عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ اور قافلے کا راستہ روکنے والے شیر کا واقعہ

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

لالکائی نے عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ سے متعلق ایک روایت محفوظ کی ہے کہ ایک شیر نے قافلے کا راستہ روک لیا۔ اس روایت کے مطابق عامر رحمہ اللہ سواری سے اترے، اللہ پر توکل کا اظہار کرتے ہوئے شیر کے قریب گئے، اسے دونوں کانوں سے پکڑ کر راستے سے ہٹا دیا اور پھر قافلہ گزر گیا۔ ابو نعیم نے شیر سے متعلق ایک مختصر دوسری روایت بھی محفوظ کی ہے جس میں عامر رحمہ اللہ اس قدر قریب سے گزرے کہ ان کا کپڑا شیر کے منہ سے چھو گیا۔ دونوں روایتوں کی تفصیل ایک جیسی نہیں، اس لیے انہیں الگ رکھا گیا ہے۔

لالکائی نے عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ سے متعلق سفر کا ایک غیر معمولی واقعہ محفوظ کیا ہے۔ روایت کے مطابق وہ ایک قافلے کے ساتھ سفر کر رہے تھے کہ راستے میں ایک شیر آ کھڑا ہوا۔ جانور کی موجودگی کی وجہ سے قافلہ آگے نہ بڑھ سکا۔ منظر سادہ ہے: راستہ بند ہے، مسافر رکے ہوئے ہیں اور عامر رحمہ اللہ اس رکاوٹ کا سامنا کرنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔

روایت کہتی ہے کہ عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ اپنی سواری سے اترے اور اللہ پر توکل کا اظہار کرتے ہوئے شیر کی طرف چلے۔ وہ قافلے کے پیچھے انتظار نہیں کرتے بلکہ براہ راست جانور کے قریب جاتے ہیں۔ واقعے کی روحانی فضا اسی توکل سے بنتی ہے جس کے ساتھ ان کا آگے بڑھنا بیان کیا گیا ہے۔

پھر لالکائی کی روایت قصے کی سب سے نمایاں تفصیل بیان کرتی ہے۔ اس کے مطابق عامر رحمہ اللہ نے شیر کو دونوں کانوں سے پکڑا اور اسے راستے سے ایک طرف ہٹا دیا۔ جب شیر راستے سے ہٹ گیا تو قافلہ گزر سکا اور سفر دوبارہ جاری ہوگیا۔ روایت مختصر ہے، مگر آغاز سے انجام تک اس کی ترتیب نہایت واضح ہے۔

لالکائی نے اس واقعے کو عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ سے منقول کرامات کے ضمن میں ذکر کیا ہے۔ اسی وجہ سے بعد کی یادداشت میں یہ صرف ایک خطرناک جنگلی جانور سے سامنا نہیں رہا، بلکہ عبادت، توکل اور غیر معمولی مدد سے وابستہ ایک حکایت کے طور پر محفوظ ہوا۔

ابو نعیم نے عامر رحمہ اللہ اور شیر سے متعلق ایک دوسری، مختصر روایت بھی محفوظ کی ہے۔ اس میں عامر شیر کے اتنے قریب سے گزرتے ہیں کہ ان کا کپڑا اس کے منہ سے چھو جاتا ہے۔ اس روایت میں شیر کو کانوں سے پکڑنے یا قافلے کے راستے سے ہٹانے کی تفصیل نہیں ہے، اس لیے اسے مفصل روایت کے اندر شامل نہیں کیا گیا۔

عوامی کہانی یوں سیدھی رہتی ہے: شیر قافلے کا راستہ روکتا ہے، عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس کے قریب جاتے ہیں، اور لالکائی کی روایت کے مطابق اسے راستے سے ہٹا دیتے ہیں تاکہ مسافر گزر سکیں۔ ابو نعیم کی مختصر روایت شیر سے ایک الگ ملاقات محفوظ کرتی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کلاسیکی مصادر میں اس موضوع کی ایک سے زیادہ صورتیں گردش کرتی تھیں۔

خلاصۂ نتیجہ

کلاسیکی روایت عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ کو ایک ایسے شیر کے سامنے آگے بڑھتے ہوئے یاد کرتی ہے جس نے قافلے کا راستہ روک رکھا تھا، اور لالکائی کے بیان کے مطابق انہوں نے اسے ہٹا دیا تاکہ قافلہ گزر سکے۔

مآخذ

al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, report 169
al-Lalaka'i, report 169
al-Lalaka'i route: Umar ibn Shabba -> Yusuf ibn Atiyya -> al-Mu'alla ibn Ziyad -> Amir
Yusuf ibn Atiyya al-Saffar narrator dossier
al-Mu'alla ibn Ziyad al-Qardusi narrator dossier
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya, Amir ibn Abd Qays biography
Abu Nu'aym / HadithPortal, Amir ibn Abd Qays, report 1629
CAND-0163 Task 1 evidence synthesis
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, report 169
al-Lalaka'i, report 169
al-Lalaka'i, Karamat Amir ibn Abd Qays, report 169
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya, Amir ibn Abd Qays biography, vol. 2, p. 93
al-Lalaka'i report 169; Yusuf ibn Atiyya al-Saffar narrator criticism