حبیب عجمی رحمہ اللہ کے تھیلوں میں درہم ملنے کی روایت

ولی یا صالح کی کرامتدعا کی قبولیترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

ابن ابی الدنیا نے قحط کے زمانے میں حبیب عجمی رحمہ اللہ کے بارے میں ایک روایت محفوظ کی ہے۔ آپ نے ادائیگی باقی رکھتے ہوئے خوراک حاصل کی اور اسے فقراء میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد خالی تھیلے سیے، انہیں بستر کے نیچے رکھا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ جب فروخت کرنے والے اپنی رقم لینے آئے تو روایت کے مطابق تھیلے درہموں سے بھرے ملے، رقم تولی گئی اور ان کے واجب حق کے مطابق ادا کر دی گئی۔

ابن ابی الدنیا نے حبیب عجمی رحمہ اللہ کے بارے میں قحط کے زمانے کا ایک یادگار واقعہ محفوظ کیا ہے۔ لوگ خوراک کی کمی اور تنگی کا سامنا کر رہے تھے۔ روایت کے مطابق حبیب عجمی رحمہ اللہ نے فروخت کرنے والوں سے خوراک حاصل کی جبکہ اس کی قیمت ابھی ادا ہونا باقی تھی، اور پھر وہ خوراک غریب لوگوں میں تقسیم کر دی۔

یوں قصے کی ابتدا اس سخاوت سے ہوتی ہے جو فروخت کرنے والوں کو ان کی رقم ملنے سے پہلے کی گئی۔ خوراک تقسیم ہونے کے بعد تھیلے خالی ہوگئے۔ روایت میں آتا ہے کہ حبیب عجمی رحمہ اللہ نے ان خالی تھیلوں کو سی دیا، انہیں اپنے بستر کے نیچے رکھا اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ ماخذ اس دعا کے عین الفاظ محفوظ نہیں کرتا۔

کچھ عرصے بعد وہ فروخت کرنے والے حبیب عجمی رحمہ اللہ کے پاس اپنی واجب الادا رقم لینے آئے۔ یہاں روایت دوبارہ انہی تھیلوں کی طرف لوٹتی ہے جو بستر کے نیچے رکھے گئے تھے۔ جب انہیں دیکھا گیا تو بیان کے مطابق وہ درہموں سے بھرے ہوئے ملے۔

رقم کو محض اندازے سے نہیں دیا گیا بلکہ اسے تولا گیا۔ روایت کہتی ہے کہ درہموں کی مقدار فروخت کرنے والوں کے حق کے برابر نکلی۔ چنانچہ جس خوراک کی قیمت پہلے باقی تھی، اس کی پوری رقم انہیں ادا کر دی گئی اور ان کا حق پورا ہوگیا۔

یہ واقعہ بعد کی کلاسیکی کتابوں میں بھی محفوظ رہا۔ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں اسی مرکزی واقعے کو نقل کیا، لالکائی نے اسے حبیب عجمی رحمہ اللہ کی کرامات کے ضمن میں ذکر کیا، اور ابن عساکر نے بھی اپنی تاریخی سوانح میں یہ قصہ محفوظ کیا۔ بنیادی ترتیب وہی رہتی ہے: قحط، فقراء کے لیے خوراک، دعا، قرض خواہوں کی آمد اور ان کے حق کے لیے کافی درہم ملنا۔

عوامی بیان میں اس قصے کو اسی سادہ ترتیب کے قریب رکھنا مناسب ہے۔ رقم کیسے ظاہر ہوئی اس کے لیے کوئی نیا طریقۂ کار گھڑنے کی ضرورت نہیں، اور نہ ایسی مخصوص دعا منسوب کی جا سکتی ہے جس کے الفاظ اصل روایت نے محفوظ نہیں کیے۔ واقعے کا یادگار پہلو یہی ہے کہ خوراک تقسیم کرنے اور دعا کے بعد تھیلوں میں اتنے درہم ملے کہ فروخت کرنے والوں کا پورا حق ادا ہوگیا۔

خلاصۂ نتیجہ

قصہ اس پر ختم ہوتا ہے کہ درہم تولے گئے اور حبیب عجمی رحمہ اللہ کی طرف سے فقراء میں خوراک تقسیم کیے جانے کے بعد فروخت کرنے والوں کو ان کا پورا واجب حق ادا کر دیا گیا۔

مآخذ

Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 99
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 99
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 99
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 99
Ibn Abi al-Dunya, Mujabu al-Da'wa, report 99
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya, Habib al-Farisi section: famine food and sacks filled with money
Abu Nu'aym, Hilyat al-Awliya, same passage
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, report 197
Ibn Asakir, Tarikh Dimashq, Habib al-Ajami entry; preserves both Ibn Abi al-Dunya and Hilya material
al-Sari ibn Yahya al-Shaybani: multiple critics call him trustworthy; Ahmad says thiqa thiqa
Damra ibn Rabi'a: classical critics broadly regard him as trustworthy/truthful with minor caution
CAND-0174 Task 1 evidence synthesis