حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کے زہر آلود کھانا کھانے کی منقول روایت

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

کلاسیکی سنی مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے کہ حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کی ایک لونڈی نے اقرار کیا کہ وہ بار بار ان کے کھانے میں زہر ڈالتی رہی مگر بظاہر انہیں نقصان نہ پہنچا۔ لالکائی نے اس واقعے کی مختصر اور مفصل دونوں صورتیں نقل کی ہیں، اور مفصل طریق میں کھانے سے پہلے ایک مخصوص دعا بھی منقول ہے۔ ابن عساکر نے بھی ایک متوازی روایت محفوظ کی ہے، لیکن اہم زیریں سند سری بن یحییٰ، سلیمان تیمی اور ابو مسلم پر ہی آتی ہے۔ جدید سندی تحقیق کے مطابق سلیمان تیمی کا ابو مسلم سے سماع یا ملاقات ثابت نہیں، اس لیے روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔

حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کے بارے میں ایک کلاسیکی روایت میں ایک لونڈی کا ذکر ہے جس نے بعد میں اقرار کیا کہ اس نے ان کے کھانے میں زہر ڈالا تھا۔ لالکائی کی محفوظ کردہ مختصر صورت میں وہ کہتی ہے کہ اس نے ایسا کیا، مگر زہر نے ابو مسلم کو نقصان نہیں پہنچایا۔ اسی صورت میں اس کے مقصد کو اپنی آزادی جلد حاصل کرنے کی خواہش سے جوڑا گیا ہے، اور واقعے کے بعد ابو مسلم اسے آزاد کر دیتے ہیں۔

لالکائی نے اسی بنیادی واقعے کی ایک زیادہ مفصل صورت بھی نقل کی ہے۔ اس میں عورت کہتی ہے کہ وہ کچھ مدت تک ان کے کھانے میں زہر ڈالتی رہی اور کوئی ظاہری نقصان نہ دیکھا۔ یہاں اس کا مقصد مختلف بیان ہوا ہے: وہ کہتی ہے کہ وہ ایک جوان لونڈی تھی جسے ابو مسلم نے اپنے پاس رکھا، نہ ازدواجی تعلق قائم کیا اور نہ فروخت کیا۔ یہ دونوں محرکات الگ طرق سے ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی اقرار بنا کر جمع نہیں کرنا چاہیے۔

مفصل روایت میں کھانے سے پہلے ابو مسلم سے یہ دعا بھی منقول ہے:

بسم الله خير الأسماء الذي لا يضر مع اسمه داء، رب الأرض ورب السماء

اس کا معنی ہے: اللہ کے نام سے، جو سب ناموں سے بہتر ہے؛ جس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دیتی؛ زمین اور آسمان کے رب کے نام سے۔

چونکہ پہلے تحقیقی مرحلے میں یہ الفاظ اسی مفصل طریق کے اندر ثابت طور پر نقل شدہ ملے، اس لیے انہیں روایت کے اپنے متن کے طور پر محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم انہیں طبی طور پر ثابت شدہ تریاق، زہر سے یقینی حفاظت کی دعا، یا زہر استعمال کرنے کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ابن عساکر نے ایوب بن سوید، سری بن یحییٰ اور سلیمان تیمی کے واسطے سے ابو مسلم تک ایک متوازی صورت نقل کی ہے۔ اصل سندی مسئلہ اوپر کے راویوں سے پہلے ہی موجود رہتا ہے: سلیمان تیمی کا ابو مسلم خولانی سے ملنا یا ان سے روایت کرنا ثابت نہیں۔ اسی وجہ سے جانچی گئی سندی تحقیق اس روایت کو منقطع سند کے سبب ضعیف قرار دیتی ہے۔

محفوظ نتیجہ یہ ہے کہ کلاسیکی سنی لٹریچر واقعی ابو مسلم خولانی سے متعلق زہر والے کھانے کی ایک کرامت کی روایت نقل کرتا ہے، اور ایک مخصوص طریق میں کھانے سے پہلے کی دعا بھی موجود ہے۔ مگر غیر معمولی نتیجہ مضبوط سند سے ثابت نہیں، اس لیے اسے صرف کم اعتماد والی منقول کرامت کے طور پر رکھا جائے جسے اداری جانچ درکار ہے۔ اسے کبھی اس دلیل کے طور پر نہ لیا جائے کہ زہر کھانا محفوظ، قابل تکرار، طبی طور پر محفوظ شدہ یا تجربے کے لیے جائز ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

کلاسیکی سنی مصادر حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے زہر آلود کھانا کھانے اور بظاہر نقصان نہ ہونے کی روایت محفوظ کرتے ہیں، جبکہ مفصل طریق میں کھانے سے پہلے کی دعا بھی ہے۔ منقطع سند کے باعث یہ واقعہ کم اعتماد والی منقول کرامت ہی رہے گا اور اسے زہر کے محفوظ ہونے یا دعا کے طبی تریاق ہونے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔

مآخذ

al-Lalaka'i, report 139: the slave says she put poison in Abu Muslim's food and it did not harm him
al-Lalaka'i, report 140: repeated poison wording and fuller account
al-Lalaka'i, report 139: motive stated as hastening emancipation
al-Lalaka'i, report 140: alternate household motive
al-Lalaka'i, report 140: exact invocation before eating
Ibn Asakir, Tarikh Dimashq, route through Ayyub ibn Suwayd -> al-Sari ibn Yahya -> Sulayman al-Taymi -> Abu Muslim
IslamQA 310045: both principal poison routes are disconnected; Sulayman al-Taymi's meeting with Abu Muslim is not established
IslamQA 310045 conclusion: 'هذا الخبر ضعيف لانقطاع سنده'
CAND-0176 Task 1 V2.0 evidence synthesis from verified source layers