کلاسیکی مصادر میں حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایات محفوظ ہیں کہ سفر کے دوران ان کا انتقال ہوا اور ساتھیوں نے انہیں دفن کیا۔ بعد میں ساتھیوں کے تدفین کی جگہ لوٹنے کا ذکر ہے، جس کے بعد قبر یا جسم نہ ملنے کی روایت سامنے آتی ہے۔ ابن سعد ایک ابتدائی سوانحی صورت نقل کرتے ہیں، جبکہ طبرانی، ابو نعیم اور لالکائی میں متعلقہ روایتیں موجود ہیں۔ غیر معمولی غیبت کے لیے جانچے گئے ہر طریق میں نمایاں سندی کمزوری ہے، اور واپسی کی وجہ بھی مختلف روایات میں مختلف ہے، اس لیے واقعہ کم اعتماد والی منقول کرامت اور اداریاتی جائزے کا محتاج رہتا ہے۔
غیر معمولی حصہ اس وقت آتا ہے جب ساتھی واپس پہنچتے ہیں۔ روایتوں میں کہا گیا ہے کہ حضرت علاءؓ کا جسم نہ ملا، یا قبر میں انہیں دیکھا یا ان کا مقام دوبارہ معلوم نہ کیا جا سکا۔ ابن سعد نے شعبی سے ایک ابتدائی سوانحی صورت نقل کی ہے جس میں علاءؓ ایک مقام کے قریب وفات پاتے ہیں، جس کا نام روایت میں بیاس یا بلیاس آیا ہے، اور تدفین کے بعد ساتھی واپس آکر قبر کی جگہ نہیں پا سکتے۔ طبرانی اور ابو نعیم کے ہاں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طریق میں انہیں ریت میں دفن کرنے اور بعد میں ساتھیوں کے واپس آکر قبر میں انہیں نہ دیکھنے کا ذکر ہے۔ لالکائی اپنی زیادہ مفصل کرامت والی روایت کے آخر میں بھی جسم نہ ملنے کا یہی واقعہ شامل کرتے ہیں۔
کہانی کا کلاسیکی نقل ہونا واضح ہے، لیکن اس کی اسانید کے مسائل بھی اہم ہیں۔ ابن سعد کا طریق مجالد بن سعید سے گزرتا ہے، جو حدیث میں ضعیف مانے گئے اور جن کی یادداشت و اختلاط پر بھی کلام ہے، جبکہ شعبی کی روایت براہِ راست عینی شاہد کی سند کے بجائے تاریخی نوعیت رکھتی ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ والے طریق میں ابراہیم بن معمر ہروی ہے، جس کے بارے میں ہیثمی نے کہا کہ وہ اسے نہیں جانتے، اگرچہ باقی رجال کو قابلِ اعتماد بتایا۔ لالکائی کی مفصل روایت میں عدی بن فضل ہے، جسے ناقدین نے متروک قرار دیا۔ یوں ایک سے زیادہ کلاسیکی ماخذ کے باوجود غیر معمولی غیبت کے لیے کوئی جانچا ہوا مضبوط طریق سامنے نہیں آتا۔
اس بنا پر یہ مصادر کہانی کے وجود اور کلاسیکی قبولیت کو اس کے غیر معمولی نتیجے کی تاریخی قطعیت سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ سب سے محفوظ عوامی بیان یہی ہے کہ کلاسیکی سنی ادب میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت علاءؓ کو دفن کیا گیا اور بعد میں ان کے ساتھی واپس آئے تو جسم نہ ملا یا قبر کی جگہ دوبارہ معلوم نہ ہو سکی۔ چونکہ جانچے گئے ہر غیر معمولی نتیجے والے طریق میں مادی سندی نقص موجود ہے، اس لیے اس واقعے کو ثابت شدہ حقیقت کے بجائے کم اعتماد والی منقول کرامت اور اداریاتی جائزے کے مرحلے میں رکھنا چاہیے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر میں حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے دفن کیے جانے اور بعد میں ساتھیوں کے واپس آکر جسم یا قبر کی جگہ نہ پانے کی روایت محفوظ ہے۔ چونکہ اس غیر معمولی نتیجے کے جانچے گئے طرق سب مادی سندی کمزوری رکھتے ہیں، اس لیے یہ کم اعتماد والی منقول کرامت ہے جسے اداریاتی جائزے کے ساتھ ہی پیش کیا جانا چاہیے۔