عبداللہ بن غالب رحمہ اللہ کی قبر کی مٹی سے مشک جیسی خوشبو کا منقول واقعہ

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

کلاسیکی مصادر میں عبداللہ بن غالب رحمہ اللہ کے بارے میں ایک روایت محفوظ ہے کہ یوم الزاویہ کی لڑائی میں وفات اور تدفین کے بعد ان کی قبر سے متعلق مشک جیسی خوشبو محسوس کی گئی۔ مالک بن دینار سے منقول ہے کہ انہوں نے قبر دیکھی، اس کی کچھ مٹی لی اور اسے مشک جیسا پایا۔ ابو نعیم نے ایک مقامی روایت بھی محفوظ کی ہے کہ لوگوں نے قبر کی مٹی لی، اسے مشک جیسا قرار دیا اور بعض نے اسے اپنے کپڑوں میں رکھا۔ لالکائی یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ لوگ قبر کی مٹی میں بہت مشغول ہوگئے اور بعد میں قبر برابر کر دی گئی۔

کلاسیکی سوانحی اور دینی مصادر میں عبداللہ بن غالب رحمہ اللہ کے بارے میں وفات کے بعد پیش آنے والی ایک غیر معمولی روایت محفوظ ہے۔ مصادر ان کی وفات کو یوم الزاویہ کی لڑائی سے جوڑتے ہیں اور پھر ان کی تدفین کا ذکر کرتے ہیں۔ واقعے کا نمایاں پہلو اس وقت سامنے آتا ہے جب بعد کے زائرین اور گواہوں نے ان کی قبر اور اس کی مٹی سے متعلق ایک خاص خوشبو کا ذکر کیا۔

اس حکایت میں سب سے نمایاں گواہ مالک بن دینار ہیں۔ لالکائی ان سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن غالب رحمہ اللہ کی قبر دیکھی، اس کی کچھ مٹی لی اور اسے مشک جیسا پایا۔ ایک دوسری کلاسیکی نقل میں مالک بن دینار سے یہ بھی منقول ہے کہ انہوں نے قبر میں ہاتھ ڈالا اور مٹی میں مشک جیسی خوشبو محسوس کی۔

ابو نعیم نے ابو عیسیٰ کے ذریعے ایک دوسری مقامی روایت بھی محفوظ کی ہے۔ اس میں بیان ہوا کہ لوگوں نے قبر کی مٹی لی اور اسے گویا مشک جیسا قرار دیا۔ بعض لوگوں نے اس مٹی کا کچھ حصہ اپنے کپڑوں میں بھی رکھا۔ یوں واقعہ صرف ایک فرد کے مشاہدے تک محدود نہ رہا بلکہ قبر کے آس پاس کے لوگوں میں بھی اس خوشبو کا ذکر پھیل گیا۔

مصادر کے الفاظ مکمل طور پر یکساں نہیں ہیں۔ ایک جگہ قبر سے مشک جیسی خوشبو آنے کی تعبیر ملتی ہے اور دوسری جگہ قبر کی مٹی کو مشک جیسا کہا گیا ہے۔ دونوں تعبیرات کو الگ رکھنا زیادہ درست ہے، کیونکہ مرکزی بات غیر معمولی خوشبو ہے، مگر اس کے بیان کی صورت ہر نقل میں ایک جیسی نہیں۔

لالکائی یہ بھی نقل کرتے ہیں کہ لوگ قبر کی مٹی لینے اور اس میں مشغول ہونے لگے۔ یہ توجہ اتنی بڑھی کہ بعد میں قبر کو برابر کر دیا گیا۔ اس جزئیے سے معلوم ہوتا ہے کہ منقول خوشبو نے مقامی لوگوں میں خاص توجہ پیدا کی اور اس کے نتیجے میں قبر کے ساتھ عملی طور پر بھی تبدیلی پیش آئی۔

یوں عوامی کہانی اپنی سادہ کلاسیکی ترتیب میں واضح رہتی ہے: عبداللہ بن غالب رحمہ اللہ یوم الزاویہ کے بعد دفن کیے جاتے ہیں، مالک بن دینار قبر دیکھتے ہیں اور اس کی مٹی کو مشک جیسا پاتے ہیں، دوسرے لوگ بھی اسی طرح کی مٹی لیتے ہیں، اور بڑھتی ہوئی توجہ کے بعد قبر برابر کر دی جاتی ہے۔ روایت کی مرکزی کرامت قبر اور اس کی مٹی سے وابستہ مشک جیسی خوشبو ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

روایت عبداللہ بن غالب رحمہ اللہ کی تدفین کے بعد ان کی قبر اور مٹی سے وابستہ مشک جیسی خوشبو کو ایک یادگار منقول کرامت کے طور پر محفوظ کرتی ہے۔

مآخذ

Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya, Abd Allah ibn Ghalib: death at Yawm al-Zawiya
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya: Malik ibn Dinar route, fragrance from the grave
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, report 187
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya: Abu Isa route, people took soil 'as if musk'
al-Lalaka'i, same report: public attention and grave leveled
al-Mukhlisiyat, report 1612: Malik says he put his hand into Abd Allah ibn Ghalib's grave and found the soil smelling of musk
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya, two local report lines
al-Lalaka'i and Abu Nu'aym wording comparison
No modern material evidence supplied or identified in the Task 1 source set
CAND-0170 Task 1 evidence synthesis