بہجۃ الاسرار میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی والدہ محترمہ ام الخیر فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا کی طرف منسوب ایک متاخر مناقبی روایت محفوظ ہے کہ شیر خوارگی میں آپ رمضان کے دن کے اوقات میں دودھ نہیں پیتے تھے۔ اسی روایت میں آتا ہے کہ ایک دن چاند واضح نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو رمضان کے آغاز میں تردد تھا، تو دن میں آپ کا دودھ نہ پینا مقامی طور پر رمضان کی علامت سمجھا گیا۔ بعد میں اس دن کو رمضان کا دن مانا گیا۔ اس قصے کو یہاں قادری مناقبی روایت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، نہ کہ ایک مستقل طور پر ثابت شدہ ابتدائی تاریخی خبر کے طور پر۔
بہجۃ الاسرار حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی شیر خوارگی سے متعلق ایک مشہور متاخر مناقبی روایت محفوظ کرتی ہے۔ یہ بیان آپ کی والدہ محترمہ ام الخیر فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا کی طرف منسوب ہے۔ روایت کے مطابق جب آپ ابھی دودھ پینے والے بچے تھے تو رمضان المبارک میں ایک غیر معمولی کیفیت دیکھی گئی: دن کے اوقات میں آپ دودھ نہیں پیتے تھے، جبکہ رات ہونے کے بعد دوبارہ دودھ پی لیتے تھے۔
روایت کہتی ہے کہ گھر والوں کے لیے یہ کیفیت رمضان کے روزے کے اوقات سے وابستہ ہو گئی۔ قصے کا مرکزی منظر اس دن سامنے آتا ہے جب نیا چاند بادل یا پردے کی وجہ سے واضح نہ ہو سکا اور لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ رمضان شروع ہو چکا ہے یا نہیں۔ اسی تردد کے دوران شیر خوار بچے کو دیکھا گیا اور دن کے وقت آپ نے پھر دودھ نہیں پیا۔
بیان کے مطابق گھر والوں اور آس پاس کے لوگوں نے اس کیفیت کو رمضان شروع ہونے کی علامت سمجھا۔ روایت پھر یہ بھی کہتی ہے کہ بعد میں اس دن کو رمضان کا دن مانا گیا۔ اسی وجہ سے قادری مناقبی یادداشت میں یہ واقعہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ابتدائی زندگی سے منسوب ایک غیر معمولی رمضان والی نشانی کے طور پر مشہور ہوا۔
واقعے کی ترتیب سادہ ہے۔ والدہ سے منسوب بیان کے مطابق آپ رمضان کے دن دودھ نہیں پیتے تھے۔ پھر ایک ایسا دن آیا جب چاند واضح نہ ہونے کی وجہ سے آغازِ رمضان میں تردد پیدا ہوا۔ اسی دن دوبارہ وہی کیفیت دیکھی گئی اور مقامی لوگوں نے اسے رمضان کی علامت کے طور پر لیا۔ قصے کو سمجھنے کے لیے اس سے زیادہ کوئی نئی تفصیل شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔
ماخذ کی نوعیت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے۔ بہجۃ الاسرار ایک متاخر مناقبی کتاب ہے اور یہ شیر خوارگی والا واقعہ اسی مناقبی روایت کے طور پر ام الخیر فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا کی طرف منسوب ہو کر محفوظ ہوا ہے۔ اس لیے عوامی بیان میں اسے ایسا نہیں لکھنا چاہیے جیسے یہ کسی ابتدائی ہم عصر تاریخی ریکارڈ یا صحیح حدیث کی صورت میں ثابت ہو۔
اسی حد کے ساتھ یہ روایت قادری مناقب کا ایک یادگار حصہ رہتی ہے: ایک شیر خوار بچہ جو منقول بیان کے مطابق رمضان کے دن دودھ نہیں پیتا تھا، اور ایک ایسے دن جب چاند واضح نہ تھا، اسی کیفیت کو مقامی لوگوں نے رمضان کے آغاز کی نشانی سمجھا۔
روایت کہتی ہے کہ گھر والوں کے لیے یہ کیفیت رمضان کے روزے کے اوقات سے وابستہ ہو گئی۔ قصے کا مرکزی منظر اس دن سامنے آتا ہے جب نیا چاند بادل یا پردے کی وجہ سے واضح نہ ہو سکا اور لوگوں کو معلوم نہ تھا کہ رمضان شروع ہو چکا ہے یا نہیں۔ اسی تردد کے دوران شیر خوار بچے کو دیکھا گیا اور دن کے وقت آپ نے پھر دودھ نہیں پیا۔
بیان کے مطابق گھر والوں اور آس پاس کے لوگوں نے اس کیفیت کو رمضان شروع ہونے کی علامت سمجھا۔ روایت پھر یہ بھی کہتی ہے کہ بعد میں اس دن کو رمضان کا دن مانا گیا۔ اسی وجہ سے قادری مناقبی یادداشت میں یہ واقعہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ابتدائی زندگی سے منسوب ایک غیر معمولی رمضان والی نشانی کے طور پر مشہور ہوا۔
واقعے کی ترتیب سادہ ہے۔ والدہ سے منسوب بیان کے مطابق آپ رمضان کے دن دودھ نہیں پیتے تھے۔ پھر ایک ایسا دن آیا جب چاند واضح نہ ہونے کی وجہ سے آغازِ رمضان میں تردد پیدا ہوا۔ اسی دن دوبارہ وہی کیفیت دیکھی گئی اور مقامی لوگوں نے اسے رمضان کی علامت کے طور پر لیا۔ قصے کو سمجھنے کے لیے اس سے زیادہ کوئی نئی تفصیل شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔
ماخذ کی نوعیت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے۔ بہجۃ الاسرار ایک متاخر مناقبی کتاب ہے اور یہ شیر خوارگی والا واقعہ اسی مناقبی روایت کے طور پر ام الخیر فاطمہ رحمۃ اللہ علیہا کی طرف منسوب ہو کر محفوظ ہوا ہے۔ اس لیے عوامی بیان میں اسے ایسا نہیں لکھنا چاہیے جیسے یہ کسی ابتدائی ہم عصر تاریخی ریکارڈ یا صحیح حدیث کی صورت میں ثابت ہو۔
اسی حد کے ساتھ یہ روایت قادری مناقب کا ایک یادگار حصہ رہتی ہے: ایک شیر خوار بچہ جو منقول بیان کے مطابق رمضان کے دن دودھ نہیں پیتا تھا، اور ایک ایسے دن جب چاند واضح نہ تھا، اسی کیفیت کو مقامی لوگوں نے رمضان کے آغاز کی نشانی سمجھا۔
خلاصۂ نتیجہ
منقول قصہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی شیر خوارگی میں رمضان کے دن دودھ نہ پینے اور چاند واضح نہ ہونے والے ایک دن اسی کیفیت کے مقامی طور پر رمضان کی علامت سمجھے جانے کو یاد کرتا ہے۔
مآخذ
Bahjat al-Asrar wa Ma‘din al-Anwar, p.116; later reproduced chain: Abu Ali Ishaq al-Hamadani <- Muhammad b. Abd al-Latif al-Suhrawardi <- Ahmad b. As‘ad al-Muqri <- Abu Sa‘d Abd Allah b. Sulayman b. Ja‘ran and Umm Ahmad al-Jiliyya, reporting repeated statements of Umm al-Khayr Fatima.
Ibn Rajab, Dhayl Tabaqat al-Hanabila, 2/194–195: source-level warning concerning al-Shattanufi’s Bahjat al-Asrar and reliance on its reports unless known independently.
Ibn Hajar, al-Durar al-Kamina, biography of al-Shattanufi: the book contained unusual narratives and people criticized many of its stories and isnads.