ابراہیم خواصؒ، مکہ کے راستے میں شیر اور غیبی تسلی کا واقعہ

⚙️ پرنٹ، اشتراک اور دوسرے اختیارات
📱 واٹس ایپ 📧 ای میل محفوظ صفحات

کیو آر رمز

صفحے کا کیو آر
صفحے کا کیو آر

متعلقہ شخصیات

قشیری ابراہیم خواصؒ سے منسوب کرتے ہیں کہ مکہ کی طرف ایک رات کے سفر میں وہ ایک ویران جگہ میں داخل ہوئے تو سامنے ایک بڑا شیر آ گیا۔ وہ خوف زدہ ہوئے، پھر ایک غیبی آواز سنی جس نے کہا: ثابت قدم رہو، تمہارے گرد ستر ہزار فرشتے تمہاری حفاظت کر رہے ہیں۔ کلاسیکی سوانحی مصادر ابراہیم خواصؒ کو توکل اور مکہ کے کثرتِ سفر کے لیے معروف بتاتے ہیں، اس لیے یہ واقعہ ان کی زندگی کے معروف پس منظر میں سمجھ آتا ہے۔

ابراہیم خواصؒ کلاسیکی صوفیانہ سوانح میں سفر اور توکل کے لیے خاص طور پر معروف تھے۔ خطیب بغدادی انہیں ان مشائخ میں شمار کرتے ہیں جو توکل اور مکہ سمیت مختلف مقامات کے کثرتِ سفر کے لیے جانے جاتے تھے، اور خود ابراہیم خواصؒ سے مکہ کی طرف صحرا کے متعدد راستے طے کرنے کا ذکر بھی نقل کرتے ہیں۔ اسی پس منظر میں قشیری مکہ کے راستے کی ایک نہایت پُرتاثر رات کا واقعہ محفوظ کرتے ہیں۔

ابراہیم خواصؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر کے دوران رات کے وقت وہ ایک ویران اور کھنڈر نما جگہ میں داخل ہوئے۔ اچانک وہاں ایک بڑا شیر سامنے آ گیا۔ روایت انہیں ابتدا ہی سے بے خوف نہیں دکھاتی؛ وہ صاف کہتے ہیں کہ شیر کو دیکھ کر انہیں خوف محسوس ہوا۔ یہی بات واقعے کو زیادہ انسانی بناتی ہے: توکل کے لیے مشہور ایک مسافر بھی اندھیری رات میں خطرناک جانور سامنے آ جانے پر فطری خوف سے دوچار ہوا۔

پھر روایت کا غیر معمولی حصہ سامنے آتا ہے۔ ابراہیم خواصؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک غیبی آواز سنی جس نے کہا: «ثابت رہو۔» اس کے بعد آواز نے یہ تسلی دی کہ تمہارے گرد ستر ہزار فرشتے ہیں جو تمہاری حفاظت کر رہے ہیں۔ قشیری اس آواز کے بولنے والے کی کوئی شناخت نہیں کرتے۔ اس لیے واقعے کا اصل اثر خوف سے اطمینان کی طرف اس تبدیلی میں ہے: رات، ویران جگہ، سامنے شیر، دل میں خوف، اور پھر ثابت قدم رہنے کی آواز۔

حلیۃ الاولیاء میں ابراہیم خواصؒ سے منسوب ایک ارشاد اس واقعے کے معنی کو مزید خوبصورتی سے سمجھاتا ہے۔ آپ سے منقول ہے کہ جب بندہ یہ جان لے کہ مخلوق خود کسی کے حکم کے تحت اور مسخر ہے تو مخلوق کا خوف کم ہوتا ہے اور دل اس ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس کے حکم میں سب ہیں۔ یہ ارشاد شیر والے واقعے کا حصہ نہیں، مگر اس کے روحانی مفہوم سے براہِ راست مناسبت رکھتا ہے۔

یہ واقعہ ابراہیم خواصؒ کی توکل والی پوری سوانح سے بھی میل کھاتا ہے۔ حلیۃ الاولیاء انہیں توکل کے مشہور اہل میں شمار کرتی ہے، اور ان سے منقول اقوال میں صبر، رضا اور اللہ پر اعتماد کو بنیادی مقام حاصل ہے۔ یوں شیر والا قصہ صرف ایک حیرت انگیز جانور کا قصہ نہیں رہتا بلکہ خوف کے لمحے میں توکل اور ثبات کی طرف واپسی کا واقعہ بن جاتا ہے۔

شاطبی نے بعد میں الاعتصام میں یہی حکایت ایک دوسرے مقصد سے نقل کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نامعلوم ہاتف یا غیر معمولی تجربہ اپنے آپ حلال و حرام کا شرعی حکم ثابت نہیں کرتا۔ یہ تنبیہ قصے کو ختم نہیں کرتی بلکہ اس کی حد واضح کرتی ہے: اسے توکل، ثبات اور غیبی تسلی کی ایک قدیم صوفیانہ روایت کے طور پر بیان کیا جائے، نہ کہ کسی نئے شرعی حکم کی دلیل کے طور پر۔

خلاصۂ نتیجہ

اس واقعے کو احتیاط کے ساتھ ایک کلاسیکی صوفیانہ روایت کے طور پر شائع کیا جا سکتا ہے: مکہ کے رات کے سفر میں شیر دیکھ کر ابراہیم خواصؒ خوف زدہ ہوئے، پھر انہوں نے ایک غیبی آواز سنی جو انہیں ثابت قدم رہنے اور ستر ہزار فرشتوں کی حفاظت کی تسلی دے رہی تھی—اور یہ منظر ان کے معروف مقامِ توکل سے گہری مناسبت رکھتا ہے۔

مآخذ

al-Risala al-Qushayriyya, vol.2 p.555; direct attribution: “wa-qala Ibrahim al-Khawwas”.
al-Shatibi, al-I'tisam, vol.1 pp.271–272: reproduces the Khawwas report and rejects building legal rulings on unknown voices or extraordinary experiences.