عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ اور وہ وظیفہ جو کم نہ ہوا

ولی یا صالح کی کرامترحمت یا برکتتاریخی نتیجہبعد کی مناقب و کرامات
⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

ابتدائی سنی مصادر میں عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے اپنا مقررہ وظیفہ وصول کیا اور اسے کپڑے کے کنارے میں رکھ کر گھر کی طرف چلے۔ راستے میں محتاج لوگ ان کے پاس آتے رہے اور وہ اسی رقم میں سے انہیں دیتے گئے۔ جب وہ گھر پہنچے تو باقی رقم گنی گئی۔ روایت کے مطابق وہ مقدار اسی رقم کے برابر نکلی جو انہوں نے ابتدا میں وصول کی تھی۔

ابتدائی سنی مصادر عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ کے بارے میں ایک روایت محفوظ کرتے ہیں جو ان کے معمول کے وظیفے کی ادائیگی سے شروع ہوتی ہے۔ روایت کے مطابق انہوں نے رقم وصول کی اور اسے اپنے کپڑے کے کنارے میں رکھ لیا، پھر گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ ابتدا میں کوئی غیر معمولی بات نہیں، صرف ایک شخص ہے جو اپنا مقررہ وظیفہ لے کر گھر جا رہا ہے۔

راستے میں غریب اور محتاج لوگ عامر رحمہ اللہ کے پاس آتے اور مدد مانگتے رہے۔ روایت کہتی ہے کہ وہ اسی وصول شدہ وظیفے میں سے انہیں دیتے گئے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ انہوں نے صدقے کے لیے کوئی الگ رقم پہلے سے رکھی تھی یا کسی خاص حساب کے مطابق خرچ کر رہے تھے۔ حکایت کا سادہ بیان یہی ہے کہ جو ضرورت مند ملا، عامر رحمہ اللہ نے اپنے پاس موجود اسی رقم میں سے اسے دیا۔

جب عامر رحمہ اللہ گھر پہنچے تو ان کے پاس باقی رقم گنی گئی۔ یہاں روایت وہ نتیجہ بیان کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ واقعہ یاد رکھا گیا: باقی رقم مبینہ طور پر اسی مقدار کے برابر تھی جو انہوں نے ابتدا میں وصول کی تھی۔ مصدر اس کے لیے کوئی ظاہری یا مادی طریقہ بیان نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ بتاتا ہے کہ راستے میں بار بار دینے کے باوجود گھر پہنچنے پر رقم اصل مقدار کے برابر پائی گئی۔

ابن المبارک نے یہ واقعہ کتاب الزہد والرقائق میں محفوظ کیا ہے، جبکہ لالکائی نے بعد میں عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ کی کرامات سے متعلق مواد میں اسی بنیادی حکایت کو نقل کیا۔ بعد کے سوانحی مصادر میں بھی یہ واقعہ محفوظ رہا۔ مختلف نقلوں میں مرکزی سلسلہ یہی ہے: وظیفہ وصول کرنا، راستے میں محتاجوں کو دینا، اور پھر گھر میں باقی رقم کا گنا جانا۔

حکایت کا اختتام سخاوت اور غیر متوقع برکت کے اسی منظر پر ہوتا ہے۔ عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ اپنے وظیفے میں سے محتاجوں کو دیتے جاتے ہیں، لیکن گھر پہنچ کر گنی گئی رقم روایت کے مطابق اصل وصول شدہ مقدار کے برابر نکلتی ہے۔ کلاسیکی روایت میں اس واقعے کو صدقے اور اللہ تعالیٰ پر اعتماد سے وابستہ ایک برکت کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔

خلاصۂ نتیجہ

حکایت اس پر ختم ہوتی ہے کہ عامر بن عبد قیس رحمہ اللہ نے اپنے وظیفے میں سے بار بار محتاجوں کو دیا، مگر گھر میں گنی گئی رقم اصل وصول شدہ مقدار کے برابر پائی گئی۔

مآخذ

Ibn al-Mubarak, Kitab al-Zuhd wa al-Raqa'iq, report 862
Ibn al-Mubarak, Kitab al-Zuhd wa al-Raqa'iq, report 862
al-Lalaka'i, Sharh Usul I'tiqad Ahl al-Sunna, report 168
Ibn al-Mubarak route: Ma'mar -> Muhammad ibn Wasi' -> Abu al-Ala -> unnamed nephew of Amir
al-Lalaka'i, Karamat Amir ibn Abd Qays, report 168
Abu al-Ala Yazid ibn Abd Allah ibn al-Shikhkhir narrator dossier
al-Dhahabi, Tarikh al-Islam, Amir ibn Abd Qays entry
CAND-0162 Task 1 evidence synthesis
Ibn al-Mubarak, Kitab al-Zuhd wa al-Raqa'iq, report 862
Ibn al-Mubarak, al-Zuhd, report 862; al-Lalaka'i, report 168