت اپنے مرکزی اور حیرت انگیز منظر تک پہنچتی ہے۔ جماعت پانی میں داخل ہوتی ہے اور پار نکل جاتی ہے۔ لالکائی کی مفصل عبارت میں بیان ہے کہ لوگوں کے پاؤں، اونٹوں کے خف اور دوسری سواریوں کے سم تک نہ بھیگے۔ دوسری طرف پہنچنے کے بعد علاء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی، اور روایت کے مطابق لشکر نے کسی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔

ابو نعیم کے ہاں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک نسبتاً مختصر متوازی روایت بھی محفوظ ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سمندر کے کنارے پہنچ کر علاء رضی اللہ عنہ نے ساتھیوں سے اللہ کا نام لینے اور پانی میں داخل ہونے کو کہا۔ انہوں نے عبور کیا اور پانی ان کے اونٹوں کے خف کے نچلے حصے کو بھی نہ بھگو سکا۔ طبرانی نے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے اسی مضمون کی روایت نقل کی ہے۔ ان متوازی نقلوں میں بنیادی منظر مشترک رہتا ہے: راستہ روکنے والا پانی، اللہ پر بھروسا، اس کا نام لے کر آگے بڑھنے کا حکم، اور پھر غیر معمولی طور پر عبور مکمل ہونا۔

تاہم اس روایت کی اسانید کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لالکائی کی مفصل سند میں عدی بن فضل موجود ہیں جنہیں بڑے محدثین نے متروک یا بہت کمزور قرار دیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول متوازی طریق کے بارے میں ہیثمی نے ایک راوی کو غیر معروف بتایا، اگرچہ باقی رجال کو ثقہ کہا۔ اس لیے اس واقعے کو بلا قید صحیح روایت کہنا مناسب نہیں۔ زیادہ ذمہ دارانہ انداز یہ ہے کہ اسے کلاسیکی مصادر میں محفوظ صحابی کی کرامت کی روایت کے طور پر بیان کیا جائے، روحانی معنی کو برقرار رکھا جائے اور ساتھ ہی سند کی حدود کو بھی صاف طور پر واضح رکھا جائے۔

خلاصۂ نتیجہ

کلاسیکی روایات علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اپنے ساتھیوں کو اس کا نام لے کر پانی عبور کراتے ہوئے یاد کرتی ہیں۔ یہ صحابی کی ایک منقول کرامت کے طور پر بامعنی واقعہ ہے، تاہم درست اشاعت کے لیے اس کی محفوظ اسانید کی کمزوریاں بھی واضح رہنی چاہییں۔

مآخذ

Al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunnah wa al-Jama'ah, Karamat al-Awliya, local report 107 / global 2429

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0075-CLM-01 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.

Abu Nu'aym, Dala'il al-Nubuwwah 521

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0075-CLM-02 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.

Al-Tabarani, al-Mu'jam al-Kabir 167; al-Haythami, Majma' al-Zawa'id 9/379

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0075-CLM-03 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.

Hadith-critical biographical judgments on 'Adi ibn al-Fadl al-Taymi

UPSTREAM_SOURCE_LINK_REPAIR=PASS; claim_code=CAND-0075-CLM-04 now links this SOURCE to a claim reconstructed only from its supplied locked canonical text.