کلاسیکی سنی مصادر میں ایک روایت محفوظ ہے کہ حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کی ایک لونڈی نے اقرار کیا کہ وہ بار بار ان کے کھانے میں زہر ڈالتی رہی مگر بظاہر انہیں نقصان نہ پہنچا۔ لالکائی نے اس واقعے کی مختصر اور مفصل دونوں صورتیں نقل کی ہیں، اور مفصل طریق میں کھانے سے پہلے ایک مخصوص دعا بھی منقول ہے۔ ابن عساکر نے بھی ایک متوازی روایت محفوظ کی ہے، لیکن اہم زیریں سند سری بن یحییٰ، سلیمان تیمی اور ابو مسلم پر ہی آتی ہے۔ جدید سندی تحقیق کے مطابق سلیمان تیمی کا ابو مسلم سے سماع یا ملاقات ثابت نہیں، اس لیے روایت انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔
لالکائی نے اسی بنیادی واقعے کی ایک زیادہ مفصل صورت بھی نقل کی ہے۔ اس میں عورت کہتی ہے کہ وہ کچھ مدت تک ان کے کھانے میں زہر ڈالتی رہی اور کوئی ظاہری نقصان نہ دیکھا۔ یہاں اس کا مقصد مختلف بیان ہوا ہے: وہ کہتی ہے کہ وہ ایک جوان لونڈی تھی جسے ابو مسلم نے اپنے پاس رکھا، نہ ازدواجی تعلق قائم کیا اور نہ فروخت کیا۔ یہ دونوں محرکات الگ طرق سے ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی اقرار بنا کر جمع نہیں کرنا چاہیے۔
مفصل روایت میں کھانے سے پہلے ابو مسلم سے یہ دعا بھی منقول ہے:
بسم الله خير الأسماء الذي لا يضر مع اسمه داء، رب الأرض ورب السماء
اس کا معنی ہے: اللہ کے نام سے، جو سب ناموں سے بہتر ہے؛ جس کے نام کے ساتھ کوئی بیماری نقصان نہیں دیتی؛ زمین اور آسمان کے رب کے نام سے۔
چونکہ پہلے تحقیقی مرحلے میں یہ الفاظ اسی مفصل طریق کے اندر ثابت طور پر نقل شدہ ملے، اس لیے انہیں روایت کے اپنے متن کے طور پر محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم انہیں طبی طور پر ثابت شدہ تریاق، زہر سے یقینی حفاظت کی دعا، یا زہر استعمال کرنے کے جواز کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ابن عساکر نے ایوب بن سوید، سری بن یحییٰ اور سلیمان تیمی کے واسطے سے ابو مسلم تک ایک متوازی صورت نقل کی ہے۔ اصل سندی مسئلہ اوپر کے راویوں سے پہلے ہی موجود رہتا ہے: سلیمان تیمی کا ابو مسلم خولانی سے ملنا یا ان سے روایت کرنا ثابت نہیں۔ اسی وجہ سے جانچی گئی سندی تحقیق اس روایت کو منقطع سند کے سبب ضعیف قرار دیتی ہے۔
محفوظ نتیجہ یہ ہے کہ کلاسیکی سنی لٹریچر واقعی ابو مسلم خولانی سے متعلق زہر والے کھانے کی ایک کرامت کی روایت نقل کرتا ہے، اور ایک مخصوص طریق میں کھانے سے پہلے کی دعا بھی موجود ہے۔ مگر غیر معمولی نتیجہ مضبوط سند سے ثابت نہیں، اس لیے اسے صرف کم اعتماد والی منقول کرامت کے طور پر رکھا جائے جسے اداری جانچ درکار ہے۔ اسے کبھی اس دلیل کے طور پر نہ لیا جائے کہ زہر کھانا محفوظ، قابل تکرار، طبی طور پر محفوظ شدہ یا تجربے کے لیے جائز ہے۔
خلاصۂ نتیجہ
کلاسیکی سنی مصادر حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے زہر آلود کھانا کھانے اور بظاہر نقصان نہ ہونے کی روایت محفوظ کرتے ہیں، جبکہ مفصل طریق میں کھانے سے پہلے کی دعا بھی ہے۔ منقطع سند کے باعث یہ واقعہ کم اعتماد والی منقول کرامت ہی رہے گا اور اسے زہر کے محفوظ ہونے یا دعا کے طبی تریاق ہونے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔